Saturday, October 6, 2018

اللہ تبارک وتعالٰی برائی کو برائی سے نہیں دھوتا

اللہ
تبارک وتعالٰی برائی
کو برائی سے نہیں دھوتا

قادسیہ
کی لڑائی میں حضرت سعد رضی
اللہ تعالٰی عنہ کا خط

عراق کی لڑائی کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارادہ خود لڑائی میں شرکت فرمانے کا تھا، عوام اور خواص دونوں قسم کے مجمعوں سے کئی روز تک اس میں مشورہ ہوتا رہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا خود شریک ہونا زیادہ مناسب ہے یا مدینہ رہ کر لشکروں کو روانہ کرتے رہنے کا انتظام زیادہ مناسب ہے۔ عوام کی رائے تھی کہ خود شرکت مناسب ہے اور خواص کی رائے تھی کہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے۔ مشوروں کی گفتگو میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی کا بھی تذکرہ آگیا۔ ان کو سب نے پسند کرلیا کہ ان کو بھیجا جاوے تو بہت مناسب ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جانے کی ضرورت نہیں۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے بہادر اور عرب کے شیروں میں شمار ہوتے تھے۔ غرض یہ تجویز ہوگئی اور ان کو بھیج دیا گیا۔ جب قادسیہ پر حملہ کیلئے پہنچے، تو شاہِ کسریٰ نے ان کے مقابلہ کیلئے رستم کو جو مشہور پہلوان تھا تجویز کیا۔ رستم نے ہر چند کوشش کی اور بادشاہ سے بار بار اس کی درخواست کی کہ مجھے اپنے پاس رہنے دیں۔ خوف کا غلبہ تھا مگر اظہار اس کا کرتا تھا کہ میں یہاں سے لشکروں کے بھیجنے میں اور صلاح مشورہ میں مدد دوں گا۔ مگر بادشاہ نے جس کا نام یَزدِجَرد تھا، قبول نہ کیا اور اس کو مجبوراً جنگ میں شریک ہونا پڑا۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ جب روانہ ہونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کو وصیت فرمائی جس کے الفاظ کا مختصر ترجمہ یہ ہے۔ ’’سعد! تمہیں یہ بات دھوکہ میں نہ ڈالے کہ تم حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ماموں کہلاتے ہو اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابی ہو۔ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں دھوتے، بلکہ برائی کو بھلائی سے دھوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اور بندوں کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے، اس کے یہاں صرف اس کی بندگی مقبول ہے۔ اللہ کے یہاں شریف رذیل سب برابر ہیں سب ہی اس کے بندے ہیں، اور وہ سب کا رب ہے۔ اس کے انعامات بندگی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر اَمر میں اس چیز کو دیکھنا جو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا طریقہ تھا وہی عمل کی چیز ہے۔ میری اس نصیحت کو یاد رکھنا۔ تم ایک بہت بڑے کام کیلئے بھیجے جا رہے ہو۔ اس سے چھٹکارا صرف حق کے اتباع سے ہوسکتا ہے، اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو خوبی کا عادی بنانا۔ اللہ کے خوف کو اختیار کرنا اور اللہ کا خوف دو باتوں میں جمع ہوتا ہے اس کی اطاعت میں اور گناہ سے پرہیز کرنے میں اور اللہ کی اطاعت جس کو بھی نصیب ہوئی، دنیا سے بغض اور آخرت کی محبت سے نصیب ہوئی۔
اس کے بعد حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نہایت بشاشت سے لشکر لے کر روانہ ہوئے، جس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے رستم کو لکھا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں:
فَاِنَّ مَعِیَ قَوْماً یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّوْنَ الْاَعَاجِمَ الْخَمْرَ
(بیشک میرے ساتھ ایسی جماعت ہے جو موت کو ایسا ہی محبوب رکھتی ہے جیسا کہ تم لوگ شراب پینے کو محبوب رکھتے ہو۔)
فضائلِ اعمال، ص ۱۲۰ بحوالہ مشاہیر الاسلا م، سعد بن ابی وقاص، حروبہ، (۵۱۲)۔ الکامل في التاریخ، سنۃ أربع عشرۃ، ذکر ابتداء أمر القادسیۃ، (۱/۴۰۸)۔

