Saturday, November 3, 2018

چراغِ خانہ کا انتخاب

چراغِ خانہ کا انتخاب

انسان بذاتِ خود کچھ نہیں زیادہ توانا نہیں ہے، وہ اس قدر کمزور اور بے ہمت ہے کہ قدم قدم پر اسے بیساکھیوں اور سہاروں کی ضرورت ہے، زندگی کا شاید کوئی پل سہاروں سے خالی ہو، انسان اپنے وجود اور پیدائش سے لیکر قبرستان کی کھائی میں اترنے تک دنیاوی سہاروں سے دست بردار نہیں ہوسکتا ہے۔

اس جیتی جاگتی دنیا میں اس کے قلب و نظر کا سکون اسی انسانی بستی میں بسنے والی قوم "حیوان ناطق" سے وابستہ ہے، وہ اگر قریب رہنا چاہتا ہے تو اسی انسانی مخلوق سے، انسانوں کی بستی سے کٹ کر جینا زہر ہلاہل نوش کرنے سے کم نہیں، ماں باپ سے لیکر دوست احباب، استاد و شاگرد اور ہم پیشہ افراد سے تعلقات ہی اس دنیا میں اس کی دل لگی کے سامان ہیں، لیکن اس ہری بھری کائنات میں اگر انسان کو سب سے زیادہ جس سے سکون اور لگاؤ ہوتا ہے تو وہ اس کی شریکِ حیات ہوتی ہے، قرآن مجید میں میاں بیوی کی اسی انسیت اور گہرے تعلقات کو
"هن لباس لكم و أنتم لباس لهن" (سوره بقره ١٨٧)
کی جامع ترین اور بامعنی تعبیر میں بیان کیا گیا ہے، جس طرح لباس انسان کے وجود کو ڈھانپتا اور اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے زن و شو کی زندگی کی بھی آپس میں ایک دوسرے کے برتاؤ میں اسی کا شاندار آئینہ دار ہوتی ہے۔

میاں بیوی کے اسے تعلق و لگاؤ کو قرآن مجید میں ایک جگہ "مودة ورحمة" (سورہ روم: ٢١) سے تعبیر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان اپنے ایام شباب میں جس چیز کا سب سے زیادہ بھوکا ہوتا ہے وہ محبت ہے اور پیرانہ سالی میں جس کا سب سے زیادہ خواستگار ہوتا ہے وہ کسی کا سہارہ رحمت ہوتا ہے، خدا نے بیوی کی شکل میں یہ دونوں نعمتیں عطا فرما دی ہیں۔

عورت بذاتِ خود صرف عورت نہیں ہے بلکہ وہ چراغ خانہ ہے، جس کی لو سے سیکڑوں چراغ روشن ہوتے ہیں، سیکڑوں شمعیں روشن اور نا جانے کتنی قندیلیں شعلہ بار ہوتی ہیں۔ اس چراغ خانہ کی روشنی جس قدر تابناک اور روشن ہوگی اس کی پرتو سے جلنے والی شمعیں اسی قدر روشن اور تابناک ہونگی، اور جس قدر اس کی ضو پھیکی یا مدھم ہوگی اس سے فیض یاب قندیلیں اسی قدر سست اور بے جان ہونگیں اور عین ممکن ہے کہ وہ شمعیں طوفانوں سے آنکھیں نہ ملا سکیں بلکہ طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے بیک جھونکا وہ قندیلیں بجھ کر زمیں بوسو ہوجائیں؛ اس لیے چراغ خانہ کا انتخاب کسی بھی انسان کی زندگی میں نہایت اہم اور سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

انسانی سماج میں انسان جن چیزوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر جن کو اپنی ترجیحات میں شمار کرتا ہے وہ چار چیزیں ہیں: آدمی عموماً مال و دولت سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اسی کو اہمیت دیتا، پھر زیادہ تر حسن و جمال انسان کی پسند اور وجہ ترجیح ہوتی ہے اور کبھی خاندانی شرافت و وجاہت آدمی کے دل کو متاثر کرتی ہے اور اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دینداری اور علم و تقوی کا خوگر ہو اور اسے ترجیح دے۔

