Saturday, November 10, 2018

حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ پینا کیسا ہے؟

حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ پینا کیسا ہے؟

(سوال ۲۷۰ ) مجالس الا برارکی تیسویں مجلس میں لکھا ہے کہ حقہ پینا ناجائز اور حرام ہے اور اس کے لئے عقلی ونقلی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن دور حاضر کا اہل علم طبقہ حقہ نوشی میں مبتلا ہے۔ کیا اب کوئی صورت جواز کی نکل آئی ہے؟ بالتفصیل جواب فرمایئے کہ عام بیماری ہے۔ بینوا توجروا۔

(الجواب) جس حقہ میں ناپاک یا نشہ آور چیزیں نوش کی جاتی ہیں وہ بالا تفاق حرام ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں، لیکن جس حقہ، بیڑی سگریٹ وغیرہ تمباکو نوشی کا رواج ہے اس کی حرمت متفق علیہ نہیں ہے۔ اکثر علماء فقہاء کی رائے جواز کی ہے ۔’’شامی‘‘ میں ہے ۔ فیفھم حکم التنباک وھو اباحۃ علی المختار والتوقف وفیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ وتفتیرہ واضرارہ (ج۵ ص ۴۰۷ کتاب الا شربۃ)
یعنی اصل اشیاء میں اباحت یا توقف ہے اس قانون کے مطابق تمباکو کا حکم سمجھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مختار قول کے مطابق اباحت ہے یا تو قف اور اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ نشہ آور اور فتور پیدا کر نے والا اور ضرر رساں نہیں ہے۔(شامی)
مگر تمباکو نوشی سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے لہذا صحیح ضرورت کے بغیر حقہ نوشی وغیرہ کراہیت سے خالی نہیں ۔ تمباکو بنفسہ مباح ہے ۔ اس میں کراہیت بدبو کی بنا پر عارضی ہے کراہت تحریمی ہو یا تنزیہی ۔ بہر حال قابل ترک ہے ۔ اس کی عادت نہ ہونی چاہئے ۔ اس کی کثرت اسراف اور موجب گناہ ہے۔ جو لوگ ہر وقت کے عادی ہیں ان کا منہ ہمیشہ بدبو دار رہتا ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ نفرت تھی حدیث میں ہے:۔ عن ابی سعید الخدری ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مر علی زراعۃ بصل ھو واصحابہ فنزل ناس منھم فاکلوا منہ ولم یا کل اخرون فرحنا الیہ فدعا الذین لم یاکلوا البصل واخر الا خرون حتی یذھب ریحھا ۔ یعنی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پیار کے کھیت کے قریب سے گذرے ۔ بعض صحابہ وہاں ٹھہر گئے۔ ان میں سے بعض نے اس میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا پھر سب بارگاہ نبوی میں پہنچے تو آنحضرتﷺ نے پیاز نہ کھانے والوں کو قریب بلایا اور پیاز کھانے والوں کو بد بوزائل ہونے تک پیچھے بٹھایا ۔(صحیح مسلم ج۱ ص ۲۰۹باب نہی عن اکل سوم اوبصل الخ )شریعت میں منہ کی صفائی کے متعلق نہایت تاکید اور فضیلت وارد ہے ۔ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے۔ السواک مطھرہ للفم ومرضاۃ للرب یعنی ۔ مسواک۔ منہ کی پاکی کا ذریعہ ہے اور رب ذوالجلال کی خوشنودی کا سبب۔(مشکوٰۃ شریف ص ۴۴ باب السواک)
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ جب باہر سے تشریف لاتے تو اولا مسواک کرتے تھے (مسلم شریف ج۱ ص ۱۲۸)
اکثر تمباکو نوش حضرات منہ کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے ۔ جب دیکھے منہ میں بیڑی، سگریٹ ہوتی ہے ۔ مسجد کے دروازہ تک پیتے چلے جاتے ہیں بقیہ حصہ کو پھینک کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں ، شاید کوئی مسواک کرتا ہوگا یا منجن استعمال کرتا ہوگا ۔ محض کلی پر اکتفا کر کے نماز شروع کر دیتے ہیں ۔ کہیں ایسوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی نوبت آجاتی ہے نماز پڑھنی دشوار ہوجاتی ہے آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی اس بدبودار درخت (پیاز یا اس کی آل) کو کھائے وہ (منہ صاف کئے) بغیر (توکا نبائی جائے) ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ جس چیز سے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے تکلیف ہوتی ہے (مسلم شریف ج۱ ص ۲۰۹ ایضاً)