Monday, September 24, 2018

صلاة التوبہ؛ فضائل اور طريقہ

سوال # 10346
صلاة التوبہ کی نماز کا طریقہ کیا ہے؟ اور اس میں کون سے سورتیں پڑھنا بہتر ہے اور توبہ کا طریقہ کیا ہے؟ صلاة الحاجة کی نماز میں کن سورتوں کی تلاوت کرنی بہتر ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟ محرم میں کون سا ذکر کرنا افضل ہے؟
جواب # 10346
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 90=90/ د
تازہ وضو کرکے دو رکعت نماز توبہ کی نیت باندھے، پہلی رکعت میں بعد سورہٴ فاتحہ کے بہتر ہے کہ قل یا ایہا الکافرون اوردوسری رکعت میں بعد سورہٴ فاتحہ کے سورہٴ اخلاص پڑھے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد اللہ سے رو کر گڑگڑاکر خوب معافی مانگے۔ گناہ کو یاد کرکے شرم و ندامت محسوس کرے۔ نفس کو ملامت کرے، پختہ عزم کرے کہ اب آئندہ گناہ نہ کرے گا۔ کسی کا حق واجب ہو تو اسے ادا کرے۔ کسی کی غیبت و بے آبروئی کی ہو تو اس سے سب کہا سنا معاف کرالے۔
(۲) صلات الحاجت میں کوئی سورت متعین نہیں ہے، پہلی رکعت میں دو رکعت نماز پڑھ کر بعد سلام پھیرنے کے درود شریف پڑھ کر اللہ کی حمد و ثنا کرے مثلاً سبحان اللہ والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات و ضروریات کے لیے دعا کرے۔
(۳) کوئی مخصوص ذکر منقول نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Dua-Supplications/10346
........
سوال # 1305
درج ذیل نمازیں سنت ہیں یا نفل اور کیا قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ؟درج ذیل نمازوں کی تعداد رکعات کتنی ہے؟
(۱) صلاة التہجد
(۲) صلاة الاشراق
(۳) صلاة الضحی
(۴) صلاة الاوابین
(۵) صلاة الحاجة
(۶) صلاة تحیة المسجد
(۷) صلاة الوضوء
(۸) صلاة التوبہ
(۹) صلاة الجمعہ
(۱۰) صلاة العیدین
(۱۱) صلاة الجنازہ۔
جواب # 1305
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 387/د = 379/د)
(۱) تہجد کی نماز ابتداء فرض تھی جب کہ پنجوقتہ نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں مگر بعد میں اس کی فرضیت منسوخ کردی گئی، البتہ اس کا استحباب باقی ہے، یعنی یہ نماز مستحب ہے جس کی تعداد کم سے کم دو رکعت زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہے، اس کا ثواب اور فضیلت بہت زیادہ ہے۔ (تہجد کی اولاً فرضیت اور بعد میں اس کا منسوخ ہونا دونوں سورہٴ مزمل میں مذکور ہیں)
(۲) صلاة الاشراق یعنی سورج کے نکلنے اور اونچا ہوجانے کے بعد دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھنا یہ بھی نفل ہے مگر اس کا ثواب بہت زیادہ ہے، حدیث میں ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کر اسی مصلے پر بیٹھا رہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور اونچا ہوجائے تو جو شخص دو رکعت یا چار رکعت پڑھے گا اسے ایک حج اور ایک عمرہ کا ثواب ملے گا۔
(۳) جب سورج خوب زیادہ اونچا ہوجائے اوردھوپ تیز ہوجائے تو اس وقت دو رکعت یا چار رکعت پڑھنا صلوة الضحی ہے جس کی فضیلت بھی حدیث سے ثابت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضحی کے وقت چار رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(۴) مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھنا اوابین ہے یہ بھی نفل ہے اس کا بھی بہت اجر و ثواب حدیث میں آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھی وہ اوابین میں سے لکھ دیا جائے گا۔
(۵) صلاة الحاجة یہ نماز بھی نفل ہے جب انسان کو کوئی ضرورت پیش آئے تو عشاء کے بعد تازہ وضو کرکے دو یا چار رکعت نماز پڑھ کر اپنی ضرورت کی دعا کرے، حدیث میں اس کی تعلیم دی گئی ہے۔
(۶) جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز تحیة المسجد کی نیت سے پڑھنا ثواب کا باعث ہے، حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو اورجماعت کھڑی نہ ہو۔
(۷) وضو کرنے کے بعد بہتر ہے کہ پانی خشک ہونے سے پہلے دو رکعت نماز نفل کی نیت سے پڑھنا تحیة الوضو کہلاتا ہے، اس کا بھی ثواب حدیث میں وارد ہوا ہے۔
نوٹ: وضو کرنے کے بعد یا مسجد میں داخل ہونے کے بعد خاص تحیة الوضو یا تحیة المسجد کی نیت سے نماز نہیں پڑھا تو بھی جو نماز پڑھے گا وہ تحیة الوضو اور تحیة المسجد کے قائم مقام ہوجائے گی۔
(۸) گناہوں سے توبہ کرنے کے لیے تازہ وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے اور خوب رو رو کر گڑگڑا کے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے یہ نماز بھی حدیث سے ثابت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق - رضی اللہ عنہ- کو سکھلائی، انھوں نے حضرت علی -رضی اللہ عنہ- کو۔
(۹) جمعہ کی نماز جہاں اس کے شرائط پائے جاتے ہوں فرض ہے اس کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے۔
(۱۰) عیدین کی نماز جہاں اس کے شرائط پائے جاتے ہوں واجب ہے۔
(۱۱) جنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے یعنی کچھ لوگ ادا کرلیں گے تو سب سے فرضیت ساقط ہوجائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Salah-Prayer/1305
........
توبہ پر مزید تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
http://deeneefiza.blogspot.com/2016/06/blog-post_24.html?m=1

