Saturday, January 10, 2026

جمعہ کی فضیلتوں سے محروم کرنے والے اعمال

جمعہ کی فضیلتوں سے محروم کرنے والے اعمال
اسلام میں جمعہ کے دن کو بہت ہی عظمت اورفضیلت والا دن قرار دیا گیا ہے۔ اس دن تمام دنوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہفتے کی عید ہے۔ اسی لئے اس دن ادائے شکر کے لئے ایک خاص نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جسے نماز جمعہ کہتے ہیں جس کی فرضیت قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت سب سے ثابت ہے۔ یہ اسلام کے شعائر اعظم میں سے ہے جس کے اہتمام کی نہ صرف تاکید کی گئی ہے بلکہ اس سے بہت سی فضیلتیں اور بشارتیں بھی وابستہ ہیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَ تَطَھَّر بِمَا اسْتَطَاعَ  مِنْ طُھْرٍ، ثُمَّ ادَّھَنَ  أَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ، فَصَلّٰی مَا کُتِبَ لَہُ، ثُمَّ إِِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ أَنْصَتَ، غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی‘‘
’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورجس قدر ممکن ہوا پاکی حاصل کی، پھر تیل یا خوشبو استعمال کی، پھر نمازجمعہ کے لئے روانہ ہوا اور (مسجد میں پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق نہ کی، پھر جتنی (نفل) نماز اس کی قسمت میں تھی اداء کی، پھر جب امام (خطبہ کے لئے) باہر آیا تو خاموشی اختیار کی، تو اس کے اس جمعہ سے لے کر سابقہ جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ لَا یُفَرَّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں دس دنوں کے گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’مَنِ اغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ، فَصَلّٰی مَا قُدِّرَ لَہُ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتّٰی یَفْرُغَ  مِنْ خُطْبَتِہِ، ثُمَّ یُصَلِّي مَعَہُ، غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی، وَفَضْلُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ‘‘
(مفہوم): ’’جس نے غسل کیا، پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا، پھر جتنا اس کے مقدر میں تھا (خطبہ سے پہلے نفل) نماز پڑھی، پھر خاموش رہا یہاں تک کہ خطیب اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے گناہ اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور تین دن اور زائد کے بخش دیئے جاتے ہیں.‘‘ (صحیح مسلم، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَ أَنْصَتَ فِي الْخُطْبَۃِ)۔
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا (مفہوم): 
’’جو شخص جمعہ کے دن اپنا سر دھوئے اور غسل کرے اور صبح سویرے (یعنی اول وقت میں مسجد) جائے (تاکہ) شروع سے خطبہ پالے اور سوار نہ ہو (یعنی پیدل چل کر جائے)، اور امام کے قریب بیٹھے پھر غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالے تو اس کے لئے ہر قدم اٹھانے کے بدلے ایک سال کے روزوں اور رات کو قیام کی عبادت کا ثواب ہوگا.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الطھارۃ، باب فِي الْغُسْلِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)۔
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ہی ایک روایت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مفہوم): ’’جمعہ میں تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں؛ ایک وہ شخص جو جمعہ میں حاضر ہوکر لغو گفتگو (یا لغو کام) کرتا ہے، اس میں سے (یعنی جمعہ سے) اس کا یہی حصہ ہے، دوسرا وہ شخص ہے جودعا کی غرض سے حاضر ہوتا ہے، سو وہ ایسا شخص ہے جس نے اللہ عزوجل سے دعا کی ہے. اگر وہ چاہے تو اسے عطا کرے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ شخص جو خاموشی اور سکوت کے ساتھ (جمعہ میں) حاضر ہوتا ہے (یعنی لغو بات نہیں کرتا اور خاموشی سے خطبہ سنتا ہے)، نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو ایذا دیتا ہے تو یہ (جمعہ) اس کے لئے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن تک (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جو ایک نیکی لاتا ہے اس کے لئے اس کا دس گنا (اجر) ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، بابُ الْکَلَامِ ِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
مذکورہ روایتوں پر غور کرنے سے جہاں جمعہ کی فضیلتوں کا پتہ چلتا ہے وہیں اس بات سے بھی آگہی ہوتی ہے کہ یہ فضیلتیں چند آداب و ضوابط کے ساتھ مشروط ہیں مثلاً غسل کرنا، نماز جمعہ کے لئے جلدی اور پیدل جانا، کسی کی گردن نہ پھلانگنا، کسی کو ایذا نہ دینا، دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسنا، خاموش رہنا اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالنا، غور سے خطبہ سننا وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر جمعہ کی ان فضیلتوں کا طالب ہے تو اس پر ان ضوابط کا اہتمام لازم ہے۔ بصورت دیگر اسے محرومی سے بھی سابقہ ہوسکتا ہے۔ ان دنوں مشاہدے میں یہ بات آرہی ہے کہ کچھ لوگ نمازجمعہ میں شرکت کے لئے دیر سے مسجد آتے ہیں اورلوگوں کی گردنیں پھلانگ کر اگلی صفوں میں جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیز دو آدمیوں کے درمیان جہاں جگہ نہ بھی ہو گھس کر ان کی ایذا کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ خطبہ کے دوران بھی گفتگو کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں اور کچھ نوجوان تو باضابطہ حلقہ لگاکر بیٹھ جاتے ہیں اور مستقل باتوں میں مصروف رہتے ہیں حتی کہ خطبہ کے دوران بھی وہ خاموشی اختیار نہیں کرتے۔ ایسے لوگ جمعہ کی فضیلتوں سے نہ صرف خود محروم ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی عبادت میں خلل اندازی کرنے اور تکلیف پہنچانے کا وبال بھی اپنے سر لے کر جاتے ہیں۔ اس حالت کے پیش نظر ضرورت اس بات کی محسوس ہوئی کہ ان عوامل پر جو جمعہ کی فضیلتوں سے محرومی کا سبب بنتے ہیں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے۔
