Saturday, January 10, 2026

جمعہ کی فضیلتوں سے محروم کرنے والے اعمال

جمعہ کی فضیلتوں سے محروم کرنے والے اعمال
اسلام میں جمعہ کے دن کو بہت ہی عظمت اورفضیلت والا دن قرار دیا گیا ہے۔ اس دن تمام دنوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہفتے کی عید ہے۔ اسی لئے اس دن ادائے شکر کے لئے ایک خاص نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جسے نماز جمعہ کہتے ہیں جس کی فرضیت قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت سب سے ثابت ہے۔ یہ اسلام کے شعائر اعظم میں سے ہے جس کے اہتمام کی نہ صرف تاکید کی گئی ہے بلکہ اس سے بہت سی فضیلتیں اور بشارتیں بھی وابستہ ہیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَ تَطَھَّر بِمَا اسْتَطَاعَ  مِنْ طُھْرٍ، ثُمَّ ادَّھَنَ  أَوْ مَسَّ مِنْ طِیْبٍ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ یُفَرِّقْ بَیْنَ اثْنَیْنِ، فَصَلّٰی مَا کُتِبَ لَہُ، ثُمَّ إِِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ أَنْصَتَ، غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی‘‘
’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورجس قدر ممکن ہوا پاکی حاصل کی، پھر تیل یا خوشبو استعمال کی، پھر نمازجمعہ کے لئے روانہ ہوا اور (مسجد میں پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق نہ کی، پھر جتنی (نفل) نماز اس کی قسمت میں تھی اداء کی، پھر جب امام (خطبہ کے لئے) باہر آیا تو خاموشی اختیار کی، تو اس کے اس جمعہ سے لے کر سابقہ جمعہ تک کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ لَا یُفَرَّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)
امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں دس دنوں کے گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’مَنِ اغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَۃَ، فَصَلّٰی مَا قُدِّرَ لَہُ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتّٰی یَفْرُغَ  مِنْ خُطْبَتِہِ، ثُمَّ یُصَلِّي مَعَہُ، غُفِرَلَہُ مَا بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی، وَفَضْلُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ‘‘
(مفہوم): ’’جس نے غسل کیا، پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا، پھر جتنا اس کے مقدر میں تھا (خطبہ سے پہلے نفل) نماز پڑھی، پھر خاموش رہا یہاں تک کہ خطیب اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا، پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے گناہ اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک اور تین دن اور زائد کے بخش دیئے جاتے ہیں.‘‘ (صحیح مسلم، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَ أَنْصَتَ فِي الْخُطْبَۃِ)۔
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا (مفہوم): 
’’جو شخص جمعہ کے دن اپنا سر دھوئے اور غسل کرے اور صبح سویرے (یعنی اول وقت میں مسجد) جائے (تاکہ) شروع سے خطبہ پالے اور سوار نہ ہو (یعنی پیدل چل کر جائے)، اور امام کے قریب بیٹھے پھر غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالے تو اس کے لئے ہر قدم اٹھانے کے بدلے ایک سال کے روزوں اور رات کو قیام کی عبادت کا ثواب ہوگا.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الطھارۃ، باب فِي الْغُسْلِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)۔
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ہی ایک روایت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مفہوم): ’’جمعہ میں تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں؛ ایک وہ شخص جو جمعہ میں حاضر ہوکر لغو گفتگو (یا لغو کام) کرتا ہے، اس میں سے (یعنی جمعہ سے) اس کا یہی حصہ ہے، دوسرا وہ شخص ہے جودعا کی غرض سے حاضر ہوتا ہے، سو وہ ایسا شخص ہے جس نے اللہ عزوجل سے دعا کی ہے. اگر وہ چاہے تو اسے عطا کرے اور چاہے تو نہ دے، تیسرا وہ شخص جو خاموشی اور سکوت کے ساتھ (جمعہ میں) حاضر ہوتا ہے (یعنی لغو بات نہیں کرتا اور خاموشی سے خطبہ سنتا ہے)، نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو ایذا دیتا ہے تو یہ (جمعہ) اس کے لئے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن تک (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ جو ایک نیکی لاتا ہے اس کے لئے اس کا دس گنا (اجر) ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، بابُ الْکَلَامِ ِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
مذکورہ روایتوں پر غور کرنے سے جہاں جمعہ کی فضیلتوں کا پتہ چلتا ہے وہیں اس بات سے بھی آگہی ہوتی ہے کہ یہ فضیلتیں چند آداب و ضوابط کے ساتھ مشروط ہیں مثلاً غسل کرنا، نماز جمعہ کے لئے جلدی اور پیدل جانا، کسی کی گردن نہ پھلانگنا، کسی کو ایذا نہ دینا، دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسنا، خاموش رہنا اور کوئی لغو بات زبان سے نہ نکالنا، غور سے خطبہ سننا وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر جمعہ کی ان فضیلتوں کا طالب ہے تو اس پر ان ضوابط کا اہتمام لازم ہے۔ بصورت دیگر اسے محرومی سے بھی سابقہ ہوسکتا ہے۔ ان دنوں مشاہدے میں یہ بات آرہی ہے کہ کچھ لوگ نمازجمعہ میں شرکت کے لئے دیر سے مسجد آتے ہیں اورلوگوں کی گردنیں پھلانگ کر اگلی صفوں میں جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ نیز دو آدمیوں کے درمیان جہاں جگہ نہ بھی ہو گھس کر ان کی ایذا کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ خطبہ کے دوران بھی گفتگو کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں اور کچھ نوجوان تو باضابطہ حلقہ لگاکر بیٹھ جاتے ہیں اور مستقل باتوں میں مصروف رہتے ہیں حتی کہ خطبہ کے دوران بھی وہ خاموشی اختیار نہیں کرتے۔ ایسے لوگ جمعہ کی فضیلتوں سے نہ صرف خود محروم ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی عبادت میں خلل اندازی کرنے اور تکلیف پہنچانے کا وبال بھی اپنے سر لے کر جاتے ہیں۔ اس حالت کے پیش نظر ضرورت اس بات کی محسوس ہوئی کہ ان عوامل پر جو جمعہ کی فضیلتوں سے محرومی کا سبب بنتے ہیں تفصیل سے روشنی ڈالی جائے۔
نمازجمعہ کے لئے مسجد دیر سے آنا:
سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنا چاہئے کہ نماز جمعہ کے لئے مسجد دیر سے آنا خود ایک ایسا عمل ہے جو جمعہ کے ثواب کو بہت کم کردیتا ہے اور خطبہ شروع ہوجانے کے بعد آ نے والوں کا نام تو نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں لکھا بھی نہیں جاتا۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر غور کرنا چاہئے (مفہوم): ’’جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، پہلے پہل اور اس کے بعد آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح (لکھا جاتا) ہے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح، پھر مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد مرغی، اس کے بعد انڈا اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے والے کی طرح۔ پھر جب امام (خطبہ دینے کے لئے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کردیتے ہیں اور ذکر الٰہی (خطبہ) سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْاِسْتِمَاعِ اِلَی الْخُطْبَۃِ، بروایت ابوہریرہ رضي الله عنه)۔
ظاہر ہے جب فرشتے دفتر بند کرکے خطبہ سننے میں مشغول ہوجائیں تو اس کے بعد آنے والوں کا نام نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں کیسے لکھا جائے گا؟ نیز یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے اول وقت میں آنے والوں اور خطبہ کی ابتدا سے ٹھیک قبل آنے والوں کے ثواب کا فرق اونٹ اور انڈے کی قربانی یا صدقے کے ثواب کے فرق کے مانند ہے۔ اس لئے انڈا صدقہ کرنے کے ثواب پر اکتفا کرنے یا بالکل ہی ثواب سے محروم ہوجانے سے بہتر ہے کہ اول وقت میں نمازجمعہ کے لئے حاضری ہو اور امام کے قریب تر جگہ لینے کی کوشش کی جائے۔ یہی ہدایت بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ترجمہ): ’’خطبہ میں حاضر ہوجایا کرو اور امام سے قریب رہوکیوں کہ آدمی برابر دور ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جنت (میں داخل ہونے) میں بھی پیچھے کردیا جاتا ہے اگرچہ وہ اس میں داخل بھی ہوجائے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب الدُّنُوِّ مِنَ الْاِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَۃِ)۔ امام حاکم بھی اس حدیث کو مستدرک میں کتاب الجمعہ میں لائے ہیں اور اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔(المستدرک علی الصحیحین، طبع دارالکتب العلمیۃ، بیروت، رقم ۱۰۶۸)۔
اس حدیث میں یہ تنبیہ ہے کہ نمازجمعہ کے لئے دیر سے آنے کی عادت بنالینا جو کہ یقینا خطبہ اور نماز میں امام سے دوری کا سبب ہوگا، جنت کے دخول میں بھی تاخیر کا سبب بن سکتا ہے کیوں کہ اس نے مقربین کا اسوہ نہ اپنا کر متسفلین (یعنی نیچے طبقے والے لوگوں) کے طریقے کو اپنایا اور اس پر مدوامت اختیار کی۔
 اگلی صفوں میں جانے کے لئے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا:
نمازجمعہ کی ادائی کے لئے دیر سے آنا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صفوں میں جگہ لینے کی کوشش کرنابھی شارع کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ اور مکروہ فعل ہے۔ عبداللہ بن بُسرؓ سے روایت ہے کہ جمعہ کے روز ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: 
’’اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ‘‘ 
یعنی ’’بیٹھ جاؤتم نے اذیت دی ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب تَخَطِّيْ رِقَابِ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ)۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے جس کے الفاظ ہیں:  
’’اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَ آنَیْتَ‘‘ 
یعنی ’’بیٹھ جاؤتم نے تکلیف پہنچائی اور تاخیر سے آیا ہے.‘‘ (مسند احمد، مطبوعہ دارالحدیث، قاہرہ، ۱۴۱۶ھ؁، رقم الحدیث ۱۷۶۰۵)۔
لوگوں کی گردنیں پھلانگنا اس لئے ناپسندیدہ اور ممنوع ہے کہ ایک تو اس میں ان مسلمانوں کی بے اکرامی ہوتی ہے جن کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ مسلمان کا اکرام واجب ہے، دوسرے یہ ان کی اذیت کا سبب بھی ہے جبکہ کسی مسلمان کو ایذا دینا بھی حرام ہے۔ اگر کسی کو کوئی شرعی ضرورت پیش آجائے مثلاً وضو ٹوٹ جائے اور اسے باہر جانا ضروری ہوجائے تو اسے بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ادب و اکرام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مجمعے سے گزرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عمل کے سلسلے میں وعیدیں بھی منقول ہیں۔ آپؐنے فرمایا: 
’’مَنْ تَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلٰی جَہَنَّمٍ‘‘ 
(ترجمہ): ’’ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگا اس نے (اپنے لئے) جہنم کی طرف لے جانے والا ایک پل بنالیا‘‘۔ (سنن ترمذی، ابواب الجمعۃ، بابُ مَاجَائَ فِي کَرَاھِیَۃِ التَخَطِّیْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، بروایت سہل بن معاذ بن انس جہنیؓ)۔
مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ اس آدمی نے اپنے اس عمل سے اپنے لئے گویا جہنم کا راستہ کھول لیا۔ اتَّخَذَ (معروف) کے بجائے اگراتُّخِذَ  (یعنی مجہول) پڑھا جائے تو یہاں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اسے ہی جہنم پر جانے کے لئے پل بنایا جائے گا یعنی جس طرح اس نے گردنوں کو پھلانگ کر لوگوں کو اپنی گزرگاہ بنایا ٹھیک اسی طرح اس کو جہنم کی طرف پل بناکر لوگوں کے لئے گزرگاہ بنایا جائے گا اور اس پر چڑھ کر وہ لوگ گزریں گے جو جہنم کی طرف یا تو کھینچے جائیں گے یا جہنم کو عبور کریں گے لیکن اسے روند ڈالیں گے۔
اس موضوع سے متعلق دوسری روایت حضرت ارقم بن ابی ارقمؓ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مفہوم): ’’بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور امام کے (خطبہ کے لئے) نکل آنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق ڈالتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہو.‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث ۱۵۳۸۶)۔ اس حدیث کوامام طبرانیؒ نے المعجم الکبیر میں عثمان بن ارزق سے روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانیؒ، مطبوعہ مکتبہ ابن تیمیہؒ، القاہرہ، ۱۹۸۳، رقم ۸۳۹۹)۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ ہم آپ تو ایسے شخص کو لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کے انجام کے عتبار سے اسے گو یا جہنم میں انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
گو محدثین نے لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی وعید میں مذکور دونوں احادیث پر کلام کیا ہے مثلاً امام ترمذیؒ نے سہل بن معاذ بن انس جہنیؓ کی روایت کو غریب کہا ہے اور امام ابوالحسن الھیثمی اور امام ذہبی رحمہم اللہ نے ارقم بن ابی ارقم رحمۃ اللہ علیہ مخزومی والی مسند احمد کی روایت کو ایک راوی ہشام بن زیاد کی وجہ سے ضعیف ٹھہرایا ہے لیکن اس مسئلہ سے متعلق باب میں کئی صحیح روایات موجود ہیں مثلاً عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہم کی روایات سنن ابی داؤد میں جو اوپر گزریں، اس لئے اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ جمعہ کے دن گردنیں پھاند کر آگے جانے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اکثرعلماء نے اس مسئلہ میں شدت اختیار کی ہے اور اس فعل کو بہت ہی برا کہا ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے زوائدالروضہ میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ کی بنا پر اس فعل کو حرام جاننا ہی مختار ہے۔ عراقی نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہاکہ گردنیں پھلانگنے سے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ جمعہ ترک کردوں۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ گردنیں پھلانگنے کی نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ نماز جمعہ کو حرّہ میں جاکر ادا کروں. (یعنی مسجد نبوی کی فضیلت بھی ترک کردوں لیکن اس مکروہ فعل کا مرتکب نہ ہوں)۔ (فضل المعبود شرح سنن ابی داؤد ازشیخ منظور احمد، المصباح، لاہور، جلد ۲، صفحہ ۲۲۹-۲۳۰)۔