Sunday, September 23, 2018

عصر حاضر کے فیشنی برقعے

عصر حاضر کے فیشنی برقعے
از منگنی شادی کے متعلق پیش آنے مسائل کا حل

سوال: آج کل جو خواتین پردہ نشین ہوتی ہیں ان میں ایک فیشن چلی ہے پردی پہنتی ہیں، جس میں ناک، آنکھ، آدھا چہرہ کھلا رہتا ہے، اور برقعہ پر انواع و اقسام کے پھول ڈیزائن، دل والے نقش وغیرہ ہوتے ہیں۔ غرضیکہ جاذب نظر کپڑے اور ڈیزائن والے برقعے پہنتی ہیں ، بعض خواتین فیشن والی ڈبل پردی رکھتی ہیں، جب باہر نکلتی ہیں تب ناک، آنکھ نظر آئے ایسی پردی (نوز پیس)ٰ پہن لیتی ہیں ۔ غرضیکہ آج کل فیشن بہت ہی بڑھ گئی ہے، ہم نے سنا ہے کہ شرعا یہ برقعے صحیح نہیں ہیں، تو پردہ کیسا ہونا چاہئے؟ اور اسلام میں پردے کی کیا حیثیت ہے؟ آپ شرعی انداز میں مفصل و مدلل باحوالہ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
الجواب: عورت عربی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں چھپانے کی چیز۔ قدرت نے اس کی تخلیق ہی اس انداز سے کی ہے کہ اسے مکمل چھپانے کی چیز کہنا چاہیے؛ اسی لیے خالق کائنات نے سخت ضرورت کے بغیر اس کا گھر سے باہر نکلنا مناسب نہیں سمجھا؛ تاکہ یہ گوہر آبدار ناپاک نظروں کی ہوس سے گندا نہ ہو جائے ۔ الله تعالی کا حکم ہے:
{وقرن في بيوتكن} (الاحزاب، آیت ۳۲)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں جم کر رہو، اور جاہلیت اولی کی طرح زیب وزینت کرکے نہ نکلو "جاہلبیت أولی" سے مراد اسلام سے پہلے کا دور ہے جب عورتیں بازاروں میں کھلے عام اپنی نسوانیت کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ جاہلیت اولی کا لفظ استعمال کر کے پیشین گوئی کی گئی کہ انسانیت پر جاہلیت کا ایک اور دور آنے والا ہے جب خواتین اپنی فطری خصوصیات و امتیازات کے تقاضوں کو ماڈرن جاہلیت پر بھینٹ چڑھائیں گی۔
قرآن ہی کی طرح نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بھی صنف نسواں کو مکمل چھپانے کی چیز بتائی ہے، بغیر ضرورت کے اس کا باہر نکلنا ناجائز قرار دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:کہ عورت مکمل چھپانے کی چیز ہے؛ اس لیے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں رہتا ہے۔ (مشکوۃ ص:۲۶۹)
اور اگر بوجہ ضرورت اسے باہر نکلنا ہی پڑے ، تو اسے حکم دیا گیا کہ ایسی بڑی چادر اوڑھ کر نکلے جس کے ذریعے اس کا پورا جسم سر سے لے کر پاؤں تک ڈھک جائے۔ سوره احزاب میں ہے:
{ياأيها النبي قل لأزواجك }الخ
ترجمہ: اے نبی! آپ اپنی بیویوں بیٹیوں اور مؤمنین کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ: وہ جب باہرنکلیں تب اپنے اوپر بڑی چادریں  ڈال لیں۔ (آیت ۶۹)
مطلب یہ ہے کہ انھیں بڑی چادر لپیٹ کر باہر نکلنا چاہئے، اور چہرے پر چادر کا گھونگھٹ ڈالا ہوا ہو۔ بہر حال! حكم شرعی یہ ہے کہ حتی الامکان عورت گھر سے باہر نہ نکلے، اور اگر مجبوراً نکلنا ہی پڑے تو بڑی چادر میں اس طرح لپٹ کر نکلے کہ پہچانی نہ جاسکے، اور اس کے لباس کی زیب وزینت پر اجنبیوں کی نظر نہ پڑے۔
بڑی چادر اوڑھ کر نکلنے کی صورت میں اس چادر کو بار بار سنبھالنا مشکل تھا، ان کی تکمیل کے لئے شریف خاندانوں میں چادر کی جگہ برقعہ آیا۔ یہ مقصد ڈھیلے اور سادے برقعے کے ذریعے حاصل ہوتا تھا لیکن شیطان نے اس برقع کو فیشن اور شہوت کی بھٹی میں رنگ کر زینت ونمائش کا ذریعہ بنادیا۔ برقعہ کی ایجاد نسوانی زیبائش چھپانے کے لئے ہوئی تھی، اس میں ایسی ایسی تراش خراش، اور پرکشش ڈیزائین اور فیشن سمو دی گئیں کہ برقعہ خود زینت کا ایک جزو اور ذریعہ بن گیا۔
اب بہت سی خواتین برقعہ خود کو چھپانے کے لئے نہیں؛ بلکہ مزید خوبصورت اور جاذب لگنے کے لیے پہننے لگی ہیں، اس سے زیادہ برقعہ کا غلط استعال اور ناقدری کیا ہوگی ؟ فطرت کا مسخ ہونا یعنی انسانیت کا پلٹ کر اسفل سافلین میں پہنچ جانا اسی کا نام ہے۔ برقعہ کے ایک تاجر کے اشتہار کے یہ الفاظ پڑھیے:
ہمارے یہاں سعودی نقاب جھلبے دار نقاب، شیروانی نقاب، عبایہ نقاب، دوپٹے دار نقاب، گول رومال نقاب، سہ گوشہ نقاب اور رومال نقاب کے علاوہ فینسی نقاب کے دوپٹے، چادریں، ڈھاٹا اور رنگین اسکارف وغیرہ رعایتی قیمت پر دستیاب ہیں۔
ابتداء میں جب سہولت کی خاطر چادر کی جگہ برقعہ ایجاد ہوا، تب انھیں خواب و خیال بھی نہ ہوگا کہ ماڈرن جاہلیت میں برقعہ کو اتنی نچلی سطح تک پہنچادیا جائے گا۔ بعض برقعے تو اتنے تنگ اور چست ہونے لگے ہیں کہ عورتوں کا پورا بدن اور اعضاء کی ہیئت تک صاف نظر آتی ہے۔
آپ نے سوال میں برقعہ کے اوپر پہنی جانے والی جس پردی کا تذکرہ کیا ہے۔ جس میں آنکھیں، ناک، آدھے رخسار کھلے رہتے ہیں، اس میں سوال یہ ہوتا ہے کہ، جالی دار برقعہ چھوڑ کر پردی والا برقعہ کیوں اپنایا گیا جب کہ جالی دار برقعہ میں پورا چہرہ اور منھ چھپنے کے ساتھ راستہ دیکھنے میں بھی کوئی دقت نہیں تھی؟ اس سوال کا جواب بھی صاف ہے کہ: جالی دار برقعہ میں وہ کشش نہیں جو پردی والے برقعہ میں ہے۔ اب تو برقعہ کی ڈیزائن اور تراش خراش میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ شریعت کیا چاہتی اور کہتی ہے؟ بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلم اور فیشن کیا سکھاتی ہے؟ لہذا جو خواتین برقعے پہن کر یہ سمجھتی ہوں کہ وہ قرآن و شریعت کے حکم پرعمل کررہی ہیں ، یہ محض نفس و شیطان کا فریب ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کفارومشرکین کے بعض وہ اعمال جو بہ ظاہر نیکی نظر آتے تھے، ان کے متعلق فرمایا ہے:
{قل هل ننبئكم بالأخسرين أعمالا}
ترجمہ : آپ (ان سے) کہیے کہ: کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارے میں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کری کروائی محنت (جو اعمال حسنہ میں کی تھی) سب گئی گزری ہوئی، اور وہ(بوجہ جہالت کے) اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں۔ (معارف القرآن ۶۴۵/۵)
حضرت مفتی شفیع صاحب اس کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
اس جگہ پہلی دو آیتیں اپنےمفہوم عام کے اعتبار سے ہر اس فرد یا جماعت کو شامل ہے جو کچھ اعمال کو نیک سمجھ کر اس میں جدوجہد اور محنت کرتے ہیں؛ مگر اللہ کے نزدیک ان کی محنت برباد اور عمل ضائع ہے۔ (۶۴۶/۵)
اور اب تو کئی دنوں سے آپ کی مذکورہ در سوال پردی میں ایک ترقی یہ ہوئی ہے کہ، پورا برقعہ کالے رنگ کا ہوتا ہے اور پردی سفید رنگ کی ہوتی ہے؛تاکہ کسی کی توجہ نہ جاتی ہو تب بھی یہ منظر دیکھنے کے لیے وہ کھنچے۔ الله تعالی ہماری مسلمان بہن بیٹیوں کو عقل سلیم دے کہ، وہ ہوس خوروں کی ان مکاریوں اور حیلوں کو پہچان کر اپنی عصمت و عزت اور شرم و حیاء  بچالیں ۔ آمین ۔ دشمنانِ اسلام ایک طویل عرصے تک حجاب، پردہ اور برقعہ کے خلاف تحریک چلاتے رہے، اس کے باوجود جو مسلمان خواتین اس سے متاثر نہ ہوئیں اور خود کو بے حجاب نہ کیا، ایسی خواتین کے لئے اب ان دشمنوں نے یہ نیا حیلہ تیار کیا، جس میں برقعہ اتار پھینکے بغیر ہی ان کا مقصد حاصل ہو جائے، اور حکمِ الہی پرظاہری عمل کے ساتھ اس کا خون ہوتا رہے۔ اس موقع پر فراستِ ایمانی، غیرت وحمیت سے کام لے کر ان مکاریوں پر سے پردہ ہٹانے کی ضرورت ہے۔ فقط واللہ تعالی اعلم.
الجواب :صحیح عباس داود بسم اللہ
نائب مفتی جامعہ ڈابھیل
کتبہ: العبد احمد عفی عنہ خانپوری
صدر مفتی جامعہ ڈابھیل