نمازجمعہ کے لئے مسجد دیر سے آنا:
سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنا چاہئے کہ نماز جمعہ کے لئے مسجد دیر سے آنا خود ایک ایسا عمل ہے جو جمعہ کے ثواب کو بہت کم کردیتا ہے اور خطبہ شروع ہوجانے کے بعد آ نے والوں کا نام تو نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں لکھا بھی نہیں جاتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور کرنا چاہئے (مفہوم): ’’جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، پہلے پہل اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح (لکھا جاتا) ہے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح، پھر مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد مرغی، اس کے بعد انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے والے کی طرح۔ پھر جب امام (خطبہ دینے کے لئے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کردیتے ہیں اور ذکر الٰہی (خطبہ) سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْاِسْتِمَاعِ اِلَی الْخُطْبَۃِ، بروایت ابوہریرہ رضي الله عنه)۔
ظاہر ہے جب فرشتے دفتر بند کرکے خطبہ سننے میں مشغول ہوجائیں تو اس کے بعد آنے والوں کا نام نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں کیسے لکھا جائے گا؟ نیز یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے اول وقت میں آنے والوں اور خطبہ کی ابتدا سے ٹھیک قبل آنے والوں کے ثواب کا فرق اونٹ اور انڈے کی قربانی یا صدقے کے ثواب کے فرق کے مانند ہے۔ اس لئے انڈا صدقہ کرنے کے ثواب پر اکتفا کرنے یا بالکل ہی ثواب سے محروم ہوجانے سے بہتر ہے کہ اول وقت میں نمازجمعہ کے لئے حاضری ہو اور امام کے قریب تر جگہ لینے کی کوشش کی جائے۔ یہی ہدایت بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ترجمہ): ’’خطبہ میں حاضر ہوجایا کرو اور امام سے قریب رہوکیوں کہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت (میں داخل ہونے) میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے اگرچہ وہ اس میں داخل بھی ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب الدُّنُوِّ مِنَ الْاِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَۃِ)۔ امام حاکم بھی اس حدیث کو مستدرک میں کتاب الجمعہ میں لائے ہیں اور اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔(المستدرک علی الصحیحین، طبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت، رقم ۱۰۶۸)۔
اس حدیث میں یہ تنبیہ ہے کہ نمازجمعہ کے لئے دیر سے آنے کی عادت بنالینا جو کہ یقینا خطبہ اور نماز میں امام سے دوری کا سبب ہوگا، جنت کے دخول میں بھی تاخیر کا سبب بن سکتا ہے کیوں کہ اس نے مقربین کا اسوہ نہ اپنا کر متسفلین (یعنی نیچے طبقے والے لوگوں) کے طریقے کو اپنایا اور اس پر مدوامت اختیار کی۔
 اگلی صفوں میں جانے کے لئے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا:
نمازجمعہ کی ادائی کے لئے دیر سے آنا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صفوں میں جگہ لینے کی کوشش کرنابھی شارع کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ اور مکروہ فعل ہے۔ عبداللہ بن بُسرؓ سے روایت ہے کہ جمعہ کے روز ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: 
’’اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ‘‘ 
یعنی ’’بیٹھ جاؤتم نے اذیت دی ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب تَخَطِّيْ رِقَابِ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے جس کے الفاظ ہیں:  
’’اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَ آنَیْتَ‘‘ 
یعنی ’’بیٹھ جاؤتم نے تکلیف پہنچائی اور تاخیر سے آیا ہے.‘‘ (مسند احمد، مطبوعہ دارالحدیث، قاہرہ، ۱۴۱۶ھ؁، رقم الحدیث ۱۷۶۰۵)۔
لوگوں کی گردنیں پھلانگنا اس لئے ناپسندیدہ اور ممنوع ہے کہ ایک تو اس میں ان مسلمانوں کی بے اکرامی ہوتی ہے جن کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ مسلمان کا اکرام واجب ہے، دوسرے یہ ان کی اذیت کا سبب بھی ہے جبکہ کسی مسلمان کو ایذا دینا بھی حرام ہے۔ اگر کسی کو کوئی شرعی ضرورت پیش آجائے مثلاً وضو ٹوٹ جائے اور اسے باہر جانا ضروری ہوجائے تو اسے بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ادب و اکرام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجمعے سے گزرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عمل کے سلسلے میں وعیدیں بھی منقول ہیں۔ آپؐنے فرمایا: 
’’مَنْ تَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلٰی جَہَنَّمٍ‘‘ 
(ترجمہ): ’’ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگا اس نے (اپنے لئے) جہنم کی طرف لے جانے والا ایک پل بنالیا‘‘۔ (سنن ترمذی، ابواب الجمعۃ، بابُ مَاجَائَ فِي کَرَاھِیَۃِ التَخَطِّیْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، بروایت سہل بن معاذ بن انس جہنیؓ)۔
مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ اس آدمی نے اپنے اس عمل سے اپنے لئے گویا جہنم کا راستہ کھول لیا۔ اتَّخَذَ (معروف) کے بجائے اگراتُّخِذَ  (یعنی مجہول) پڑھا جائے تو یہاں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اسے ہی جہنم پر جانے کے لئے پل بنایا جائے گا یعنی جس طرح اس نے گردنوں کو پھلانگ کر لوگوں کو اپنی گزرگاہ بنایا ٹھیک اسی طرح اس کو جہنم کی طرف پل بناکر لوگوں کے لئے گزرگاہ بنایا جائے گا اور اس پر چڑھ کر وہ لوگ گزریں گے جو جہنم کی طرف یا تو کھینچے جائیں گے یا جہنم کو عبور کریں گے لیکن اسے روند ڈالیں گے۔