فقہاء کرام تحریر فرماتے ہیں کہ بدبو دار چیز کھانے، پینے کے بعد منہ صاف کئے بغیر مسجدو مدرسۂ عید گاہ، نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ اور مجلس تعلیم اور وعظ و تبلیغی اجتماعات میں شریک ہونا مکروہ ہے (نووی شرح مسلم ج۱ ص ۲۰۹ ایضاً) مسلمانوں کا کون سا وقت ذکر اﷲ اور ذکر رسول اﷲﷺسے خالی رہتا ہے ۔ قدم قدم پر بسم اﷲ الخ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ درود ودعا،سبحان اﷲ ،الحمد ﷲ، اﷲ اکبر، ماشاء اﷲ، لا حول ولا قوۃ الا باﷲ ، استغفر اﷲ انا اﷲ الخ مصافحہ کے وقت یغفر اﷲ، چھینک پر الحمد ﷲ یر حمکم اﷲ یہدیکم اﷲ وغیرہ وغیرہ ورد زبان رہتا ہے ، لہذا حتی الوسع منہ کی صفائی ضروری ہے ۔ خدائے پاک کے ہزارہا احسانات اور فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے رسول اﷲﷺ کے مقدس و مبارک نام لینے کی ہمیں اجازت دی ہے ۔ ورنہ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔
ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
مولا نا روم فرماتے ہیں :۔
این قبول ذکر تو ز رحمت است
چونماز مستحاضہ رخصت است
خلاصہ یہ کہ حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ چیزیں حرام نہیں مگر بلا ضرورت وبلا مجبوری ان کی عادت ڈالنا مکروہ ہے ، ہاں ضرورۃً جائز ہے لیکن صفائی کا خیال بھی ضروری ہے بعض محققین کی فتاویٰ درج ہیں ۔
قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کا فتویٰ۔
(الجواب)حقہ کے باب میں بہت فتاویٰ اور رسائل طبع ہوئے اور بحث مباحثہ ہوا مگر بندہ کے نزدیک راجح اور حق یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے اور اس وقت میں علاج بلغم ہے اور اگر ازالہ بد بو کا ہو جائے تو مباح بلا کراہت ہے باقی تکلفات ہیں ۔(تذکرہ الرشید ج۱ ص ۱۶۸۔۱۶۹)
فتاویٰ رحیمیہ
.....
(۲) ابو الحسنات حضرت مولانا عبدالحیٔ لکھنوی رحمہ‘ اﷲ کا فتویٰ ملاحظہ کیجئے :۔
وانچہ کہ بعد تنقیح دلائل طرفین واضح شدا ین ست کہ قول حرمت لایعبأ بہ ست چہ حرمت موقوف بر دلیل قطعی تحریم ست وحاکمین بحرمت دلیلے قطعی برآں قائم نساختہ امذ بلکہ جملہ دلائل ظنیہ شاں ہم مخدوش اند چنانچہ بر مطالعۂ ترویح الجنان مخفی نخواہد ماندوقول اباحت بلا کراہت ہم خالی از خد شات نیست البتہ قول کراہت قابل اعتبار است این ہمہ گفتگو درحقہ کشی ست فاما خوردن تمباکو واستعمال آں دربینی پس دلیلے معتبرع بر کر اہتش ہم قائم نیست۔(مجموعہ فتاویٰ ج۱ ص۲۲۹ طبع قدیم)
(۳) حکیم لاا مت حضرت مولانا تھانوی کا فتویٰ:۔
بلاضرورت کراہت تو سمجھتا ہوں اور بضرورت کھانا پینا دونوں جائز اور ضرورت میں نفس عین مکروہ نہیں ۔ دوسرے عوارض خارجیہ سے گو کراہت ہوجائے اور عوارض کی خفت وشدت سے کراہت کی خفت وشدت میں تفاوت ہوگا اور سکر تمباکو میں نہیں ہے صرف حدت ہے ۔ اسی سے پریشانی ہوتی ہے لیکن عقل ماؤف نہیں ہوتی اور عوارض خارجیہ کے اعتبار سے کھانا اخف ہے بہ نسبت پینے کی ۔ کما ہو مشاہد (امداد الفتاویٰ ج۴ ص ۱۱۴)
شیخ الا سلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی فرماتے ہیں :۔ یہ جملہ بزرگان دین (دیو بندی حضرات) تمباکو کے استعما ل پر سوائے کراہت تنزیہی و خلاف اولیٰ اور کوئی حکم نہیں فرماتے ۔(الشہاب الثاقب ص ۸۲)
(۵) مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دارالعلوم دیو بند کا فتویٰ:۔
درحقیقت تمباکو بھی ایک قسم نباتات کی ہے ۔ اور شامی میں صحیح قول یہ نقل کیا ہے کہ تمباکو کا استعمال مباح ہے۔ البتہ بلا ضرورت غیر اولیٰ ہے اور قول کراہت (تحریمی) بلا دلیل ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم عزیز الفتاویٰ (ج۷۔۸ص۲۱۴)
(۶) مفتی عزیز الرحمن صاحب کا دوسر افتویٰ:۔
(الجواب)تمباکو کھانا ، پینا ،سونگھنا مباح ہے مگر غیر اولیٰ جس کا حاصل یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اور تجارت تمبا کو کی درست ہے ۔(فتاویٰ دارالعوم دیو بند ج۷۔۸ص۲۳۶)
(۷) حضرت مفتی شفیع صاحب کا فتویٰ
البتہ اگر بلا ضرورت پیئے تو مکروہ تنزیہی ہے اور ضرورت میں کسی قسم کی کراہت نہیں ۔منہ صاف کرنا بدبو سے ہر حال میں ضروری ہے ۔(فتاویٰ درالعلوم دیو بند (ج۷۔۸ ص۲۹۲)

