Sunday, September 16, 2018

مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی خونی تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنے کا کیا حکم ہے؟

مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و تشدد کی خونی تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اس کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟

سوال: مسلمانوں کی ایسی خونی تصاویر شائع اور نشر کرنے کا کا کیا حکم ہے جن ميں ان کے کٹے پھٹے اعضاء اور قتل و خونریزی کے آثار نظر آتے ہیں جیسا کہ فلسطین اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں کا حال ہے؟ کیا مناسب نہیں ہوگا کہ ان لاشوں کا اور ان کے گھر والوں کا احترام کرتے ہوئے انهیں صرف اس حالت میں نشر کیا جائے جب کہ وہ کفن سے ڈھکے چھپے ہوئے
جواب:
الحمد لله
پہلی بات: اس ميں كوئى شک نہیں کہ لوگوں کے اذہان و قلوب پر میڈیا کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور واقعی ایسا ہوا ہے کہ بہت سارے واقعات و حالات کو جب تصویر و آواز کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تو ملکوں اور قوموں کی زندگی بدل گئی.
پرانے زمانے ميں لوگوں کے نزدیک تصویر کی ایک خاص اہمیت تھی اگرچہ ان کی تصویر کشی ابھی اپنے ابتدائی مرحلے ميں تھی تاہم انهوں نے تصویر کی عظیم تاثیر کو ان لفظوں ميں بیان کیا ہے چنانچہ چینی کہاوت ہے: ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے، اگر آج کل کے چینی لوگ اسے کہنا چاہیں تو ان الفاظ میں کہیں گے : ایک تصویر لاکھوں الفاظ کے برابر ہوتی ہے،  اسی طرح ارسطو کی طرف منسوب یہ قول نقل کیا جاتا ہے: تصویر کے بغیر کسی چیز کا تصور محال ہے.
اس لئے اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ذہن و دماغ پر تصویر دیکھنے کا اثر پڑھنے اور سننے سے زيادہ ہوتا ہے بلکہ بعض تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ لوگ جو سنتے ہیں اس میں سے 10% یاد رکھتے ہیں اور جو پڑھتے اس ميں سے 30% صرف یاد رکھتے ہیں جب کہ جو دیکھتے ہیں یا خود کرتے ہیں اس ميں سے 80% تک یاد رکھتے ہیں.
چونکہ ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو بقول بعض تصویر کا دور ہے اور یہ زمانہ میڈیا اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لئے اس مسئلے کی تحقیق ضروری ہے کہ ایسے مقتول و زخمی اور مصیبت زدہ لوگوں کی تصاویر نشر کرنا کیسا ہے اسی طرح جن کے گهروں پر ظالمانہ حملہ ہو رہا ہو یا جو سخت بهکمری کے شکار ہیں یا دیگر بڑی بڑی مصیبتوں سے دوچار ہیں ایسے لوگوں کی تصاویر دنیا کو حقیقت دکھانے کے لئے میڈیا میں نشر کرنے کا کا کیا حکم ہے؟

👈دوسری بات:
ایسے مصیبت زدہ اور مقتول و زخمی لوگوں کی تصاویر اور ویڈیو کو نشر کرنے ميں كوئى حرج نہيں مگر اس کے کچھ آداب و شروط ہیں جن کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے جیسے:
1- عورتوں کی تصاویر بالکل نشر نہ کریں
کیونکہ عورت سراپا پرده ہے اس لئے زخمی یا مقتول یا بھوکی عورت کی تصویر شیئر کرنے کی کوئی ضرورت نہيں بلکہ اس مقصد کے لئے مرد اور بچوں کی تصاویر کافی ہیں.
2- شرمگاہوں کو تصویر سے مٹانا اور ختم کرنا ضروری ہے
بہت سارے لوگ نشر کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتے جبکہ اس کی رعایت کرنی چاہیے کیونکہ ایک مسلمان کے شرمگاہ کی پرده پوشی واجب ہے اگر وه زخمی ہونے یا مرجانے کی وجہ سے اپنی پرده پوشی کرنے سے معذور ہے تو اس کی تصویر نشر کرنے والے کے پاس ایسا کوئی عذر نہیں.