انسان اپنی زندگی پر غور کرے تو معلوم ہوگا کہ حسن و جمال اور مال و منال فانی چیزیں ہیں، ان کے آنے اور جانے کا قطعاً اعتبار نہیں، کب کونسی بیماری یا حادثہ پیش آ جائے اور یہ نعمتیں اس کی نذر ہوجائیں، خاندانی وجاہت کا سکہ بھی بہت دور تک نہیں چلتا؛ لیکن علم و تقوی اور دینداری وہ سکہ رائج الوقت ہے جسے زوال نہیں، یہ سکہ ہر وقت اور ہرجگہ چلتا ہے اس لئے شریعت نے اسی کو معیار قرار دے کر کامیابی کی بات کہی ہے:
"فاظفر بذات الدین"۔ (سنن الترمذی حدیث نمبر ١٠٨٦)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں جس معاشرے کی تشکیل دی تھی اور اس کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین رحمہم اللہ کے ادوار میں جو معاشرہ قائم رہا اس میں اصل چیز تقوی و طہارت اور علم و عمل تھی، اس سلسلے میں متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی شادی اس سلسلے میں مشہور واقعہ ہے، ہوا یہ کہ ایک نہایت حسین سیرت اور وجیہ صورت صحابیہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال سے اگر کسی شخص کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی تو وہ یہی جناب والا ابو طلحہ رضی اللہ عنہا تھے؛ کیونکہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حسن سیرت اور وجیہ صورت سے وہ بے حد متاثر تھے اور خود بھی باثروت اور مدینہ کے چیدہ چنیدہ لوگوں میں سے تھے، اس لئے انہیں امید قوی تھی کہ اگر وہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے پیغام نکاح دیتے ہیں تو وہ ضرور قبول فرمائیں گی، اسی امید پر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر جاپہنچے اور خود انہیں سے پیام نکاح کی بات کہہ ڈالی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بغور ان کی بات سنی اور بیک لفظ کہا:
"ان مثلك يا ابا طلحة لا يرد، و لكني لن اتزوج فأنت رجل كافر"
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ اس قابل ہیں کہ آپ کا پیغام قبول کیا جائے؛ لیکن مجھے رشتہ منظور نہیں؛ کیونکہ آپ ابھی حالت کفر میں ہیں، بالآخر ابو طلحہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاتھ پر کلمہ پڑھا اور ان کے ایمان کو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے لئے مہر قرار دے کر شادی کرلی، ان کی یہ دینداری اس قدر لوگوں کو پسند آئی کہ مدینے کے لوگ کہا کرتے تھے: ہمیں نہیں معلوم کہ ام سلیم سے بہتر کسی کا مہر ہوسکتا ہے۔ یہ تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دینی ترجیح جو ان کے رشتے کے انتخاب کی بنیاد تھی۔ (صور من حیاۃ الصحابہ ص ٣٣٢)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ وہ حالات سے واقفیت کے لئے گلیوں میں شب کو چکر لگایا کرتے تھے، ایک رات انہوں نے عجیب بات سنی کہ ماں بیٹی سے دودھ میں پانی ملانے کی بات کر رہی تھی اور بیٹی یہ کہہ کر منع کررہی تھی کہ اللہ ان کی اس خیانت کو دیکھ رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بچی کی دینداری اس قدر پسند آئی کہ امیر المومنین نے اپنے بیٹے عاصم کی شادی اسی نیک خاتون سے کردی اور سلسلے میں ان کی شکل و صورت اور فقر و مسکنت کی قطعاً پروا نہ کی، اور پھر یہ شجر اس قدر ثمر آور ہوا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جیسے منصف باشاہ اسی کی یادگار بن کر دنیا کو عمر ثانی بن کر دکھا گئے۔ (سیرت عمر بن عبدالعزیز ص ١٨)

سعید بن مسیب رحمہ اللہ نہایت مشہور محدث و فقیہ اور جلیل القدر تابعی ہیں، ان کی دختر نیک اختر حسن صورت اور علم و تقوی کے نہایت اعلیٰ مقام پر فائز تھیں؛ اسی لئے شاہزادوں کے رشتے ان کے لئے متعدد بار آچکے تھے؛ مگر سعید بن مسیب رحمہ اللہ دو ٹوک انکار کردیتے، ایک دن ان کے ایک شاگرد جو نہایت مفلوک الحال اور بے سرو سامان تھے کئی روز بعد شریکِ درس ہوئے، حال دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان کی زوجہ محترمہ کا انتقال چند دنوں قبل ہوگیا ہے، اسی لئے درس میں حضوری کی سعادت سے محروم رہنا پڑا ہے، حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا: دوسری شادی کا ارادہ ہے؟ انہوں نے اپنی بے سروسامانی اور فقر و مسکینی کے حوالے سے کہا کہ مجھ سے کون شادی کرے گا؟ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر تم تیار ہو تو میں کروادوں، بالآخر اسی مجلس میں اس دختر نیک اختر جس کے لئے شہزادوں کے رشتے ٹھکرادیئے گئے تھے اس مفلوک الحال مگر دولت دین و ایمان سے مالا مال شخص سے شادی کروادی، جب شام کا وقت ہوا تو حضرت نے خود اپنی صاحبزادی کا ہاتھ تھاما اور شاگرد کے گھر جاپہنچے، دروازے پر دستک دی، اندر سے آواز آئی کون؟ جواب ملا سعید بن مسیب، شاگرد بیچارے پریشان، اللہ کیا خطا ہوئی کہ استاد دروازے تک آگئے؟ دروازہ کھلا، تو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سوچا کہ جب تمھارا میری اس لڑکی سے نکاح ہوگیا ہے تو تم تنہا کیوں رات گزارو، اسی لئے تمہاری بیوی کو ساتھ لایا ہوں اور پھر واپس چلے گئے، یہ تھا دین و اخلاق کی بنیاد پر داماد اور چراغ خانہ کا انتخاب۔ (شمع فروزاں ٢٠٦/١)