اس موضوع سے متعلق دوسری روایت حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مفہوم): ’’بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور امام کے (خطبہ کے لئے) نکل آنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق ڈالتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہو.‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث ۱۵۳۸۶)۔ اس حدیث کوامام طبرانیؒ نے المعجم الکبیر میں عثمان بن ارزق سے روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانیؒ، مطبوعہ مکتبہ ابن تیمیہؒ، القاہرہ، ۱۹۸۳، رقم ۸۳۹۹)۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ ہم آپ تو ایسے شخص کو لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کے انجام کے عتبار سے اسے گو یا جہنم میں انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
گو محدثین نے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی وعید میں مذکور دونوں احادیث پر کلام کیا ہے مثلاً امام ترمذیؒ نے سہل بن معاذ بن انس جہنیؓ کی روایت کو غریب کہا ہے اور امام ابوالحسن الھیثمی اور امام ذہبی رحمہم اللہ نے ارقم بن ابی ارقم رحمۃ اللہ علیہ مخزومی والی مسند احمد کی روایت کو ایک راوی ہشام بن زیاد کی وجہ سے ضعیف ٹھہرایا ہے لیکن اس مسئلہ سے متعلق باب میں کئی صحیح روایات موجود ہیں مثلاً عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہم کی روایات سنن ابی داؤد میں جو اوپر گزریں، اس لئے اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ جمعہ کے دن گردنیں پھاند کر آگے جانے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اکثرعلماء نے اس مسئلہ میں شدت اختیار کی ہے اور اس فعل کو بہت ہی برا کہا ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے زوائدالروضہ میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ کی بنا پر اس فعل کو حرام جاننا ہی مختار ہے۔ عراقی نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہاکہ گردنیں پھلانگنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ جمعہ ترک کردوں۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ گردنیں پھلانگنے کی نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ نماز جمعہ کو حرّہ میں جاکر ادا کروں. (یعنی مسجد نبوی کی فضیلت بھی ترک کردوں لیکن اس مکروہ فعل کا مرتکب نہ ہوں)۔ (فضل المعبود شرح سنن ابی داؤد ازشیخ منظور احمد، المصباح، لاہور، جلد ۲، صفحہ ۲۲۹-۲۳۰)۔
ان احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی کراہت جمعہ کے دن کے ساتھ مخصوص ہے لیکن قوی احتمال اس بات کا ہے کہ یہ حکم عام ہو اور جمعہ کی تخصیص صرف اس لئے کی گئی ہو کہ عموماً اس دن مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل لوگوں سے زیادہ سرزد ہوتا ہے ورنہ کراہت کی جو علت بیان کی گئی ہے وہ بھی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ حکم عام ہو اور اس کا اطلاق ہر اس مجمع پر ہو جہاں کسی کو کسی کے گزرنے سے تکلیف ہو خواہ وہ عام نمازوں کا مجمع ہو یا پھر کوئی دعوتی یا علمی مجلس ہو۔ اس لئے ہر طرح کی مجلس میں اس حکم کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے خصوصاً جب خطبہ یا کوئی اور دعوتی یا علمی پروگرام شروع ہوجائے تو اس عمل سے اور بھی احتراز لازم ہے کیوں کہ اس سے لوگوں کی توجہ بھی بٹتی ہے جس سے دینی کام میں رخنہ اندازی کرنے کا گناہ بھی لازم آتا ہے ا ور بعض مرتبہ آپس میں بگاڑ اور جھگڑے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ اس قسم کی حرکت عموماً جہلا اور متکبر لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ مسجد یا علمی مجالس میں پہلے آنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اگلی صفوں میں ترتیب سے اس طرح جگہ لیں کہ درمیان میں خالی جگہ نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کے لئے لوگوں کے کندھوں کو پھلانگ کر آگے جانے کا جواز فراہم نہ ہو ورنہ وہ لوگ بھی ان کے گناہ میں شریک قرار دئے جائیں گے۔ بعض لوگوں نے ایسی صورت میں جب کہ پہلے آنے والوں کی کوتاہی کی وجہ سے آگے جگہ خالی ہو کندھا پھلانگ کر آگے جانے والوں کو معذور قرار دیا ہے لیکن احقر کا خیال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے شرعی اصول و آداب کا خیال نہیں رکھا اور غلطی کا مرتکب ہوا ہے تو دوسرا بھی کیوں ہو ؟ اسے تقوی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور جو جگہ بھی پیچھے میسر آجائے اس پر ہی اکتفا کرنا چاہئے۔
یہ تو ہوا لوگوں کے کندھوں کو پھلانگنے کی کراہت کا بیان اور اگر کسی مسلمان بھائی کو کوئی اس کی جگہ سے اٹھا کر بیٹھ جائے تو یہ اور بھی برا ہے کیوں کہ یہ اس کی حق تلفی ہے اور اسلامی مساوات کے اصول کے بھی خلاف ہے، ہاں اگر کوئی خود سے کسی کو اپنی جگہ پیش کرے تو اور بات ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں صراحت سے ممانعت منقول ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو اٹھاکر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھا کہ کیا یہ ممانعت جمعہ کے لئے ہے؟ انہوں نے فرمایاکہ جمعہ کے لئے بھی ہے اور جمعہ کے علاوہ بھی." (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ أَخَاہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ یَقْعُدُ فِي مَکَانِہِ)۔ اس لئے اس عمل سے بھی سختی سے احتراز کرنا چاہئے۔
خطبہ کے دوران گفتگو کرنا:
جمعہ کے ضروری آداب میں سے یہ ہے کہ جب امام خطبہ شروع کرے تو ہر شخص کو خاموش ہوکر توجہ کے ساتھ ان کی بات سننی چاہیے، خطبہ کے درمیان کسی قسم کی گفتگو ممنوع ہے جو نماز کے اجر کو ضائع کردیتی ہے۔ کتب احادیث میں اس سلسلے میں کئی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ امام بخاری ؒنے جمعہ کے دن خطبہ کے وقت چپ رہنے کے باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت تعلیقًا نقل کیا ہے کہ امام جب خطبہ شروع کرے تو خاموش ہوجانا چاہیے۔ یہ خاموشی ہر شخص کے لئے واجب ہے خواہ اس تک خطبہ کی آواز پہنچ رہی ہو یا نہیں پہنچ رہی ہو۔ مالک بن عامرؒ سے روایت ہے کہ عثمانؓ بن عفان جب خطبہ کیلئے کھڑے ہوتے تو اکثر یہ فرمایا کرتے تھے (ترجمہ): ’’اے لوگو! جب امام جمعہ کے دن خطبہ کے لئے کھڑا ہو تو خطبہ کو سنو اور خاموش رہوکیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنااس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے.‘‘ (مؤطا امام مالکؒ، کِتَابُ الْجُمُعَۃِ، بابٌ مَاجَائَ فِي الْاِنْصَاتِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ الْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
خطبہ کے دوران خاموش رہنے کی تاکید اس درجہ کی گئی ہے کہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے اس وقت کسی بات کرتے ہوئے شخص کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت خاموش رہنے کے لئے کہنا بھی ایک لغو حرکت ہے یعنی اتنا بولنے کی بھی گنجائش نہیں کہ خاموش رہو۔ روایت اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ: أَنْصِتْ، وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ‘‘
یعنی ’’جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو، اگر تم نے اپنے ساتھی (پاس بیٹھے شخص) سے کہا کہ خاموش رہوتو تم نے (خود) ایک لغو حرکت کی.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْاِنْصَاتِ  یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، بروایت ابوہریرہؓ)۔
بعض روایتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو چپ رہنے کے لئے کہنے سے بھی جمعہ کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے جیسے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت نقل کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ قَالَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ  لِصَاحِبِہِ: صَہٍ، فَقَدْ لَغَا، وَ مَنْ لَغَا فَلَیْسَ لَہُ فِي جُمُعَتِہِ تِلْکَ شَيْئٌ‘‘
’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی اس کے لئے اس جمعہ سے کچھ بھی (ثواب) نہیں ہے‘‘۔(سنن ابی داؤدؒ، کتاب الصلوٰۃ، باب فَضْلِ الْجُمُعَۃِ)۔
اسی طرح کی ایک روایت امام محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ نے اپنی صحیح میں ابوہریرہؓ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’إِذَا تَکَلَّمْتَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ (وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ) فَقَدْ لَغَوْتَ وَ أَلْغَیْتَ‘‘
’’جب تم نے جمعہ کے دن گفتگو کی جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا تو تم نے ایک لغو کام کیا اوراپنا اجر ضائع کرلیا‘‘۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الزَّجْرِ عَنِ الکَلَامِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ  عِنْدَ خُطْبَۃِ الْاِمَامِ)۔
اس سلسلے میں ایک واقعہ حضرت ابوذرؓ کا بہت ہی دلچسپ اورعبرت انگیز ہے جسے امام ابن خزیمہؓ نے ہی نقل کیا ہے۔ ابوذرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جب کہ نبی کریمﷺ خطبہ دے رہے تھے تو میں ابی بن کعبؓ کے قریب بیٹھ گیا۔ نبی کریمﷺ نے سورۂ براء ت (التوبہ) کی تلاوت کی تو میں نے حضرت ابیؓ سے پوچھا : یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے بات نہیں کی۔ پھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے ان سے دوبارہ پوچھا تو (پھر) سخت انداز میں انہوں نے مجھے خاموش کرادیا اور میرے ساتھ بات نہیں کی۔ پھر میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر (یعنی تیسری بار) میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے (پھر) مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے گفتگو نہیں کی۔ جب نبی کریمﷺ نے نمازمکمل کرلی تو میں نے حضرت ابیؓ سے کہا: میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا تو آپ نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے بات نہیں کی (یعنی کوئی جواب نہیں دیا)۔ تو حضرت ابیؓ نے فرمایا: ’’مَا لَکَ مِنْ صَلَاتِکَ اِلَّامَا لَغَوْتَ‘‘ یعنی ’’تم کو اپنی نماز سے لغو گوئی کے سوا کچھ نہ ملا‘‘۔ لہٰذا میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے نبیؐ! میں حضرت ابیؓ کے پہلو میں بیٹھا تھاجبکہ آپ سورۂ براء ت کی تلاوت کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اورکوئی جواب نہیں دیا۔پھر (نماز کے بعد) کہا کہ ’’تم کو اپنی نماز سے لغو گوئی کے سوا کچھ نہ ملا‘‘۔ تو نبیﷺ نے فرمایا: ’’صَدَقَ أُبَیٌّ‘‘ یعنی ابیؓ نے سچ کہا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْنَّھْیِ عَنِ السُّؤَالِ عَنِ الْعِلْمِ غَیْرَ الْاِمَامِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
        اس روایت کو امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقیؒ نے بھی سنن الکبریٰ میں، کتابُ الْجُمُعَۃِ، باب الاِنْصَاتِ لِلْخُطْبَۃِ کے تحت ذکر کیا ہے (سنن الکبریٰ، طبع دارالکتب العمیہ، بیروت، ۲۰۰۳ ؁ء، رقم الحدیث ۵۸۳۲)۔ ساتھ ہی انہوں نے ابوذرؓ اور حضرت ابیؓ بن کعبؓ کے اس واقعہ کو اسی باب میں حضرت ابوہریرہؓ سے بھی روایت کیا ہے ( رقم الحدیث ۵۸۳۳)۔نیز حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت اسی طرح مسند ابی داؤد الطّیالسی میں بھی موجود ہے۔ (مسند ابی داؤد الطّیالسی، مطبوعہ ھجر، ۱۹۹۹ ؁ء، رقم الحدیث ۲۴۸۶)۔امام احمدؒ نے بھی مذکورہ واقعے کو اپنی مسند میں ابی بن کعبؓ سے روایت کیا ہے۔ ( مسند احمدؒ، رقم ۲۱۱۸۴)۔ محدثین نے ان تینوں روایات کو صحیح کہا ہے۔
        بعض روایتوں سے یہ پتہ چلتا ہے خطبہ کے دوران گفتگو کرنے والے کا جمعہ ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
’’من تکلم یوم الجمعۃ والامام یخطب فھو کمثل الحمار یحمل أسفارًا، والذي یقول لہ: أنصت، لیس لہ جمعۃ‘‘
