Tuesday, December 18, 2018

دعوت و تبلیغ کے کام سے دو طبقے محروم رہیں گے


دعوت و تبلیغ کے کام سے دو طبقے محروم رہیں گے
----------------
تبلیغی جماعت کیا ہے؟

تبلیغ کا لفظی معنی ہے دوسروں کو دین کی دعوت دینا یا تلقین کرنا ہے۔

مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق تبلیغی جماعت کی ابتدا سب سے پہلے ہندوستان سے سنہ 1926 یا 1927 میں ہوئی جہاں مولانا محمد الیاس نامی ایک عالم دین نے اس کام کی بنیاد رکھی۔

ابتدا میں مولانا محمد الیاس نے دعوت کے کام کی شروعات دہلی کے مضافات میں آباد میواتی باشندے کو دین کی تعلیم دینے سے کی لیکن کچھ عرصے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ اس طریقہ کار کے تحت ادارے تو وجود میں آ رہے ہیں لیکن اچھے مبلغ پیدا نہیں ہو رہے جو دوسروں کو دین کی تعلیم دے سکے۔ لہذا انھوں نے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے تبلیغ کا کام شروع کردیا اور اس طرح انھوں نے دہلی کے قریب واقع نظام الدین کے علاقے سے باقاعدہ طورپر بحیثیت تبلیغ کے کام کا آغاز کردیا۔

بتایا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا پہلا اجتماع سنہ 1941 میں انڈیا میں ہوا جس میں تقریباً 25 ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ 1940 کے عشرے تک یہ جماعت غیر منقسم ہندوستان تک محدود رہی لیکن پاکستان بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اس جماعت نے تیزی سے ترقی کی اور اس طرح یہ تحریک پوری دنیا تک پھیل گئی۔ آج کل اس تحریک کے سب سے زیادہ حامی براعظم ایشیا میں بتائے جاتے ہیں جن میں اکثریت کا تعلق بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے جہاں یہ کام اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔

انٹرنیٹ سے لی گئی معلومات کے مطابق آج کل تبلیغ کا کام تقریباً 200 ممالک میں ہوتا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کام سے آٹھ سے دس کروڑ کے قریب افراد منسلک ہیں۔ یہ جماعت اب دنیا بھر میں مسلمانوں کی سب بڑی جماعت بھی سمجھی جاتی ہے۔

تبلیغی جماعت کا سب بڑا اجتماع ہر سال بنگلہ دیش میں ہوتا ہے جبکہ پاکستان کے رائیونڈ کے مقام پر بھی سالانہ تبلیغی اجتماع کا اہتمام ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان شرکت کرنے آتے ہیں۔

تبلیغ کا کام کیسے ہوتا ہے؟

اس تحریک کی بنیاد اسلام کے چھ بنیادی اصولوں پر رکھی گئی ہے جس میں کلمہ، نماز، علم و ذکر، اکرام مسلم (مسلمان کی عزت کرنا)، اخلاص نیت اور دعوت و تبلیغ شامل ہے۔

تحریک سے منسلک افراد کے مطابق اس تحریک کا واحد مقصد یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان سو فیصد اللہ کے احکامات اور پیغمبر اسلام کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں۔

تبلیغی جماعت نے عام لوگوں کو دعوت یا تبلیغ کا کام سمجھانے کے لیے ایک نصاب بھی مقرر کیا ہوا ہے جس کے تحت ابتدائی طورپر اس کام سے روشناس ہونے کے لیے تین دن گھر سے نکل کر جماعت میں لگانے پڑتے ہیں اور پھر اس طرح 40 دن، چار مہینے اور ایک سال کے لیے بھی لوگ ملک سے باہر یا ملک کے اندر تبلیغ کا کام کرنے کے لیے جایا کرتے ہیں۔

تبلیغی جماعت کا بنیادی عقیدہ سنی مسلک کا ہے لیکن ان کے اجتماعات میں دیگر مسالک کے افراد بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔

اس تحریک سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ یہ تحریک سیاست اور فرقہ واریت سے مکمل طورپر پاک ہے اور نہ ہی یہ اختلافی مسلکی مسائل پر یقین کرتی ہے۔ تبلیغی جماعت میں عام طورپر اختلافی مسائل اور ملکی سیاست پر بات کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

---------------------------
دعوت و تبلیغ کے کام سے دو طبقے محروم رہیں گے
۱: ایک تو وہ جو اس کام کی اصلاح کریں گے،
٢: اور ایک وہ جو اس کام کے کرنے والوں کی اصلاح چاہیں گے، یہ دونوں طبقے اس کام سے محروم رہیں گے،
حضرت مولانا الیاس صاحب علیہ الرحمہ کی یہ ہدایت:
مسلمانوں کو علماء کی خدمت چار نیتوں سے کرنی چاہئے
ایک بار فرمایا کہ: مسلمانوں کو علماء کی خدمت چار نیتوں سے کرنا چاہئے۔
(١) اسلام کی جہت سے، چنانچہ محض اسلام کی وجہ سے کوئی مسلمان کسی مسلمان کی زیارت کو جائے، یعنی محض حسبةً للہ ملاقات کرے تو ستّر ہزار فرشتے اس کے پاؤں تلے اپنے پَر اور بازو بچھا دیتے ہیں تو جب مطلقاً ہر مسلمان کی زیارت میں یہ فضیلت ہے تو علماء کی زیارت میں بھی فضیلت ضروری ہے۔
(٢) یہ کہ ان کے قلوب واجسام حاملِ علوم ِنبوت ہیں اس جہت سے بھی وہ قابلِ تعظیم اور لائقِ خدمت ہیں۔
(٣) یہ کہ وہ ہمارے دینی کاموں کی نگرانی کرنے والے ہیں۔
(٤) ان کی ضروریات کے تفقد کے لئے، کیونکہ اگر دوسرے مسلمان ان کی دنیوی ضرورتوں کا تفقد کرکے ان ضرورتوں کو پورا کردیں جن کو اہل اموال پورا کرسکتے ہیں تو علماء اپنی ضرورتوں میں وقت صرف کرنے سے بچ جائیں گے اور وہ وقت بھی خدمتِ علم ودین میں خرچ کریں گے، تو اہل اموال کو ان کے ان اعمال کا ثواب ملے گا. (ایضاً ص: ٤٤)۔