Wednesday, November 7, 2018

اچھی عورتیں اچھے مرد کے لئے

اچھی عورتیں اچھے مرد کے لئے
السلام علیکم ورحمت اللہ
حضرات مفتیان و علماکرام ایک صاحب نے سوال پوچھاجیسا کہ قرآن کریم میں ہے الخبیثت للخبیثین والطیبت للطیبین کہ خبیث عورتیں خبیث مرد کے لئے اچھی عورتیں اچھے مرد کے لئے بسا اوقات اسکے بر عکس دیکھنے کو ملتا ہے بندہ امید کرتا ہے کی تسلی بخش جواب دینگے فجزاکم اللہ خیرا
قرآنی آیت: اَلْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ ․․․إلی آخر الآیة، کامطب یہ ہے کہ گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں، اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔ یہ لازم نہیں کہ ہرگندی عورت کا شوہر گندہ اور ہرگندہ شوہر کی بیوی گندی ہو، ورنہ بہت سے اچھے مرد ایسے ہیں کہ ان کی بیویاں بری ہیں اور بہت سی نیک بیویاں ایسی ہیں کہ ان کے خاوند بُرے ہیں۔ (بیان القرآن)
جیسا کہ شوہر بڑا متقی وپرہیزگار ہوتا ہے اور بیوی بد اخلاق وبد کردار ہوتی ہے کبھی بیوی بڑی پاکیزہ ہوتی ہے شوہر اچھا نہیں ہوتا ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ
یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے
اسکے برعکس بھی ہوسکتا ہے
۳۵]یعنی بدکار اور گندی عورتیں گندے اور بدکار مردوں کے لائق ہیں۔ اسی طرح بدکار اور گندے مرد اس قابل ہیں کہ ان کا تعلق اپنے جیسی گندی اور بدکار عورتوں سے ہو۔ پاک اور ستھرے آدمیوں کا ناپاک اور بدکاروں سے کیا مطلب۔ ابن عباس نے فرمایا کہ پیغمبر کی عورت بدکار (زانیہ) نہیں ہوتی۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ناموس کی حفاظت فرماتا ہے۔ نقلہ فی موضح القرآن۔ (تنبیہ) آیت کا یہ مطلب تو ترجمے کے موافق ہوا۔ مگر بعض مفسرین سلف سے یہ منقول ہے کہ {اَلْخَبِیْثٰتُ} اور {الطَّیِّبٰتُ} سے یہاں عورتیں مراد نہیں۔ بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں۔ یعنی گندی باتیں گندوں کے لائق ہیں۔ اور ستھری باتیں ستھرے آدمیوں کے۔ پاکباز اور ستھرے مرد و عورت ایسی گندی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں۔جیسا کہ آگے {اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ} سے ظاہر ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ گندی باتیں گندوں کی زبان سے نکلا کرتی ہیں۔ تو جنہوں نے کسی پاکباز کی نسبت گندی بات کہی، سمجھ لو کہ وہ خود گندے ہیں۔
[۳۶] یعنی ستھرے آدمی ان باتوں سے بَری ہیں جو یہ گندے لوگ بکتے پھرتے ہیں۔
[۳۷] یعنی برا کہنے سے وہ برے نہیں ہوجاتے، بلکہ جب وہ اس پر صبر کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی خطاؤں یا لغزشوں کا کفارہ بنتی ہے۔ اور یہاں مفسد لوگ جس قدر ان کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں وہاں اس کے بدلہ میں عزت کی روزی ملتی ہے۔
تفسیر عثمانی....