ان احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی کراہت جمعہ کے دن کے ساتھ مخصوص ہے لیکن قوی احتمال اس بات کا ہے کہ یہ حکم عام ہو اور جمعہ کی تخصیص صرف اس لئے کی گئی ہو کہ عموماً اس دن مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ عمل لوگوں سے زیادہ سرزد ہوتا ہے ورنہ کراہت کی جو علت بیان کی گئی ہے وہ بھی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ یہ حکم عام ہو اور اس کا اطلاق ہر اس مجمع پر ہو جہاں کسی کو کسی کے گزرنے سے تکلیف ہو خواہ وہ عام نمازوں کا مجمع ہو یا پھر کوئی دعوتی یا علمی مجلس ہو۔ اس لئے ہر طرح کی مجلس میں اس حکم کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے خصوصاً جب خطبہ یا کوئی اور دعوتی یا علمی پروگرام شروع ہوجائے تو اس عمل سے اور بھی احتراز لازم ہے کیوں کہ اس سے لوگوں کی توجہ بھی بٹتی ہے جس سے دینی کام میں رخنہ اندازی کرنے کا گناہ بھی لازم آتا ہے ا ور بعض مرتبہ آپس میں بگاڑ اور جھگڑے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ اس قسم کی حرکت عموماً جہلا اور متکبر لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ مسجد یا علمی مجالس میں پہلے آنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اگلی صفوں میں ترتیب سے اس طرح جگہ لیں کہ درمیان میں خالی جگہ نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کے لئے لوگوں کے کندھوں کو پھلانگ کر آگے جانے کا جواز فراہم نہ ہو ورنہ وہ لوگ بھی ان کے گناہ میں شریک قرار دئے جائیں گے۔ بعض لوگوں نے ایسی صورت میں جب کہ پہلے آنے والوں کی کوتاہی کی وجہ سے آگے جگہ خالی ہو کندھا پھلانگ کر آگے جانے والوں کو معذور قرار دیا ہے لیکن احقر کا خیال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے شرعی اصول و آداب کا خیال نہیں رکھا اور غلطی کا مرتکب ہوا ہے تو دوسرا بھی کیوں ہو ؟ اسے تقوی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور جو جگہ بھی پیچھے میسر آجائے اس پر ہی اکتفا کرنا چاہئے۔
یہ تو ہوا لوگوں کے کندھوں کو پھلانگنے کی کراہت کا بیان اور اگر کسی مسلمان بھائی کو کوئی اس کی جگہ سے اٹھا کر بیٹھ جائے تو یہ اور بھی برا ہے کیوں کہ یہ اس کی حق تلفی ہے اور اسلامی مساوات کے اصول کے بھی خلاف ہے، ہاں اگر کوئی خود سے کسی کو اپنی جگہ پیش کرے تو اور بات ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں صراحت سے ممانعت منقول ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو اٹھاکر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھا کہ کیا یہ ممانعت جمعہ کے لئے ہے؟ انہوں نے فرمایاکہ جمعہ کے لئے بھی ہے اور جمعہ کے علاوہ بھی." (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ أَخَاہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ یَقْعُدُ فِي مَکَانِہِ)۔ اس لئے اس عمل سے بھی سختی سے احتراز کرنا چاہئے۔
خطبہ کے دوران گفتگو کرنا:
جمعہ کے ضروری آداب میں سے یہ ہے کہ جب امام خطبہ شروع کرے تو ہر شخص کو خاموش ہوکر توجہ کے ساتھ ان کی بات سننی چاہیے، خطبہ کے درمیان کسی قسم کی گفتگو ممنوع ہے جو نماز کے اجر کو ضائع کردیتی ہے۔ کتب احادیث میں اس سلسلے میں کئی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ امام بخاری ؒنے جمعہ کے دن خطبہ کے وقت چپ رہنے کے باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت تعلیقًا نقل کیا ہے کہ امام جب خطبہ شروع کرے تو خاموش ہوجانا چاہیے۔ یہ خاموشی ہر شخص کے لئے واجب ہے خواہ اس تک خطبہ کی آواز پہنچ رہی ہو یا نہیں پہنچ رہی ہو۔ مالک بن عامرؒ سے روایت ہے کہ عثمانؓ بن عفان جب خطبہ کیلئے کھڑے ہوتے تو اکثر یہ فرمایا کرتے تھے (ترجمہ): ’’اے لوگو! جب امام جمعہ کے دن خطبہ کے لئے کھڑا ہو تو خطبہ کو سنو اور خاموش رہوکیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنااس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے.‘‘ (مؤطا امام مالکؒ، کِتَابُ الْجُمُعَۃِ، بابٌ مَاجَائَ فِي الْاِنْصَاتِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ الْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
خطبہ کے دوران خاموش رہنے کی تاکید اس درجہ کی گئی ہے کہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے اس وقت کسی بات کرتے ہوئے شخص کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت خاموش رہنے کے لئے کہنا بھی ایک لغو حرکت ہے یعنی اتنا بولنے کی بھی گنجائش نہیں کہ خاموش رہو۔ روایت اس طرح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ: أَنْصِتْ، وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ‘‘
یعنی ’’جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو، اگر تم نے اپنے ساتھی (پاس بیٹھے شخص) سے کہا کہ خاموش رہوتو تم نے (خود) ایک لغو حرکت کی.‘‘ (صحیح بخاری، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْاِنْصَاتِ  یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، بروایت ابوہریرہؓ)۔
بعض روایتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کو چپ رہنے کے لئے کہنے سے بھی جمعہ کا ثواب ضائع ہوجاتا ہے جیسے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت نقل کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ قَالَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ  لِصَاحِبِہِ: صَہٍ، فَقَدْ لَغَا، وَ مَنْ لَغَا فَلَیْسَ لَہُ فِي جُمُعَتِہِ تِلْکَ شَيْئٌ‘‘
’’جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے (بغل کے) ساتھی سے کہا: چپ رہو، تو اس نے لغو حرکت کی اور جس شخص نے لغو حرکت کی اس کے لئے اس جمعہ سے کچھ بھی (ثواب) نہیں ہے‘‘۔(سنن ابی داؤدؒ، کتاب الصلوٰۃ، باب فَضْلِ الْجُمُعَۃِ)۔
اسی طرح کی ایک روایت امام محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ نے اپنی صحیح میں ابوہریرہؓ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’إِذَا تَکَلَّمْتَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ (وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ) فَقَدْ لَغَوْتَ وَ أَلْغَیْتَ‘‘
’’جب تم نے جمعہ کے دن گفتگو کی جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا تو تم نے ایک لغو کام کیا اوراپنا اجر ضائع کرلیا‘‘۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الزَّجْرِ عَنِ الکَلَامِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ  عِنْدَ خُطْبَۃِ الْاِمَامِ)۔
اس سلسلے میں ایک واقعہ حضرت ابوذرؓ کا بہت ہی دلچسپ اورعبرت انگیز ہے جسے امام ابن خزیمہؓ نے ہی نقل کیا ہے۔ ابوذرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا جب کہ نبی کریمﷺ خطبہ دے رہے تھے تو میں ابی بن کعبؓ کے قریب بیٹھ گیا۔ نبی کریمﷺ نے سورۂ براء ت (التوبہ) کی تلاوت کی تو میں نے حضرت ابیؓ سے پوچھا : یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے بات نہیں کی۔ پھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے ان سے دوبارہ پوچھا تو (پھر) سخت انداز میں انہوں نے مجھے خاموش کرادیا اور میرے ساتھ بات نہیں کی۔ پھر میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر (یعنی تیسری بار) میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے (پھر) مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے گفتگو نہیں کی۔ جب نبی کریمﷺ نے نمازمکمل کرلی تو میں نے حضرت ابیؓ سے کہا: میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا تو آپ نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اور مجھ سے بات نہیں کی (یعنی کوئی جواب نہیں دیا)۔ تو حضرت ابیؓ نے فرمایا: ’’مَا لَکَ مِنْ صَلَاتِکَ اِلَّامَا لَغَوْتَ‘‘ یعنی ’’تم کو اپنی نماز سے لغو گوئی کے سوا کچھ نہ ملا‘‘۔ لہٰذا میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے نبیؐ! میں حضرت ابیؓ کے پہلو میں بیٹھا تھاجبکہ آپ سورۂ براء ت کی تلاوت کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرادیا اورکوئی جواب نہیں دیا۔پھر (نماز کے بعد) کہا کہ ’’تم کو اپنی نماز سے لغو گوئی کے سوا کچھ نہ ملا‘‘۔ تو نبیﷺ نے فرمایا: ’’صَدَقَ أُبَیٌّ‘‘ یعنی ابیؓ نے سچ کہا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتابُ الْجُمُعَۃِ، بابُ الْنَّھْیِ عَنِ السُّؤَالِ عَنِ الْعِلْمِ غَیْرَ الْاِمَامِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ)۔
        اس روایت کو امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقیؒ نے بھی سنن الکبریٰ میں، کتابُ الْجُمُعَۃِ، باب الاِنْصَاتِ لِلْخُطْبَۃِ کے تحت ذکر کیا ہے (سنن الکبریٰ، طبع دارالکتب العمیہ، بیروت، ۲۰۰۳ ؁ء، رقم الحدیث ۵۸۳۲)۔ ساتھ ہی انہوں نے ابوذرؓ اور حضرت ابیؓ بن کعبؓ کے اس واقعہ کو اسی باب میں حضرت ابوہریرہؓ سے بھی روایت کیا ہے ( رقم الحدیث ۵۸۳۳)۔نیز حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت اسی طرح مسند ابی داؤد الطّیالسی میں بھی موجود ہے۔ (مسند ابی داؤد الطّیالسی، مطبوعہ ھجر، ۱۹۹۹ ؁ء، رقم الحدیث ۲۴۸۶)۔امام احمدؒ نے بھی مذکورہ واقعے کو اپنی مسند میں ابی بن کعبؓ سے روایت کیا ہے۔ ( مسند احمدؒ، رقم ۲۱۱۸۴)۔ محدثین نے ان تینوں روایات کو صحیح کہا ہے۔
        بعض روایتوں سے یہ پتہ چلتا ہے خطبہ کے دوران گفتگو کرنے والے کا جمعہ ہوتا ہی نہیں۔ مثلاً امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
’’من تکلم یوم الجمعۃ والامام یخطب فھو کمثل الحمار یحمل أسفارًا، والذي یقول لہ: أنصت، لیس لہ جمعۃ‘‘
(ترجمہ) : ’’جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ اس کا بھی جمعہ نہیں ہوگا.‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث ۲۰۳۳)۔
        اس موضوع سے متعلق ایک روایت حضرت جابرؓ سے مصنف ابن ابی شیبہؒ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعدؓ نے ایک آدمی سے جمعہ کے دن کہا کہ تمھاری نماز نہیں ہوئی۔ اس آدمی نے اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیااور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! سعدؓ نے مجھ سے کہا ہے کہ تمھاری نماز نہیں ہوئی۔ تونبی کریمؓ نے حضرت سعدؓ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپؐ خطبہ دے رہے تھے تو اس نے بات کی تھی۔ تونبی کریمؓ نے فرمایا کہ سعد نے سچ کہا ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہؒ، کتاب الصلوٰۃ، باب فِی الْکَلَامِ اِذَا صَعَدِ الْاِمَامُ الْمِنْبَرَ وَ خَطَبَ )۔
        اسی طرح کا ایک واقعہ علقمہ بن عبداللہ کا عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ مصنف ابن ابی شیبہؒ میں ہی درج ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ آئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کوچ کرجائیں اور خود مسجد میں آکر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے ایک آدمی آیا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا کہ ہم نے ایسے ایسے کیاجبکہ امام خطبہ دے رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کی تو میں نے اس سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب ہم نے نماز پوری کرلی تو میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن عمرؓ سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تمھارا جمعہ نہیں ہوا اور تمھارا وہ ساتھی گدھا ہے۔ (حوالہ سابق)۔
        مذکورہ احادیث و آثار کی وجہ سے فقہاء اور محدثین کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ خطبہ کے دوران خاموش رہنا واجب ہے۔ علامہ ابن رشد مالکیؒ کے مطابق اس امر پر جمہور جن میں امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ شامل ہیں، کا اتفاق ہے کہ جب امام خطبہ دے رہا ہو تو اس وقت چپ رہنا واجب ہے ‘‘۔ (بدایۃ المجتھد و نہایۃ المقتصد اردو ترجمہ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی، دارالتذکیرلاہور،۲۰۰۹، صفحہ ۲۵۵)۔ علامہ ابن عبدالبرؒ نے بھی خطبے میں سکوت کے وجوب پر اجماع نقل کیا ہے۔ (فیض الباری اردو ترجمہ فتح الباری شرح صحیح بخاری از ابن حجرالعسقلانیؒ، مکتبہ اصحاب الحدیث، لاہور، ۲۰۰۹ء؁، جلد۲، صفحہ ۱۳۹)۔ حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک یہ سکوت ہر حال میں واجب ہے خواہ مقتدی خطیب کے قریب ہو یا دور اور خواہ وہ خطبہ کی آواز سن رہا ہو یا نہیں۔ ان دونوں مسالک میں خطبہ کے وقت نوافل پڑھنا، ذکر کرنا، سلام کرنا یا اس کا جواب دینا حتیٰ کہ چھینک کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا بھی درست نہیں۔ مالکیہ کے نزدیک خطبہ کے وقت کلام کرنا حرام ہے اور حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ، علماء اکیڈمی، شعبہ مطبوعات محکمہ اوقاف پنجاب، ۲۰۱۳، جلد ۱، صفحہ ۴۹۱-۴۹۲)۔ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سے اس مسئلہ میں دو اقوال منقول ہیں ؛ ایک قول کے مطابق خطبہ کے وقت کلام کرنا حرام ہے اور دوسرے کے مطابق مکروہ ہے۔ (فیض الباری اردو ترجمہ فتح الباری، جلد۲، صفحہ ۱۳۹)۔ علامہ ابن ہمامؒ بھی دوران خطبہ کلام کرنے کو حرام کہتے ہیں اگرچہ امر بالمعروف ہی کیوں نہ ہو۔ (مرقاۃ المفاتیح ( اردو)، شرح مشکوٰۃ المصابیح از علامہ علی بن سلطان محمد ہروی القاریؒ عرف ملا علی قاریؒ، مکتبہ رحمانیہ، لاہور،، جلد ۳، صفحہ ۵۶۷)۔ علامہ حافظ ابن قیمؒ لکھتے ہیں : ’’ جب خطبہ ہونے لگے تو خاموش رہنا اصح قول کے مطابق واجب ہے، اگر اس نے اس کی پرواہ نہ کی تو لغویت کا مرتکب ہوگا، اور جس نے لغویت کا مظاہرہ کیا، تو اس کا جمعہ رائیگاں گیا.‘‘ (زادالمعاد اردو، نفیس اکیڈمی، کراچی، ۱۹۹۰ء: حصہ اول و دوم یکجا، صفحہ ۳۱۹)۔
        اب ایک آخری بات یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ کا مزاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جس چیز کو بھی ممنوع قرار دیا ہے اس تک پہنچنے والے اسباب سے بھی روک دیا ہے۔ ٹھیک ویسا ہی حکم اس مسئلہ میں ہے۔ میری مراد بروز جمعہ نماز سے قبل حلقہ بنا کر بیٹھنے کے عمل سے ہے جیسا کہ ہمارے دیار میں کچھ نوجوانوں کی عادت بن گئی۔ اس سے بھی رسول اکرم ﷺ نے منع فرمادیا ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، اور اس بات سے بھی کہ گم شدہ چیز کا اس میں اعلان کیا جائے، اور اس سے بھی کہ اس میں شعر پڑھا جائے، اور بروز جمعہ نماز سے قبل حلقہ بناکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے.‘‘ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب التَحَلُّقِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَبْلَ الصَّلوٰۃ)۔ جمعہ کی نماز سے قبل حلقہ بناکر بیٹھنا اس لئے منع ہے کہ جب لوگ اس طرح بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے اور اس کی وجہ سے صف بندی میں بھی خلل واقع ہوگا۔
سحادیث و آثار اور فقہاء کی مذکورہ آراء کا تقاضایہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران بالکل خاموشی برتی جائے اور ایسی کوئی حرکت بھی نہ کی جائے جو آداب جمعہ کے خلاف ہو جس کی وجہ سے جمعہ کی فضیلت و ثواب سے محرومی ہاتھ آئے۔ علماء و خطباء کو چاہیے کہ وہ ان موضوعات پر بھی جمعہ میں گفتگو کریں اور عوام الناس کو ان سے آگاہ کریں کیوں کہ اکثر افراد سے یہ غلطی لاعلمی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے اور ان امور کی اصلاح کے سلسلے میں کی گئی راقم کی اس حقیر سی کوشش کو قبول فرمائے. آمین
(بقلم: ڈاکٹر محمد واسع ظفر)  ( #ایس_اے_ساگر )