3- عصمت دری اور جنسی زیادتی کی تصویر نہ شیئر کریں خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی کیونکہ یہ پرده پوشی کے حکم کے خلاف ہے، انٹرنیٹ پر ایسے بہت سے بے گناہوں کی تصویریں پھیلی ہوئی ہیں جو ظالم و سرکش مجرمین کی زیادتی کے شکار ہوئے ہیں لہذا ایسی تصاویر دیکھنا قطعا ممنوع ہے ارشاد باری تعالٰی ہے:
(قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ * وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ) النور/30-31
مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے۔
مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں.
4- لاشوں کے کٹے ہوئے سر اور بکھرے پڑے اعضاء کو نشر نہ کریں تاکہ ایک مسلمان کی بےحرمتی نہ ہو اور اس طرح کی تصاویر اور دلخراش مناظر دیکھ کر لوگوں کے اندر یاس و ناامیدی اور خوف و ہراس کی فضا نہ پیدا ہو.
اس بات کی دلیل غزوہ احد کا وه واقعہ ہے کہ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو انهیں دیکھنے سے منع فرمادیا.
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى إِذَا كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى.
قَالَ : فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرَاهُمْ، فَقَالَ: (الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ).
قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ ، فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى. رواه أحمد (1418) وصححه الألباني.
چنانچہ عروه رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے بتایا کہ جنگ احد کے موقع پر جب ایک عورت دوڑتی ہوئی آئی اور شہداء کی لاشوں کے قریب پہنچنے والی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : عورت کو روکو عورت کو روکو.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پہچان لیا کہ وه عورت میری ماں تهیں تو میں نے دوڑ کر انهیں لاشوں کے قریب پہچنے سے روک دیا. 
اس لئے اس قسم کی ویڈیو شیئر کرتے وقت یہ تنبیہ ضرور کر دینا چاہئے کہ اسے بچے اور عورتیں نہ دیکهیں.

5- اس طرح کی ویڈیو میں گانے باجے کی آمیزش نہ ہو گانے باجے کی حرمت کے متعلق فتوی نمبر (5000) ملاحظہ فرمائیے. 
6- دشمن کی طاقت و قوت کے اظہار میں مبالغہ آرائی سے گریز کریں تاکہ مسلمانوں کے اندر ناامیدی، دشمن کے مقابلے سے کمزوری اور عجز و درماندگی کا احساس نہ پیدا ہو.
7-  حقیقت اور سچائی پر مبنی تصاویر اور ویڈیوز کو نشر کیجئے کیونکہ بعض لوگ ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اور مظلوموں کی حمایت و نصرت کے نام پر جهوٹی اور بناوٹی چیزیں شیئر کرتے ہیں جو کہ شرعا ناجائز اور حرام ہے.

8- مساجد سے ایسی تصاویر دور رکهیں، مساجد اللہ کا گھر ہیں، ان میں ایسی تصاویر کی نمائش مناسب نہیں جیسا کہ بہت ساری مسجدیں نمائش گاہ بن چکی ہیں. ہاں، عام مقامات پر، رفاہی ادارے اور دعوتی مراکز ميں اس كى نمائش کرنے ميں کوئی حرج نہیں.
9- اگر تصویر ایسی ہو جس میں لاش کا مثلہ کیا گیا ہو تو اس کے احترام کے پیش نظر اس کے چہرے کو ظاہر نہیں کرنا چاہیے تاکہ اس کی پہچان نہ ہوسکے.

👈تیسری بات:
ایسی تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنے کے فوائد :
بلا شبہ میڈیا آج کے دور کا ایک اہم ہتهیار ہے جس سے معرکے سر کئے جاتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم جنگل راج کے دور میں جی رہے ہیں جہاں طاقتور کمزور کو کھائے جا رہاہے اور جو عاجز و کمزور ہو اس کی اس دنیا میں کوئی قیمت نہیں. چنانچہ دیکھئے مسلم ممالک پر ہر طرح کے اسلحے سے اور ہر طرف سے بم و بارود کی بارش ہو رہی ہے ایسی صورتحال میں اگر یہ تصاویر اور ویڈیوز نہ ہوں تو ان ممالک ميں کیا ہو رہا ہے، اور مسلمان کس صورتحال سے دوچار ہیں اس کا پتہ لگانا بہت مشکل امر ہے.
اور جب مسلمان وہاں کی صورتحال سے ناواقف ہوں گے تو وه اپنے بهائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