علامہ علاء الدین سمرقندی ایک مشہور فقیہ گزرے ہیں، فقہ حنفی میں ان کی کتاب "تحفة الفقهاء" ایک شاندار یادگار ہے، ان کی ایک بیٹی تھیں؛ جو علم و فضل میں بے نظیر تھیں، شادی کی عمر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ: جو شخص ایسی کتاب لکھ دے جسے میں پسند کرلوں تو وہی میرا مہر ہے اور اسی سے میں شادی کروں گی، چنانچہ علامہ علاء الدین سمرقندی رحمہ اللہ کے مایہ ناز و قابل فخر شاگرد علامہ علاء الدین کاسانی رحمہ اللہ نے یہ خدمت انجام دی اور اپنے استاد کی کتاب کی شرح بنام "بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" اتنی عمدہ طریقے سے تیار کی کہ کوئی فقیہ اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا، اسی لیے مؤرخین نے اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے:
"شرح كتابه و مهر زوجته"
یعنی کتاب اس کے متن کی شرح ہے ان کی بیوی کا مہر بھی ہے۔ (مقدمہ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ١/٤)

یہ تھے وہ نمونے جو دینداری اور علم و تقوی کے بنیاد پر انجام پائے اور دنیا نے ان کے بہترین سے بہترین نتائج دیکھے۔

اس سلسلے میں عموما ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ دینداری کا جامہ نہایت تنگ کردیا گیا ہے، اور نماز روزہ تلاوت تک ہی اسے مسدود کردیا گیا ہے، یقیناً اس میں شک نہیں کہ یہ دینداری کی بنیاد ہیں؛ مگر دینداری اسی: میں محبوس نہیں ہے، بلکہ دینداری کا تعلق اخلاق و کردار، محبت و ملنسار ی، صبر و تحمل اور نرم مزاجی و خوش خوئی، ایثار و بے غرضی، فرض شناسی وفاداری، معقول رویہ اور جاں نوازی و جاں نثاری وغیرہ اوصاف وہ دولت گراں مایہ ہیں جو دینداری کی اصلی روح اور ایک مثالی چراغ خانہ کے اوصاف حمیدہ کا جزوِ لاینفک ہیں، رشتے کے انتخاب میں ان اوصاف پر نظر رہنا ضروری ہے تاکہ اس چراغ خانہ سے فیضیاب ہونے والی نسلیں ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے میں مددگار ہوں، یہ بات ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہئے کہ شریک حیات محض گزراوقات یا دل بہلانے کے سامان کے طور پر منتخب نہ کی جائے بلکہ ہمیشہ یاد رہے کہ اسے ایک مثالی ماں بننا ہے؛ جسے اپنے بچوں کی صحیح اور صحت بخش تربیت کرنا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ صورت کو چنداں اہمیت نہیں دیتے، اور ممکن ہے کسی قدر یہ سوچ ٹھیک بھی ہو لیکن حسن و جمال سے لگاؤ اور اس کی جانب میلان انسان کی فطرت میں داخل ہے، ممکن نہیں کہ ایک باذوق انسان گلاب کی خوشبو دار پنکھڑیوں کو دیکھے اور مشام جاں کو معطر کرنا نہ چاہے، وہ لہلہاتے باغ اور سرسبز و شاداب کھیتوں سے گزرے اور اس کی طبیعت پر کوئی اثر نہ ہو، اس لئے جائز حد میں رہتے ہوئے اپنی مناسبت کے لحاظ سے حسن و جمال کا بھی خیال کرنا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہی چیز کدورت کا سبب ہوجائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سلسلے میں ترغیب دی ہے کہ جس خاتون سے نکاح کا ارادہ ہو اسے دیکھ لیا جائے اور ظاہری شکل و شباہت پر غور کر لیا جائے اور پسند آنے پر اس کی جانب پیش قدمی کی جایے (سنن الترمذی حدیث نمبر ١٠٨٧)

اور ظاہر ہے کہ یہ بندھن پوری زندگی کے لئے باندھا جاتا ہے؛ اس لئے اپنے ذوق و مزاج، فکر و نظر، دینی و علمی ہم آہنگی اور سیرت وکردار کے اعتبار سے مناسب چراغ خانہ کا انتخاب کیا جائے تو خیر متاع الدنيا المرأة الصالحة کے ہاتھ آجانے کے بعد دنیا ہی جنت بن جائے گی اور ایک شاندار مومنانہ زندگی گزارنے کا لطف حاصل ہوگا اور نئی نسل بھی ہر اعتبار سے عمدہ سے عمدہ تر ہوگی۔
واللہ علی کل شئ قدير.