Tuesday, November 6, 2018

ایصالِ ثواب کی شرعی حیثیت

ایصالِ ثواب کی شرعی حیثیت

قانونِ الٰہی کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے تمام بندوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں ان امور کی انجام دہی میں زندگی بسر کریں جن کے باعث روزِ قیامت نیکیوں کا پلڑا بھاری اور جنت کا پروانہ نصیب ہوسکے۔ ہر انسان کو اس بات کی مکمل کوشش کرنی ضروری ہے، اس کے باوجود کسی کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے اعمال پر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکہ فلاں عمل میری نجات کے لیے کافی ہوجائے گا؛ اس لیے کہ ہمارا عمل اللہ کے یہاں قابلِ قبول ہے بھی یا نہیں، اس کا ہم میں سے کسی کو کوئی علم نہیں۔نیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہمت و توفیق کے موافق عمل کرکے جب انسان اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے متعلقین کے لیے مستحب ہے کہ اپنے رشتے داروں و عزیزوں کے لیے حسبِ استطاعت ایصالِ ثواب اور دعاے مغفرت کا اہتمام کرتے رہیں۔ زندوں کا مُردوں کے حق میں دعاے خیر اور ایصالِ ثواب کرنا خود ان کے حق میں بھی ثواب کا باعث اور مُردوں کے حق میں مغفرت اور درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے۔ (الفتاویٰ الہندیہ: ۵/۳۵۰) البتہ یہ صورت وقتی طور پر ثواب کے انتظام کی ہے ؛ اس لیے متوفی کو حسبِ استطاعت دائمی ثواب پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کی طرف سے کوئی ایسا نیک کام کیاجائے کہ جس سے لوگ مسلسل فائدہ اٹھاتے رہیں،مثلاً کسی نیک کام کے لیے زمین وقف کردی جائے وغیرہ۔ (بخاری:۲۷۶۲) یہ بھی واضح رہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے یہ شرط نہیں کہ جسے ایصالِ ثواب کیا جا رہا ہے ، وہ وفات پا چکا ہو؛ بلکہ زندوں کو بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔(شامی:۱/۶۰۵)

معلوم ہوا کہ لسانی و جسمانی عبادات میں سے ہر شخص اپنے گھر میں انفرادی طور پر جو نیک عمل اپنے لیے کرتا ہے ؛ نفل نماز پڑھتا ہے ، نفل روزے رکھتا ہے ، تسبیحات پڑھتا ہے ، تلاوت کرتا ہے ، نفل حج یا عمرہ کرتا ہے ، طواف کرتا ہے ، اس میں صرف یہ نیت کر لے کہ اس کا ثواب ہمارے فلاں عزیز یا دوست کو پہنچے، وہ پہنچ جائے گا اور بس یہی ایصالِ ثواب ہے ، وہ ثواب جو آپ کو ملنا تھا آپ کو بھی بھی ملے گا اور جن دوسرے لوگوں کی نیت کی ہے ، ان سب کو بھی پورا ثواب ملے گا۔(احسن الفتاویٰ:۸/۱۶۹)

ایصالِ ثواب کا جواز:

جو لوگ ایصالِ ثواب کے قائل نہیں،ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں ہے: وَأَنْ لَیْسَ لِلاِنْسَانِ الَّا مَاسَعیٰ۔ اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے ، جس کے لیے وہ محنت کرتا ہے۔ (النجم:۳۹) جب کہ اس آیت ِ مبارکہ کی تفسیرمیں علامہ رازی کا کہنا ہے :اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انسان خودایمان لاکر یہ کوشش نہ کرے کہ اس کے اہلِ قرابت کا صدقہ اس کے کام آئے ، تو ان کا یہ صدقہ اس کے کام ہرگز نہ آئے گا؛ اس لئے کہ انسان کو وہی ملے گا، جس کی وہ (ایمان لاکر) کوشش کرے، نیز ”تفسیر ابوسعید“ میں ہے: انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شفاعت، ملائکہ علیہم السلام کا استغفار اور زندوں کی دعااور صدقہ، میت کے لیے اور اس کے علاوہ دیگر بہت سے امورِنافعہ جن کا شمار ممکن نہیں،ان سب میں میت کا عمل دخل نہیں ہے لیکن امورِ مذکورہ کے نافع ثابت ہونے کا مدارایمان اور اس کی اصلاح پر ہے ،اگر یہ چیزیں (ایمان اور اس کی درستگی) ہی نہ ہو تو کسی کی کوئی چیز (تو کجا خود اپنا نیک عمل بھی) کوئی نفع نہیں دے گا۔ (تفسیر کبیر: ۷/۷۶۸)

معتزلہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ایک کے عمل کا ثواب دوسرے کو پہچانے سے بھی نہیں پہنچ سکتا اور ایصالِ ثواب کا انکار کرتے ہیں، جواب اس کا یہ ہے کہ للانسان میں لام نفع کا ہے اور نفع دو قسم کا ہے: ایک ثواب، دوسرا وہ خاصیت جو عامل کے اندر اس سے پیدا ہوتی ہے ، پس یہاں دوسری قسم کا نفع مراد ہے، نہ کہ اول قسم بہ وجہ دوسری نصوص۔ (اشرف التفاسیر:۴/۱۰۳) نیز آیت کی یہ تشریح بھی دل چسپ ہے کہ انسان کو صرف اپنے عمل کے ثواب کا حق پہنچتا ہے ، کسی اور کے عمل کا ثواب لینے کا حق نہیں ہے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اس کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی اور عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ ان کی رحمت ہے جس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی؛ چناں چہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کو ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے، اور متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے وہ ثواب مُردے کو پہنچاتے ہیں؛ کیوں کہ عام طور سے کوئی شخص دوسرے کو اسی وقت ایصالِ ثواب کرتا ہے جب اس نے اس کے ساتھ کوئی نیکی کی ہو یا اور نیک اعمال کیے ہوں۔ (توضیح القرآن:۱۶۳۳)

اہل السنة والجماعة کا موقف

اکثر علمائے اہل السنة والجماعة کا موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی نفلی عبادتوں؛ خواہ وہ مالی ہوں یا بدنی،یا دونوں سے مرکب،ان کا ثواب دوسرے زندہ یا مردہ لوگوں کو بخش سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔ (دیکھئے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: ۲۴/۳۶۶، بدائع الصنائع: ۲/۴۵۴ وغیرہ) حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہما سے یہ بات منقول ہے کہ تلاوت وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچتا؛ لیکن فقہِ شافعی کی کتابوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ اگر ان عبادات کو انجام دے کر آدمی یہ دعا کرلے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچادے ، تو اس اعتبار سے انجام کار اس کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائے گا اوراختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے گی؛ اس لیے بعض حضرات کا میت کو نفسِ ایصالِ ثواب پر شدت سے نکیر کرنا صحیح نہیں ہے۔ (ماخوذ از کتاب النوازل:۶/۲۶۴-۲۶۶ملخصاً)

ایصالِ ثواب کا طریقہ:

ایصالِ ثواب اسی طرح کریں جس طرح سلفِ صالحین کرتے تھے ، بلا تقیید و تخصیص اپنی ہمت کے موافق حلال مال سے مساکین کی خفیہ مدد کریں اور جو کچھ توفیق ہو بہ طور خود قرآن وغیرہ (جتنا ہو سکے پڑھ کر یا) ختم کرکے اس کو پہنچا دیں یا قبرستان میں قبلِ دفن جو فضول خرافات میں وقت گذار دیتے ہیں، اس وقت کچھ کلامِ الٰہی ہی پڑھتے رہا کریں؛ بلکہ یہ وقت مُردہ کی مدد کرنے کے لیے زیادہ مناسب ہے؛ اس لیے کہ انسان کی سانسیں رکتے ہی اس کی اُخروی زندگی کے معاملات جاری ہوجاتے ہیں۔حدیث میں ہے کہ حضور…نے حضرت سعد بن معاذ کو دفن کرکے کچھ تسبیح وغیرہ پڑھیں، جس سے ان کو ضیقِ قبر سے نجات ہوئی۔ غرض، ایصالِ ثواب سے کوئی منع نہیں کرتا؛ البتہ منکرات و مکروہات سے منع کرتے ہیں، جن سے ثواب بھی نصیب نہیں ہوتا اور مال بھی برباد ہوتا ہے۔ (اصلاح الرسوم: ۱۴۱ بتصرف، احسن الفتاویٰ:۸/۱۶۹) زیادہ نہ ہو سکے تو تین مرتبہ قل ہو اللّٰہ ہی پڑھ کر بخش دیں، جس سے پورے قرآن مجید کا ثواب مل جائے گا، یہ اس سے بھی اچھا ہے کہ اجتماعی صورت میں دس قرآن ختم کیے جائیں،اللہ کے یہاں تھوڑے بہت کو نہیں دیکھا جاتا، خلوص اور نیت دیکھی جاتی ہے؛ چناں چہ حضور اقدس… فرماتے ہیں کہ میرا ایک صحابی ایک مُد کھجور خیرات کرے اور غیر صحابی اُحد پہاڑ کے برابر سونا، تو یہ اس درجے کو نہیں پہنچ پاتا، یہ فرق خلوص اور عدمِ خلوص کا ہے؛ کیوں کہ جو خلوص ایک صحابی کا ہوگا، وہ غیر صحابی کا نہیں ہو سکتا۔ (فتاویٰ رحیمیہ: ۱/۴۶۳ صالح) خلاصہ یہ کہ ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے ، نہ اس میں کسی دن کی قید ہے، نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے اور نہ قرآنِ کریم کو ختم کرنا ضروری ہے؛ بلکہ بلا تعیین جو نفلی عبادت بدنی ومالی بہ سہولت ہوسکے ، اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے۔ (مستفاد از: فتاویٰ محمودیہ:۳/۸۷،کراچی)