ٹیچر کسے کہتے ہیں؟؟؟

ٹیچر کسے کہتے ہیں؟؟؟

ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﯾﮏ Teacher ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ mostly ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ Teacher ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ , ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ....
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ , ﻣﮕﺮ Teacher ﮐﯽ ﺩﻭﺭِ ﺟﺪﯾﺪ ﮐﯽ , ﻣﺎﮈﺭﻥ Definition ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻭﮦ definition ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ
TEACHER is equal to Motivator۔۔
ﺍﮔﺮ ﭨﯿﭽﺮ Motivate ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﻨﺎ , ﺑﺘﺎﺩﯾﻨﺎ , ﺳمجھا دینا ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺍﯾﮏ Spark ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎ will, ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﺎﯾﮧ ﺍﺻﻞ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ .
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭨﯿﭽﻨﮓ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ licence (ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﺎﻣﮧ) ﻟﮯ ﮐﺮ Teach ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺍﺱ Teaching licence ﮐﻮ ﺍﯾﺸﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ 6 ﻣﯿﺠﺮ ﮐﻮﺍﻟﭩﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ...
1. Subject Grip
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﭘﺮ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ common ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﮐﺲ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺳﺒﺠﯿﮑﭧ ﮔﺮﭖ Upgraded ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ؟
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮨﯽ knowledge ﮨﻢ carry ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﮈﮔﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ...
2. Communication Skills
ﯾﮧ ﺑﮩﺖ important ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮨﮯ , ﮐﻤﯿﻮﻧﯿﮑﺸﻦ skill ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﯾﮧ ﻓﻦ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺁﮐﺮ ﺍﺳﮑﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ .
3. Social Genius
ﺍﺱ ﺧﺎﺹ terminology ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﻨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻠﻨﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﻮ , ﻣﻠﻨﺴﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ . ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ , ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ .
4. Motivation
ﭨﯿﭽﺮ ﻣﯿﮟ motivation ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ , ﺟﺬﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ spark, ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯿﭽﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ .
5. A True Learner
ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ , ﺍﮔﺮﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ  علم کا ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ ؟
6. Progressive Attitude
ایک ٹیچر کے لیے ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ , ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﭨﯿﭽﺮ ﻭﮦ ﮨﮯ جو ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا, ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺗﻮ وہ ﻗﻮﻡ ﮐﻮﮐﯿﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎئے گا؟
ﺁﭖ ﺍﻥ کوالیٹیز ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ , ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﯿﭽﺮﺯ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭘﮑﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ گا..کہ آج ھمارے بچے باصلاحیت، باحوصلہ اور باکمال کیوں نھیں بن پارھے ھیں؟

Monday, December 17, 2018

خواتین کی فضیلت پر مشتمل ایک تحریر کی تحقیق

خواتین کی فضیلت پر مشتمل ایک تحریر کی تحقیق

سوال: مفتی صاحب یہ پوسٹ کافی دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے، براہ کرم اس کی تحقیق فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

عورت خدا کا دیا ہوا ایک نایاب تحفہ ہے.

پریگننٹ عورت کی 2 ركات نماز عام عورت کی 70 ركات نماز سے بڑھ کر ہے.

شوهر پریشان گھر آئے اور بیوی اسے تسلی دے تو اسے جہاد کا ثواب ملتا ہے.

جو عورت اپنے بچے کے رونے کی وجہ سے سو نہ سکے، اس کو 70 غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے.

شوهر اور بیوی ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دےكھے، تو اللہ انہیں محبت کی نظر سے دیکھتا ہے.

جو عورت اپنے شوهر کو اللہ کی راہ مے بھیجے، وہ جنت مے اپنے شوهر سے 500 سال پہلے جائے گی.

جو عورت آٹا گوندتے وقت بسم اللہ پڑھے تو اس کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے.

جو عورت غیر مرد کو دیکھتی ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے.

جب عورت اپنے شوهر کے بغیر کہے ان کے پیر دباتي ہے تو اسے 70 تولا سونا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے.

جو پاک دامن عورت نماز روزے کی پابندی کرے اور جو شوهر کی خدمت کرے اس کے لئے جنت کے 8 دروازے کھول دیے جاتے ہے.

عورت کے ایک بچے کے پیدا کرنے پر 75 سال کی نماز کا ثواب اور ہر ایک درد پر 1 حج کا ثواب ہے.

باریک لباس پہننے والی اور غیر مرد سے ملنے والی عورت کبھی جنت مے داخل نہیں ہوگی

جلدی كرو:
(1) مہمان کو کھانا کھلانے میں
(2) ميت دفن کرنے میں
(3) بالغ لڑكيوں کا نکاح کروانے میں
(4) قرض ادا کرنے میں
(5) گناہوں سے توبہ کرنے میں
"استغفر اللہ ربی من کلی ذنبن و اتوبو الیہ"
آج آپ یہ میسیج کسی 1 سے بھی شیئر کریں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کرلیں گے ۔
فرمان نبوی:  
میری امت پر ایک زمانہ آئے گا ان کا مقصد پیٹ ھوگا، دولت ان کی عزت ہوگی، عورت انکا قبلہ ھوگا، روپیہ انکا دین ھوگا، وہ بدترین لوگ ہوں گے اور انکا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

(المستفتی : محمد ابوبکر، مالیگاؤں)
--------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق:
ارسال کردہ تحریر میں جو باتیں قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہیں انہیں الگ اور جو باتیں ثابت ہیں انہیں الگ عنوان کے تحت لکھا جاتا ہے۔

موضوع (من گھڑت) روایات:

پریگننٹ عورت کی 2 ركعت نماز عام عورت کی 70 ركات نماز سے بڑھ کر ہے ۔

شوہر پریشان گھر آئے اور بیوی اسے تسلی دے تو اسے جہاد کا ثواب ملتا ہے۔

جو عورت اپنے بچے کے رونے کی وجہ سے سو نہ سکے، اس کو 70 غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دیکھیں، تو اللہ انہیں محبت کی نظر سے دیکھتا ہے۔

جو عورت اپنے شوہر کو اللہ کی راہ میں بھیجے، وہ جنت میں اپنے شوہر سے 500 سال پہلے جائے گی ۔

جب عورت اپنے شوہر کے بغیر کہے ان کے پیر دباتی ہے تو اسے 70 تولہ سونا صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔

عورت کے ایک بچے کے پیدا کرنے پر 75 سال کی نماز کا ثواب اور ہر ایک درد پر 1 حج کا ثواب ہے ۔

درج بالا تمام اعمال اگرچہ بڑے اجر و ثواب کا باعث ہیں، لیکن اس تحریر میں جو فضیلت درج ہے وہ قرآن کریم یا کسی صحیح اور ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔

جو عورت غیر مرد کو دیکھتی ہے اللہ اس پر لعنت بھیجتا ہے ۔

ان الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث نہیں ہے۔

میری امت پر ایک زمانہ آئے گا ان کا مقصد پیٹ ہوگا، دولت ان کی عزت ہوگی، عورت انکا قبلہ ہوگا، روپیہ انکا دین ہوگا، وہ بدترین لوگ ہوں گے اور انکا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔

يأتي زمان على الناس همومهم بطونهم، وشربهم متاعهم، وقبلتهم نساؤهم، ودينهم دراهمهم ودنانيرهم، أولئك شر الخلق لا خلاق لهم ۔
ترجمہ : لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ اُن کا مقصد اُن کا پیٹ ہوگا، اور دولت ان کی عزت ہوگی، اور عورت ان کا قبلہ ہوگا، روپیہ ان کا دین ہوگا، اور وہ بدترین لوگ ہونگے جن كاآخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

یہ روایت کنزالعمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن وہاں اس کی سند ذکر نہیں کی گئی ہے، اسی طرح اس روایت کا کسی اور حدیث کی کتاب میں موجود نہ ہونا اس پر دلالت کرتا ہے یہ روایت موضوع ہے ۔

البتہ عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس سے ملتا جلتا ایک صحیح قول اپنی کتاب الزہد والرقائق میں جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے، نقل کیا ہے، جسے اثر کہا جائے گا، حدیث نہیں، اس کا خاص خیال رہے ۔

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ , قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ هَمُّ أَحَدِهِمْ فِي بَطْنِهِ، وَدِينُهُ هَوَاهُ۔ (الزهد والرقائق لابن المبارك، بَابٌ: فِي طَلَبِ الْحَلالِ، رقم الحديث: 601)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں آدمی کا اہم مقصد پیٹ پالنا ہوگا اور اپنی خواہش پر چلنا اس کا دین ہوگا۔

وہ روایات جن کا ثبوت ملتا ہے:

جو پاک دامن عورت نماز روزے کی پابندی کرے اور جو شوہر کی خدمت کرے اس کے لئے جنت کے 8 دروازے کھول دیئے جاتے ہے۔

یہ روایت درست ہے، امام احمد نے اپنی مسند اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اسے ذکر کیا ہے ۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہو، ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہو، اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو، داخل ہوجاؤ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ ابْنَ قَارِظٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا : ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 1661)

باریک لباس پہننے والی اور غیر مرد سے ملنے والی عورت کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگی ۔

اس روایت کا ثبوت بھی ملتا ہے مسلم شریف کی حدیث ہے:
رب نساء کاسیات عاریات ممیلات ومائلات، لا یدخلن الجنّة ولا یجدن ریحہا وإن ریحہا لیوجد من مسیرة کذا وکذا۔ (مسلم شریف :۱/۳۹۷)
ترجمہ: کچھ عورتیں ہیں جو کپڑا پہننے والی ہیں(مگر) وہ برہنہ ہیں، دوسروں کو مائل کرنے والی ہیں اور خود بھی مائل ہونے والی ہیں (ایسی عورتیں) ہرگز جنت میں نہیں جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھ پائیں گی حالانکہ اسکی خوشبو اتنی اتنی دور سے آئے گی۔

جو عورت آٹا گوندتے وقت بسم اللہ پڑھے تو اس کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔
ان الفاظ کے ساتھ اگرچہ کوئی حدیث نہیں ہے، لیکن ہر جائز کام اللہ کے نام سے شروع کرنا مسنون ہے، اور ظاہر ہے ہر مسنون عمل بابرکت ہوتا ہے۔

جلدی کرو:
(1) مہمان کو کھانا کھلانے میں
(2) ميت دفن کرنے میں
(3) بالغ لڑكيوں کا نکاح کروانے میں
(4) قرض ادا کرنے میں
(5) گناہوں سے توبہ کرنے میں

ميت کی تدفین اور بالغ عورتوں کے ہم پلہ رشتہ مل جائے تو ان کا نکاح کروانے میں جلدی کرنے کا حکم درج ذیل حدیث شریف سے ملتا ہے:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفؤًا
الراوي: علي بن أبي طالب المحدث : العراقي- المصدر:تخريج الإحياء - الصفحة أو الرقم: 2/21 خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن

قرض ادا کرنے میں:

جیسے ہی قرض کی ادائیگی کی استطاعت ہوجائے قرض ادا کردینا چاہئے، بخاری و مسلم شریف کی روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صاحب استطاعت کا قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم ہے۔
حَدَّثَنَا  عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا  مَالِكٌ ، عَنْ  أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ  الْأَعْرَجِ ، عَنْ  أَبِي هُرَيْرَةَ  رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، فَإِذَا  أُتْبِعَ  أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ  فَلْيَتْبَعْ۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 2288، 2400/صحيح مسلم، حدیث نمبر 1564)