Monday, January 1, 2024

اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں: #ایس_اے_ساگر

کیا
آپ کو علم
ہے کہ لارڈچسٹر
فیلڈ Lord Chesterfield
نے اپنے بیٹے فلپ اسٹین ہوپ کے نام بہت سے خطوط لکھے تھے. ان خطوط میں زندگی کی کامیابی کا فن سکھلایا گیا تھا۔ ایک خط میں اس نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
"میں نے تم سے کہا ہے کہ تم منٹ کی حفاظت کروگے تو گھنٹے اپنے آپ اپنی حفاظت کرلیں گے:
I recommended you to take care of minutes, for the hours will take care of themselves.
اگر آپ اپنے منٹ کو ضائع نہ کریں تو گھنٹہ اپنے آپ ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ کیوں کہ منٹوں کے ملنے سے ہی گھنٹہ بنتا ہے۔ جس آدمی نے جزء کا خیال رکھا اس نے گویا کُل کا بھی خیال رکھا۔ کیوں کہ جب بہت سا اجزاء اکھٹے ہوتے ہیں تو وہی کُل بن جاتا ہے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ 'زیادہ' کی فکر میں 'کم' کو فراموش کردیتے ہیں. وہ اپنے ذہن کو 'زیادہ' کی طرف اتنا لگادیتے ہیں کہ 'کم' کی طرف سے ان کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں۔ جس کا آخری نتیجہ یہی نکتا ہے کہ انھیں 'کچھ' بھی نہیں ملتا۔ اپنے ملے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیجئے۔ لمحوں کو استعمال کرکے آپ مہینوں اور برسوں کے مالک بن سکتے ہیں۔ اگر آپ نے لمحوں کو کھودیا تو اس کے بعد آپ مہینوں اور برسوں کو بھی یقینی طور پر کھودیں گے۔ اگر آپ روزانہ اپنے ایک گھنٹے کے صرف پانچ منٹ کھودیتے ہیں تو رات دن کے درمیان آپ روزانہ 2 گھٹنے کھودیتے ہیں۔ مہینے بھر میں 60 گھنٹے شمار ہوتے ہیں جبکہ سال بھر میں آپ کے 720 گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں ـ اسی طرح ہر آدمی اپنے میسر وقت کا بہت سا حصہ ضائع کردیتا ہے۔ 80 سال کی عمر پانے والا آدمی اپنی عمر کے چالیس سال بھی پوری طرح استعمال نہیں کرپاتا۔ وقت آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ لہذا اپنے حال پر رحم کریں وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں. #ایس_اے_ساگر


Tuesday, August 1, 2023

القاسم

القاسم 
دیوبند کے محرم الحرام 
1345 کے شمارے میں یعنی ٹھیک 
ایک سو سال قبل کابل سے مولانا منصور نامی 
کسی عالم کا ایک مکتوب شائع ہوا۔ ملاحظہ ہو، ان کی نگاہ بابصیرت نے ایک صدی بعد کے حالات کو کیسے دیکھ لیا تھا۔ 
------
قلندر ہر چہ گوید؛ دیدہ گوید! 
(آج سے ایک سو سال پہلے دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے رسالہ "القاسم" کے محرم الحرام 1345 ھ کے شمارہ میں کابل سے تعلق رکھنے والے مولانا منصور نامی عالم کا ایک مکتوب شائع ہوا۔ جس میں انھوں نے ہندوستان کے مستقبل میں پیش آنے والے حالات کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے سد باب کے لئے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی بیش قیمت تدابیر پیش کی تھیں ... انگریزی عہد کے اخیر میں اور آزادی کے بعد جو جان گسل حالات پیش آئے. فراست مومن پر مشتمل اس شاہکار تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بزرگ کی بابصیرت نگاہوں نے ایک صدی بعد کے حالات کو بہتر انداز میں تاڑ لیا تھا؟ یہ  تحریر ہمیں شوشل میڈیا سے اسکرین شاٹ کی شکل میں موصول ہوئی،ہم نے اسے یونیکوڈ میں منتقل کیا.  صاحب تحریر سے تعارف نہیں ہے. اسی طرح پس منظر کا بھی علم نہیں ہے، البتہ باتیں دمدار ہیں... پیش خدمت ہے یہ بابصیرت تحریر... 
(بندہ: خالد نیموی قاسمی) 
"سردیوں میں گذرکرنا، پیاده سفر؛ بوجھ اٹھانے ، زمین پر سونے؛ آفتاب میں چلنے پھرنے اور کام کرنے ، دوڑنے، تیر نے، اور اس قسم کی چیزوں کی پوری مشق کی مسلمان بچوں کو از حد ضرورت ہے ۔ جوتے پہن کرسفرکرنا بھی کوئی محمود بات نہیں؛ ننگے پیر چل سکنے والوں کی پیروی مشکل کشا ہوسکتی ہے. 
مسلمانان ہند ایک ایسی قوم کے وطندار ہیں جن کا قدیم ملی فلسفہ اچھوت (امی اجنبی) ہے ، اور اب ان میں بعض جرار، فعال اور بااثر قابل ہستیاں ایسی پیدا ہوچکی ہیں جو ہندستان کو بھی" اسپین ثانی" بنانے کے جہاد کو خیراالاعمال قرار دے چکی ہیں. شیر پنجاب (لاجپت رائے)) ان کی ساتھ عملاً عہد وفا باندھ چکا ہے اور کل کی خبر نہیں. آج گاندھی جی بھی ان ہستیوں کی توہین کرنے ، ان کے خلاف میدان میں کھڑے ہونے کے لئے تیار معلوم نہیں ہوتے، کون پیشینگوئی کرسکتا ہے کہ یہ تحریک کامیاب نہ ہو گی۔ لفظ ہندوستان اس کا مؤید و مبلغ ابدی ، ہندو مت کا قدیم عملی فلسفہ ( چھوت) اس کا داعی دائمی ، ملت ہنود کے علمی رجحانات اور موجودہ رائج تواریخ مصالحہ اس کا حامی اصلی.. 
اور دوسری طرف مسلمانان ہند کی علمی فنی، مالی، روحی حالت اوران کی داخلی و خاجی ابتری اور پھپھسی تنظیم اس پر مائل کرنے والی؛ تو کیسے کوئی عقل باور کرسکتی ہے کہ استقبال قریب میں ہندو مت اپنے نعرہ کو کہ: ہندوستان خالص ہندوؤں کے لئے ہے، عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر بخوشی یا بزور جمع نہ ہوجائیں گے۔ 
ایک کامل الہمت سمجھ اس پر تکیہ کرسکتی تھی کہ برطانیہ کا سایہ ہندوستان پراس خطرہ کا مدافع اور اس زہر کا تریاق ہے؛ لیکن اول برطانیہ کے قبضہ کی ابدیت ہندستان پر بالکل موہوم!
 کون نہیں جانتا کہ یوروپ ایک دوسرے مہیب باہمی تصادم کے قریب نہایت تیزی کے ساتھ آیا ہے ، اس آویزش میں برطانیہ کا شریک اول ہونا محقق معلوم ہوتا ہے، اس وقت برطانیہ کو کیا پیش آئے گا ؟ اس کی نو آبادیات کی کیا حالت ہوگی؟ ہندستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ یہ ایسے سوالات میں جن کو خود برطانیہ کے مبصرین اور مدبرین بھی سالوں مشورے کرنے کے بعد طے نہیں کرسکتے ۔
دوسرے یہ کہ ایک کارواں کو اس خطرہ سے ایک لمحے کے لئے بھی (اگر وہ ناتجربہ کارانہ آرزوؤں "دلائل" کا شکار نہ ہوگیا ہو) غافل نہ ہونا چاہئے کہ اسوقت ہندوؤں کے پاس جاپان جیسی نو خیز متمول ، مالک فن و مشین بانی جدید کافی ہستی موجود ہے۔ ہندوؤں کے بعض سر گرم ، قابل اور باتجربه ہستیاں جن کا ہندستان کے ہنود پر اثر بھی کافی ہے؛ وہاں عرصہ سے سرگرم عمل بھی ہیں اور جاپان بلکہ چین میں بھی ان کو بعض جماعتیں ہم فکر مل گئی ہیں اور بعض مقتدر ذوات  بھی اُن کی فرمایشات پر کان دھرتے ہیں؛ تو سوچا جائے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟
 علی الخصوص اُس وقت کہ برطانیہ کسی طویل اور مہیب جنگ میں گرفتار ہو؛ یعنی مسلمان دست تہی اور ہندو مسلح... پھر غور کرو! اس کے انجام پر.. آیا ہندوستان اسپین ثانی نہیں بن سکتا؟
یہ وجوہ ہیں؛ جن کی بنا پر میں آئندہ حالات کو ہنود کے موافق دیکھتا ہوں (و الغیب عنداللہ،) اور ضروری جانتا ہوں کہ موجودہ مسلمانان ہند  کے بچے کہ جن کے بڑے ہونے سے پہلے اس کیفیت اور کوہ فرسا مصائب کے وقوع کا قوی احتمال ہے؛ صبرو توکل اور قرون مشہود لھا بالخیر کی سادگی کی پوری پوری مشق کریں. تاکہ اس فتنہ کا کسی درجہ میں مقابلہ کرنے کے قابل تو ہوجائیں. اگر ہندستان میں رہ نہ سکیں تو بے دست پائی کے سبب شدھ  ہونے پر تو راضی نہ ہوجائیں. 
کم ازکم جان نکال لیجانے کے قابل تو ہوں. میرے خیال میں مسلمانان ہند جو اخباری اطلاع کی شراب پی کر یا ممالک مختلفہ کی روشن و مصفی سیر گاہوں کی ہوا کھا کر مست ہیں؛ میرے دلائل سے بہت سی ذوات انتہائی مخالفت کرسکتے ہیں؛ لیکن عجوبہ روزگار "سنگٹھن" اور ناقابل توقع " شدھی" کی عملی اور شاندار اجرا کے بعد  میری اصل تجویز کی حماقت کوئی بھی نہیں کرسکتا، اس لئے میری آرزو ہے کہ جہاں تم ابتدائی مدارس اور اسکولوں میں اس ضرورت پر توجہ نہ دیکھو؛ یا اس کی کمی محسوس کرو. وہاں اس کی تبلیغ کرو اور ہوسکے تو اس کے اجراء کے عملی وسائل کی طرف قدم اٹھاؤ! اللہ تعالے تمھارا مدگار ہو. آمین!
( #ایس_اے_ساگر )