ایصالِ ثواب کے درجات:

ایصالِ ثواب کی مختلف صورتوں کے متعلق یہ تفصیل پیشِ نظر رہے :

(۱) سب سے افضل اور بہتر صورت تو یہ ہے کہ مستحقین کو نقد تقسیم کر دیا جائے؛ کیوں کہ نہ معلوم انھیں کیا ضرورت ہے
(۲) دوسرا درجہ یہ ہے کہ خشک جنس دی جائے کہ جب جی چاہے گا پکا کر خود کھا لے گا
(۳) تیسرے درجے کی صورت یہ ہے کہ پکا کر خود کھلایا جائے اور اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ روزانہ ایک دو خوراک پکا کر مستحقین کو کھلایا جائے ، ایک دم پکانے میں مستحق اور غیر مستحق سب جمع ہوجاتے ہیں؛ بلکہ زیادہ برادری ہی کھاتی ہے ، جیسا کہ رسم ہے( اس میں دکھاوا تو خوب ہو جاتا ہے؛ لیکن ثواب کچھ نہیں ملتا)۔ قرآن شریف میں ایصالِ ثواب کے لیے احبابِ خاص سے کہہ دیا جائے کہ اپنے اپنے مقام پر حسبِ توفیق پڑھ کر ثواب پہنچا دیں۔ اجتماعی صورت اس میں بھی مناسب نہیں؛کیوں کہ اس میں اکثراہلِ میت کو جتلانا ہوتا ہے ، خلوص نہیں ہوتا۔ (جواہر الفقہ:۳/۲۸۷)

غیر مسلم کو ایصالِ ثواب:

کافر کے لیے ایصال ثواب و دعاے مغفرت مفید اور جائز نہیں۔ (کفایت المفتی:۹/۳۲۶) اس مسئلے کو اس طرح سمجھیں کہ آخرت میں ثواب پانے کے لیے ایمان کے ذریعے کھاتہ کھلوانا ضروری ہے، جب کسی نے وہ کھاتہ ہی نہیں کھلوایا تو آپ اسے اپنی نیکیوں کے بینک سے ثواب بھی ٹرانسفر نہیں کر سکتے۔

ایصالِ ثواب کی نذر ماننا:

بعض لوگ ایصالِ ثواب کی نذر مان لیتے ہیں؛ لیکن ایصالِ ثواب کی نذر منعقد نہیں ہوتی؛ کیوں کہ اس کی جنس سے کوئی واجب نہیں اور یہ قاعدہٴ کلیہ ہے کہ
"مَا لَیْسَ مِنْ جِنْسِہ وَاجِبٌ لاَ یَنْعَقِدُ النَّذْرُ بِہ"۔
اور گو تصدق کی جنس سے واجب ہے؛ مگر یہاں اصل مقصود ایصالِ ثواب بہ روحِ میت ہے ، تصدق کی نذر تبعًا ہے اور نذرِ صحیح میں بھی صحتِ نذر کی تعیینِ مکان وزمان وتعیینِ فقیر لازم نہیں؛ بلکہ اس میں تغییر کا اختیار رہتا ہے۔ (امدادالاحکام:۳/۳۰)
از: (مولانا) ندیم احمد انصاری