درج ذيل سطور میں تصویر کے چند فوائد کا ذکر کیا جارہا ہے:
1- مظلوم مسلمانوں کی حمایت و نصرت کے لئے رائے عامہ کو ہموار کرنا اور جنگ بندی یا ظلم و تشدد کو روکنے کے لئے دباؤ ڈالنا، اور اس كا ایک طریقہ یہی ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی تصویریں بڑے پیمانے پر پھیلائی جائیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ ان مقبوضہ ممالک اور وہاں کے باشندگان کے ساتھ کیسے کیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور ان ظالموں اور قاتلوں کو قتل و خونریزی مچانے سے روکا جاسکے.
اسی طرح مظلوموں کی تصویریں شیئر کرنے سے خود ان کے ممالک ميں رائے عامہ پر بڑا اثر پڑے گا.
اس کے جہاں دوسرے بڑے فائدے ہیں وہیں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے قتل عام پر قدغن لگائی جا سکتی ہے اور ان کے ملکوں کو تباہی و بربادی سے بچایا جاسکتا ہے. جب اس مصلحت اور فائدے کے حصول کے لئے بسا اوقات بعض حرام امور کے ارتکاب اور کچھ واجبات کے ترک کی اجازت دی گئی ہے تو اس مقصد کے لئے تصویریں نشر کرنا بدرجہ اولی جائز ہے کیونکہ تصویر کا مسئلہ خود مختلف فیہ ہے.

2- تصوير مجرم کے جرم کو ثابت کرنے کا ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے سامنے جرم کی سچی تصویر پیش کی جا سکتی ہے.
آج کا عالمی مغربی میڈیا خبیث یہودیوں کے ساتھ ہے، اگر مجاہدین یہودیوں پر ایک راکٹ مار دیں تو اس کے نتیجے میں ہونے والے بعض نقصانات کو مغربی میڈیا لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اسے ایسے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ دنیا کو لگے کہ یہود ایک مظلوم و بے بس قوم ہے.
اس دوہرے معیار کا مقابلہ کرنے کے لئے میڈیا سے بہتر کوئی ہتهیار نہیں جس کی بدولت حقیقت کو دنیا کے سامنے بلا کم و کاست پیش کیا جا سکتا ہے اور مجرمین کو عدالت میں لے جا کر انهیں ان کے انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے جیسا کہ بالفعل صربیا کے ظالموں کے ساتھ ہوا ، ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لئے تصویروں کا بڑا اہم رول رہا جو بعد میں آنے والے ہر ظالم و جابر کے لئے نشان عبرت ہے.

ہمارے جلیل القدر علمائے کرام نے چوری اور ظلم و زیادتی کے معاملات میں ملزموں کی تصاویر نشر کرنے کو جائز قرار دیا ہے اور یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ہزاروں لاکھوں مسلمان کے قاتلوں کا معاملہ ہے.

3- تصوير دشمن کے دجالی میڈیا کے جهوٹ کو بے نقاب کرنے کا وسیلہ ہے جو دجالی میڈیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو چھپاتا اور اپنی جهوٹی آزادی رائے اور انسانیت سے ہمدردی کا دعوی کرتا ہے.
اسی طرح یہ تصاویر بہت سارے واقعات و حالات میں ان باطل ادیان و مذاہب کے ارباب اختیار کو بے نقاب کرتی ہیں جن کے افکار و نظریات ظلم و تشدد پر ابھارتے ہیں.
اس کے اور دیگر فائدے بھی ہیں جیسے جیلوں کی نگرانی، قیدیوں پر تشدد کرنے والے افسران و ملازمین کی برخاستگی، قیدیوں کے لئے بہتر انتظامات کی ضمانت وغيرہ.  ان مقاصد و فوائد سے آگاہی رکھنے والے کو بخوبی معلوم ہوگا کہ شریعت اسلامی ان مقاصد کی خواہاں ہے اور انهیں  حاصل کرنے کی طرف دعوت دیتی ہے اگرچہ اس کے لئے بعض نقصانات برداشت کرنا پڑے، بالخصوص جب ایسے مسئلے کے متعلق ہو جو فی نفسہ مختلف فیہ ہے.