از قلم: محمد زبیر ندوی
مرکز البحث والافتاء ممبئی
رابطہ: 9029189288

اسراف اور فضول خرچی کی مختلف شکلیں

اسراف اور فضول خرچی کی مختلف شکلیں

جاننا چاہئے کہ دین اسلام ایک کامل مکمل بلکہ اکمل ضابطہٴ حیات ہے۔ اس میں انسانوں کی تمام مشکلات اور مسائل کا حل موجود ہے۔ اسلام نہایت اعتدال کے ساتھ ہرانسان کو زندگی گذارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ انسان کی نجی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، خوشی کا ماحول ہو یا غمی کی فضا، تجارت کا میدان ہو یا عبادات کی چار دیواری، ملکی مسائل ہوں یا خانہ داری امور ، داخلی سیاست ہویا خارجی سیاست ، ماکولات ومشروبات کے مسائل ہوں یا ملبوسات ومفروشات کے قواعد، تعمیرات وعمرانیات کے اصول ہوں یا دیگر ضروریات اور معاملات، اسلام نہایت انصاف کے ساتھ ان تمام امور کا تعین اور تحدید وتفصیل پیش کرتااور انسان کو افراط وتفریط سے بچاتا ہے۔اسلام انسان کو زندگی گذارنے کا نہایت آسان راستہ سکھاتا ہے، اسلام انسان کو خود دار اور کفایت شعار بناتا ہے، غفلت اور آوارہ گردی سے اس کی حفاظت کرتا ہے، بخل وبزدلی سے اس کو دور رکھتا ہے اور اسراف وتبذیر سے اس کو منع کرتا ہے۔
آج کل پوری دنیا میں مہنگائی کارونا رویا جارہا ہے، قلتِ اشیاء کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے اور بھوک وافلاس کے خاتمے کا نعرہ لگایاجارہا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے؟ اسلام نے ہمیں اسراف سے روکا ہے اور ہمیں قناعت اور کفایت شعاری کا درس دیا ہے، کفایت شعاری اور قناعت صبر کے زمرہ میں آتی ہے اور”صبر“ ایک ایسا قلعہ ہے جس کی چہار دیواری میں بیٹھ کر انسان سینکڑوں آفات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
آج کل معاشرہ میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں ، بس شکایت اور فریاد کا بازار گرم ہے، فقر وفاقہ کی فریاد تو کی جارہی ہے، لیکن صبح کا ناشتہ اور پراٹھا دستور کے مطابق موجود رہنا چاہئے۔ صبر کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا ،بلکہ میں صرف ”اسراف“ کے حوالہ سے کچھ حقائق مسلمانوں کے سامنے رکھنا چاہتاہوں، کیونکہ اسراف کا تصور مسلمانوں کے عوام تو کجا، ان کے خواص بلکہ بڑے بڑے علماء کے دلوں سے بھی مٹ چکا ہے۔
میں ان باتوں کے لکھتے وقت شرم محسوس کرتا ہوں کہ اسراف کے شعبہ میں مجھ میں کتنی کمزوریاں ہیں اور مجھے اس پر کتنا استغفار کرنا چاہئے۔ نہ معلوم دوسرے لوگوں میں کتنی کمزوریاں ہوں گی؟ سب سے پہلے میں اسراف سے متعلق قرآن کریم کی دو آیتوں کو ترجمہ وتفسیر کے ساتھ نقل کرتا ہوں اور پھر اسراف کی تفصیلات ایک جامع کتاب ”الطریقة المحمدیة“ سے پیش کرنا چاہوں گا، چنانچہ سورة الاعراف میں ہے:

”یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ“۔ (اعراف:۳۱)
ترجمہ:…”اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت وآرائش لے لو، اور کھاؤ اور پیو، مگر اسراف نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے“۔
علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ ”تفسیر عثمانی“ میں اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: ”یہ آیات ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئیں جو کعبہ کا طواف برہنہ ہوکر کرتے تھے اور اسے بڑی قربت اور پرہیزگاری سمجھتے تھے اور بعض اہل جاہلیت ایام حج میں سدّ رمق سے زائد کھانا اور گھی یا چکنائی وغیرہ کا استعمال چھوڑ دیتے تھے، بعضوں نے بکری کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کر رکھا تھا، ان سب کو بتلادیا کہ یہ کوئی نیکی اور تقویٰ کی باتیں نہیں، خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا تستَر اور آرائش ہے، اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے، تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو، خدانے جو کچھ پہننے اور کھانے پینے کو دیا ہے، اس سے تمتع کرو، بس شرط یہ ہے کہ اسراف نہ ہونے پائے۔ ”اسراف“ کے معنی ہیں ”حد سے تجاوز کرنا“ جس کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً: حلال کو حرام کرلے یا حلال سے گذر کر حرام سے بھی متمتع ہونے لگے یا اناپ شناپ بے تمیزی اور حرص سے کھانے پرگر پڑے یا بدون اشتہأ کے کھانے لگے یا بے وقت کھائے یا اس قدر کم کھائے جو صحت جسمانی اور قوت عمل کے باقی رکھنے کے لئے کافی نہ ہو یا مضر صحت چیزیں استعمال کرے، وغیرہ ذلک۔ لفظ ”اسراف“ ان سب امور کو شامل ہے، بے جا خرچ کرنا بھی اس کا ایک فرد ہے، اسی تعمیم کے لحاظ سے بعض سلف نے فرمایا:
”جمع اللّٰہ الطب کلہ فی آیة“ خدانے ساری طب آدھی آیت میں اکھٹی کردی“۔ (تفسیر عثمانی ص:۲۰۵)
یاد رہے کہ” اسراف“ اور” تبذیر“ دو الگ الگ الفاظ ہیں، لیکن دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے، یعنی بے جا اور فضول خرچ کرنا۔ چنانچہ سورہٴ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے مبذرین کو شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ ارشاد عالی ہے:

”وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً،إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُواْ إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْن،ِ وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِرَبِّہ کَفُورًا۔“ (بنی اسرائیل:۲۶،۲۷)
ترجمہ:۔ ”اور قرابت والے کو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دیدو اور مال کو فضول مت اڑاؤ، بے شک مال کو فضول اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے“۔
مفسر قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی قرابت والو ں کے مالی واخلاقی ہرقسم کے حقوق ادا کرو، محتاج ومسافر کی خبر گیری رکھو اور خدا کا دیا ہوا مال فضول بے موقع مت اڑاؤ، فضول خرچی یہ ہے کہ (مال) معاصی اور لغویات میں خرچ کیا جائے یا مباحات میں بے سوچے سمجھے اتنا خرچ کردے جو آگے چل کر تفویت حقوق اور ارتکاب حرام کا سبب بنے۔ یعنی مال خدا کی بڑی نعمت ہے جس سے عبادت میں دلجمعی ہو، بہت سی اسلامی خدمات اور نیکیاں کمانے کا موقع ملے ،اس کو بے جا اڑانا ناشکری ہے، جو شیطان کی تحریک واغواء سے وقوع میں آتی ہے اور آدمی ناشکری کرکے شیطان کے مشابہ ہوجا تا ہے، جس طرح شیطان نے خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو عصیان اور اضلال میں خرچ کیا اس (شخص) نے بھی حق تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو نافرمانی میں اڑادیا۔ (تفسیر عثمانی صفحہ :۳۷۷ ،۳۷۸)
بہرحال ”طریقہٴ محمدیہ“ کے مصنف نے اپنی کتاب کے دوسرے حصہ میں ص:۳۷ پر ”اسراف“ کے بارے میں اس طرح عنوان باندھا ہے:
”المبحث الثالث فی اصناف الاسراف“
یعنی تیسری بحث ”اسراف“ کی اقسام سے متعلق ہے۔

اسراف کی تعریف:
”ہو اہلاک المال واضاعتہ وانفاقہ من غیر فائدة معتدبہا دینیة او دنیویة“۔
یعنی کسی دینی اور دنیوی قابل ذکر فائدہ کے بغیر مال کو تباہ وبرباد کرنا اور بے جا خرچ کرنا ”اسراف“ کہلاتا ہے۔