Saturday, July 29, 2023

کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے فوائد جانتے ہیں

"کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے فوائد جانتے ہیں؟"
برصغیر ہندپاک میں خوبصورتی کے لئے استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں میں مقبول ترین مہندی ہے. عام طور پر لوگوں کو علم نہیں کہ اس میں موجود ٹھنڈی تاثیر گرمی سے بھی بچاتی ہے۔ لیکن کیا آپ بالوں میں مہندی لگانے کے دیگر فوائد بھی جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔
صحت مند بال:
مہینے بھر میں صرف دو مرتبہ مہندی لگانے سے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوتے ہیں، یہ آپ کے بالوں کی ختم ہوجانے والی صحت کو بحال کرتی ہے اور نقصان کو ختم کرتی ہے۔ مہندی سر میں تیزابی اثرات کو توازن میں رکھتی ہے اور اس سے بالوں کا قدرتی تناسب متاثر نہیں ہوتا۔
بالوں کے گرنے سے بچائے:
مہندی اور مسٹرڈ آئل کو ملانے سے بالوں کے گرنے کے مسئلے میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ڈھائی ملی لیٹر مسٹرڈ آئل کو ابالیں، اس میں مہندی کے چند پتوں کو ملائیں اور مزید ابالیں، اس تیل کی مالش ہفتے میں دو سے تین بار سر پر کریں۔
بالوں کا کنڈیشنر:
مہندی آپ کے بالوں کے لئے بہت اچھا کنڈیشنر بھی ہے۔ یہ بالوں پر ایسی حفاظتی تہہ بنادیتی ہے جو مٹی یا آلودگی کے نقصانات سے بچاتی ہے. مہندی کے استعمال کو معمول بنانے سے بال مضبوط اور گھنے ہوتے ہیں اور ان میں ضروری نمی موجود رہتی ہے۔
بالوں کی سفیدی چھپائے:
اگر آپ اپنے بالوں کو نقصان پہنچائے بغیر رنگنا چاہتے ہیں تو مہندی اس کا بہترین حل ہے، اس میں کسی قسم کے امائنو ایسڈ نہیں ہوتے اور نہ ہی کیمیکل جو بالوں کی نمی کو ختم کرکے انہیں بے جان اور روکھا بنادیتے ہیں۔ گرم پانی میں دو چمچ خشک آملہ، ایک چمچ پتی کے ساتھ مہندی کو شامل کرکے اس کا پیسٹ بناکر سر پر دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں، آپ کے بالوں کی سفیدی سیاہ چمکدار رنگت میں تبدیل ہوجائے گی۔
خشکی سے تحفظ:
مہندی خشکی کے لئے بھی موثر ہے۔ میتھی کے بیجوں کو ایک یا دو چمچ پانی میں رات بھر بھگوکر رکھیں اور صبح انہیں پیس لیں۔
سرسوں کا تیل اور مہندی کے پتے گرم کریں اور ٹھنڈا کرنے کے بعد میتھی کا پیسٹ اس میں شامل کرلیں اور پھر بالوں میں ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور اس کے بعد نہالیں۔
بالوں کو جگمگائیں:
مہندی میں موجود اجزاء بالوں کو خشک ہونے، نقصان پہنچنے اور دیگر نقصانات سے بچاتے ہیں جبکہ اس سے بال بھی چمکدار ہوجاتے ہیں۔ ( #ایس_اے_ساگر )

Monday, May 22, 2023

حالت حیض میں عورت کا جائے نماز پر بیٹھنا

عنوان: 
حالت حیض میں 
عورت کا جائے نماز پر بیٹھنا
سوال: کیا عورت حالت حیض میں جائے نماز پر بیٹھ سکتی ہے؟ کئی لوگ اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔
جواب: واضح رہے کہ اگر جائے نماز کے ناپاک ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو حالت حیض میں عورت جائے نماز پر بیٹھ سکتی ہے، اسے ناجائز سمجھنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن الترمذی: (باب ما جاء في الحائض، رقم الحديث: 134، 40/1، ط: قدیمی کتب خانه)
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبيدة بن حميد، عن الأعمش، عن ثابت بن عبيد عن القاسم بن محمد، قال: قالت
عائشة: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : ناوليني الخمرة من المسجد، قالت: قلت: إني حائض، قال: إن حيضتك ليست في يدك.

الفتاوی الھندیۃ: (38/1، ط: دارالفکر)
ويستحب للحائض إذا دخل وقت الصلاة أن تتوضأ وتجلس عند مسجد بيتها تسبح وتهلل قدر ما يمكنها أداء الصلاة لو كانت طاهرة.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی (فتویٰ نمبر: 7582) ( #ایس_اے_ساگر )

Monday, May 8, 2023

اللہ سبحانہ تعالیٰلوگوں سے ملنے جلنے پر پہنچنے والی تکلیف کوبرداشت کرنے والے مومن کو کیا عطاء کرتے ہیں؟

اللہ 
سبحانہ تعالیٰ
لوگوں سے ملنے جلنے 
پر پہنچنے والی تکلیف کو
برداشت کرنے والے مومن کو کیا 
عطاء کرتے ہیں؟
حدثنا علي بن ميمون الرقي. حدثنا عبدالواحد بن صالح. حدثنا إسحاق بن يوسف, عن الاعمش. عن يحيى بن وثاب. عن ابن عمر. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على اذاهم. اعظم اجرا من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على اذاهم."
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے.“ ۱؎۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/صفة القیامة 55 (2507)، (تحفة الأشراف: 8565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/43) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔ 
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The believer who mixes with people and bears their annoyance with patience will have a greater reward than the believer who does not mix with people and does not put up with their annoyance.” 
Ibn e Majah Hadith No. 4032
#S_A_Sagar

Friday, March 3, 2023

سناء اور زیرہ کو استعمال کرو


حضرت عبداللہ بن ام حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بس سناء اور زیرہ کو استعمال کرو اس لئے کہ ان دونوں میں بجز سام کے ہر بیماری کے لئے شفا ء ہے. عرض کیا گیا کہ حضور سام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا موت۔
(سنن ابن ماجہ ۔طب نبوی از حافظ ابن القیم ۔ص108)
 سنا ء کے فائدے:
سناء کو عربی اور فارسی میں سناء مکی اور انگریزی میں senna کہتے ہیں۔ یہ ہر خلط کی مسہل ہے۔ دماغ کا تنقیہ کرتی ہے. کمر درد، عرق النساء، جوڑوں کے درد اور نوبتی بخاروں میں فائدہ دیتی ہے. پیٹ کے کیڑوں کی قاتل ہے.  
(کتاب المفردات۔ ص 292)
بیماریوں کی ماں قبض:
اگر اجابت بوقت معمولہ نہ آئے. یعنی کبھی دوسرے تیسرے روز آیا کرے۔ یا اوقات میں تبدیلی نہ ہو لیکن مقدار میں کم آئے گویا اجابت با فراغت نہ ہو تو ان دونوں صورتوں کو قبض ہی کہا جائے گا۔ آج کل بے شمار لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں مگر بے پروائی کرتے ہیں. اسی وجہ سے انہیں طرح طرح کی بیماریاں چمٹی رہتی ہیں۔ کیونکہ قبض بقول اطباء فی الواقع ام الامراض یعنی بیماریوں کی ماں ہے۔ اس کی وجہ سے درد سر، نزلہ، زکام، نظر کی کمزوری، دل کی گھبراہٹ، بے چینی، بھوک کی کمی، بواسیر وغیرہ امراض پیدا ہوتے ہیں. اس لئے ہمیں لازم ہے کہ اس مرض کو معمولی نہ خیال کرتے ہوئے اس کا علاج کریں.
چائے کا زیادہ استعمال، سگڑیٹ یا حقہ نوشی، افیون کھانا، دماغی محنت کی زیادتی ،گھی دودھ کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے آنتیں خشک ہوکر قبض کا باعث بنتی ہیں.
رفع حاجت کے وقت زیادہ دیر لگتی ہے اور پھر بمشکل خشک سا پاخانہ خارج ہوتا ہے اوربعض مواقع پر اجابت خون آلود ہوتی ہے. یہ سب قبض کی علامات ہیں. 
(کنزالمجربات. ج ۱۔ ص 125)
سناء کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ باوجود مسہل ہونے کے مقوی قلب ہے. وسواس سوداوی خصوصیت سے زائل کرتی ہے. عضلات کو چست بنادیتی ہے. بالوں کو گرنے سے بچاتی ہے. جوں سے حفاظت کرتی ہے ۔پرانے درد سر کو ختم کرتی ہے. خارش، دانے اور مرگی کے لئے نافع ہے. (بب نبوی ا. ص 109)
خمیرہ ملین برائے قبض کشائی:
گل سرخ ایک پاؤ، سناء مکی ایک پاؤ، ایک سیر پانی میں رات بھر بھگو رکھیں. صبح کو آگ پر یہاں تک جو ش دیں کہ ڈیڑھ پاؤ پانی رہ جائے تو اتارلیں اور چھان کر پانی میں ڈیڑھ سیر مصری شامل کرکے خمیرہ تیار کرلیں اور محفوظ رکھیں۔ ایک تولہ سے دو تولہ تک قبض کے لئے کھلائیں ۔ 
(کنزالمجربات۔ ج ۳۔ ص 657)
معجون سناء برائے دائمی قبض اور درد قولنج:
سفوف سناء مکی، مویز منقیٰ اور روغن بادام سب چھ چھ ماشہ، گل قند چھ تولہ، مغز بادام ایک تولہ سفوف سناء کو روغن بادام میں چرب کریں اور مغز بادام اور مویز منقیٰ شامل کرکے گل قند ملادیں. چھ ماشہ گرم دودھ سے رات کو کھائیں.
       

  

Sunday, February 19, 2023

سرلامکاں سےطلب ہوئی، سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی

سرلامکاں سےطلب ہوئی، سوئے منتہیٰ وہ چلے نبی 
کوئی حد ہے ان کے عروج کی، بلغ العلیٰ بکمالہ 
یہی ابتدا یہی انتہا، یہ فروغ جلوۂ حق نما 
کہ جہان سارا چمک اٹھا، کشف الدجیٰ بجمالہ 
رخ مصطفیٰ کی یہ روشنی، یہ تجلیوں کی ہماہمی 
کہ ہر ایک چیز چمک اٹھی، کشف الدجیٰ بجمالہ 
وہ سراپا رحمت کبریا، کہ ہر اک پہ جن کا کرم ہوا 
یہ کلام پاک ہے برملا، حسنت جمیع خصالہ 
یہ کمال خلق محمدی، کہ ہر اک پہ چشم کرم رہی 
سرحشر نعرۂ امتی، حسنت جمیع خصالہ 
وہی حق نگر وہی حق نما، رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ 
کہ خدائے پاک نے خود کہا، صلوا علیہ و آلہ 
مرا دین عنبرؔ وارثی، بخدا ہے عشق محمدی 
مرا ذکر و فکر ہے بس یہی، صلوا علیہ و آلہ 
اے مظہر نور خدا، بلغ العلیٰ بکمالہ 
مولا علی مشکل کشا، کشف الدجیٰ بجمالہ 
حسنین جان فاطمہ، حسنت جمیع خصالہ 
یعنی محمد مصطفیٰ، صلوا علیہ و آلہ
(بشکریہ: عنبر وارثی) (صححہ: #S_A_Sagar )

Friday, February 10, 2023

کیا یہ درست ہے کہ

کیا
یہ درست ہے کہ: 
ابلیس چالیس ہزار برس 
تک جنّت کا خزانچی رہا۔ اَسّی 
ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا۔ 
بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سُناتا 
رہا۔ تیس ہزار برس تک مقرّبین کا سردار رہا۔ ایک ہزار برس تک رُوحانین کی سرداری کے منصب پر فائز رہا۔ چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا۔ لوحِ محفوظ پر اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنے انجام سے غافل اور خاتمے سے بے خبر تھا۔
الجواب و باللہ التوفیق:
جی ہاں "حاشية الصاوي" ميں اس کے بارے میں حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہ:
ترجمہ: حضرت کعب بیان فرماتے ہیں کہ
’’ابلیس چالیس ہزار برس تک جنّت کا خزانچی رہا۔ اَسّی ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا۔ بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سُناتا رہا۔ تیس ہزار برس تک مقرّبین کا سردار رہا۔ ایک ہزار برس تک رُوحانین کی سرداری کے منصب پر فائز رہا۔ چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا۔ لوحِ محفوظ پر اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنے انجام سے غافل اور خاتمے سے بے خبر تھا۔‘‘ (تفسیر صاوی جلد اوّل صفحہ51)۔
واللہ اعلم بالصواب (دارالافتاء جامعہ محمود. دیوبند) (صححہ: #S_A_Sagar )
http://mastooraat.blogspot.com/2023/02/blog-post.html?m=1

Saturday, January 22, 2022

معروف کلام 'تندرستی کے لئے مفید مشورے' کس کا ہے؟

معروف کلام 'تندرستی کے لئے مفید مشورے' کس کا ہے؟

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے + وہاں تک چاہئے بچنا دوا سے
اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی + تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی
گر خوں کم بنے بلغم زیادہ + تو کھا گاجر، چنے، شلغم زیادہ
’’آسان نسخے‘‘ کے عنوان سے یہ نظم سیکڑوں بار چھپ چکی ہے، لیکن اکثر شاعر نامعلوم درج ہوتا ہے یا کوئی غلط نام ۔ بے شمار حکیموں نے اسے خوش خط لکھوا کر اپنے مطب، کلینک پرآویزاں کیا اور یہ نظم ان کی ہی مشہور ہوگئی۔۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظم کسی حکیم کی نہیں، ایک بیوروکریٹ کی ہے۔ لیکن وہ محض بیورو کریٹ نہیں تھے ، اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر اورماہرِ اقبالیات تھے۔ اس نظم کی وجہ سے لوگ ان کے نام کے ساتھ حکیم بھی لکھنے لگے۔ حالانکہ یہ سب کچھہ محض مطالعے اور سیانوں کی صحبت سے اخذ کیا۔ یہ نظم پہلی بار مجید لاہوری کے رسالے ’’نمکدان‘‘ میں شائع ہوئی۔ اصل نظم کے سولہ اشعار ہیں لیکن لوگ اضافے کرتے رہے ہیں۔