4- صدقات و عطیات جمع کرنا، یتیموں کی کفالت اور بیواؤں کی نگہداشت کرنا.
مظلوم مسلمانوں کی امداد پر لوگوں کو ابھارنے کے لئے تصویریں کافی موثر ثابت ہوتی ہیں، چنانچہ بھوکے پیاسے بچوں کی تصاویر دیکھ کر جو صدقات و عطیات جمع ہوسکتے ہیں وہ سینکڑوں خطبات و تقاریر سے ممکن نہیں ، اسی طرح زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے اور ان کے علاج کی سہولت کے لئے بھی یہ طریقہ بہت کارآمد ہے. سچ مچ اگر ہم اس ہتهیار یعنی میڈیا کا صحیح استعمال کریں تو اس سے بہت سارے فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور جیسا کہ اوپر ہم نے بیان کیا کہ ذہن و دماغ پر تصویر دیکھنے کا اثر پڑھنے اور سننے سے زيادہ ہوتا ہے.

5- مسلمانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لئے جہاد پر ابھارنا.

تصویروں کی تاثیر دیکھنی ہو تو دیکھئے فلسطینی بچوں کی ملبے تلے دبی ہوئی تصویریں نیز فلسطینیوں پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کی تصویریں کس قدر موثر ثابت ہوئیں،  اور فلسطینی بچے محمد الدرة کی تصویر کو کون بھول سکتا ہے جب وه اپنے والد کی گود ميں تھا اور اسرائیلی فوج کی فائرنگ کی گولیاں اس بچے کے نازک جسم کو چیرتی ہوئی آرپار ہوگئیں.
ایسے دلخراش مناظر دیکھ کر مجاہدین کی رگوں ميں جہاد کا خون گردش کرنے لگتا ہے اور وہ جہاں بھی ہوں اپنے بهائیوں کی مدد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، اس بات کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج لوگوں میں اپنے بھائی کی نصرت و مدد اور جہاد کا جذبہ نہیں رہا، وه دنیا کی متاع بے لذت میں مصروف ہو کر ره گئے ہیں، آرام و آسائش پسند ہو گئے ہیں، انهیں صرف اپنی حفاظت و سلامتی کی فکر دامن گیر رہتی ہے، ایسی صورتحال میں جب یہ تصاویر اور ویڈیوز ان تک پہنچتی ہیں تو ان کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہیں اور اپنے دین کی سربلندی کے لئے اٹھ کھڑے ہونے اور کچھ کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں.

👈چوتھی بات:
تصویر کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات بھی ہیں اس لئے اسے نشر کرتے وقت عقل و حکمت کا استعمال بھی ضروری ہے انهیں نقصانات میں سے:
1- ایسی تصاویر کو بکثرت دیکھنے اور شیئر کرنے سے دل سخت ہو جاتا ہے اسی لئے آپ دیکھتے ہوں گے کہ لوگ کھا پی رہے ہیں اور ساتھ ساتھ قتل و خونریزی کے دلخراش تصاویر اور بھیانک مناظر بھی دیکھ رہے ہیں.
اس کا علاج یہ ہے کہ تعداد اور کیفیت کے اعتدال کے ساتھ یہ چیزیں شیئر کی جائیں نیز وقت کا خیال کیا جائے اور مناسب مقدار میں نشر کی جائیں.
2- لوگ تصویر کے عادی ہوجاتے ہیں پھر بغیر تصویر کے کوئی چیز ان کے دلوں پر اثر نہیں کرتی.
کچھ لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب تک وه تصویر نہ دیکھ لیں الفاظ کا اثر ان پر نہیں ہوتا.