Friday, September 21, 2018

لڑکیوں کا شلوار کو ٹخنے سے اوپر پہننا یا کھلے پائنچوں والا پاجامہ پہننا

لڑکیوں کا شلوار کو ٹخنے سے اوپر پہننا یا کھلے پائنچوں والا پاجامہ پہننا
آج کل ایک نیا فیشن چل پڑا ہے اسکول اور کالج جانے والی لڑکیوں میں اکثر دیکھا جارہا ہے وہ ہے شلوار کو ٹخنے سے اوپر پہننا!
والدین اس کی طرف ذرا سنجیدگی سے متوجہ ہوں ایک تو یہ خلاف سُنّت ہے جس کا عذاب بڑا ہی ہولناک ہے دوسرے سائنسی تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ عورتوں کے لئے کتنے خطرے کی بات ہے
عورتیں اگر کھلے پائنچوں والی شلوار یا ٹخنوں کے اوپر شلوار لٹکائيں گی تو ان کے اندر نسوانی ہرمونز کی کمی یا زیادتی ہوجائے گی- اس کی وجہ سے وہ اندرونی ورم (Viginal Inflammation)، کمر کا درد (backache)، اعصابی کمزوری اور کھچاؤ کا مستقل شکار رہیں گی-
طاہر صاحب فرمانے لگے، جب میں نے یہ کیفیت خانہ دار عورتوں میں دیکھی تو واقعی جنہوں نے سنت سے اعراض کیا ہوا تھا، ان کی حالت بالکل ویسی ہی تھی-"