(ترجمہ) : ’’جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ اس کا بھی جمعہ نہیں ہوگا.‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث ۲۰۳۳)۔
        اس موضوع سے متعلق ایک روایت حضرت جابرؓ سے مصنف ابن ابی شیبہؒ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعدؓ نے ایک آدمی سے جمعہ کے دن کہا کہ تمھاری نماز نہیں ہوئی۔ اس آدمی نے اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیااور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! سعدؓ نے مجھ سے کہا ہے کہ تمھاری نماز نہیں ہوئی۔ تونبی کریمؓ نے حضرت سعدؓ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپؐ خطبہ دے رہے تھے تو اس نے بات کی تھی۔ تونبی کریمؓ نے فرمایا کہ سعد نے سچ کہا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہؒ، کتاب الصلوٰۃ، باب فِی الْکَلَامِ اِذَا صَعَدِ الْاِمَامُ الْمِنْبَرَ وَ خَطَبَ )۔
        اسی طرح کا ایک واقعہ علقمہ بن عبداللہ کا عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ مصنف ابن ابی شیبہؒ میں ہی درج ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ آئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کوچ کرجائیں اور خود مسجد میں آکر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے ایک آدمی آیا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا کہ ہم نے ایسے ایسے کیاجبکہ امام خطبہ دے رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کی تو میں نے اس سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب ہم نے نماز پوری کرلی تو میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن عمرؓ سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تمھارا جمعہ نہیں ہوا اور تمھارا وہ ساتھی گدھا ہے۔ (حوالہ سابق)۔
        مذکورہ احادیث و آثار کی وجہ سے فقہاء اور محدثین کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ خطبہ کے دوران خاموش رہنا واجب ہے۔ علامہ ابن رشد مالکیؒ کے مطابق اس امر پر جمہور جن میں امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ شامل ہیں، کا اتفاق ہے کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو تو اس وقت چپ رہنا واجب ہے ‘‘۔ (بدایۃ المجتھد و نہایۃ المقتصد اردو ترجمہ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی، دارالتذکیرلاہور،۲۰۰۹، صفحہ ۲۵۵)۔ علامہ ابن عبدالبرؒ نے بھی خطبے میں سکوت کے وجوب پر اجماع نقل کیا ہے۔ (فیض الباری اردو ترجمہ فتح الباری شرح صحیح بخاری از ابن حجرالعسقلانیؒ، مکتبہ اصحاب الحدیث، لاہور، ۲۰۰۹ء؁، جلد۲، صفحہ ۱۳۹)۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک یہ سکوت ہر حال میں واجب ہے خواہ مقتدی خطیب کے قریب ہو یا دور اور خواہ وہ خطبہ کی آواز سن رہا ہو یا نہیں۔ ان دونوں مسالک میں خطبہ کے وقت نوافل پڑھنا، ذکر کرنا، سلام کرنا یا اس کا جواب دینا حتیٰ کہ چھینک کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا بھی درست نہیں۔ مالکیہ کے نزدیک خطبہ کے وقت کلام کرنا حرام ہے اور حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ، علماء اکیڈمی، شعبہ مطبوعات محکمہ اوقاف پنجاب، ۲۰۱۳، جلد ۱، صفحہ ۴۹۱-۴۹۲)۔ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سے اس مسئلہ میں دو اقوال منقول ہیں ؛ ایک قول کے مطابق خطبہ کے وقت کلام کرنا حرام ہے اور دوسرے کے مطابق مکروہ ہے۔ (فیض الباری اردو ترجمہ فتح الباری، جلد۲، صفحہ ۱۳۹)۔ علامہ ابن ہمامؒ بھی دوران خطبہ کلام کرنے کو حرام کہتے ہیں اگرچہ امر بالمعروف ہی کیوں نہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح ( اردو)، شرح مشکوٰۃ المصابیح از علامہ علی بن سلطان محمد ہروی القاریؒ عرف ملا علی قاریؒ، مکتبہ رحمانیہ، لاہور،، جلد ۳، صفحہ ۵۶۷)۔ علامہ حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں : ’’ جب خطبہ ہونے لگے تو خاموش رہنا اصح قول کے مطابق واجب ہے، اگر اس نے اس کی پرواہ نہ کی تو لغویت کا مرتکب ہوگا، اور جس نے لغویت کا مظاہرہ کیا، تو اس کا جمعہ رائیگاں گیا.‘‘ (زادالمعاد اردو، نفیس اکیڈمی، کراچی، ۱۹۹۰ء: حصہ اول و دوم یکجا، صفحہ ۳۱۹)۔
        اب ایک آخری بات یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کا مزاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جس چیز کو بھی ممنوع قرار دیا ہے اس تک پہنچنے والے اسباب سے بھی روک دیا ہے۔ ٹھیک ویسا ہی حکم اس مسئلہ میں ہے۔ میری مراد بروز جمعہ نماز سے قبل حلقہ بنا کر بیٹھنے کے عمل سے ہے جیسا کہ ہمارے دیار میں کچھ نوجوانوں کی عادت بن گئی۔ اس سے بھی رسول اکرم ﷺ نے منع فرمادیا ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، اور اس بات سے بھی کہ گم شدہ چیز کا اس میں اعلان کیا جائے، اور اس سے بھی کہ اس میں شعر پڑھا جائے، اور بروز جمعہ نماز سے قبل حلقہ بناکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب التَحَلُّقِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَبْلَ الصَّلوٰۃ)۔ جمعہ کی نماز سے قبل حلقہ بناکر بیٹھنا اس لئے منع ہے کہ جب لوگ اس طرح بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے اور اس کی وجہ سے صف بندی میں بھی خلل واقع ہوگا۔
سحادیث و آثار اور فقہاء کی مذکورہ آراء کا تقاضایہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران بالکل خاموشی برتی جائے اور ایسی کوئی حرکت بھی نہ کی جائے جو آداب جمعہ کے خلاف ہو جس کی وجہ سے جمعہ کی فضیلت و ثواب سے محرومی ہاتھ آئے۔ علماء و خطباء کو چاہیے کہ وہ ان موضوعات پر بھی جمعہ میں گفتگو کریں اور عوام الناس کو ان سے آگاہ کریں کیوں کہ اکثر افراد سے یہ غلطی لاعلمی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے اور ان امور کی اصلاح کے سلسلے میں کی گئی راقم کی اس حقیر سی کوشش کو قبول فرمائے. آمین
(بقلم: ڈاکٹر محمد واسع ظفر)  ( #ایس_اے_ساگر )