مہمان کو کھانا کھلانے میں
گناہوں سے توبہ کرنے میں

ان دونوں احکامات کے متعلق اگرچہ لفظ بلفظ کوئی حدیث نہیں ہے، لیکن یہ بات بھی بالکل ظاہر ہے کہ ان میں جان بوجھ کر تاخیر کرنا دین و دنیا میں خسارے کا سبب ہے۔

مذکورہ پانچوں اقوال ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف حلیۃ الاولیاء میں کسی کی طرف نسبت کئے بغیر ذکر کیے ہیں۔ (١)

خلاصہ یہ کہ اس تحریر کی اکثر باتیں من گھڑت ہیں، لہٰذا اس تحریر کا من وعن پھیلانا جائز نہیں ہے۔

١) كَانَ يُقَالُ الْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِلا فِي خَمْسٍ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ إِذَا حَضَرَ الضَّيْفُ ، وَتَجْهِيزُ الْمَيِّتِ إِذَا مَاتَ، وَتَزْوِيجُ الْبِكْرِ إِذَا أَدْرَكَتْ , وَقَضَاءُ الدَّيْنِ إِذَا وَجَبَ، وَالتَّوْبَةُ مِنَ الذَّنْبِ إِذَا أَذْنَبَ‘‘ (حلیۃ الأولیاء و طبقات الأصفیاء (۸؍؍۷۸)

فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
09 ربیع الآخر 1440

Sunday, December 16, 2018

فتنٔہ کال ریکارڈنگ

فتنٔہ کال ریکارڈنگ

ایک شخص نے دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کو یہ سوال بھیجا تھا، کہ آج کل دعوت و تبلیغ میں کال ریکارڈنگ کا بہت استعمال ہو رہا ہے ، جس شخص کا کال ریکارڈ کیا جاتا ہے وہ اس سے بالکل بے خبر ہوتا ہے اس وجہ سے لوگوں کی عزتیں بھی اچھالی جا رہی ہیں اور عیوب بھی کھولے جا رہے ہیں! تو کیا یہ درست ہے ؟ اور کال ریکارڈنگ کا استعمال کن سورتوں میں جائز ہے؟
اس کے جواب میں دارلعلوم نے  May 30, 2018 کو یہ جواب شاںٔع کیا تھا،  (جواب نمبر 161790۔)
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:978-827/N=9/1439
"اللہ تعالی کے یہاں ہر انسان کی کال ؛ بلکہ ہر گفتگو ریکارڈ ہورہی ہے خواہ وہ خلوت کی گفتگو ہو یا جلوت کی، نیز اپنوں سے ہو یا غیروں سے؛ اس لیے ہرمسلمان کو چاہیے کہ گفتگو میں محتاط رہے، زبان سے کوئی ایسی بات نہ کہے جو دنیا یا آخرت کہیں بھی قابل گرفت ہو، بعض مرتبہ آدمی غفلت میں زبان سے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو شریعت کی نظر میں سخت قابل موٴاخذہ یا دنیا میں فتنہ کا باعث ہوتی ہے۔
باقی کسی کی کوئی خاص گفتگو اس کی اجازت کے بغیر ریکاڑد نہیں کرنی چاہیے؛ کیوں کہ ریکارڈ ہونے والی گفتگو میں انسان محتاط ہوتا ہے؛ جب کہ عام گفتگو میں اس قدر محتاط نہیں ہوتا، نیز بعض باتیں امانت ہوتی ہیں اور ریکارڈ کرنے والا شخص بعض مرتبہ ریکارڈ کردہ بات امانت نہیں رکھتا، دوسروں تک پہنچادیتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص امانت کی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے تو اسے خیانت کا گناہ ہوگا۔"
عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”المجالس بالأمانة إلا ثلاثة مجالس: سفک دم حرام أو فرج حرام أو اقتطاع مال بغیر حق“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب الحذر والتأني فی الأمور، الفصل الثاني، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔
اسی طرح کے ایک اور سوال کے جواب میں دارلعلوم کے مفتیان کرام نے فتوی نمبر Fatwa ID: 587-621/L=5/1438
میں بڑی اہم بات کی طرف توجہ دلائی ہے، کہ
 "آپس میں جو بات چیت ہوتی ہے وہ امانت ہے؛ اس لیے بلا اجازت آنے اور جانے والی کال کو ریکارڈ کرنا درست نہیں لأن المجالس بالأمانة اور کال کو ریکارڈ کرکے اس کو عام کرنا صریح خیانت ہے خاص طور پر جب کہ بات ایسی ہو جو پوشیدہ رکھنے کی ہو اور بات کرنے والا مخاطب کو امین سمجھ کر اس سے اپنی دل کی بات کہہ رہا ہو۔"
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند۔
حقیقت:
اس بات سے کوںٔی انکار نہیں کر سکتا کہ آدمی کا مزاج اور موڈ ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا، کبھی عمر کے تقاضے، کبھی گھر کے مساںٔل، کھبی معاشی پیچیدگیاں، تو کبھی بیماریوں کے ڈیرے وغیرہ وغیرہ، یہ وہ زندگی کے جھمیلے ہیں، جو کسی بھی  انسان کے مزاج، پر اثر انداز ہوںٔے بغیر نہیں رہتے۔ لیکن ہر عاقل انسان زندگی کی ان ساری کڑواہٹوں کے باوجود عمومی مجالس میں اپنے جذبات، الفاظ، القاب، اور انداز گفتگو پر قابو رکھتا ہے۔ کسی سے ذاتیاتی یا نظریاتی اختلاف کے باوجود مجلس کے احترام کو ملحوظ رکھتا ہے۔ لیکن وہی انسان جب اپنی نجی محفل میں ہوتا ہے یا کسی کو اپنا رازدار سمجھ کر بات کرتا ہے تو تکلفات سے بالاتر ہوکر بات کرتا ہے۔   یہی انسانی فطرت ہے۔
اگر ہم سب کی پرسنل لیول پر کی ہوںٔی ہر گفتگو کو عام کردیا جائے تو پتہ نہیں کس کس سے ہمارے آپسی  تعلقات ختم‌ ہو کہ رہ جاںٔیں گے۔
ناراضگی یا ٹینشن میں کی ہوںٔی شاگرد کی بات اگر استاد کو‌ سنادی جاںٔے، یا اساتذہ کی آپس کی گفتگو کو مدرسہ کے مہتمم کو سنادی جاںٔے، یا سسر کی بات داماد کو، یا داماد کی سسر کو، یا بہو کی ساس کو یا ساس کی بہو کو، پڑوسی کی پڑوسی کو، یا ایک دوست کی دوسرے دوست کو سنادی جاںٔے، پھر تو محبتوں کے پھولوں کی جگہ ہر طرف نفرتوں کے کانٹے اگنے لگیں گے۔
کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ان میں اکثر باتیں ہم صرف جذبات میں بول بھی جاتے ہیں اور پھر بھول بھی جاتے ہیں۔ لیکن جب سامنا ہوتا ہے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ احترام ہی سے پیش آتے ہیں، اور ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ کا ضرور خیال کرتے ہیں، اور یہی حقیقت ہے۔
درخواست: 
اس‌ وقت عوام میں ٹیکنالوجی کا عروج تو ہے مگر اس کے استعمال کے متعلق آداب اور مساںٔل سے عدم واقفیت کی بنا پر، فتنہ اور انتشار کا سبب بن رہا ہے۔
کسی بھی عالم، بزرگ، تبلیغی ساتھی یا کسی بھی معروف شخص کی کال کو ریکارڈ کرنا, اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانا ایک وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
اسی لیے سارے احباب علم و دانش، اور حکمت و بصیرت رکھنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ اگر کسی کی بھی کوںٔی بھی پرسنل گفتگو یا نجی مجلس کی کوںٔی بھی گفتگو سوشل میڈیا کے ذریعے آپ تک پہنچنے، جو کسی کی دل آزاری کا سبب بن رہی ہو یا جس سے انتشار کی شکل وجود میں آنے کا امکان ہو تو اس پر حکمت و ہوشمندی کے ساتھ ضرور بہ ضرور گرفت کریں' مگر وہ بات کہنے والے پر نہیں، بلکہ اس پر جس نے یہ خیانت کی ہے اور اس کو ریکارڈ کرکے پھیلایا ہے۔ تاکہ آںٔندہ ایسی قبیح حرکتوں سے لوگ بچتے رہیں‌۔
اگر ہم ہر کسی کی پرسنل فون پر کی ہوںٔی نجی گفتگو کو، عمومی مجلس میں کی جانے والی گفتگو کے معیار ‌کے پیمانے پر تولنا شروع کردیں، تو غیر تو کیا  بہت سارے اپنے ہی یار دوست و قریبی رشتے دار بھی اس لپیٹ میں آجاںٔیں گے۔
اس کے لیے مقدس سرزمین حرم سے، اس عاجز کی یہ عاجزانہ درخواست ہے، علماء اور دانشوران قوم سے کہ،
"اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا"
پہلے ہی بہت غم ہیں ہم سب کے پاس، کںٔی زخم سوکھنے باقی ہیں۔ کںٔی دکھ بھلاںٔے نہیں جارہے ہیں، کںٔی دل کے پھپھولے اب بھی جل رہے ہیں۔ اگر صبر و تحمل سے کام  نہ لیا گیا تو چند نںٔے زخموں کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
آخری بات:
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذاحدث الرجل الحدیث ثم التفت فہی امانة (ترمذی:۱۹۵۹)
”جب ایک شخص کوئی بات کہے اورچلا جائے تو یہ بھی امانت ہے“
اس کے متعلق حضرت مولانا مفتی تنظیم عالم قاسمی‌صاحب،
استاذ حدیث دارالعلوم سبیل السلام، حیدرآباد، تحریر ‌فرماتے ہیں کہ،
"اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کوئی ایسی بات کہی جس کو وہ دوسروں سے چھپا نا چاہتا ہے، آپ پر اعتمادکرتے ہوئے اس نے اپنے دل کے خیالات کا اظہار کیا ؛ تاکہ آپ کوئی مشورہ دے سکیں یا اس کے د کھ دردمیں کام آئیں، توآپ کے لیے اس کی یہ بات امانت کے درجے میں ہے، اپنی ذات تک اسے محدود رکھیں، دوسروں کو بتانا جائز نہیں اس سے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اورتکلیف کا احساس ہوگا، بسا اوقات انسان دوستی اورتعلقات کی بنیاد پر کسی سے کچھ کہہ دیتا ہے اوراسے یقین ہوتا ہے کہ میرا یہ راز اس کے سینے میں محفوظ رہے گا مگر دوسرا شخص اس کا خیال نہیں کرتا بالخصوص جب دونوں میں کسی وجہ سے دوستی رنجش میں تبدیل ہو جاتی ہے، تو اس کے سارے راز دوسروں کے سامنے اگل دیتا ہے؛ تاکہ اس کی تحقیر ہو اورلوگ اسے برا بھلا کہیں یہ نہایت براعمل اورنچلی حرکت ہے، اس سے خدا ناراض ہوتا ہے اورنہ معلوم خدا کی کون سی ناراضگی ہلاکت کا سبب بن جائے."
اللہ ہم سب کو اس ٹیکنالوجی کے فتنہ سے حفاظت فرمائے۔ آمین ۔
Date : Friday 7 December 2018.