اس کا علاج یہ ہے ان واقعات کو بیان کرنے والا اس انداز میں بیان کرے کہ سننے والے کو ایسا محسوس ہو کہ گویا وه ان مناظر کو اپنی آنکهوں سے دیکھ رہا ہو.
شریعت میں اس کی دلیل موجود ہے:
عن ابنِ عُمَرَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ ، فَلْيَقْرَأْ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت کے دن کو جو شخص اپنی آنکهوں سے دیکھنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت»،‏‏‏‏ «وإذا السماء انشقت» کو پڑھے.
( رواه الترمذي ( 3333 ) وصححه الألباني في "صحيح الترمذي")

3- بسا اوقات یہ تصاویر مسلمانوں کے لئے بہت بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہیں،  مثال کے طور پر عراقی شہر فلوجہ میں جب چار امریکیوں کی لاشوں کا مثلہ کر کے ان کی تصاویر نشر کی گئی تو اس کے نتیجے میں وہاں کے مسلمانوں کو ظالمانہ ناکہ بندی اور سخت مظالم کا شکار ہونا پڑا. اس لئے عقل و حکمت کا تقاضا ہے ایسی تصاویر شیئر کرتے وقت یہ دیکھا جائے کہ اس سے مسلمانوں کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوگا ، اس کے لئے عقل و بصیرت کی ضرورت ہے کیونکہ اہل بصیرت ہی اس کا اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں.
اس کے علاوہ اور بھی نقصانات ہوسکتے ہیں مگر فائدے زیادہ اور نقصان بہت کم ہے جیسا کہ سطور بالا میں اس کا بیان گزرچکا ہے.