یہ شاعر محمد اسد خان، اسد ملتانی 13 دسمبر 1902 کو ملتان کے ایک علمی ادبی شیرانی پٹھان خاندان کے ہاں کڑی افغاناں میں اپنے آبائی گھر طاقِ اسحاق میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد غلام قادر خان ضلع ملتان کے دفتر میں کلرک تھے علمِ نجوم میں ملکہ حاصل تھا ۔ اسد ملتانی نے ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی اسکول سے حاصل کی ۔جو بعد ازاں ایمرسن کالج کے نام سے مشہور ہوا۔1921 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ اُن دنوں علامہ اقبال وہاں فلسفے کے پروفیسر تھے۔ اسی دور سے جناب ِ اسد کا علامہ اقبال سے فکری اور روحانی تعلق پیدا ہوا ۔ کہتے تھے
شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسد اقبالی ہے
علامہ اقبال نے انہیں "افسر الشعراء" کا خطاب بھی دیا۔
1922 میں اپنے بھائی محمد اکرم خان کے ساتھ مل کر ملتان سے روزنامہ ’’شمس ‘‘ کا اجراء کیا اور مطبع الشمس قائم کیا (یہ دونوں بھائی شیرانی برادران کے نام سے مشہور تھے) بعد میں انہوں نے"ندائے افغان" بھی جاری کیا۔محمد اسد خان نے 1924 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور ملتان میں اسلامیہ ہائی اسکول میں بطور انگلش ٹیچر مامور ہوئے۔
1926 میں انڈین پبلک سروس کمیشن سے منتخب ہوکر وائسرائے ہند کے پولیٹیکل آفس میں سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے۔قیام دہلی اور شملہ میں رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد دارالحکومت کراچی ممیں اسسٹنٹ سیکرٹری بنے اور ڈپٹی سیکرٹری خارجہ کے عہدے تک پہنچے.
1955 میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے کر اپنے وطن ملتان واپس آکر علمی ادبی کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اسی دوران دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ ہوا ۔عبوری دارالحکومت راولپنڈی تھا۔ راولپنڈی پہنچے لیکن صرف سترہ دن بعد 17 نومبر 1959 کو حرکت ِ قلب بند ہونےسے انتقال کرگئے ۔انہیں ملتان میں ان کے آبائی قبرستان حسن پروانہ میں سپردِ خاک کیا گیا. انکے قریبی دوست مولانا احتشام الحق تھانوی کراچی سے خصوصی طور پر نمازِجنازہ پڑھانے ملتان تشریف لائے۔
جناب ِاسد ملتانی کی وفات کے وقت تین بیٹیاں اور دو بیٹے حیات تھے. اب سب کی وفات ہوچکی ہے. انکی منجھلی بیٹی محترمہ فرزانہ شیرانی اردو اور سرایئکی شاعرہ اور افسانہ نگار تھیں. محض اڑتالیس برس کی عمر میں وفات پاگیئں۔ بہاولپور میں مدفن ہے. انکی بڑی بیٹی محترمہ شائستہ خانم شیرانی معروف ناول نگار مظہر کلیم کی شریک حیات تھیں۔
جنابِ اسد ملتانی کا کلام انکی حیات میں یکجا نہیں ہو پایا البتہ دو کتابچے شائع ہوئے ۔ایک مرثیہ اقبال جو علامہ اقبال کی وفات پر شائع ہوا دوسرا تحفۂ حرم جو 1954 میں سفرِ حج پر لکھی جانے والی اردو اور سرایئکی نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل ہے. ان کا کلام روزنامہ زمیندار، معارف اعظم گڑھ، طلوعِ اسلام، فاران ، ماہِ نو اور نمکدان میں شائع ہوتا رہا.
شعری مجموعے مشارق اور تحفہ حرم ان کی وفات کے بعد مرتب کئے گئے۔کلیات ِ اسد ملتانی شوکت حسین بخاری اور اقبالیاتِ اسد ملتانی پروفیسر جعفر بلوچ نے مرتب کی۔ اسد ملتانی کے بارے میں اسد ملتانی۔۔ فکرو فن (پروفیسرعبدالباقی) اورمحمد اسد خان ملتانی ۔۔فکرِ اقبال کا نمایندہ شاعر (پروفیسر مختار ظفر) اہم کتابیں ہیں۔
اسد ملتانی کے کچھہ شعر:
رہیں نہ رند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
تو دیکھہ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا
مت پوچھہ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے
اے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی
یہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے
واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی
حیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے
اسدؔ ساقی کی ہے دوہری عنایت
شراب کہنہ ڈالی جام نو میں
بہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھا
نہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں
اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے
خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے
الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا
اب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے

اب وہ مشہور نظم
آسان نسخے

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے
۔۔۔۔۔
اگر تجھہ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی
۔۔۔۔۔
اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی
تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی
۔۔۔۔۔
اگر خوں کم بنے بلغم زیادہ
تو کھا گاجر، چنے ،شلغم زیادہ
۔۔۔۔۔
جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ
۔۔۔۔۔
جو ہو پیچش تو پیچ اس طرح کس لے
ملا کر دودھ میں لیموں کا رس لے
۔۔۔۔۔
جگرکے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعفِ جگر ہو کھا پپیتا
۔۔۔۔۔
جگر میں ہو اگر گرمی، دہی کھا
اگر آنتو ں میں خشکی ہے تو گھی کھا
۔۔۔۔۔
تھکن سے ہوں اگرعضلات ڈھیلے
تو فورا دودھ گرما گرم پی لے
۔۔۔۔۔
جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تومصری کی ڈلی ملتان کی چوس
۔۔۔۔۔
زیادہ گر دماغی ہے تیرا کام
تو کھا تو شہد کے ہمراہ بادام
۔۔۔۔۔
اگر ہو دل کی کمزوری کا احساس
تومربہ آملہ کھا اور انناس
۔۔۔۔۔
جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی کے غرارے
۔۔۔۔۔
اگر ہے درد سے دانتوں کے بےکل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مل
۔۔۔۔۔
اگر گرمی کی شدت ہو زیادہ
تو شربت ہی بجائے آبِ سادہ
۔۔۔۔۔
جو ہے افکارِ دنیا سے پریشاں
نمکدان پڑھہ نمکداں پڑھہ نمکداں

[ماہنامہ ’’نمکدان‘‘ کراچی، فروری مارچ 1955]

نیچے درج اشعار ، اسد ملتانی کے نہیں۔ دوسرے لوگوں نے اضافہ کئے ہیں ۔۔۔ مزید بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔
ذیابیطس اگر تجھہ کو ہے مارے
تو جامن تازہ کھا اور لے نظارے
شفا گر چاہئے کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی
اگر کانوں میں کبھی تکلیف ہووے
تو سرسوں تیل پھائے سے نچوڑے
اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے
تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھہ کھا لے
تپ دق سے اگر چاہئے رہائی
بدل پانی کے گّنا چوس بھائی
دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھی
گر ہندی تو ہے دنیا سے پریشاں
خدا کی یاد سے کر دل کو شاداں (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post_41.html



اسلام میں کثرت سے سوال کرنا کیسا ہے؟

اسلام 
میں کثرت 
سے سوال کرنا کیسا ہے؟
----------------------
علم ایک خزانہ ہے اور سوال اس کی کنجی۔ تو سوال کیا کرو، اللہ تم پر رحم کرے کہ چار لوگوں کو اس کا اجر ملتا ہے: 
1. سوال کرنے والا
2. معلم
3. سننے والا اور 
4. ان کو جواب دینے والا
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى السَّهْمِيُّ الْجُرْجَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزْوِينِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَزَّازُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِلْمُ خَزَائِنُ وَمِفْتَاحُهَا السُّؤَالُ، فَاسْأَلُوا يَرْحَمْكُمُ اللهُ، فَإِنَّهُ يُؤْجَرُ فِيهِ أَرْبَعَةٌ: السَّائِلُ وَالْمُعَلِّمُ وَالْمُسْتَمِعُ وَالْمُجِيبُ لَهُمْ ". هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو نُعَيْمٍ رَحِمَهُ اللهُ: يُتْبَعُ جَعْفَرٌ بِأَبِيهِ وَإِنْ تَأَخَّرَتْ طَبَقَتُهُ عَنِ الْمَذُكُورِينَ إِلْحَاقًا لِلْفَرْعِ بِالْأَصْلِ، وَإِشْفَاقًا مِنَ الْقَطْعِ وَالْوَصْلِ
راوی داؤد بن سلیمان کے متعلق:
---------------------------------
یحیی بن معین نے جھوٹا کہا۔
ابوحاتم اس سے واقف نہیں۔
یہ کذاب ہے اس سے ایک نسخہ منقول ہے جسکی نسبت علی بن موسی رضا کی طرف کی گئی ہے۔
(میزان الاعتدال)
----------------
صحیح حدیث
----------------
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے تمہاری تین باتوں سے اور ناخوش ہوتا ہے تین باتوں سے۔ خوش ہوتا ہے اس سے کہ تم عبادت کرو اس کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اس کی رسی سب مل کر پکڑے رہو۔ (یعنی قرآن پر عمل کرتے رہو) اور پھوٹ مت ڈالو۔ اور ناخوش ہوتا ہے بے فائدہ گفتگو سے اور بہت پوچھنے سے (یعنی ان مسائل کا پوچھنا جن کی ضرورت نہ ہو یا ان باتوں کا جن کی حاجت نہ ہو۔ اور جن کا پوچھنا دوسرے کو ناگوار گزرے) اور مال کے تباہ کرنے سے۔“ (یعنی بے فائدہ اٹھانے سے جو نہ دنیا میں کام آئے نہ عقبیٰ میں جیسے پتنگ بازی، آتش بازی میں)۔
صحیح مسلم: 4481
پوسٹ شیئر کرکے صحیح اور ضعیف/ گھڑت روایات کے فرق کی آگاہی پھیلانے میں تعاون کیجئے۔ جزاکم اللہ خیرا  (صححہ: #S_A_Sagar) https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post_94.html

کیا آپ انار کے چھلکوں کے حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

کیا
آپ انار کے چھلکوں
کے حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

Do you know amazing Benefits Of Pomegranate Peel?

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چونکہ انار کا موسم بھی ہے، اور انار کے بہت زیادہ فوائد ہیں، لیکن افسوس کہ لوگ انار کھاکر اسکے چھلکے پھینک دیتے ہیں، جبکہ کچھ پھل سبزیاں ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گودے کے علاوہ چھلکوں میں بھی فوائد کا ذخیرہ رکھتے ہیں اور ان چھلکوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ شفا ایک ایسی غرض ہے جو گودے سے ہو یا چھلکو ں سے ہمیں صحت سے تعلق ہوتا ہے۔ بعض پھلوں کے چھلکوں کی طرح انار کے چھلکے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ ’ہیلدی بلڈرز‘ کے مطابق ماہرین غذائیات کا کہنا ہے کہ انار کے چھلکے میں متعدد اقسام کے غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جن کے حصول کا بہترین طریقہ انار کی چائے ہے۔ یہ چائے انار کے خشک چھلکے کے سفوف سے بنتی ہے۔ یہ سفوف تیار کرنے کے لئے آپ انار کے چھلکے صاف پانی سے اچھی طرح دھونے کے بعد دھوپ میں رکھ کر خشک کرلیں۔ خشک ہونے کے بعد ان چھلکوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑلیں۔ آپ انہیں پیس سکتے ہیں، یا بلینڈر یا کافی گرائینڈر میں ڈال کر بھی ان کا سفوف بناسکتے ہیں۔ اس سفوف کو آپ عام کافی پاؤڈر کی طرح کسی مناسب ڈبے میں بھرکر فریج میں محفوظ کرسکتے ہیں. چائے بنانے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چمچ انار کے چھلکے کا پاؤڈر ڈالیں۔ اسے چنٹ منٹ تک ابالیں اور پھر چھان لیں۔ آپ اس چائے میں لیموں کا رس اور شہد بھی شامل کرسکتے ہیں۔ اس قدرتی چائے کا ذائقہ بہت ہی لاجواب ہوتا ہے اور صحت کے فوائد الگ ہیں۔ یہ چائے آپ کے نظام انہضام کو درست کردیتی ہے. لہٰذا قبض اور بدہضمی سے پریشان لوگوں کو اس کا استعمال ضرور کرنا چاہئے۔ یہ دل کی بیماری کے خدشے کو کم کرتی ہے، جلد کو ترو تازہ کرتی ہے، دوران خون کو بہتر کرتی ہے اور حتیٰ کہ کینسر جیسی موذی بیماری سے تحفظ میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

انار کے چھلکوں کے دیگر فوائد کیا ہیں؟

کثرت پیشاب کے لئے:
کثرت پیشا ب کے لئے ایک انار کا چھلکا دھوپ میں رکھ کر سکھالیں۔ اب اس کو باریک پیس لیں اور چھ ماشہ پانی کے ساتھ روزانہ استعمال کریں۔ مثانے کی گرمی اور پیشاب کا بار بار آنے کا شافی علاج ہے۔
پیٹ کے درد کے لئے:
انار کا چھلکا پیٹ کے درد اور پیٹ کے امراض کے لئے بہترین ہے۔ اس کے چھلکوں، پتوں اور چھال کو پیٹ کی متعدد بیماریوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
آئر ن کی کمی:
انار کے دانو ں میں آئرن کی بھرپور مقدار موجود تو ہوتی ہے لیکن اس کے چھلکے بھی کسی سے کم نہیں۔ اس کے چھلکوں کا استعمال آئرن کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
خشک انار کے چھلکوں کا سفوف بناکر دن میں ایک بار تازہ پانی سے استعمال کرنے سے آئرن کی کمی دور ہوجاتی ہے۔
سانس کی بدبو کے لئے:
سانس کی بدبو کے لئے انار کے چھلکو ں کو پانی میں ابال کر اس پانی سے کلی کرنے سے سانس کی بدبو دور ہوجاتی ہے۔
بواسیر کے لئے:
بواسیر میں انار کے چھلکو ں کا پاؤڈر بے حد اکسیر ہے۔ بادی اور خونی دونوں قسم کی بو اسیر کے لئے اس کے چھلکو ں کا سفو ف صبح شام پانی کے ساتھ ایک چمچ کھانے سے بواسیر میں افاقہ ہوتا ہے۔
کھانسی کے لئے:
کھانسی کے لئے انار کے چھلکوں کو منہ میں رکھ کر چوسنے سے کھانسی رک جاتی ہے۔
چہر ے کے داغ دھبو ں کے لئے:
دو چمچ انار کے چھلکو ں کا پاؤڈر لے کر اس میں ایک چمچ لیموں کا رس اور شہد ملا کر پیسٹ بنالیں۔ اس کو چہر ے پر پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اس سے چہرے اور گردن کے داغ دھبے ختم ہونے کے ساتھ رنگت کے نکھار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
گرتے بالوں کے لئے:
کسی بھی تیل میں انار کے چھلکوں کا پاؤڈر ملالیں۔ اب اس تیل کو بالوں اور جڑوں پر لگاکر اچھی طر ح مساج کریں۔ صبح اٹھ کر بالوں کو شیمپو کرلیں۔ اس سے نہ صر ف بال گرنا بند ہوجائیں گے بلکہ بالوں کی خشکی بھی ختم ہوجائے گی۔ٹانسلز اور گلے کی خراش:
تین چائے کے چمچ انار کا چھلکا پانی میں ابال لیں۔ اب اس کو چھان کر نیم گرم ہونے پر غرارے کریں۔ اس سے گلے کی خراش اور ٹانسلز میں افاقہ ہوگا۔
دانتو ں اور مسوڑھو ں کے لئے:
انار کے چھلکے کے پاؤڈر میں ایک چٹکی پسی ہوئی کالی مرچ ملاکر دانتو ں پر منجن کرنے سے دانت سفید ہوجاتے ہیں۔
اس کا منجن مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے اور خون آنے سے روکتا ہے۔
وزن کم کرنے کے لئے:
ایک انار کے چھلکے کا پاؤڈر لے کر اس میں ایک چمچ پسی ہوئی ادرک کا ملاکر ایک کپ پانی میں ابالیں۔ اس ڈرنک کو نہار منہ پینے سے وزن میں کمی ہوگی اور کو لیسٹرول بھی کم ہوگا۔
انار کے چھلکو ں کی چائے:
انار کے چھلکو ں کی چائے بے حد فوائد رکھتی ہے۔ انار کے چھلکو ں میں متعدد غذائی اجزاء وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ انار کے چھلکوں کو سکھاکر بھی ان سے فا ئدہ لیا جاسکتا ہے اور ان کی چائے بناکر بھی فائدے حاصل کئے جاتے ہیں۔
انا ر کے چھلکو ں کو پیس کر باریک سفوف بنالیں اور اسے محفو ظ کرلیں۔ اب چائے بنانے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چائے کا چمچ اس پاؤڈر کا ملالیں۔ اسے چند منٹ جوش دیں اور پھر چھان لیں۔ اس میں لیموں کا رس اور شہد شامل کرکے پئیں۔
یہ چائے نظام انہضام کو درست کرتی ہے۔
قبض اور بدہضمی میں مفید ہے۔
دل کے دورے کے خدشے کو کم کرتی ہے۔
دوران خو ن کو بہتر کرتی ہے اور جلد کو ترو تازہ بناتی ہے۔
کینسر جیسے مو ذی مرض میں اس کا استعمال نعمت ہے۔ (صححہ: #ایس_اے_ساگر)

https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post_53.html

Do you know the smazing Benefits Of Pomegranate Peel Tea?