Monday, January 1, 2024

اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں: #ایس_اے_ساگر

کیا
آپ کو علم
ہے کہ لارڈچسٹر
فیلڈ Lord Chesterfield
نے اپنے بیٹے فلپ اسٹین ہوپ کے نام بہت سے خطوط لکھے تھے. ان خطوط میں زندگی کی کامیابی کا فن سکھلایا گیا تھا۔ ایک خط میں اس نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
"میں نے تم سے کہا ہے کہ تم منٹ کی حفاظت کروگے تو گھنٹے اپنے آپ اپنی حفاظت کرلیں گے:
I recommended you to take care of minutes, for the hours will take care of themselves.
اگر آپ اپنے منٹ کو ضائع نہ کریں تو گھنٹہ اپنے آپ ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ کیوں کہ منٹوں کے ملنے سے ہی گھنٹہ بنتا ہے۔ جس آدمی نے جزء کا خیال رکھا اس نے گویا کُل کا بھی خیال رکھا۔ کیوں کہ جب بہت سا اجزاء اکھٹے ہوتے ہیں تو وہی کُل بن جاتا ہے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ 'زیادہ' کی فکر میں 'کم' کو فراموش کردیتے ہیں. وہ اپنے ذہن کو 'زیادہ' کی طرف اتنا لگادیتے ہیں کہ 'کم' کی طرف سے ان کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ یہی نکتا ہے کہ انھیں 'کچھ' بھی نہیں ملتا۔ اپنے ملے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیجئے۔ لمحوں کو استعمال کرکے آپ مہینوں اور برسوں کے مالک بن سکتے ہیں۔ اگر آپ نے لمحوں کو کھودیا تو اس کے بعد آپ مہینوں اور برسوں کو بھی یقینی طور پر کھودیں گے۔ اگر آپ روزانہ اپنے ایک گھنٹے کے صرف پانچ منٹ کھودیتے ہیں تو رات دن کے درمیان آپ روزانہ 2 گھٹنے کھودیتے ہیں۔ مہینے بھر میں 60 گھنٹے شمار ہوتے ہیں جبکہ سال بھر میں آپ کے 720 گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں ـ اسی طرح ہر آدمی اپنے میسر وقت کا بہت سا حصہ ضائع کردیتا ہے۔ 80 سال کی عمر پانے والا آدمی اپنی عمر کے چالیس سال بھی پوری طرح استعمال نہیں کرپاتا۔ وقت آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ لہذا اپنے حال پر رحم کریں وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں. #ایس_اے_ساگر


Tuesday, August 1, 2023

القاسم

القاسم 
دیوبند کے محرم الحرام 
1345 کے شمارے میں یعنی ٹھیک 
ایک سو سال قبل کابل سے مولانا منصور نامی 
کسی عالم کا ایک مکتوب شائع ہوا۔ ملاحظہ ہو، ان کی نگاہ بابصیرت نے ایک صدی بعد کے حالات کو کیسے دیکھ لیا تھا۔ 
------
قلندر ہر چہ گوید؛ دیدہ گوید! 
(آج سے ایک سو سال پہلے دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے رسالہ "القاسم" کے محرم الحرام 1345 ھ کے شمارہ میں کابل سے تعلق رکھنے والے مولانا منصور نامی عالم کا ایک مکتوب شائع ہوا۔ جس میں انھوں نے ہندوستان کے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے سد باب کے لئے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی بیش قیمت تدابیر پیش کی تھیں ... انگریزی عہد کے اخیر میں اور آزادی کے بعد جو جان گسل حالات پیش آئے. فراست مومن پر مشتمل اس شاہکار تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بزرگ کی بابصیرت نگاہوں نے ایک صدی بعد کے حالات کو بہتر انداز میں تاڑ لیا تھا؟ یہ  تحریر ہمیں شوشل میڈیا سے اسکرین شاٹ کی شکل میں موصول ہوئی،ہم نے اسے یونیکوڈ میں منتقل کیا.  صاحب تحریر سے تعارف نہیں ہے. اسی طرح پس منظر کا بھی علم نہیں ہے، البتہ باتیں دمدار ہیں... پیش خدمت ہے یہ بابصیرت تحریر... 
(بندہ: خالد نیموی قاسمی) 
"سردیوں میں گذرکرنا، پیاده سفر؛ بوجھ اٹھانے ، زمین پر سونے؛ آفتاب میں چلنے پھرنے اور کام کرنے ، دوڑنے، تیر نے، اور اس قسم کی چیزوں کی پوری مشق کی مسلمان بچوں کو از حد ضرورت ہے ۔ جوتے پہن کرسفرکرنا بھی کوئی محمود بات نہیں؛ ننگے پیر چل سکنے والوں کی پیروی مشکل کشا ہوسکتی ہے. 
مسلمانان ہند ایک ایسی قوم کے وطندار ہیں جن کا قدیم ملی فلسفہ اچھوت (امی اجنبی) ہے ، اور اب ان میں بعض جرار، فعال اور بااثر قابل ہستیاں ایسی پیدا ہوچکی ہیں جو ہندستان کو بھی" اسپین ثانی" بنانے کے جہاد کو خیراالاعمال قرار دے چکی ہیں. شیر پنجاب (لاجپت رائے)) ان کی ساتھ عملاً عہد وفا باندھ چکا ہے اور کل کی خبر نہیں. آج گاندھی جی بھی ان ہستیوں کی توہین کرنے ، ان کے خلاف میدان میں کھڑے ہونے کے لئے تیار معلوم نہیں ہوتے، کون پیشینگوئی کرسکتا ہے کہ یہ تحریک کامیاب نہ ہو گی۔ لفظ ہندوستان اس کا مؤید و مبلغ ابدی ، ہندو مت کا قدیم عملی فلسفہ ( چھوت) اس کا داعی دائمی ، ملت ہنود کے علمی رجحانات اور موجودہ رائج تواریخ مصالحہ اس کا حامی اصلی.. 
اور دوسری طرف مسلمانان ہند کی علمی فنی، مالی، روحی حالت اوران کی داخلی و خاجی ابتری اور پھپھسی تنظیم اس پر مائل کرنے والی؛ تو کیسے کوئی عقل باور کرسکتی ہے کہ استقبال قریب میں ہندو مت اپنے نعرہ کو کہ: ہندوستان خالص ہندوؤں کے لئے ہے، عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر بخوشی یا بزور جمع نہ ہوجائیں گے۔ 
ایک کامل الہمت سمجھ اس پر تکیہ کرسکتی تھی کہ برطانیہ کا سایہ ہندوستان پراس خطرہ کا مدافع اور اس زہر کا تریاق ہے؛ لیکن اول برطانیہ کے قبضہ کی ابدیت ہندستان پر بالکل موہوم!
 کون نہیں جانتا کہ یوروپ ایک دوسرے مہیب باہمی تصادم کے قریب نہایت تیزی کے ساتھ آیا ہے ، اس آویزش میں برطانیہ کا شریک اول ہونا محقق معلوم ہوتا ہے، اس وقت برطانیہ کو کیا پیش آئے گا ؟ اس کی نو آبادیات کی کیا حالت ہوگی؟ ہندستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ یہ ایسے سوالات میں جن کو خود برطانیہ کے مبصرین اور مدبرین بھی سالوں مشورے کرنے کے بعد طے نہیں کرسکتے ۔
دوسرے یہ کہ ایک کارواں کو اس خطرہ سے ایک لمحے کے لئے بھی (اگر وہ ناتجربہ کارانہ آرزوؤں "دلائل" کا شکار نہ ہوگیا ہو) غافل نہ ہونا چاہئے کہ اسوقت ہندوؤں کے پاس جاپان جیسی نو خیز متمول ، مالک فن و مشین بانی جدید کافی ہستی موجود ہے۔ ہندوؤں کے بعض سر گرم ، قابل اور باتجربه ہستیاں جن کا ہندستان کے ہنود پر اثر بھی کافی ہے؛ وہاں عرصہ سے سرگرم عمل بھی ہیں اور جاپان بلکہ چین میں بھی ان کو بعض جماعتیں ہم فکر مل گئی ہیں اور بعض مقتدر ذوات  بھی اُن کی فرمایشات پر کان دھرتے ہیں؛ تو سوچا جائے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
 علی الخصوص اُس وقت کہ برطانیہ کسی طویل اور مہیب جنگ میں گرفتار ہو؛ یعنی مسلمان دست تہی اور ہندو مسلح... پھر غور کرو! اس کے انجام پر.. آیا ہندوستان اسپین ثانی نہیں بن سکتا؟
یہ وجوہ ہیں؛ جن کی بنا پر میں آئندہ حالات کو ہنود کے موافق دیکھتا ہوں (و الغیب عنداللہ،) اور ضروری جانتا ہوں کہ موجودہ مسلمانان ہند  کے بچے کہ جن کے بڑے ہونے سے پہلے اس کیفیت اور کوہ فرسا مصائب کے وقوع کا قوی احتمال ہے؛ صبرو توکل اور قرون مشہود لھا بالخیر کی سادگی کی پوری پوری مشق کریں. تاکہ اس فتنہ کا کسی درجہ میں مقابلہ کرنے کے قابل تو ہوجائیں. اگر ہندستان میں رہ نہ سکیں تو بے دست پائی کے سبب شدھ  ہونے پر تو راضی نہ ہوجائیں. 
کم ازکم جان نکال لیجانے کے قابل تو ہوں. میرے خیال میں مسلمانان ہند جو اخباری اطلاع کی شراب پی کر یا ممالک مختلفہ کی روشن و مصفی سیر گاہوں کی ہوا کھا کر مست ہیں؛ میرے دلائل سے بہت سی ذوات انتہائی مخالفت کرسکتے ہیں؛ لیکن عجوبہ روزگار "سنگٹھن" اور ناقابل توقع " شدھی" کی عملی اور شاندار اجرا کے بعد  میری اصل تجویز کی حماقت کوئی بھی نہیں کرسکتا، اس لئے میری آرزو ہے کہ جہاں تم ابتدائی مدارس اور اسکولوں میں اس ضرورت پر توجہ نہ دیکھو؛ یا اس کی کمی محسوس کرو. وہاں اس کی تبلیغ کرو اور ہوسکے تو اس کے اجراء کے عملی وسائل کی طرف قدم اٹھاؤ! اللہ تعالے تمھارا مدگار ہو. آمین!
( #ایس_اے_ساگر )