ہم جنسی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل


ہم جنسی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی فعل

افسوس کہ آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ سپریم کورٹ نے ایک سو اٹھاون سالہ قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کو ایک آدھ جز کے علاوہ منسوخ کردیا ، یہ دفعہ اس طرح ہے :
جو کوئی کسی آدمی، عورت یا جانور کے ساتھ بالارادہ مباشرت خلاف وضع فطری کرے، اسے سزائے عمر قید، یا دونوں میں سے کسی بھی قسم کی دس سال تک کی سزائے قید دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
یہ وہ قانون ہے جسے1861ء میں لارڈ میکالے نے ڈرافٹ کروایا تھا اور یہ نافذ العمل ہوا تھا، 2001 میں ناز فاؤنڈیشن نے ہائی کورٹ میں اپنی عرضی داخل کی اور اسے آئین کے خلاف قرار دیا؛ کیوں کہ یہ دو بالغ اشخاص کی باہمی رضامندی سے ہونے والا عمل ہے؛ لہٰذا اس پر پابندی لگانا شخصی آزادی کے خلاف ہے ، ناز فاؤنڈیشن کی یہ عرضی 2004 میں مسترد کردی گئی، پھر مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے جولائی 2009 میں دہلی ہائی کورٹ نے عرضی گذار کی حمایت میں فیصلہ دیا اور کہا کہ یہ مساوات کے اُصول کے خلاف ہے، پھر معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا، سپریم کورٹ میں جن تنظیموں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا، اس میں مسلم پرسنل لا بورڈ بھی شامل تھا ، بہر حال 11 ستمبر 2013ء کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا، جس میں ہم جنسی کو غیر قانونی قرار دیا گیا، پھر دوبارہ ایک دوسرے درخواست گذار کے ذریعہ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا؛ یہاں تک کہ اسی ماہ ستمبر 2018ء میں سپریم کورٹ کا وہ افسوس ناک فیصلہ آیا جس میں اس دفعہ کو خلاف آئین قرار دے دیا گیا، اب صرف نابالغ بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنسی تعلق کو جرم سمجھا جائے گا اور بالغ مردوں کے درمیان، عورتوں کے درمیان اور مرد و عورت کے درمیان غیر فطری تعلق جرم شمار نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک عرصہ سے مغربی ملکوں کی طرف سے اس غیر فطری عمل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جارہی تھی ؛اس لئے ہندوستان میں نام نہاد شخصی آزادی کے پرستاروں کا عرصہ سے مطالبہ تھا کہ اس عمل کو جرم کی فہرست سے نکال دیا جائے؛ چنانچہ کئی سال پہلے لا کمیشن اس دفعہ کو حذف کرنے کی سفارش کرچکا ہے، 2011 میں اقوام متحدہ نے ہم جنسی کے جواز پر تجویز پاس کی، اس اجلاس میں 43 ممالک نے شرکت کی، 23 ووٹ اس کے حق میں پڑے اور 19 ممالک نے اس کی مخالفت کی، اس کی موافقت میں سرفہرست امریکہ اور یوروپی یونین تھا اور مخالفت میں روس اور مسلم ممالک تھے، چین نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا، اس وقت اقوام متحدہ میں شامل ممالک کی تعداد 200 کے قریب ہوچکی ہے ، اتنے اہم مسئلہ میں صرف 23 ووٹ پر اس غیر فطری عمل کو جائز قرار دینا کیا جمہوری تقاضوں کے مطابق ہے؟ یہ بات قابل غور ہے ، بہر حال سپریم کورٹ ہمارے لئے قابل احترام ہے ؛ لیکن مقام فکر ہے کہ کیا اخلاقی اقدار کو قانون سے بالکل نکال باہر کرنا اور آزادی کے نام پر ایسی چیزوں کو درست قرار دینا جو انسان کے لئے تباہ کن اور ہلاکت کا دروازہ ہے، کیا عدالت کو زیبا ہے؟
خدا نے انسان کی صنفی ضرورت کو پورا کرنے ہی کے لئے مردوں اور عورتوں کو پیدا فرمایا ہے اور یہ نظام ابتداء انسانیت سے ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور بہشت کو ان کا مسکن بنایا، جہاں راحت و سکون کے تمام اسباب موجود تھے لیکن پھر بھی اسے کافی نہیں سمجھا گیا اورحضرت حواء علیہا السلام کی شکل میں ایک عورت کو حضرت آدم علیہ السلام کا جوڑا بنایا گیا:
{وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا} (النساء : 1)