احقر محمد نعمان مکی۔
کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی مکہ مکرمہ۔
 Email : nomanmakki.mfa@gmail.com.
Talibeilm isse muttafiq hai

................
https://mastooraat.blogspot.com/2018/12/blog-post_16.html

Thursday, December 13, 2018

حافظہ کی تیزی اور حفظ قرآن کے لئے ایک عمل

حافظہ کی تیزی اور حفظ قرآن کے لئے ایک عمل
سوال
حافظہ تیز کرنے کی کوئی دعا قرآن وحدیث کے حوالے سے بتائیں اور حفظ قرآن کے لئے کوئی خاص عمل بتلائیں

جواب
حافظہ کی تیزی میں زیادہ کردار اورادو وظائف کی بجائے گناھوں سے اجتناب کا ھوتا ہے، گناھوں سے حافظہ کمزور ہوتا ہے، خصوصا قران کریم کاحافظ اگر گناھوں سے نہ بچتا ہو تو قرآن بھی بھول جاتا ہے، اس لئے ہر طرح کے گناہ سے بچنے کا اہتمام نہایت ضروری ہے۔ حفظ قران کے لئے ایک مسنون عمل بھی حدیث کی کتابوں میں ملتا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا، حضرت علی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں قرآن یاد کرتا ھوں لیکن وہ میرے سینے سے نکل جاتا ہے، محفوظ نہیں ریتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو میں تجھے ایسی ترکیب بتاؤں جو تجھے بھی نفع دے اور جسے تو بتائے اسے بھی نفع دے اور جو کچھ تو سیکھے تو وہ محفوظ رہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دریافت فرمانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شبِ جمعہ میں آخری تہائی رات میں اٹھ سکے تو بہت اچھا ہے کہ یہ فرشتوں کے اترنے کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے، اس وقت جاگنا مشکل ہو تو آدھی رات میں اور یہ بھی نہ ہوسکے تو رات کے شروع میں ہی کھڑا ہو اور چار رکعت نمازِ نفل پڑھ، پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ یسین، دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ دخان، تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ الم سجدہ اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملک پڑھ اور چوتھی رکعت کی التحیات سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالی کی حمدوثنا اور مجھ پر درود وسلام بھیج، تمام انبیا علیھم السلام کو بھی درود بھیج اور اس کے بعد تمام مومنین اور تمام مرحوم مسلمانوں کے لئے استغفار کر اور پھر درجِ ذیل دعا مانگ:
اللھم ارحمنی بترک المعاصی ابدا ما ابقیتنی، وارحمنی ان اتکلف ما لا یعنینی، وارزقنی حسن النظر فیما یرضیک عنی،اللھم بدیع السماوات والارض ذاالجلال والاکرام والعزۃ التی لا ترام اسئلک یا اللہ یا رحمن بجلالک ونور وجھک ان تلزم قلبی حفظ کتابک کما علمتنی، وارزقنی ان اقراہ علی النحو الذی یرضیک عنی، اللھم بدیع السماوات والارض ذاالجلال والاکرام والعزۃ التی لا ترام اسئلک یا اللہ یا رحمن بجلالک ونور وجھک ان تنور بکتابک بصری، وان تطلق بہ لسانی، وان تفرج بہ عن قلبی، وان تشرح بہ صدری، وان تغسل بہ بدنی؛ فانہ لا یعیننی علی الحق غیرک، ولا یؤتیہ الا انت، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے علی! اس عمل کو تین جمعہ یا پانچ جمعہ یا سات جمعہ کر،ان شاء اللہ دعا ضرور قبول ہوگی۔
(سنن ترمذی ومستدرک حاکم)۔
یہ عمل حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ نے اپنے رسالے فضائل قرآن کے آخر میں بھی میں بھی ذکر کیا ہے۔اگر حافظ نہ ہونے کی بنا پر اس عمل کا کرنا مشکل ہو تو ہر نماز کے بعد گیارہ بار
"رب اشرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی"
پڑھیں۔
فتوی نمبر : 143410200044

Saturday, December 8, 2018

کون سے لوگ جنت کی خوشبو سے محروم رہیں گے؟

کون سے لوگ جنت کی خوشبو سے محروم رہیں گے؟

حدیث: حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جس (مسلمان) نے کسی معاہدی (ذمی کافر) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا؛ جب کہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت (فاصلہ) سے محسوس ہوگی۔ (بدورالسافرہ: ۱۸۳۵)

حدیث: حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی رعایا کا حکمران بنائے مگر اس نے رعایا کو نیکی کی تلقین نہ کی تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گا۔ (بخاری واللفظ لہ:۱۳/۱۲۷، فتح الباری)
ترجمہ: جس شخص نے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنی ولدیت کی) نسبت کی تو وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا جب کہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کے فاصلہ سے محسوس ہوگی۔ (ابن ماجہ:۲۶۱۱۔ مسند احمد:۲/۱۷۱۔ باسناد صحیح، بدوالسافرہ:۱۸۳۸)

حدیث: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جنت کی خوشبو پانچ سو سال کے سفر سے سونگھی جائے گی مگر اس کی خوشبو کو نیک عمل کا احسان جتلانے والا اور والدین کا نافرمان اور ہمیشہ شراب پینے والا نہیں سونگھ سکے گا۔ (طبرانی صغیر: ۱/۱۴۵۔ حلیہ ابونعیم:۳/۳۰۷۔ بدورسافرہ: ۱۸۳۹)
حدیث: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بہت سی عورتیں (باریک یا مختصر یا تنگ لباس پہنتی ہیں اور وہ اس حالت میں) ننگی (شمار ہوتی ہیں خود گناہ کی طرف) مائل ہوتی ہیں اور (دوسروں کوگناہ کی طرف) مائل کرتی ہیں، یہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پاسکیں گی جب کہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے پائی جائے گی۔
(مؤطا مالک:۳/۹۱۳، موقوفا)

حدیث: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کے فاصلہ سے بھی سونگھی جاسکے گی اللہ کی قسم اس کو والدین کا نافرمان اور قطع رحمی کرنے والا اور بوڑھا بدکار اور وہ شخص جو تکبر کی وجہ سے اپنی چادر اور شلوار کو (زمین پر) گھسیٹتا ہوگا نہیں سونگھ سکے گا۔ (بدورالسافرہ: ۱۸۴۱)

حدیث: حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جو عورت اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرے گی تو اس پر جنت کی خوشبو تک سونگھنا حرام ہے۔ (ابوداؤد: ۲۲۲۶۔ ابن ابی شیبہ: ۵/۲۷۱۔ ترمذی، ابن ماجہ: ۲۰۵۵)