Saturday, July 29, 2023

کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے فوائد جانتے ہیں

"کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے فوائد جانتے ہیں؟"
برصغیر ہندپاک میں خوبصورتی کے لئے استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں میں مقبول ترین مہندی ہے. عام طور پر لوگوں کو علم نہیں کہ اس میں موجود ٹھنڈی تاثیر گرمی سے بھی بچاتی ہے۔ لیکن کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے دیگر فوائد بھی جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔
صحت مند بال:
مہینے بھر میں صرف دو مرتبہ مہندی لگانے سے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوتے ہیں، یہ آپ کے بالوں کی ختم ہوجانے والی صحت کو بحال کرتی ہے اور نقصان کو ختم کرتی ہے۔ مہندی سر میں تیزابی اثرات کو توازن میں رکھتی ہے اور اس سے بالوں کا قدرتی تناسب متاثر نہیں ہوتا۔
بالوں کے گرنے سے بچائے:
مہندی اور مسٹرڈ آئل کو ملانے سے بالوں کے گرنے کے مسئلے میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ڈھائی ملی لیٹر مسٹرڈ آئل کو ابالیں، اس میں مہندی کے چند پتوں کو ملائیں اور مزید ابالیں، اس تیل کی مالش ہفتے میں دو سے تین بار سر پر کریں۔
بالوں کا کنڈیشنر:
مہندی آپ کے بالوں کے لئے بہت اچھا کنڈیشنر بھی ہے۔ یہ بالوں پر ایسی حفاظتی تہہ بنادیتی ہے جو مٹی یا آلودگی کے نقصانات سے بچاتی ہے. مہندی کے استعمال کو معمول بنانے سے بال مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں اور ان میں ضروری نمی موجود رہتی ہے۔
بالوں کی سفیدی چھپائے:
اگر آپ اپنے بالوں کو نقصان پہنچائے بغیر رنگنا چاہتے ہیں تو مہندی اس کا بہترین حل ہے، اس میں کسی قسم کے امائنو ایسڈ نہیں ہوتے اور نہ ہی کیمیکل جو بالوں کی نمی کو ختم کرکے انہیں بے جان اور روکھا بنادیتے ہیں۔ گرم پانی میں دو چمچ خشک آملہ، ایک چمچ پتی کے ساتھ مہندی کو شامل کرکے اس کا پیسٹ بناکر سر پر دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں، آپ کے بالوں کی سفیدی سیاہ چمکدار رنگت میں تبدیل ہوجائے گی۔
خشکی سے تحفظ:
مہندی خشکی کے لئے بھی موثر ہے۔ میتھی کے بیجوں کو ایک یا دو چمچ پانی میں رات بھر بھگوکر رکھیں اور صبح انہیں پیس لیں۔
سرسوں کا تیل اور مہندی کے پتے گرم کریں اور ٹھنڈا کرنے کے بعد میتھی کا پیسٹ اس میں شامل کرلیں اور پھر بالوں میں ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد نہالیں۔
بالوں کو جگمگائیں:
مہندی میں موجود اجزاء بالوں کو خشک ہونے، نقصان پہنچنے اور دیگر نقصانات سے بچاتے ہیں جبکہ اس سے بال بھی چمکدار ہوجاتے ہیں۔ ( #ایس_اے_ساگر )

Monday, May 22, 2023

حالت حیض میں عورت کا جائے نماز پر بیٹھنا

عنوان: 
حالت حیض میں 
عورت کا جائے نماز پر بیٹھنا
سوال: کیا عورت حالت حیض میں جائے نماز پر بیٹھ سکتی ہے؟ کئی لوگ اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔
جواب: واضح رہے کہ اگر جائے نماز کے ناپاک ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو حالت حیض میں عورت جائے نماز پر بیٹھ سکتی ہے، اسے ناجائز سمجھنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (باب ما جاء في الحائض، رقم الحديث: 134، 40/1، ط: قدیمی کتب خانه)
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبيدة بن حميد، عن الأعمش، عن ثابت بن عبيد عن القاسم بن محمد، قال: قالت
عائشة: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : ناوليني الخمرة من المسجد، قالت: قلت: إني حائض، قال: إن حيضتك ليست في يدك.