اذان یا اقامت کے وقت (مرحبا بالقائلین عدلا) کہنا

اذان یا اقامت کے وقت (مرحبا بالقائلین عدلا) کہنا

اس سلسلہ میں روایات دو طرح کی ہیں:
ایک مرفوع روایت ہے ، جس میں ان الفاظ کے پڑھنے کا ثواب بھی مذکور ہے۔
دوسری روایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرموقوف، جو ان کےاپنے  عمل وکلمات ہونے پر دال ہے۔
اولا: مرفوع روایت:
مرفوع روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے، جو آل بیت کی سند سے بواسطہ حضرت جعفر صادق مروی ہے، اور وہ روایت کرتے ہیں  ان کے والدسے ، وہ ان کے دادا سے، کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
(من سمع المنادي بالصلاة فقال: مرحبًا بالقائلين عدلًا ، مرحبًا بالصلاة وأهلًا؛ كتب اللهُ له ألفي ألف حسنة ، ومحا عنه ألفي ألف سيئة ، ورفع له ألفي ألف درجة).
ترجمہ: جس نے مؤذن کی ندا کے وقت یہ الفاظ کہے: خوش آمدید انصاف کا بول بولنے والوں کے لئے ، خوش آمدید نماز کی آمد پر، اس کے لئے اللہ تعالی بیس لاکھ نیکیاں لکھتے ہیں، اور اس سے بیس لاکھ گناہ مٹاتے ہیں، اور اس کے لئے بیس لاکھ مرتبے بلند فرماتے ہیں۔
تخریجہا: الزيادات على الموضوعات (1/ 402) ، تاريخ بغداد (13/ 39)۔
مرفوع روایت کا حال:  روایت موضوع اور بے اصل ہے، اس کی دو اسانید ہیں، اور دونوں غیر معتبر ہیں، ایک میں ہمام بن مسلم ہے، جس پر متون گھڑنے کا اور ترکیبِ اسانید کا الزام لگایا گیا ہے، اور دوسری سند میں موسی بن ابراہیم مروزی ہے جو متروک اور متہم بالکذب ہے ۔
حافظ ابن حجر [لسان الميزان 8/344] میں لکھتے ہیں: مُحمد والد جعفر لم يدرك عَلِيًّا، والمتن باطل، وإنما يُروى ذلك عن عثمان من فعله، وليس فيه ذكرُ الثواب المذكور۔ یعنی سند میں انقطاع ہے، اور متن حدیث من گھڑت ہے، ہاں یہ الفاظ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے عمل کے طور پر منقول ہیں ، مگر ان میں یہ ثواب مذکور نہیں ہے ۔
اسی لئے اس مرفوع روایت کو سیوطی [الزيادات على الموضوعات 1/ 402] ملا علی قاری [الأسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ ص: 346] محمد بن طاہر پٹنی [ تذکرۃ الموضوعات ص ۳۵] شوکانی [الفوائد المجموعہ ص: 20] وغیرہ نے موضوع اور بے اصل قرار دیا ہے ۔
ثانیا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت:
مُتـــونهــــــا:
كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا۔ [ابن عکیم/حنيف المؤذن]
وفي رواية عنه : أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا ۔[ابن عکیم]
وفي رواية عنه: كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا ، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا، ثُمَّ يَنْهَضُ إِلَى الصَّلَاةِ۔[قتادة]
وفي رواية عنه : كَانَ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا»۔[قتادة/مروان بن الحكم]

أسانيدها :
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل  بتانے والی روایت ، ان سے چار واسطوں سے منقول ہے :
۱۔ عبد اللہ بن عکیم کی روایت :
تخریجہا : الدعاء للطبرانی (ص: 159) ، مسند احمد بن منیع ( المطالب العاليہ بزوائد المسانيد الثمانيہ 3/ 102) ۔
حال الروایہ :ضعیفہ
اس کی سند میں تین علتیں ہیں : (۱) نضر بن اسماعیل اور (۲) عبد الرحمن بن اسحاق واسطی دونوں ضعیف ہیں ، (۳) واسطی کا شیخ عبد اللہ قرشی مجہول ہے ۔ [ انظر المطالب العاليہ محققا (3/ 102) ] ۔
۲۔ قتادہ بن دعامہ کی روایت  :
تخریجہا : مصنف ابن أبی شيبہ (1/ 206) باب : ما یقول الرجل اذا سمع المؤذن ، مصنف ابن أبی شيبہ (6/ 97)باب : ما یدعو  بہ الرجل اذا قامت الصلاۃ ، المعجم الكبير للطبراني (1/ 87) ، الدعاء للطبراني (ص: 159)۔
حال الروایہ : ضعیفہ للانقطاع
قتادہ کی سند ٹھیک ہے خصوصا ابن ابی شیبہ والی ، لیکن قتادہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ، اس لئے سند میں انقطاع ہے ۔
۳۔ حنیف المؤذن کی روایت :
تخریجہا : الدعاء للطبراني (ص: 159)
حال الروایہ : ضعیفہ للجہالہ
سند میں حنیف بن رستم مؤذن کا حال معلوم نہیں ، ابن معین نے ہلکی جرح کی ہے ، اور ذہبی اور ابن حجر نے مجہول قرار دیا ہے ۔[ الجرح والتعدیل (3/ 318) ؛ الميزان (1/ 621) ؛ تقريب التہذیب ]
۴۔ مروان بن الحکم کی روایت  :
تخریجہا :  تاريخ المدينة لابن شبة (3/ 961)
حال الروایہ : سند واقدی کے واسطے سے ہے ، اور واقدی مجروح ہے ۔