In The Name of Allah, The Most Beneficent, The Most Merciful

Since pomegranate has season, and pomegranate has many benefits, but it hurts when people eat pomegranate, throw away its peel and throw it in the trash, I hope this article After reading, you will fall in love with pomegranate peels. There are some fruits and vegetables which have beneficial properties in their skins as well as in their pulp and there is no denying the benefits of these skins. Healing is a condition that can be cured by the skin or the skinIt has to do with health. Pomegranate peels are just as important as many fruit peels. According to the Healthy Builders website, nutritionists say that pomegranate peels are rich in a variety of nutrients, the best way to get them is pomegranate tea. This tea is made from the powder of dried pomegranate peel. To make this powder, you should wash the pomegranate peels thoroughly with clean water, then put them in the sun and dry them. Once dry, break the shells into small pieces. You are the oneYou can grind them, or put them in a blender or coffee grinder to make a paste. You can put this powder in a bottle like ordinary coffee powder and store it in the fridge. Add a tablespoon of pomegranate peel powder to a cup of water to make tea. Boil it for a few minutes and then strain it. You can also add lemon juice and honey to this tea. This natural tea tastes great and has many health benefits. This tea improves your digestive system so people suffering from constipation and indigestion should take it.Must use It reduces the risk of heart disease, refreshes the skin, improves blood circulation, and even helps protect against incurable diseases such as cancer. Other benefits of pomegranate peels:

For frequent urination:

Teach by peeling a pomegranate peel in the sun for frequent urination. Now grind it finely and use it daily with six months water. Healing of bladder heat and frequent urination. * For abdominal pain * Anorexia nervosa Abdominal pain and abdominal painIts bark, leaves and bark are used for various stomach ailments.

Iron deficiency:

Pomegranate seeds are rich in iron but their peels are no less. The use of its peels makes up for the lack of iron. Peel a squash, grate it and squeeze the juice. Use it once a day with fresh water.

For bad breath:

For bad breath, boil pomegranate peels in water and rinse with this water to get rid of bad breath.There is.

For Bowasir:

Pomegranate peel powder is very effective in booze. For both asthma and bad breath, a spoonful of its peel with water in the morning and in the evening gives relief to the asthma.

For cough:

For cough, put pomegranate peels in the mouth and suck it to stop the cough.

For facial scars:

Take two tablespoons of pomegranate peel powder and mix one tablespoon of lemon juice and honey in it to make a paste. Leave it on the face for 15 minutes. Then add half a teaspoon of waterS wash It also removes blemishes on the face and face and enhances the complexion. .

For Falling Hair:

Mix pomegranate peel powder in any oil. Now apply this oil on the hair and roots and massage well. Get up in the morning and shampoo your hair. This will not only stop the hair from falling out but will also eliminate the dryness of the hair.

Tonsils and sore throat:

Boil three teaspoons of pomegranate peel in water. Now sift it and grind it when it is half warm. It causes sore throat and tonsilsI'll be fine.

For teeth and gums:

Mixing a pinch of crushed black pepper in pomegranate peel powder and rubbing it on the teeth makes the teeth white. Its ointment strengthens the gums and prevents bleeding. To lose weight Take a pomegranate peel powder, mix a tablespoon of crushed ginger in it and boil it in a cup of water. Drinking this drink orally will reduce weight and also lower cholesterol.

Pomegranate peel tea:

Pomegranate peel tea is extremely beneficial. PomegranateThese shells are rich in a variety of nutrients. They can also be benefited by teaching pomegranate peels and also by making tea. Peel a squash, grate it and squeeze the juice. Now mix one teaspoon of this powder in a cup of water to make tea. Let it soak for a few minutes and then strain it. Drink it with lemon juice and honey. This tea corrects the system. Useful in constipation and indigestion. Reduce the risk of heart attackThere is. Improves blood circulation and refreshes the skin. Its use in diseases like cancer is a blessing. (صححہ: #S_A_Sagar)

https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post_53.html


بدگمانی سے کیسے بچا جائے؟

عنوان: 
بدگمانی سے 
کیسے بچا جائے؟

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شخص نہایت دیندار اور صوم و صلوة کا پابند ہے، لیکن بدگمانی جیسی بری عادت میں مبتلا ہے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی علاج تجویز فرمائیں؟
جواب: واضح رہے کہ جب بھی کسی کی بدگمانی کا خیال دل میں آئے، تو درج ذیل تین کاموں پر عمل کریں، اس سے بدگمانی کی عادت ان شآءاللہ خودبخود ختم ہوجائے گی۔
1) اس آیت {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ} [الحجرات: ۱۲] کو ذہن میں رکھیں کہ بدگمانی کرنا گناہ ہے، اور بار بار سوچیں کہ بدگمانی کرنے سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔
2) جس طرح ہم لوگوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری بات کو اچھے پہلو سے دیکھیں، تو ہم بھی دوسرے شخص کی بات کو اچھے پہلو سے دیکھنے کی کوشش کریں۔
3) جس شخص کے بارے میں ہمارے دل میں بدگمانی آئے، فورا اس شخص سے جاکر معافی مانگیں کہ میرے دل میں آپ کے متعلق بدگمانی آگئی تھی، مجھے معاف فرمادیں، بار بار معافی مانگنا نفس پر شاق گزرے گا، اور بدگمانی کی عادت ان شآءاللہ چھوٹ جائے گی۔
دلائل:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کما فی القران:
يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَن يَّأْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيْم۔
(سورۃ الحجرات، آیت: 12)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی (نمبر 103434) (صححہ: #S_A_Sagar)
https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post_13.html

مسکرانا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت

مسکرانا:
حضور اکرم صلی اللہ 
علیہ وسلم کی سنت ہے تو 
ہے ہی. ٹینشن سے نجات اور 
قوت مدافعت میں اضافہ کا ذریعہ بھی ہے

Smile to get rid of Tension and boost immune system

ہیلو میں ڈاکٹر ایمان ہوں۔ میں ایک سرجن ہوں، اور میں آپ کو ایک لائف ہیک سکھانا چاہتا ہوں، جو مجھے یقین ہے کہ بہت کم ڈاکٹر آپ کو نہیں بتائیں گے۔
جب کوئی شخص مسکراتا ہے تو بھلے ہی مسکراہٹ مصنوعی ہو لیکن اسے فائدہ پہنچے گا. اس لئے کہ مسکرانے والے شخص کا دماغ مصنوعی اور  حقیقی مسکراہٹ میں فرق نہیں کرسکتا۔ جیسے ہی دماغ میں نیروپیپٹایڈ کا Neoropeptides ایک جھرنا  شروع ہوا، اور یہ اینڈورفائینEndorphins ڈوپامائین، Dopamine اور سیروٹونیم Serotonim جاری کرے گا، نتیجہ درد اور تناؤ میں کمی، اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے جسمانی مدافعتی نظام کو تقوئیت دینے اور صرف خوشی محسوس کرنے میں ممد ہوتا ہے، تو آئیے ہم سب  مل کر مسکرانے کو اپنا معمول بنائیں۔ آئیے 3 تک گنتے ہیں اور ہم ایک ساتھ مسکرائیں گے، بالکل تیار، 3.... کیا آپ مسکراچکے ہیں؟  دنیا پر احسان کرتے ہیں، مزید مسکراتے ہیں، اور آپ کی مسکراہٹ بہت دلنشین ہے۔
اپنا غم کسی سے شیئر کرنے سے وقتی سکون ملتا تو نظر آتا ہے لیکن حقیقتا دوسرے اپنوں کو بھی رنجیدہ کرنے کے باوجود، تکلیف کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوتی لگتی ہے۔ جبکہ  خوشیاں اور مسکراہٹیں شیئر کرنے سے اپنے دوسرے بھی خوش ہوتے ہیں اور خود کو بھی سکون ملتا ہے. اور کیوں نہ ملے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت میں بے شمار حکمتیں ہیں! #ایس_اے_ساگر

Smile to get rid of Tension and boost immune system

Hallo I am Dr Imaan. I am a Surgen, and I want to teach you,a life Hack,that I belive not many doctors will tell you.

When some one smile,even a falls smile, because the brain can't distinguish between the fake and real smile. A cascade of Neoropeptides happened in our brain, and it will release, Endorphins, Dopamine, and Serotonim, the result is decreasing pain and stress, boost our immune system and simply feeling happier, so let's do that together. Let's count 3 and we will smile together, Right ready, 3....do you smile,do the world  a favor, smile more, your smile is Geiorgiouse.

Sharing your grief with some one gives  us temporary relief, but in reality, despite hurting others, the pain doesn't seem to go away. While sharing happiness makes others happy and get piece of mind to ourself, so one should keep always  smiling. S_A_Sagar#
https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post.html

اللہ پاک کے لیے سردی میں نرم گرم بستر چھوڑنا

اللہ پاک کے لئے سردی میں نرم گرم بستر چھوڑنا

محبِّ صادق کی ایک علامت یہ ہے کہ رات کو اسے نیند نہیں آتی، وہ رات میں اٹھ اٹھ کر اپنے محبوب کو یاد کرکے روتا ہے ۔ یہ عشقِ مجازی کے متوالوں کا حال ہے جو محبت حقیقی میں مبتلا ہو، وہ کس طرح سے رات بھر مزے سے اپنے نرم وگرم بستر پر مزے پر سوسکتا ہے؟ اگر ہم اہل اللہ کی حالاتِ زندگی کا مطالعہ کریں تو دیگر متعدد اوصاف کے ساتھ ساتھ اس وصف میں بھی وہ سب شریک نظر آتے ہیں جسے قرآن نے بیان کیا: 

وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا (الفرقان: ۶۶)

اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں۔ ہم یہاں بالخصوص سردی میں عبادت الہی کی فضیلت کے تحت کچھ کلام کریں گے فنقول وباللہ التوفیق 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤ! بلاشبہ دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالی خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو سرد رات میں اپنے بستر اپنی چادر اور اپنے لحاف کو چھوڑکر اپنے گھروالوں کے درمیان سے نکل کر اٹھتا ہے، وضو کرتا ہے پھر نماز کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو اس عمل پر کس چیز نے ابھارا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تیری بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے کی امید اور تیرے عذاب کےخوف نے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ جس چیز کی اس نے امید کی ہے میں نے وہ چیز اس کو عطا کردی اور جس چیز سے یہ ڈر رہا ہے میں نے اسے اس (عذاب) سے امن دےدیا ہے۔ دوسرا وہ شخص جو مجاہدین کی جماعت میں ہو پس وہ جانتا ہوکہ میدان جنگ سے بھاگنے میں اس پر کیا گناہ ہے اور وہ اس ثواب کا بھی علم رکھتا ہو جو اللہ کے پاس ہے پس وہ قتال کرتا ہے یہاں تک کہ شہید ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو اس عمل پر کس چیز نے ابھارا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تیری بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے کی امید اور تیرے عذاب کےخوف نے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ جس چیز کی اس نے امید کی ہے میں نے وہ چیز اس کو عطا کردی اور جس چیز سے یہ ڈر رہا ہے میں نے اسے اس (عذاب) سے امن دے دیا ہے۔ (المعجم الکبیر: باب العین، من اسمہ مسعود، رقم: ۸۵۳۲، ج: ۹، ص: ۹۶)

سردی میں غسلِ جنابت کی فضیلت:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: تین چیزیں ایمان میں سے ہیں:

(۱) کسی شخص کو ٹھنڈی رات میں احتلام ہوجائے پس وہ کھڑا ہو اور غسل کرلے،

اُس کے اس عمل کو اللہ کے علاوہ کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔

(۲) گرم دن میں روزہ رکھنا۔

(۳) کسی شخص کا بیابان میں نماز پڑھنا کہ اللہ کے علاوہ اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔

(شعب الایمان: باب القول في زيادة الإيمان ونقصانه، رقم: ۵۱، ج: ۱، ص: ۱۵۲)

حضرت ابوطالب محمد بن علی بن عطیہ حارثی متوفی ۳۸۶ھ۔ فرماتے ہیں:

سردی کے موسم میں کامل وضو کرنا یہ دین کے ہمت والے کاموں میں سے ہے۔ بعض اسلاف نے فرمایا: مسلمان کا سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا راہبوں کی تمام عبادت کے برابر ہے۔ لیکن وضو میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور وہ یوں کہ اعضا کو تین سے زیادہ بار دھوئے کہ اس کی ممانعت ہے۔ (قوت القلوب: ج: ۲، ص: ۱۵۱)

موسم سرما کی راتوں میں قیام کی فضیلت کی وجہ:

علامہ ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ھ لکھتے ہیں: موسم سرما کی راتوں میں قیام کرنا ،موسم گرما میں روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ اسی وجہ سے بوقتِ وفات حضرت معاذ نے روتے ہوئے کہا تھا: میں سخت گرمی کی دوپہر میں روزہ رکھنے کے اجر اور ٹھٹرتی راتوں میں قیام اللیل کے چھوٹ جانےاور ذکر اللہ کے حلقوں میں حاصل علماء کی صحبت چھوٹ جانے پر رو رہا ہوں.