اسراف کی اقسام:
۱…اسراف کی پہلی قسم یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے مال کو دانستہ طور پر سمندر میں یا کسی کنویں میں یا آگ میں ڈال کر تباہ کردیتا ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں رہتا ہے یا اپنے مال کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے یا توڑ کر رکھ دیتا ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں رہتا ہے یا اپنے باغ کا پھل پکنے کے بعد درختوں سے نہیں اتارتا یا کھیتی کی تیار فصل نہیں سنبھالتا، یہاں تک کہ پھل سڑ کر خراب ہوجاتا ہے اور فصل تباہ ہوجاتی ہے یا اگر اس کا مال جانوروں اور غلاموں کی صورت میں ہے تو اس کو گھر میں نہیں رکھتا ہے، جانوروں کو چارہ نہیں کھلاتا ہے اور سخت سردی میں غلاموں کو کپڑے نہیں پہناتا ہے، یہاں تک کہ جانور بھوک سے اور غلام سردی سے مر جاتے ہیں، یہ سب اسراف کے ضمن میں آتا ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ جو لوگ نوٹوں کے ساتھ ہاتھ صاف کرتے ہیں یا اس کو پھاڑدیتے ہیں یا کسی طرح جلا ڈالتے ہیں، ان کا یہ عمل اسراف میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔
اسراف کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ: کوئی شخص مال تو جمع کرلیتا ہے، لیکن اس کی حفاظت نہیں کرتا، مثلاً: وہ مال اگر غلّہ کی شکل میں ہے توحفاظت نہ کرنے کی بنا پر اس میں تعفّن پیدا ہوجاتا ہے یا رطوبت پہنچنے کی وجہ سے غلہ خراب ہوجاتا ہے یا اس میں گھن اور کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں یا چوہے آکر اس کو خراب کرجاتے ہیں یا چیونٹیاں اس کو اڑالے جاتی ہیں یا کھانا سڑجاتا ہے۔ یہ خرابیاں غلے کے ساتھ ساتھ کھانے کی اشیاء میں بھی پیدا ہوتی ہیں، مثلاً: روٹی یا گوشت یا شوربے یا پنیر یا آٹاوغیرہ ۔اسی طرح یہ خرابیاں تر پھلوں اور سبزیوں میں پیدا ہوجاتی ہیں اور کبھی خشک میوہ جات میں بھی غفلت اور اسراف سے یہ خرابیاں آجاتی ہیں۔
کبھی کپڑوں میں اسراف ہوتا ہے کہ ایک یا دو کی بجائے کئی کئی فضول جوڑے رکھے رہتے ہیں یا دسیوں لحاف بسترے اور کمبل فضول ریاکاری کے لئے پڑے رہتے ہیں یا طرح طرح کے گھریلو برتن جمع کئے جاتے ہیں اور بڑی بڑی الماریوں میں سجائے جاتے ہیں یا نمائش کی غرض سے علماء کے ہاں ضرورت سے زیادہ کتابیں خریدی جاتی ہیں اور اس میں اسراف کی حد تک تجاوز کیا جاتا ہے۔
اسراف کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھا نا پکایاجاتا ہے اور پھر اس کو ضائع کرکے گرایاجاتا ہے یا بھوسے ٹکڑوں کی صورت میں فروخت کیا جاتا ہے یا دسترخوان پر دس دس قسم کے کھانے رکھے جاتے ہیں اور پھر برتن اور دسترخوان آلودہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور پس خوردہ کھانا کچرادان میں پھینکا جاتا ہے، یہ بدترین اسراف ہے، جس کا جواب قیامت میں دینا ہوگا۔
اسراف کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آدمی کھانا کھانے کے بعد برتن اور انگلیاں چاٹنے سے پہلے پانی سے دھولیتا ہے اور برتن اور انگلیوں سے لگاہوا کھانا ضائع ہوجاتا ہے۔ نیز دسترخوان پر روٹی کے گرے ہوئے تراشے اٹھائے بغیر پھینکنا بھی اسراف کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ سنت عمل برتن اور انگلیوں کا چاٹنا اور گراہوا تراشہ صاف کرکے کھانا ہے۔
”عن جابر  رضي الله عنه أن النبیّ ا أمر بلعق الأصابع والصحفة“۔ (مسلم، ج:۲ ص: ۱۷۵)
ترجمہ:۔ ”حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم برتن اور انگلیاں چاٹنے کا حکم فرماتے تھے“۔

”عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله ا کان إذا أکل طعاماً لعق أصابعہ الثلاث“۔
(مسلم، ج:۲، ص:۱۷۶)
ترجمہ:۔ ”حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی تین انگلیاں چاٹ لیتے تھے۔“
بہرحال انگلیاں چاٹنے اور گرے ہوئے تراشوں کے اٹھانے میں کئی فوائد ہیں:
۱:… اسراف سے بچنا۔
۲:… تکبر سے بچنا۔
۳:… ریاکاری سے حفاظت۔
۴:… حصول برکت۔
۵:… سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی اور سنت پر عمل ہے۔
اگر گرے ہوئے تراشے اٹھاکر مرغیوں اور بکریوں یا پرندوں اور بلیوں کو کھلادیئے جائیں تو یہ اسراف نہیں ہوگا۔
اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے جوتے اور پگڑی یا لباس کی حفاظت نہ کرے۔ پگڑی کا شملہ اگر کمر سے نیچے تک لمبا ہو تو یہ بھی اسراف ہے۔ قمیص کی آستین اگر انگلیوں تک پہنچ جائے تو یہ بھی اسراف ہے، نیز پاجامہ یا پتلون یا کرتہ اگر ٹخنوں سے نیچے تک جائے تو یہ اسراف بھی ہے اور حدیث کی ممانعت کی وجہ سے حرام بھی ہے۔
غسل میں صابن کواور اسی طرح چراغ کو ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا بھی اسراف ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زیب وزینت کی دیگر اشیاء میں بھی اگر حد سے تجاوز کیا تو یہ بھی اسراف ہے۔ گھروں میں یا مساجد میں ضرورت سے زائد بجلی استعمال کرنا بھی اسراف ہے اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (طریقہٴ محمدیہ) ربیع الاول میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت کی آڑ میں ملک بھر میں جو چراغاں کیا جاتا ہے، گنبد بنائے جاتے ہیں اور جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، اس سے بڑا اسراف کیا ہوسکتا ہے؟ جو دین کے نام پر کیا جاتا ہے۔
اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ایک شخص کسی مجبوری کے بغیر محض لاپروائی کی بنا پر ایک عمدہ اور اعلیٰ قیمت چیز کو بہت کم قیمت اور نقصان کے ساتھ فروخت کرتا ہے یا اعلیٰ عمدہ مکان کو بہت کم کرایہ پر چڑھاتا ہے، نہ اس میں صدقہ کی نیت ہے، نہ کسی مسلمان کی ہمدردی کی نیت ہے۔ نیز یہ بھی اسراف کی شکل ہے کہ ایک شخص لاپرواہی کے ساتھ بے کارمال کو بہت زیادہ قیمت پر خرید لیتا ہے یا بے کار مکان کو بہت زیادہ کرایہ پر لیتا ہے۔
اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ مرد ے کے کفن کا کپڑا بہت اعلیٰ استعمال کیا جائے یا کفن کو مردے کے قدسے زیادہ استعمال کیا جائے۔ اسی طرح وضو بنانے میں پانی کو زیادہ استعمال کیا جائے، یہ سب اسراف میں داخل ہے۔
مشکوٰة شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا گذر حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قریب سے ہوا، وہ وضو کررہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد! یہ کیا اسراف کرہے ہو؟حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! وضو میں بھی اسراف ہے، اگر چہ تم ایک جاری نہر سے وضو بنارہے ہو۔
(مشکوٰة، ص: ۴۷)
اسراف کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ آدمی سیر ہونے کے بعد بھی کھانا کھاتا رہے، ہاں! اگر مہمان کی غرض سے کھائے تو اسراف نہیں یا رمضان میں سحری کے وقت کھائے تو حرج نہیں۔
اسراف کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آدمی ایک دن میں بلاضرورت دو مرتبہ کھانا کھائے۔ سنن بیہقی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں نے ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تم یہ پسند نہیں کروگی کہ تجھے کھانے کے علاوہ (عبادت وغیرہ) کا کوئی شغل ہو؟ اے عائشہ! ایک دن میں دومرتبہ کھانا اسراف میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے ہیں۔ (بیہقی)
ابن ابی الدنیا اور بیہقی میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ بھی اسراف میں آتا ہے کہ تم (بلاروک ٹوک) ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں تمنا اور چاہت ہوجائے۔
تنبیہ:
صاحب کتاب نے ان دونوں حدیثوں کے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مناسب ہے کہ ان دونوں حدیثوں کا مطلب یہ لیا جائے کہ پیٹ بھر کر سیر ہونے کے بعد جو آدمی کھائے، وہ اسراف ہے یا یہ مطلب ہو کہ ان حدیثوں میں کراہت کا بیان ہے، حرمت کا بیان نہیں ہے۔ (ص:۴۲)
اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی دسترخوان پر کئی قسم کے کھانوں کو جمع کرے، ہاں اگر ایک قسم کے کھانے سے اکتا جائے یا مہمانوں کی وجہ سے مختلف قسم کے کھانے تیار کئے جائیں (بشرطیکہ کھانے کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہو) تو گنجائش ہے۔ چنانچہ بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ جو چاہو کھاؤ اورجو چاہو پیو، مگر دوچیزوں کا خیال رکھو، ایک اسراف کا، دوسرا تکبر کا۔ (خلاصة الفتاویٰ)
اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ روٹی کو درمیان سے کھایاجائے اور اس کے کناروں کو ردی ٹکڑوں میں پھینک کرضائع کیا جائے۔ (خلاصة الفتاویٰ)
اسراف میں سے یہ بھی ہے کہ دسترخوان پر ضرورت سے زیادہ کھانا رکھا جائے، تاہم اس میں بھی یہ شرط ہے کہ کھانا ضائع ہوجائے یا شہرت اور دکھاوا مقصود ہو، تو اسراف ہوگا، ورنہ اسراف نہیں ہوگا۔ (کذا فی الاختیار)
بہرحال اگر کوئی شخص نفیس کھانا کھاتا ہے یا نفیس ولطیف لباس استعمال کرتا ہے یا عمدہ مکان تعمیر کرتا ہے اور یہ چیزیں شرعی حدود کے اندر ہوں اور حلال مال سے ہوں تو یہ اسراف میں نہیں آتا ہے، البتہ کراہت سے خالی نہیں ہوگا، کیونکہ ایک مسلمان کی پوری ہمت اور نظر آخرت پر مرکوز رہنی چاہئے۔ (طریقہ محمدیہ)
اسراف میں یہ بھی آتا ہے کہ کوئی شخص اپنا مال گناہ کے کاموں میں استعمال کرے، اس میں ایک گناہ اسراف کا ملے گا اور دوسرا گناہ اس کا ملے گا کہ اس نے معصیت کا ارتکاب کیا۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص جبل ابوقبیس کے برابر سونا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں خرچ کرے تو اس میں اسراف نہیں ہے، لیکن اگر ایک درہم بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کرے تو یہ اسراف میں شمار ہوگا، چنانچہ حاتم طائی سے کسی نے کہا:
”لاخیر فی السرف فقال لاسرف فی الخیر“…
”اسراف میں کوئی خیراور بھلائی نہیں ہے، تو حاتم طائی نے جواب میں کہا کہ بھلائی میں اسراف نہیں ہے۔ بہرحال ایسے صدقہ کرنے میں بھی اسراف ہے کہ آدمی خود مفلس ہوکر دوسروں کا محتاج بن جائے یا اس کے ذمہ پر بھاری قرضہ ادا کرنا ہے اور وہ اپنا مال صدقہ کررہا ہے، بلکہ مقروض آدمی کے لئے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ روٹی کے ساتھ بطور سالن زیتون یا سرکہ استعمال کرے، اس کو چاہئے کہ پہلے قرض ادا کرے۔ (طریقہ محمدیہ ص: ۴۸ج، ۲)
میرے خیال میں اسراف کی سب سے بڑی ذمہ داری گھروں کی خواتین پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ گھریلو خرچہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اگر خواتین کفایت شعاری کی عادت ڈالیں تو مسلمانوں کے معاشرے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
اسراف کا علاج:
اسراف کا علاج تین طریقوں سے ہوسکتا ہے۔ پہلا طریقہ ”علمی“ ہے۔ وہ اس طرح کہ آدمی اسراف کے برے انجام کو سمجھنے کی کوشش کرے، یعنی وہ یہ علم حاصل کرے کہ دنیا اور آخرت میں اسراف کے عواقب کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں۔
اسراف کے علاج کا دوسرا طریقہ ”عملی“ ہے، وہ اس طرح کہ آدمی تکلف کرکے اپنے آپ کو قابو میں رکھے اور بے جا خرچ نہ کرے، بلکہ اپنے اوپر ایک نگران مقرر کرے جو اس کو اسراف کے خطرات سے ڈراتا رہے۔
اسراف کے علاج کا تیسرا طریقہ ”قلعی“ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اسراف کی جڑوں کو پہلے معلوم کرے اور پھر اپنی زندگی سے اسراف کی ان جڑوں کو کاٹ کررکھ دے، یعنی اسراف کے تمام اسباب کا ازالہ کرے۔
یہ تین علاج تو صاحب کتاب نے بتائے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اسراف کے دنیوی اور اخروی برے اثرات سے بچنے کے لئے عوام اور خواص، علماء اور صلحاء سب پر لازم ہے کہ وہ کثرت سے استغفار کیا کریں، بلکہ استغفارکو اپنے اوپر لازم کریں۔ امید ہے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا۔
بہرحال جب اسراف غیر مسلموں کے حق میں بھی تباہی ہے تو مسلمانوں کے حق میں یہ کتنی بڑی تباہی ہوگی؟! افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسراف اور عیاشی کے میدان میں مسلمان غیر مسلموں سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ ایک طرف مسلمانوں کا ایک طبقہ سوکھی روٹی کے لئے ترستا ہے، تو دوسری طرف ایک طبقہ اپنی عیاشیوں اور مستیوں میں اس طرح ڈوبا ہوا ہے کہ اسراف وتبذیر کی حدود سے بہت آگے جا چکا ہے۔ اسی طرح دنیا داروں کے شانہ بشانہ دین دار بھی چلے جارہے ہیں،چنانچہ یحی بن معاذ رازی نے عوام الناس اور دنیادار علماء کو خطاب کرکے فرمایا:
”یا اصحاب العلم قصورکم قیصریة وبیوتکم کسرویة واثوابکم طالوتیة واخفافکم جالوتیة واوانیکم فرعونیة ومراکبکم قارونیة وموائدکم جاہلیة فاین المحمدیة؟“۔
ترجمہ:۔”اے دین دار حضرات! تمہارے محلات تو شاہِ روم قیصر کی طرح ہیں اور تمہارے مکانات شاہ فارس کسریٰ کی طرح ہیں، تمہارے لباس طالوت کی طرح ہیں اور جوتے جالوت کی طرح ہیں، تمہارے برتن فرعون کی طرح اور سواریاں قارون کی طرح ہیں، تمہارے دسترخوان دور جاہلیت کی طرح ہیں، تو تم میں محمدیت کہاں سے آئے گی؟“۔