کیوں کہ زندگی گزارنے کے لئے مرد اور عورت کی رفاقت سے صرف انسان کی صنفی خواہشات ہی پوری نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس سے نسل انسانی کی افزائش بھی ہوتی ہے، خاندان وجود میں آتے ہیں اور انسان کے اندر صنف مخالف کی طرف رغبت کی جو فطری کیفیت رکھی گئی ہے، اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے لئے سکون کا ذریعہ بنتے ہیں، نیز انسان کو خوشگوار زندگی گزارنے کے لئے تقسیم کار کی ضرورت ہوتی ہے کہ ایک فریق گھر کے باہر کے کام کرے اورایک فریق گھر کے اندر کی دنیا کو دیکھے ، ایک فریق سے بچوں میں کسی قدر خوف ہو اور دوسرا فریق اس کے لئے پیار و محبت کا پیکر ہو ، مردوں اور عورتوں کی چوں کہ صلاحیتیں الگ الگ ہیں؛ اس لئے ان دونوں کا اشتراک اس تقسیم کار میں معاون ہوتا ہے، اگر دونوں فریق ایک ہی طرح کی صلاحیتوں کے حامل ہوںتو معاشرتی زندگی کے امور کی ان کے درمیان مناسب طور پر تقسیم نہیں ہوپائے گی۔
غرض کہ ازدواجی زندگی کا مرد اور عورت کے ذریعہ وجود میں آنا خدا کی بنائی ہوئی فطرت ہے، اس کی خلاف ورزی در حقیقت قانون فطرت سے بغاوت ہے اور خدا کی بنائی ہوئی فطرت سے بغاوت ایسا جرم ہے کہ آخرت سے پہلے دنیا ہی میں انسان کو اس کی سزادی جاتی ہے ، خواہ افراد کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے انفرادی طور پر دی جائے یا پوری قوم یا اس کا غالب حصہ اجتماعی حیثیت میں بد اعمالی کا مرتکب ہو اور اس پر اللہ تعالی کا عذاب آئے ، چنانچہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ سب سے پہلے اس برائی میں جو قوم مبتلا ہوئی ، وہ حضرت لوط ں کی قوم تھی ، جو اردن میں بحر مردار کے جنوب میں واقع سدوم نامی شہر میں قیام پذیر تھی ؛ چنانچہ اسی لئے اس برائی کا نام عربی زبان میں لواطت اور لا طینی زبان میں سدومی (sodomy) پڑگیا، قرآن مجید میں اس قوم کی بد خصلتی، حضرت لوط علیہ السلام کی طرف سے اصلاح کی کوشش اور پھر اس قوم پر اللہ کے غیر معمولی عذاب کا تفصیل سے نقشہ کھینچا گیا ہے:
’’اور اسی طرح ہم نے لوط کو پیغمبر بناکر بھیجا ، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم لوگ ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے ساری دنیا جہاں میں کسی نے ایسا نہیں کیا ؟ (وہ یہ کہ )تم عورتوں کو چھوڑ کر خواہش نفسانی پوری کرنے کے لئے مردوں پر مائل ہوتے ہو ، حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے گذر جانے والے ہو اور لوط کی قوم سے اس کے سوا کچھ جواب نہ بن پڑا کہ وہ (آپس میں) کہنے لگے: ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو ؛ کہ یہ بڑے پاک بنتے ہیں ، تو ہم نے لوط کو اور ان کے گھر والوں کو تو بچالیا ، مگر اس کی بیوی (نہ بچی) کہ وہ انہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا تو دیکھو ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ (الأعراف: 84-80)
قرآن مجید کا یہ بیان اور اس فعل کی وجہ سے عذاب الٰہی کا نزول ہی اس برائی کی شناعت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے ؛ لیکن اس کے علاوہ حدیثوں میں بھی کثرت سے اس کی مذمت کا ذکر آیا ہے ، حضرت عبد اللہ بن عباس ص سے مروی ہے کہ تم جس قوم کو لوط کا عمل کرتے ہوئے دیکھو تو اس فعل کا ارتکاب کرنے والے کو بھی قتل کردو اور اس شخص کو بھی جس کے ساتھ یہ فعل کیا جارہا ہو، (ترمذی، حدیث نمبر : 6541، ابو داؤد ، حدیث نمبر: 4462) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ قوم لوط کا عمل کرنے والوں پر لعنت ہے، (دیکھئے: جمع الفوائد، حدیث نمبر :2595) ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مرد کے ساتھ برائی کرے یا کسی عورت کے ساتھ غیر فطری راستہ میں برائی کرے ، اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہیں اُٹھائیں گے:
’’لا ینظر اللّٰہ إلی رجل أتی رجلا أو امرأۃ فی الدبر‘‘ ۔ (ترمذی ، حدیث نمبر : 1166)
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ ا نے مرد کے مرد کے ساتھ اور عورت کے عورت کے ساتھ جنسی تعلق کو قرب قیامت کی علامتوں میں سے قرار دیا ہے:
’’إن من أعلام الساعۃ وأشراطہا أن یکتفی الرجال بالرجال والنساء بالنساء‘‘ (طبرانی کبیر، عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ، حدیث نمبر:10556)