الخلاصہ :حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کی اسانید ضعف وانقطاع سے خالی نہیں ہیں ، لیکن مجموع الطرق سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک طرح کا ثبوت ضرور ملتاہے۔اور دعا کے الفاظ تو تقریبا تمام روایتوں میں یکساں ہیں (مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا)البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ کلمات کونسے موقع پر ارشاد فرماتے تھے، اس میں نقل کرنے والےمضطرب ہیں، اوپر روایتوں میں چار مواقع مذکور ہیں  :
۱۔ اذان کی آواز سنتے وقت۔
۲۔ مؤذن کے (حی علی الصلوہ) کہتے وقت۔
۳۔ اقامت میں (قد قامت الصلوہ) کے وقت۔
۴۔نماز کے لئے بلانے والے کے آنے کے وقت۔
ممکن ہے کہ متعدد مواقع پر کہتے ہوں ، واللہ اعلم،ابن ابی شیبہ نے (مصنف)میں یہ اثر اذان اور اقامت دونوں کے ابواب میں ذکر کیا ہے۔اور امام طبرانی نے (الدعاء) میں باب الاذان کے تحت ذکر کیا ہے۔

میرا گمان یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ کلمات دعا کے طور پر نہیں ، بلکہ نماز کے ساتھ اپنے غیر معمولی تعلق شوق ولگاؤ، اور اطاعت میں بے پناہ رغبت ،اورنماز کی آمد پر اپنی خوشی کو ظاہر کرنے کے لئے ارشاد فرماتے تھے ، گویا یہ از قبیل ارشاد نبوی (ارحنا بہا یا بلال)کے ہے ۔نیز اس طرح کے کلمات جو اطاعت وفرمانبرداری، رضا وتسلیم  کے اظہار کے لئے ہوں ، ان کے کہنے کا جواز بعض دیگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
1- عن أبي أمامة الباهلي، أو عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أنَّ بلالاً أخذ في الإقامة، فلما قال: قد قامت الصلاة، قال النبيّ صلى الله عليه وسلم: " أقامَها اللَّهُ وأدَامَها " رواه أبو داود رقم (528) وإسناده ضعيف.
2- عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ : ( أَشْهَدُ بِهَا مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ وَأَتَحَمَّلُهَا عَنْ كُلِّ جَاحِدٍ ). المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية (3/ 105)وإسناده ضعيف.
3- ونحوه عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ قَالَ : ( وَأَنَا أَشْهَدُ بِهَا مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ وَأَتَحَمَّلُهَا عَنْ كُلِّ جَاحِدٍ ). الدعاء للطبراني (ص: 160)ضعيف الإسناد.
4- وعَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: «الْمُسْتَعَانُ بِاللَّهِ»، فَإِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» . ابن ابي شيبة (29774)
یہ شواہد سندا اگرچہ ضعیف ہیں ، لیکن مدعیٰ کے ثبوت کے لئے شواہد بن سکتے ہیں ، کیونکہ ان سے کوئی خاص دعائیہ کلمات ثابت کرنا مقصود نہیں ہے ، بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ اذان واقامت کے وقت اس طرح کے کلمات کہنے کی گنجائش ہے ،ہاں  اس میں غلو کرنا اور ان کو مسنون دعاء سمجھ کر پڑھنااور دوسروں کو سکھانا، یہ درست نہیں ہے،بلکہ نہ پڑھنا زیادہ اولی ہے سدا للباب،ہذا ما اراہ ۔واللہ اعلم

جمعہ وحررہ العبد المقصرالمذنب
محمد طلحہ بلال احمد منیار
http://hadithqa.blogspot.com/2018/03/blog-post_19.html?m=0