الفتاوی الھندیۃ: (38/1، ط: دارالفکر)
ويستحب للحائض إذا دخل وقت الصلاة أن تتوضأ وتجلس عند مسجد بيتها تسبح وتهلل قدر ما يمكنها أداء الصلاة لو كانت طاهرة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی (فتویٰ نمبر: 7582) ( #ایس_اے_ساگر )

Monday, May 8, 2023

اللہ سبحانہ تعالیٰلوگوں سے ملنے جلنے پر پہنچنے والی تکلیف کوبرداشت کرنے والے مومن کو کیا عطاء کرتے ہیں؟

اللہ 
سبحانہ تعالیٰ
لوگوں سے ملنے جلنے 
پر پہنچنے والی تکلیف کو
برداشت کرنے والے مومن کو کیا 
عطاء کرتے ہیں؟
حدثنا علي بن ميمون الرقي. حدثنا عبدالواحد بن صالح. حدثنا إسحاق بن يوسف, عن الاعمش. عن يحيى بن وثاب. عن ابن عمر. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على اذاهم. اعظم اجرا من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على اذاهم."
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے.“ ۱؎۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/صفة القیامة 55 (2507)، (تحفة الأشراف: 8565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/43) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔ 
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The believer who mixes with people and bears their annoyance with patience will have a greater reward than the believer who does not mix with people and does not put up with their annoyance.” 
Ibn e Majah Hadith No. 4032
#S_A_Sagar

Friday, March 3, 2023

سناء اور زیرہ کو استعمال کرو


حضرت عبداللہ بن ام حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بس سناء اور زیرہ کو استعمال کرو اس لئے کہ ان دونوں میں بجز سام کے ہر بیماری کے لئے شفا ء ہے. عرض کیا گیا کہ حضور سام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا موت۔
(سنن ابن ماجہ ۔طب نبوی از حافظ ابن القیم ۔ص108)
 سنا ء کے فائدے:
سناء کو عربی اور فارسی میں سناء مکی اور انگریزی میں senna کہتے ہیں۔ یہ ہر خلط کی مسہل ہے۔ دماغ کا تنقیہ کرتی ہے. کمر درد، عرق النساء، جوڑوں کے درد اور نوبتی بخاروں میں فائدہ دیتی ہے. پیٹ کے کیڑوں کی قاتل ہے.  
(کتاب المفردات۔ ص 292)
بیماریوں کی ماں قبض:
اگر اجابت بوقت معمولہ نہ آئے. یعنی کبھی دوسرے تیسرے روز آیا کرے۔ یا اوقات میں تبدیلی نہ ہو لیکن مقدار میں کم آئے گویا اجابت با فراغت نہ ہو تو ان دونوں صورتوں کو قبض ہی کہا جائے گا۔ آج کل بے شمار لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں مگر بے پروائی کرتے ہیں. اسی وجہ سے انہیں طرح طرح کی بیماریاں چمٹی رہتی ہیں۔ کیونکہ قبض بقول اطباء فی الواقع ام الامراض یعنی بیماریوں کی ماں ہے۔ اس کی وجہ سے درد سر، نزلہ، زکام، نظر کی کمزوری، دل کی گھبراہٹ، بے چینی، بھوک کی کمی، بواسیر وغیرہ امراض پیدا ہوتے ہیں. اس لئے ہمیں لازم ہے کہ اس مرض کو معمولی نہ خیال کرتے ہوئے اس کا علاج کریں.
چائے کا زیادہ استعمال، سگڑیٹ یا حقہ نوشی، افیون کھانا، دماغی محنت کی زیادتی ،گھی دودھ کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے آنتیں خشک ہوکر قبض کا باعث بنتی ہیں.
رفع حاجت کے وقت زیادہ دیر لگتی ہے اور پھر بمشکل خشک سا پاخانہ خارج ہوتا ہے اوربعض مواقع پر اجابت خون آلود ہوتی ہے. یہ سب قبض کی علامات ہیں. 
(کنزالمجربات. ج ۱۔ ص 125)
سناء کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ باوجود مسہل ہونے کے مقوی قلب ہے. وسواس سوداوی خصوصیت سے زائل کرتی ہے. عضلات کو چست بنادیتی ہے. بالوں کو گرنے سے بچاتی ہے. جوں سے حفاظت کرتی ہے ۔پرانے درد سر کو ختم کرتی ہے. خارش، دانے اور مرگی کے لئے نافع ہے. (بب نبوی ا. ص 109)
خمیرہ ملین برائے قبض کشائی:
گل سرخ ایک پاؤ، سناء مکی ایک پاؤ، ایک سیر پانی میں رات بھر بھگو رکھیں. صبح کو آگ پر یہاں تک جو ش دیں کہ ڈیڑھ پاؤ پانی رہ جائے تو اتارلیں اور چھان کر پانی میں ڈیڑھ سیر مصری شامل کرکے خمیرہ تیار کرلیں اور محفوظ رکھیں۔ ایک تولہ سے دو تولہ تک قبض کے لئے کھلائیں ۔ 
(کنزالمجربات۔ ج ۳۔ ص 657)
معجون سناء برائے دائمی قبض اور درد قولنج:
سفوف سناء مکی، مویز منقیٰ اور روغن بادام سب چھ چھ ماشہ، گل قند چھ تولہ، مغز بادام ایک تولہ سفوف سناء کو روغن بادام میں چرب کریں اور مغز بادام اور مویز منقیٰ شامل کرکے گل قند ملادیں. چھ ماشہ گرم دودھ سے رات کو کھائیں.