حضرتِ سیِّدُنا معضد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے اپنے شہد کی مکھی ہونے کی بھی پروا نہیں ہوتی (۱) …(بحالتِ روزہ ) گرمیوں کی دوپہرمیں پیاس (برداشت کرنا) (۲)…سردیوں کی لمبی راتوں (میں قیام کرنا) اور (۳)… نمازتہجد میں کتاب اللہ کی لذت۔

سردی کی راتوں میں قیام کرنا نفس پر دو وجہ سے شاق ہے، پہلی وجہ یہ ہے کہ سخت سردی میں بستر کو چھوڑکر قیام کرنے میں نفس کو تکلیف ہوتی ہے۔ اور داؤد بن رشید نے فرمایا: میرا ایک بھائی سخت سر د رات میں اپنی معمول کی عبادت کے لئے اٹھا، اس کے جسم پر دو پرانی چادریں تھیں پس سردی کی شدت سےبے حال ہوکر وہ رو نے لگا تو اُسے ہاتف نے ندا کی: ہم نے تمہیں قیام میں لگادیا اپنے دیگر بندوں کو سلا دیا، ہمارے اس انعام کے باوجود تم رو رہے ہو!

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے کامل وضو کرنے سے نفس کو تکلیف ہوتی ہے اور سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا یہ افضل اعمال میں سے ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں جس کے سبب اللہ تعالی گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ضرور بتلائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سردی وغیرہ کی) مشقت اور ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بڑھانا، پس یہی رباط (یعنی اپنے نفس کو اللہ کی اِطاعت میں روکنا) ہے۔ (لطائف المعارف، المجلس الثالث فی ذکر فصل الشتاء، ص: ۳۲۷)

سردی میں وضو کی فضیلت:

حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سخت سردی میں کامل وضوکیا اُس کے لیے دُگنا اجر ہے۔ (المعجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، رقم: ۵۳۶۶، ج: ۵، ص: ۱۷۹)

بھلائی کی چھ خصلتیں:حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلائی کی چھ خصلتیں ہیں: اللہ کے دشمنوں کے ساتھ تلوار سے جہاد کرنا، گرم دن میں روزہ رکھنا، مصیبت کے وقت اچھا صبر کرنا، حق پر ہونے کے باوجود تمہارا جھگڑا نہ کرنا، اَبرآلود دن میں نماز جلدی پڑھ لینا اور سردی کے دنوں میں اچھی طرح وضو کرنا۔ (شعب الایمان: فضل الوضو، ۲۵۰۰، ج: ۴، ص: ۲۶۹)

اگلے پچھلے تمام (صغیرہ) گناہوں کی بخشش:

حضرت حُمران رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے سردی کی ٹھنڈی رات میں وضو کا پانی منگوایا، اُن کا اِرادہ نماز کیلئے جانے کا تھا میں اُن کیلئے پانی لایا، اُنہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا تو میں نے کہا: یہ آپ کو کافی ہے. آپ نے کامل وضو کرلیا ہے. (احتیاط کریں) کہ سخت سردی ہے، تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بندہ بھی کامل وضو کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے اگلے پچھلے تمام (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے۔ (مسند البزار، مسند عثمان بن عفان، رقم: ۴۲۲، ج: ۲، ص: ۷۵) اللہ تعالی ہمیں سردی کی شدّت پر صبر کرتے ہوئے مزید ذوق وشوق کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے! آمین (بقلم: ابوحمزہ محمد عمران مدنی) (صححہ: #S_A_Sagar)

https://mastooraat.blogspot.com/2022/01/blog-post.html



Thursday, December 23, 2021

برے پڑوسیبری بیوی اور برےبچوں سے بچنے کی دعاء

سوال:
برے پڑوسی
بری بیوی اور برے
بچوں سے بچنے کی دعاء کیا ہے؟

حضرت ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے. کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی دعاء میں یہ الفاظ تھے
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
اے اللہ میں برے پڑوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بیوی سے پناہ چاہتا ہوں جو بڑھاپے سے پہلے مجھے بوڑھا کردے اور اس اولاد سے جو میری مالک بن جائے.
ال سلسلہ صحیحہ ٢٧٩٩ 
دعا طبرانی ١٢٤٣- حسن 
-----------
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
-----
Narrated Abu Hurairah Radi Allahu Anhu The Prophet Sal-Alalahu alaihin wasallam used to ask this supplication
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
------------
Allaahumma innee Awuzubika Min Jaar As-Soo
Wa min zawjin Tushayyebuni Qabal-Al-Masheeb
Wa min waladin Yakunu Alayya Ribba
------------
O Allah I seek refuge with you from an evil neighbour,and from a wife who causes me to grow old before old age, and from a son who will become a master over me.
Al Silsila As-Sahiha , 2799
Dua At-Tabrani ,1243-Hasan
------
✦ Bure padosi, buri biwi aur bure bachcho se bachne ki dua
------------
Abu Hurairah Radi Allahu Anhu se rivayat hai ki Rasool-Allah Sal-Alalahu alaihi wasallam ye dua farmaya karte they
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
------------
Allaahumma innee Awuzubika Min Jaar As-Soo
Wa min zawjin Tushayyebuni Qabal-Al-Masheeb
Wa min waladin Yakunu Alayya Ribba
------------
✦ Ya Allah main teri panah maangta hu bure padosi se, aur aisee biwi se jo budhape se pahle mujhe budha kar de,aur aisee aulad se jo mere malik ban jaye
Al Silsila As-Sahiha , 2799
Dua At-Tabrani ,1243-Hasan
-----------
अबू हुरैरा रदी अल्लाहू अन्हु से रिवायत है की रसूल-अल्लाह सल-अल्लाहू अलैही वसल्लम  ये दुआ फरमाया करते थे
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
या अल्लाह मैं तेरी पनाह माँगता हूँ  बुरे पड़ोसी से,और ऐसी बीवी से जो बुढ़ापे से पहले मुझे बूढ़ा कर दे,और ऐसी औलाद से जो मेरी मालिक बन जाए
अल सिलसिला स-साहिहा , 2799
दुआ अत-तबरानी ,1243-हसन
-----
Narrated Abu Hurairah Radi Allahu Anhu The Prophet Sal-Alalahu alaihin wasallam used to ask this supplication
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشَيِّبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رِبًا
------------
Allaahumma innee Awuzubika Min Jaar As-Soo
Wa min zawjin Tushayyebuni Qabal-Al-Masheeb
Wa min waladin Yakunu Alayya Ribba
------------
O Allah I seek refuge with you from an evil neighbour,and from a wife who causes me to grow old before old age, and from a son who will become a master over me.
Al Silsila As-Sahiha , 2799
Dua At-Tabrani ,1243-Hasan
صححہ: #S_A_Sagar
http://mastooraat.blogspot.com/2021/12/blog-post_23.html?m=1