حدیث: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہوتا ہے کہ اس کے دل میں ایک مثقال کے برابر بھی تکبر موجود ہو تو اس شخص کے لئے جنت حلال نہیں ہوگی نہ تو وہ اس کی خوشبو سونگھ سکے گا اور نہ ہی اس کو دیکھ سکے گا۔ (مسنداحمد: ۴/۱۵۱۔ بدورالسافرہ: ۱۸۴۳)

حدیث: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: آخر زمانہ میں ایک قوم ایسی ہوگی جو کالا خضاب کرے گی جیسے کبوتروں کے پوٹے ہوتے ہیں یہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکیں گے۔ (ابوداؤد: ۴۳۱۲۔ نسائی:۸/۱۳۸)

فائدہ: حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنت کی خوشبو زمین پر پائی ہے جب کہ جنت سب آسمانوں سے اوپر ہے۔
(صفۃ الجنۃ ابن کثیر: ۱۴۴)

فائدہ: ان اعمال بد کی وجہ سے جنت کی خوشبو سے محروم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گے؛ ہاں جب یہ جہنم میں سزا پاچکیں گے یا اللہ کی رحمت سے ان کی بخشش ہوجائے گی یا یہ ان بُرے کاموں سے دنیا میں توبہ کرلیں گے اور ان کا گناہ معاف ہوجائے گا توان کوجنت کی خوشبو بھی پہنچے گی اور یہ جنت میں بھی جائیں گے۔

فائدہ: یہ جوجنت کی خوشبو کا مختلف مسافتوں سے پایا جانا احادیث میں وارد ہوا ہے یہ مختلف لوگوں کے اعمال ودرجات کے حساب سے ہے یا اللہ کی تعالیٰ کی منشاء پر موقوف ہے وہ جس کو جتنے فاصلہ سے چاہے جنت کی خوشبو پہنچادے یا جنت کی خوشبو سے پردے ہٹادے۔