آج امریکہ اور مختلف ملکوں میں ہم جنسی کے نکاح کی یا تو قانونی طور پر اجازت دے دی گئی ہے یا وہ اس کی اجازت دینے کے قریب ہیں، یہ یقینا اسی حدیث کا مصداق ہے ،جس کے ممنوع ہونے پر دنیا کے تمام مذاہب متفق ہیں ، افسوس کہ یہودو نصاری نے خود اپنے دین اور اپنی مذہبی کتابوں کو اس طرح پس پشت ڈال دیا ہے کہ گویا وہ کوڑا کرکٹ ہیں ، بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں حضرت سارہ علیہا السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے ہونے کا، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیوی کا، حضرت نوح، حضرت لوط، حضرت موسی، حضرت زکریا اور مختلف پیغمبروں علیہم الصلوۃ والسلام کی ازواج مطہرات کا ذکر موجود ہے، ہندو مذہب میں شری رام جی کی بیوی کی حیثیت سے سیتاجی کا نام مشہور ہے، رام جی کے والد اور والدہ کا ذکر بھی ملتا ہے، رادھا نامی خاتون کرشن جی کی طرف منسوب ہیں، غرض کہ تمام مذہبی کتابوں میں مرد و عورت کے جوڑے کا تصور موجود ہے اور کہیں بھی مرد کی مرد اور عورت کی عورت کے ساتھ ازدواجی زندگی کا تصور نہیں ملتا ہے، جو لوگ خدا اور مذہب کے منکر ہیں ، وہ اس غیر فطری ازدواج کے قائل ہوتے تو شاید کم حیرت ہوتی؛ لیکن افسوس کہ جو لوگ اپنے آپ کو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آسمانی کتابوں کے حامل ہونے کے مدعی ہیں، وہی اس وقت فطرت کے خلاف بغاوت میں پیش پیش ہیں۔ مذہب اور اخلاق کی ترازو میں تو یہ ہے ہی جرم عظیم ؛ لیکن عقل اور طبی تجربات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ انتہائی نا روا فعل ہے، قوم لوط کے بعد یہ برائی جن قوموں میں اجتماعی طور پر پھیلی، ان میں قدیم یونان بھی ہے، حد یہ ہوگئی کہ یونانیوں نے اس بے ہودہ فعل کو (Greek love) کا نام دے دیا، یہاں تک کہ یہ اخلاقی انار کی اس ترقی یافتہ قوم کی مکمل تباہی کا باعث بن گئی، اسی طرح کی صورت حال قدیم ایرانی تہذیب میں بھی پیش آئی، افسوس کہ اس دور میں یہ اخلاقی بیماری نہ صرف واپس آرہی ہے؛ بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہاء ہے کہ اسے قانونی جواز بھی دیا جارہا ہے لیکن خدا کی نافرمانی اور فطرت سے بغاوت ایسی چیز ہے کہ وہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی، چنانچہ ایڈز کی بیماری کے جو ابتدائی واقعات امریکہ کی ریاست سانفرانسکو میں سامنے آئے، وہ ایسے ہی نوجوان لڑکوں میں، جو ہم جنسوں سے تعلقات رکھتے تھے، پھر بد کردار خواتین تک بھی یہ بیماری پہنچی اور ان کے واسطہ سے پیٹ میں پرورش پانے والے معصوم بچے بھی اس کا شکار ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو اس بیماری نے اپنا لقمۂ تر بنالیا۔
یہ بات میڈیکل دنیا میں پوری طرح تسلیم شدہ ہے کہ ایڈز کی بیماری کا بنیادی سبب ہم جنسی، جنسی انحراف کے دوسرے طریقے اور پاکیزہ زندگی سے محروم ہونا ہے، اور اس سے بڑی آفت یہ ہے کہ جب ایک شخص اپنی بد کاری کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر اس کے ذریعہ بہت سے بے قصور اور معصوم لوگ اس کا شکار بنتے چلے جاتے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک طرح کا عذاب ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ السلام نے فرمایا:
’’جب بھی کسی قوم میں بدکاری کی کثرت ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ کھلے عام اس کا ارتکاب کرنے لگیں گے تو ان میں پلیگ اور ایسی تکلیف دہ بیماریوں کا ظہور ہوگا، جو ان کے گذشتہ لوگوں میں کبھی پیدا نہ ہوئی ہوگی’۔۔۔ "لم تظہر الفاحشۃ فی قوم قط، حتی یعلنوا بہا إلا فشا فیہم الطاعون، والأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافہم الذین مضوا" (سنن ابن ماجۃ، عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ، حدیث نمبر :4019)
ہندوستان ہمیشہ سے ایک مذہبی ملک رہا ہے، یہ مختلف مذاہب کا گہوارہ ہے، یہاں بڑے بڑے اخلاقی رہنما اور صوفیاء گزرے ہیں، شرم وحیاء اور عزت و پاکدامنی کو ہمیشہ یہاں ایک جوہر گراں مایہ سمجھا گیا ہے، اس ملک میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینا نہایت افسوس ناک اور اس سے بڑھ کر شرم ناک ہے، یہ فطرت سے بغاوت اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے؛ اس لئے ہندوؤں ، مسلمانوں اور تمام مذہبی فرقوں کا فریضہ ہے کہ وہ باہمی اشتراک و اتحاد کے ساتھ اس غیر شریفانہ اور بیہودہ تحریک کو ناکام و نامراد بنادیں، عوامی شعور بیدار کریں، نوجوانوں کو اس کی مضرتوں سے آگاہ کریں، حکومت کو ایسی ناشائستہ باتوں کو قبول کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کریں، اس کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کریں اور مغرب سے تہذیب کے نام پر بد تہذیبی، عقل کے نام پر بے عقلی اورآزادی کے نام پر نفس اور شیطان کی غلامی کا جو سیلاب آرہا ہے، سب مل کر اس پر بند باندھنے کی مولاناکوشش کریں!
فقیہ العصر خالد سیف الله رحمانی