Saturday, December 11, 2021

تہجد کی نماز کے فضائل کیا ہیں؟

سوال:
تہجد کی نماز 
کے فضائل کیا ہیں؟؟؟

۱ـ فرض کے بعد سب سے افضل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أفضلُ الصلاة بعد الفريضة: صلاةُ الليل»؛ رواه مسلم. ترجمہ: فرض کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔( مسلم)۔
۲ـ محبوب ترین عمل:
اور اللہ تعالی اسے پسند فرماتا ہے۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے:
«أحبُّ الصلاةِ إلى الله: صلاةُ الليل»؛ متفق عليه. ترجمہ: اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ترین نماز رات کی نماز ہے۔ بخاری و مسلم۔
۳ـ تقوی کی علامت:
اور اخلاص سے تہجد پڑھنا تقوی کی علامت ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
((إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (15) آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ (16) كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ)) [الذاريات: 15- 17].
ترجمہ: بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے۔ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا اسے لے رہے ہونگے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے۔ وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔
۴: گناہوں کی بخشش کا سبب:
اس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور خطائیں دُھل جاتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
«ألا أدلُّك على أبوابِ الخير؟ الصومُ جُنَّةٌ، والصدقةُ تُطفِئُ الخطيئَةَ كما يُطفِئُ الماءُ النارَ، وصلاةُ الرجلِ في جوفِ الليل» أي: تُطفِئُ أيضًا الخطيئةً كما يُطفِئُ الماءُ النار؛ رواه الترمذي.
ترجمہ: کیا میں آپ کو خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ خطاؤں کو بجھادیتا ہے جسطرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے وقت آدمی کی نماز۔یعنی نماز بھی خطاؤں کو بجھادیتی ہے۔ترمذی۔
۵ـ اللہ کی رحمت کا سبب:
اور یہ بندے کے لئے اللہ کی رحمت کا سبب ہے، فرمانِ نبوی ﷺ ہے:
«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى»؛ رواه أبوداود. ترجمہ: اللہ اس انسان پر رحم کرے جو رات کو اٹھا اور نماز پڑھی۔ ابوداؤد۔
۶ـ اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ:
اور تہجد ان عبادات میں سے ہے جو اللہ کی بھرپور نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو اتنا قیام کیا کرتے تھے کہ ان کے قدم سُوج جایا کرتے تھے، اور یہ فرمایا کرتے تھے:
«أفلا أحبُّ أن أكون عبدًا شَكورًا؟»؛ رواه البخاري. ترجمہ: کیا میں (تہجد کی صورت میں) اپنےرب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
۷ـ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ:
وأقربُ ما يكونُ الربُّ من العبدِ في جوفِ الليل، قال - عليه الصلاة والسلام -: ترجمہ: اور بندہ سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب رات کی تاریکی میں ہوتا ہے۔
۸ـ قبولیت کا وقت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإن استطعتَ أن تكون ممن يذكُرُ اللهَ في تلك الساعة فكُن»؛ رواه الترمذي.
ترجمہ: اگر آپ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو ضرور کیجئے۔
۹ـ فتنوں سے حفاظت:
اور رات کی نماز اللہ کے حکم سے فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ حدیث میں ہے: قالت أمُّ سلمة - رضي الله عنها -: استيقظَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - ليلةً فزِعًا يقول: «سُبحان الله! ماذا أنزلَ الله من الخزائِن؟ وماذا أُنزِلَ من الفتن؟ من يُوقِظُ صواحِبَ الحُجُرات؟» يُريدُ أزواجَه لكي يُصلِّين «رُبَّ كاسِيةٍ في الدُّنيا عارِيَةٍ في الآخرة»؛ رواه البخاري. ترجمہ: ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے ہوئے اٹھے اور یہ کہہ رہے تھے: سبحان اللہ! اللہ نے کیا خزانے نازل کئے ہیں؟ اور کتنے ہی فتنے بھی نازل ہوئے ہیں؟ ان حجرے والوں کو کون اٹھائے گا؟ یعنی ازواج مطہرات کو کون اٹھائے گا تاکہ وہ تہجد پڑھ لیں۔ ’’اس دنیا میں بہت سے لوگ جو لباس میں ملبوس ہیں آخرت میں بے لباس ہوں گے‘‘۔
۱۰ـ دلوں کی راحت کا باعث:
اس میں شرحِ صدر ہے، آرام ہے اور دل کا سرور ہے۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: "في صلاةِ الليل سرٌّ في طِيبِ النفس". ترجمہ: تہجد دلوں کی خوشی کا راز ہے۔
۱۱ـ جنت میں جانے کا سبب:
اور جنت میں جانے کا ایک سبب تہجد بھی ہے: ((تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)) [السجدة: 16، 17]. ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کے خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیدہ کر رکھی ہے جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔ ترمذی کی حدیث ہے: قال عبدُ بن سلامٍ - رضي الله عنه -: أولُ شيءٍ سمِعتُ النبي - صلى الله عليه وسلم - تكلَّم به حين قدِمَ المدينة: «يا أيها الناس! أفشُوا السلام، وأطعِموا الطعام، وصِلُوا الأرحام، وصلُّوا بالليل والناسُ نِيام؛ تدخُلوا الجنةَ بسلامٍ»؛ رواه الترمذي. ترجمہ: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی علیہ السلام مدینہ آئے تو سب سے پہلے میں نے ان سے یہ بات سنی: اے لوگوں! سلام کو عام کریں، کھانا کھلائیں، صلہ رحمی کریں، اور رات کو نماز پڑھیں اگرچہ لوگ سو رہے ہوں تو آپ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجائیں گے۔
۱۲ـ جنت میں اعلی مقام کی ضمانت (گارنٹی):
جس نے تہجد پڑھی وہ جنت کے اعلی مقامات میں ہوگا۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے: «إن في الجنةِ غُرفًا تُرَى ظهورُها من بُطونِها، وبُطونُها من ظهورِها». فقامَ أعرابيٌّ فقال: لمن هي يا رسول الله؟ قال: «لمن أطابَ الكلامَ، وأطعمَ الطعامَ، وأدامَ الصيامَ، وصلَّى بالليل والناسُ نِيام»؛ رواه أحمد. ترجمہ: جنت کے کچھ کمرے ایسے بھی ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتاہے۔تو ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کن کے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (ان مقامات کا مستحق وہ ہوگا) جو اچھی بات کہے گا، کھانا کھلائے گا، روزوں کا اہتمام کرے گا، اور رات کی نماز پڑھے گااگرچہ لوگ سورہے ہوں۔ اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ تہجد کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کریں تاکہ جنت میں اعلی مقام کا شرف مل سکے۔ اللہ عز وجل نے فرمایا: ((وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا)) [الإسراء: 79]. ترجمہ: رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں، یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔
تہجد ہر رات کی عبادت:
تو اس بنیاد پر نبی علیہ السلام تہجد کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے چاہے وہ حضر (اپنے ہی علاقے) میں ہوں یا سفر میں۔
نبی علیہ السلام کا قیام اللیل:
اور نبی علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ آدھی رات یا اس سے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم تہجد میں گزاریں۔
((يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ)) [المزمل: 1- 4].
ترجمہ: اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہو جاؤ مگر کم ۔ آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے۔ یا اس پر بڑھا دے۔
بخاری کی حدیث ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "وكان لا تشاءُ أن تراهُ من الليل مُصلِّيًا إلا رأيتَه"؛ رواه البخاري.
ترجمہ: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ آپ جب بھی رات کو انہیں دیکھیں تو وہ نماز ہی پڑھ رہے ہوتے تھے۔
خلیفہ ثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قیام اللیل:
اور ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے:
((أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ [الزمر: 9]
قال: "ذاك عُثمانُ بن عفَّان".
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزراتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو۔
اور فرماتے کہ یہ تو عثمان رضی اللہ عنہ کی صفات ہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے مزید اس بارے میں یہ فرمایا:
"وذلك لكثرة صلاةِ أميرِالمُؤمنين عُثمان بالليل وقراءتِه، حتى إنه رُبَّما قرأَ القُرآنَ في ركعةٍ".
ترجمہ: یہ فضیلت امیرالمومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو تہجد اور تلاوت قرآن کا کثرت سے اہتمام کرنے کی وجہ سے ملی یہاں تک کہ کبھی کبھار تو وہ ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے۔
اور سب سے محبوب ترین عمل وہ ہے جسے ہمیشگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو، اور فرض نماز کے علاہ دیگر نمازیں گھر میں زیادہ افضل ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے: «خيرُ صلاةِ المرء في بيتِه إلا الصلاة المكتوبة»؛ متفق عليه.
ترجمہ: فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نماز گھر میں زیادہ بہتر ہے.
تہجد سب کے لئے مسنون ہے:
جس طرح قیام اللیل مردوں کے لئے مسنون ہے بالکل اسی طرح خواتین کے لئے بھی مسنون ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے: طرقَ النبي - صلى الله عليه وسلم - ابنتَه فاطمةَ - رضي الله عنها - وزوجَها عليَّ بن أبي طالب - رضي الله عنه - ليلاً، وقال لهما: «ألا تُصلِّيَان؟»؛ متفق عليه. ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات اپنی پیاری صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنھا اور انکے زوج محترم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان سے فرمایا: کیا آپ تہجد نہیں پڑھیں گے؟۔
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لولا ما علِمَ النبي - صلى الله عليه وسلم - من عِظَم فضلِ الصلاةِ في الليل ما كان يُزعِجُ ابنتَه وابنَ عمِّه في وقتٍ جعلَه الله لخلقِه سكَنًا، لكنَّه اختارَ لهما إحرازَ تلك الفضيلة على الدَّعَة والسُّكون".
ترجمہ: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کی فضیلت کا علم نہ ہوتا تو اپنی بیٹی اور چچا کے بیٹے کورات کے وقت تکلیف نہ دیتے کیونکہ یہ وقت اللہ نے آرام کے لئے بنایا ہے، درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چاہا کہ وہ دونوں بھی کچھ وقت کےسکون و آرام کو چھوڑ کر اس فضیلت کو ذخیرہ کرلیں۔
تہجد گزار کے لئے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا:
اور نبی علیہ السلام نے اس شخص کے لئے رحمت کی دعا کی ہے جو اپنے گھروالوں کو تہجد کے لئے اٹھاتا ہے۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے:
«رحِمَ الله رجلاً قامَ من الليل فصلَّى وأيقظَ امرأتَه»؛ رواه أبوداود.
ترجمہ: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو خود بھی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی اٹھاتا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کی تہجد:
وكان عمرُ - رضي الله عنه - يُصلِّي من الليل ما شاءَ الله، حتى إذا كان آخرَ الليل أيقظَ أهلَه للصلاةِ ثم يقول لهم: الصلاةَ الصلاةَ، ويتلُو: ((وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا)) [طه: 132].
ترجمہ: اور عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی توفیق کے مطابق تہجد پڑھتے رہتے یہاں تک کہ جب رات کا آخری وقت ہوتا تو اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کے لئے اٹھا دیتے اور ان سے کہتے کہ نماز، نماز، اور سورت طہ کی یہ آیت پڑھتے:
نیک ہونے کی دلیل:
اور قیام اللیل نوجوان کے لئے بلندی کا وسیلہ ہے اور بزرگ کے لئے نور اور وقار ہے۔
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نوجوان تھے اس وقت نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا:
«نِعمَ الرجلُ عبداللهِ لو كان يُصلِّي من الليل»؛ متفق عليه. ترجمہ: عبد اللہ بہت اچھا انسان ہے کاش یہ تہجد پڑھتا ہو۔
ان کے بیٹے سالم فرماتے ہیں:
"فكان عبدُ الله بعد ذلك لا ينامُ من الليل إلا قليلاً". ترجمہ: اس کے بعد عبد اللہ رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "من كان يقومُ الليلَ يُوصَفُ بأنه نِعمَ الرجل". 
ترجمہ: جو بھی رات کا قیام کرے گا اسے اچھا انسان ہی شمار کیا جائے گا۔
اور نبی علیہ السلام نے جناب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو قیام اللیل چھوڑنے سے ڈرایا، جبکہ وہ ابھی (نوجوان) لڑکے ہی تھے اور ان سے فرمایا:
«يا عبدالله! لا تكُن مثلَ فلانٍ؛ كان يقومُ الليلَ فتركَ قيامَ الليل»؛ رواه البخاري.
ترجمہ: اے عبداللہ! فلاں کی طرح مت ہوجانا، وہ تو تہجد پڑھتا تھا مگر اس نے چھوڑ دیا۔
اور سلف صالحین چھوٹے عمر سے ہی تہجد پڑھا کرتے تھے۔ ابراھیم بن شماس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"كنتُ أرى أحمدَ بن حنبل يُحيِي الليلَ وهو غلامٌ".
ترجمہ: میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دیکھتا تھا کہ وہ کم عمر ی میں ہی رات کو زندہ (قیام اللیل) کیا کرتے تھے۔
رات کی فضیلت:
اور رات کے مقام کی وجہ سے اللہ نے اپنی کتاب بھی رات میں نازل فرمائی۔ اور رات میں اس کی تلاوت اللہ کی حفاظت کا سبب ہے،
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وإذا قامَ صاحبُ القُرآن فقرأَه بالليل والنهارِ ذكرَه، وإذا لم يقُم به نسِيَه»؛ رواه مسلم.
ترجمہ: اگر صاحبِ قرآن رات دن اس کی تلاوت کرے تو اسے یاد رہے گا، ورنہ بھول جائے گا۔
رات میں قرآن مجید کی تلاوت:
اور وہ شخص بہت ہی زیادہ قابلِ رشک ہے جو رات کو قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
«لا حسَدَ إلا في اثنتَين: رجلٍ آتاه الله القُرآن فهو يقومُ به آناءَ الليل وآناءَ النهار، ورجلٍ آتاه الله مالاً فهو يُنفِقُه آناء الليل وآناءَ النهار»؛ متفق عليه.
ترجمہ: حسد صرف دو چیزوں میں جائز ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن کی نعمت سے مالامال کیا ہو اور وہ راتوں کو قیام میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہو، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور وہ اسے دن رات (اللہ کی رضا کی خاطر) خرچ کرتا ہو۔
اور رات میں قرآن پڑھنے سے اسے سمجھنے اور اس میں غور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دل جمعی کا باعث:
اللہ عز وجل نے فرمایا: ((إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا)) [المزمل: 6].
ترجمہ: بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لئے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے ۔
زیادہ اجر کا سبب:
اور رات کے وقت تلاوت کرنے کا زیادہ اجر ہے۔ اور تھوڑی تلاوت کرنے سے بندے کی غفلت دور ہوجاتی ہے، اور درمیانی تلاوت سے قانتین (فرماں بردار لوگوں ) کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور زیادہ تلاوت کرنے سے ثواب کے خزانوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
«من قامَ بعشر آياتٍ لم يُكتَب من الغافِلين، ومن قامَ بمائةِ آيةٍ كُتِبَ من القانِتين، ومن قامَ بألفِ آيةٍ كُتِبَ من المُقنطَرين»؛ رواه أبوداود.
ترجمہ: جو شخص (رات کے قیام میں) دس آیتیں پڑھ لے وہ غافلوں کی لسٹ سے نکل جاتا ہے، اور جو سو آیتیں پڑھ لے وہ فرماں بردار لوگوں میں شمار ہوگا، اور جو ایک ہزار آیتیں پڑھے گا اس کا شمار خزانہ سمیٹنے والوں میں ہوگا۔
رات کے وقت دعا کی فضیلت:
رات کے وقت دعا کی بھی بڑی فضیلت ہے:
«وفي الليلِ ساعةٌ لا يُوافِقُها عبدٌ مُسلمٌ يسألُ اللهَ خيرًا إلا أعطاه الله إياه»؛ رواه مسلم.
ترجمہ: رات کے وقت ایک گھڑی ایسی ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس وقت اللہ سے بھلائی مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور نوازدیتا ہے۔
اللہ تعالی کا نزولِ مبارک:
اور رات کے آخری تیسرے پہر ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے. (اس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا ، وہ اُسی طرح نزول فرماتا ہے جیسا اُس کی شان کے لائق ہے) اور فرماتا ہے: «من يدعُوني فأستجيبَ له؟ من يسألُني فأُعطِيَه؟ من يستغفِرني فأغفِرَ له؟»؛ متفق عليه.
ترجمہ: کوئی ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی دعاء قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مانگےتاکہ میں اسے عطا کروں؟، ہے کوئی جومجھ سے مغفرت مانگے تاکہ میں اسے بخش دوں؟ (بخاری و مسلم)۔
رات کا ذکر اور دعاء:
اور جو شخص رات کو اُٹھ کر ذکر (رات کو پڑھنے کی مسنون دعا) پڑھے اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھے تو وہ بھی قبول کی جاتی ہے۔جیساکہ بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھتا ہے اور یہ پڑھتا ہے۔
«لا إله إلا الله وحده لا شريكَ له، له المُلكُ ولهُ الحمدُ، وهو على كل شيء قدير، الحمدُ لله، وسُبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حولَ ولا قوة إلا بالله، ثم قال: اللهم اغفِر لي، أو دعا استُجيبَ له، فإن توضَّأَ وصلَّى قُبِلَت صلاتُه»؛ رواه البخاري.
ترجمہ: اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ ہی کے لئے پاکیزگی ہے، اور اللہ کو سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور اللہ کے حکم کے بغیر نہ گناہ سے رُکنے کی (کسی کو) طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی (کسی کو) توفیق۔ پھر یہ کہتا ہے: یا اللہ! مجھے بخش دے یا کوئی دوسری دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔
رات میں عبادت کا لطف:
اور رات کے اخری حصے میں دلوں کا تعلق (اللہ کی ذات کے ساتھ) زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور رات کی تاریکی میں ہر عیب اور نقص سے اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرنا تقوی کی علامت ہے۔
رات کی عبادت کا اختتام:
اور بہتر یہ ہے کہ رات کی عبادت کا اختتام استغفار پر ہو۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: ((وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ)) [آل عمران: 17]۔ ترجمہ: اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں۔
"ونزلَت توبةُ الذين خُلِّفُوا في الثُّلُث الأخير من الليل"؛ رواه البخاري.
ترجمہ: اور جو لوگ (جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ بھی رات کو ہی نازل ہوئی۔
تہجد کا وقت اور رکعتیں:
تہجد کا وقت ہر رات عشاء کی نماز کے بعد فجر تک ہوتا ہے، اور کم سے کم دو رکعت ہے، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں، اور افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے۔
«صلاةُ آخر الليل مشهودةٌ»؛ رواه مسلم. ترجمہ: رات کے آخری وقت کی نماز بہت اہم ہے۔
اور قیام اللیل کی اہمیت کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر سوتے رہ گئے تو دن میں اسے ادا کرلیں۔
مسلم کی حدیث ہے:
«من نامَ عن حِزبِه أو عن شيءٍ منه فقرأَه فيما بين صلاةِ الفجرِ وصلاةِ الظُّهر كُتِبَ له كأنَّما قرأَه من الليل»؛ رواه مسلم.
ترجمہ: جو شخص بھی تہجد سے سوتا رہ گیا اور فجر سے ظہر کی نماز کت درمیان اسے ادا کرلیا تو اس کا ثواب تہجد کے برابر ہی ہوگا۔
سونے کے وہ اذکار بھی (سنت سے) ثابت ہیں جو رات کو تہجد کے لئے اٹھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اور (مکمل رات کا) جاگنا قیام اللیل میں رکاوٹ بنتا ہے، اور اگر (پوری رات جاگنے کے باوجود) قیام کر بھی لے توخشوع و خضوع برقرار نہیں رہتا۔اور جو گناہ کرکے سوئے تو قیام کے لئے اس کا اُٹھنا مشکل ہے۔
یہ سب جاننے کے بعد!
عقلمندی کا تقاضہ:
اے مسلمانو! دنیا کا وقت بہت کم ہے، اور یہاں کچھ عرصہ گزارنا ہے، اور رات کی نماز، تلاوت، دعا، تسبیح اور استغفار کے ذریعہ مسلمان اپنی آخرت بہتر طریقے سے آباد کرسکتا ہے، اور ان عظیم اعمال صالحہ کو ہی اپنے رب سے ملاقات کے لئے ذخیرہ کرسکتا ہے، اور عقلمند وہی ہے جو رات کے آخری حصہ کو اپنے دین و دنیا کی اصلاح کے لئے غنیمت جانتا ہے۔
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم:
ترجمہ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے۔
((وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا)) [الإنسان: 25].
ترجمہ: اور اپنے رب کے نام کا صبح شام ذکر کیا کر۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطاء فرمائے، اور مجھے اور آپ کو آیات اور حکمت والی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، میں جو کہہ رہا ہوں وہ آپ سن رہے ہیں، اور اللہ سے سب کے لئے ہر گناہ سے مغفرت مانگتا ہوں، آپ بھی مغفرت مانگیں،بیشک وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/12/blog-post_11.html