$$$

طنز سے بچئے اور انبیاء کا طریقہ اختیار کیجئے

طنز سے بچئے اور انبیاء کا طریقہ اختیار کیجئے

’’طنز‘‘ایک فن گیا ہے: آج ہمارے معاشرے میں طعنہ دینے کا رواج پڑ گیا ہے، اب تو طنز باقاعدہ ایک فن ہوگیا ہے اور اس کو ایک ہنر سمجھا جاتا ہے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ بات لپیٹ کر کہہ دی گئی، اس سے بحث نہیں کہ اس کے ذریعے دوسرے کا دل ٹوٹا یا دل آزاری ہوئی۔
... انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام طنز اورطعنہ نہیں دیتے تھے:
میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے، اور یہ سب اللہ کے دین کی دعوت لے کر آئے، کسی نبی کی زندگی میں کوئی ایک مثال ایسی نہیں ملے گی کہ کسی نبی نے اپنے مخالف کو یا کسی کافر کو طعنہ دیا ہو، یاطنز کیا ہو، بلکہ جو بات وہ دوسروں سے کہتے تھے، وہ محبت اور خیرخواہی سے کہتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ دوسرے کی اصلاح ہو۔ آج کل تو طعنہ دینے اور طنز نگاری کا ایک سلسلہ چلاہوا ہے۔ جب آدمی کو ادبیت اور مضمون نگاری کا شوق ہوتا ہے یا تقریر میں آدمی کو دلچسپی پیدا کرنے کا شوق ہوتا ہے تو پھر اس مضمون نگاری میں اور اس تقریر میں طنز اور طعن و تشنیع بھی اس کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے۔
... میرا ایک ذاتی  واقعہ:
چنانچہ آج سے تقریباً تیس پینتیس سال پہلے کی بات ہے میں اس وقت دارالعلوم کراچی سے نیا نیا فارغ ہوا تھا۔ اس وقت ایوب خاں صاحب مرحوم کے دور میں جو عائلی قوانین نافذ ہوئے تھے، ان کے خلاف میں نے ایک کتاب لکھی جن لوگوں نے ان قوانین کی حمایت کی تھی ان کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے اس کتاب میں جگہ جگہ طنز کا انداز اختیار کیا تھا، اس وقت چونکہ مضمون نگاری کا شوق تھا، اس شوق میں بہت سے طنزیہ جملے اور طنزیہ فقرے لکھے اور اس پر بڑی خوشی ہوتی تھی کہ یہ بڑا اچھا جملہ چُست کردیا۔ جب وہ کتاب مکمل ہوگئی تو میں نے وہ کتاب حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کو سنائی، تقریباً دوسو صفحات کی کتاب تھی۔
... یہ کتاب کس مقصد سے لکھی ہے؟
جب والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ پوری کتاب سن چکے تو فرمایا یہ بتائو کہ تم نے یہ کتاب کس مقصد کے لئے لکھی ہے؟ اگر اس مقصد سے لکھی ہے کہ جو لوگ پہلے سے تمہارے ہم خیال ہیں وہ تمہاری اس کتاب کی تعریف کریں کہ واہ واہ کیسا دندان شکن جواب دیا ہے، اور یہ تعریف کریں کہ مضمون نگاری کے اعتبار سے اور انشاء و بلاغت کے اعتبار سے بہت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی ہے، اگر اس کتاب کے لکھنے کا یہ منشا ہے تو تمہاری یہ کتاب بہترین ہے۔
لیکن اس صورت میں یہ دیکھ لیں کہ اس کتاب کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا قیمت ہوگی؟ اور اگر کتاب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جو آدمی غلطی پر ہے اس کتاب کے پڑھنے سے اس کی اصلاح ہوجائے، تو یاد رکھو! تمہاری اس کتاب کے پڑھنے سے ایسے آدمی کی اصلاح نہیں ہوگی بلکہ اس کتاب کو پڑھنے سے اس کے دل میں اور ضد پیدا ہوگی۔  *دیکھو! حضرات انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے، انہوں نے دین کی دعوت دی اور کفر اور شرک کا مقابلہ کیا، لیکن ان میں سے ایک نبی بھی ایسا نہیں ملے گا جس نے طنز کا راستہ اختیار کیا ہو۔*  لہٰذا یہ د یکھ لو کہ یہ کتاب اللہ کے واسطے لکھی ہے یا مخلوق کے واسطے لکھی ہے، اگر اللہ کے واسطے لکھی ہے تو پھر اس کتاب سے اس طنز کو نکالنا ہوگا، اور اس کا طرزتحریر بدلنا ہوگا۔
... یہ انبیاء کا طریقہ نہیں ہے:
مجھے یاد ہے کہ جب والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات ارشاد فرمائی توایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے سر پر پہاڑ توڑ دیا کیونکہ دوسوڈھائی سو صفحات کی کتاب لکھنے کے بعد اس کو از سر نو اُدھیڑنا بڑا بھاری معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت جبکہ مضمون نگاری کا بھی شوق تھا اور اس کتاب میں بڑے مزیدار فقرے بھی تھے، ان فقروں کو نکالتے بھی دل کٹتا تھا۔ لیکن یہ حضرت والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسکی توفیق عطا فرمائی اور میں نے پھر پوری کتاب کو ادھیڑا اور از سرنو اس کو لکھا پھر الحمد للہ وہ کتاب ’’ہمارے عائلی قوانین‘‘ کے نام سے چھپی۔ لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ہے الحمد للہ یہ بات دل میں بیٹھ گئی کہ ایک داعی حق کے لئے طنز کا طریقہ اور طعنہ دینے کا طریقہ اختیار کرنا درست نہیں ، یہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ نہیں ہے۔
... حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت:
حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیج رہے تھے کہ جائو اس کو جاکر ہدایت کرو اور اس کو دعوت دو، تو اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو یہ ہدایت دی جارہی تھی کہ:
*فَقُوْلاً لَہٗ قَوْلاً لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰیO (سورۂ طٰہٰ، آیت:۴۴)*
یعنی فرعون کے پاس تم دونوں نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔ حضرت والد صاحب یہ بات بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آج تم حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے مصلح نہیں ہوسکتے، اور تمہارا مخاطب فرعون سے بڑا گمراہ نہیں ہوسکتا۔ وہ فرعون جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لے گاء، کفر ہی پر مرے گا، لیکن اس کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ اس سے جاکر نرمی سے بات کرنا تو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نرمی سے بات کرنے کو کہا جارہا ہے تو ہما شما کس قطار میں ہیں ۔
... حق بات کوئی لٹھ نہیں ہے:
آج ایک طرف تو یہ فکر ہی کسی کو نہیں ہوتی کہ دین کی بات کسی کو سکھائی جائے یا کسی کو ’’نہیں عن المنکر‘‘ کیا جائے، اور اگر کسی کے دل میں یہ بات آگئی کہ حق بات دوسروں کو بتانی ہے، تو وہ اس کو اس طرح بتاتا ہے جیسے کہ وہ حق بات ایک لٹھ ہے جو اس نے جس طرح دل چاہا اٹھاکر ماردیا یا جیسے وہ ایک پتھر ہے جو کھینچ کر اس کو ماردیا۔
... حضرات انبیاء علیہم السلام کے انداز جواب:
حضرات انبیاء علیہم السلام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دعوت دینے کے وقت طعنہ نہیں دیتے، حتی کہ اگر کوئی سامنے والا شخص طعنہ بھی دے تو جواب میں یہ حضرات طعنہ نہیں دیتے۔
حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا واقعہ ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا کہ:
اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَO
نبی سے کہا جارہاہے کہ ہمارا یہ خیال ہے کہ تم انتہا درجے کے بیوقوف ہو، احمق ہو، اور ہم تمہیں کاذبین میں سے سمجھتے ہیں ، تم جھوٹے معلوم ہوتے ہو، وہ انبیاء علیہم السلام جن پر حکمت اور صدق قربان ہیں ان کے بارے میں یہ الفاظ کہے جارہے ہیں ، لیکن دوسری طرف جواب میں پیغمبر فرماتے ہیں :
*یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَّلٰکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَO* اے قوم! میں بیوقوف نہیں ہوں ، بلکہ میں اللہ رب العالمین کی طرف سے ایک پیغام لے کر آیا ہوں ۔
ایک اور پیغمبر سے کہا جارہا ہے کہ:
اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍط
ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں کہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
جواب میں پیغمبر فرماتے ہیں:
یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَۃٌ وَّلٰکِنِّیْ رَسُولٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَO
اے قو میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں اللہ رب العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں ۔
آپ نے دیکھا کہ پیغمبر نے طعنہ کا جواب طعنہ سے نہیں دیا۔
... ترکی بہ ترکی جواب مت دو:
لہٰذا طعنہ کا جواب طعنہ سے نہ دیا جائے۔ اگرچہ شرعاً ایک آدمی کو یہ حق حاصل ہے کہ جیسی دوسرے شخص نے تمہیں گالی دی ہے، تم بھی ویسی ہی گالی اس کو دیدو لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے وارثین انتقام کا یہ حق استعال نہیں کرتے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی یہ حق کبھی استعمال نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ معاف کردینے اور درگزر کردینے کا شیوہ رہا ہے اور انبیاء علیہم السلام کے وارثین کا بھی یہی شیوہ رہا ہے۔
... انتقام کی بجائے معاف کرو:
اے بھائی! اگر کسی نے تمہیں گالی دے دی تو تمہارا کیا بگڑا؟ تمہاری کونسی آخرت خراب ہوئی؟ بلکہ تمہارے تو درجات میں اضافہ ہوا، اگر تم انتقام نہیں لوگے، بلکہ درگزر کردوگے اور معاف کردوگے تو اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں معاف کردیں گے۔ حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص دوسرے کی غلطی کو معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس دن معاف فرمائیں گے جس دن وہ معافی کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا یعنی قیامت کے دن، لہٰذاانتقام لینے کی فکر چھوڑدو، معاف کردو اور درگزر کردو۔

- کتاب: اصلاحی خطبات،جلد11،صفحہ97تا105
- مجموعۂ بیانات: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب
- ناشر : میمن اسلامک پبلشرز کراچی پاکستان
-طالبِ دعا: ابومعاذ راشدحسین
-اسے آگے شئیر فرماکر صدقۂ جاریہ کے مستحق بنیں۔