Saturday, December 1, 2018

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر طائف
مکہ مکرمہ میں دس سال تک لگاتار تبلیغ دین کرنے کے باوجود حالات حوصلہ افزا نہیں ہوئے، ابوطالب جیسے مشفق چچا اور خدیجۃ الکبریٰ جیسی مہربان رفیق زندگی کے سفر آخرت سے مکہ میں تبلیغ تو الگ وہاں رہنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے محال ہوچکا تھا چنانچہ شوال سنہ 10 نبوت کے آخر میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے۔ یہ مکے سے نجران کی جانب 90 کلومیٹر دور پہاڑوں پر واقع خوشگوار آب و ہوا والا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسافت جاتے ہوئے پیدل طے فرمائی تھی۔ آپ کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ راستے میں جس قبیلے سے بھی گزر ہوتا ۔ اسے آپ اسلام کی دعوت دیتے تھے لیکن کسی نے بھی دعوت قبول نہ کی ۔ جب طائف پہنچے تو قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس تشریف لے گئے جو آپس میں بھائی تھے عبدیالیل، مسعود اور حبیب۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کو اسلام کی مدد کرنے اور اللہ و رسول کی اطاعت کی دعوت دی۔ جواب میں ایک نے کہا کہ وہ کعبے کا پردہ پھاڑے گا اگر اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہو تو۔ دوسرے نے کہا کیا اللہ کو تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ملا؟ تیسرے نے کہا: میں تم سے ہر گز بات نہ کروں گا ۔ اگر تم واقعی نبی ہو تو تمہاری بات رد کرنا میرے لیے انتہائی خطرناک ہے اور اگر تم نے اللہ پر جھوٹ گھڑ رکھا ہے تو پھر مجھے تم سے بات کرنی ہی نہیں چاہئے ۔ یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور صرف اتنا فرمایا: ” تم لوگوں نے جو کچھ کیا ہے اسے اپنے تک ہی محدود رکھنا۔
رسول محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں دس دن قیام فرمایا ۔ اس دوران آپ ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے ۔ اور ہرایک سے گفتگو فرمائی لیکن سب کا ایک ہی جواب تھا کہ ہمارے شہر سے نکل جاو کچھ دنوں کے بعد انہوں نے اپنے اوباشوں کو شہہ دے دی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو یہ اوباش گالیاں دیتے، تالیاں پیٹتے، اور شور مچاتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگ گئے۔ اور دیکھتے دیکھتے اتنی بھیڑ جمع ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے دونوں جانب لائن لگ گئی۔ پھر گالیوں اور بدزبانیوں کے ساتھ پتھر بھی چلنے لگے۔ جس سے آپ کی ایڑیوں پر اتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تربتر ہوگئے۔ ادھر حضرت زید بن حارثہ ڈھال بن کر چلتے ہوئے پتھروں کو روک رہے تھے۔ جس سے ان کے سر میں کئی جگہ چوٹ آئی۔ بدقماشوں نے یہ سلسلہ برابر جاری رکھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے کے ایک باغ میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ۔ یہ باغ طائف سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پناہ لی تو بھیڑ واپس چلی گئی۔ اور آپ ایک دیوار سے ٹیک لگاکر انگور کی بیل کے سائے میں بیٹھ گئے۔ قدرے اطمینان ہوا تو دعا فرمائی جو دعائے مستضعفین کے نام سے مشہور ہے۔ اس دعا کے ایک ایک فقرے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ طائف میں اس بدسلوکی سے دوچار ہونے کے بعد اور کسی ایک بھی شخص کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ کس قدر دلفگار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احساسات پر حزن و الم اور ہم و غم کا کس قدر غلبہ تھا ۔
دعائے مستضعفین 
اللھم اني اشکوا اليک ضعف قوتي وقلة حيلتي وھواني علي الناس برحمتک يا رب العالمين انت رب المستضعفين وانت ربي الي من تکلني الي بعيد يتجھمني او الي عدو ملکتہ امري ان لم يکن بک غضب علي فلا ابالي ولکن عافيتک اوسع لي من ذنوبي اسئلک بنور وجھک الذي اشرقت لہ الظلمت وصلح عليہ امر الدنيا والاخرة من ان يحل بي سخطک او ينزل علي عذابک لک العتبي حتي ترضي ولاحول ولا قوة الا بک
بار الٰہا! میں تجھ سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ پیش کرتاہوں ۔ اے ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے ۔ اور تو میرا بھی رب ہے ۔ تو مجھے کس کے حوالے کررہا ہے کیا کسی بیگانے کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے ۔ یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنادیا ہے ؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے ۔ لیکن تیری عافیت کی نظر کرم میرے لیے زیادہ کشادہ ہے ۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ چاہتا ہوں ” جس سے تاریکیاں روشن ہیں اور جس کی برکت سے دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوتے ہیں “ کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرنے یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو ، تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں “ 
(ابوداود فی الادب ( 301/5 حدیث رقم 5052 من حدیث علی ) قال المناوي في شرح ھذا الحديث ” ھذا يسمي دعاءالطائف ذالک ان النبي صلي اللہ عليہ وسلم لما مات ابوطالب اشتد اذي قومہ فخرج الي الطائف رجائ ان ياووہ وينصروہ فاذاقوہ اشد من قومہ)
ابنائے ربیعہ کے باغ میںادھر آپ کو ابنائے ربیعہ نے اس حالت زار میں دیکھا تو ان کے جذبہ قرابت میں حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے عیسائی غلام کو جس کا نام عداس تھا، بلاکر کہا کہ اس انگور کا ایک گچھا لو اور اس شخص کو دے آو ۔ جب اس نے انگور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے تو آپ نے بسم اللہ کہہ کر ہاتھ بڑھایا اورکھانا شروع کردیا۔ عداس نے کہا یہ جملہ تواس علاقے کے لوگ نہیں بولتے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہواور تمہارا دین کیا ہے ۔ اس نے کہا میں عیسائی ہوں اور نینویٰ کا باشندہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا اچھاتوتم مرد صالح یونس بن متی کی بستی کے رہنے والے ہو ۔ تو اس نے پوچھا آپ یونس بن متی کو کیسے جانتے ہیں؟ فرمایا وہ میرے بھائی تھے ۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں ۔ یہ سن کر عداس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر، ہاتھوں اورپاوں کو بوسہ دیا۔ یہ دیکھ کر ربیعہ کے دونوں بیٹوں نے آپس میں کہا لو : اب اس شخص نے ہمارے غلام کو بھی بگاڑ دیا ۔ اس کے بعد جب عداس واپس گیا تو دونوں نے اس سے کہا: یہ کیا معاملہ تھا ۔ اس نے کہا میرے آقا روئے زمین پر اس شخص سے بہترکوئی اور نہیں ہے۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جسے نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ ان دونوں نے کہا ۔ دیکھو عداس کہیں یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے نہ پھیر دے ۔ کیونکہ تمہارا دین اس کے دین سے بہتر ہے ۔
مکے کی طرف روانگیقدرے ٹھہر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ سے نکلے تو مکے کی راہ پہر چل پڑے ۔ غم و الم کی شدت سے طبیعت نڈھال اور دل پاش پاش تھا ۔ قرن منازل پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے ۔ ان کے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ بھی تھا ۔ وہ آپ سے یہ گزارش کرنے آیا تھا کہ آپ حکم دیں تو وہ ان مجرموں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالے ۔ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ عز وجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کردے گا ۔ جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی ۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گی ۔
صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا ہے جو احد کے دن سے بھی زیادہ سنگین رہا ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تمہاری قوم سے مجھے جن جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے سب سے سنگین مصیبت طائف کے دن ہوئی جب وہاں کے سرداروں نے میری تکذیب کی ، اورمجھے طائف سے باہر نکلنا پڑا حتی کہ قرن الثعالب پہنچ کرجبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے پہاڑوں کے فرشتے کو مجھ پر پیش کیا اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ حکم دیں تو انہیں دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں تو میں نے کہا نہیں مجھے امید ہے کہ اللہ عزوجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گاجوصرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب میں آپ کی یگانہ روزگار شخصیت اور ناقابل ادراک گہرائی رکھنے والے اخلاق عظیمہ کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ بہرحال اب سات آسمانوں کے اوپر سے آنے والی اس غیبی مدد کی وجہ سے آپ کا دل مطمئن ہوگیااور غم و الم کے بادل چھٹ گئے ۔ چنانچہ آپ نے مکے کی راہ پر مزید پیش قدمی فرمائی اور وادی نخلہ میں جا فروکش ہوئے ۔ یہاں دو جگہیں قیام کے لائق ہیں ۔ ایک السیل الکبیر اور دوسرے زیمہ ، کیونکہ دونوں ہی جگہ پانی اور شادابی موجود ہے ۔ لیکن کسی ماخذ سے پتہ نہیں چل سکا کہ آپ نے ان میں سے کس جگہ قیام فرمایا ۔
جنوں کا ایمان لاناوادی نخلہ میں آپ کا قیام چند دن رہا ۔ اس دوران میں حق تعالیٰ نے آپ کے پاس جنوں کی ایک جماعت بھیجی جس کاذکر قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے ۔ ایک سورہ الاحقاف میں اور دوسرے سورہ جن میں ۔ سورہ الاحقاف کی آیات یہ ہیں ۔
واذ صرفنا اليک نفرا من الجن يستمعون القران فلما حضروہ قالوا انصتوا فلما قضي ولو الي قومھم منذرينo قالوا يقومنا انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسي مصدقا لما بين يديہ يھدي االي الحق والي طريق مستقيمo قالوا يقومنا اجيبوا داعي اللہ وامنوا بہ يغفرلکم من ذنوبکم ويجرکم من عذاب اليمo
اور یاد کرو! جب ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا تاکہ وہ قرآن سنیں‘ پس جب وہ اس جگہ پہنچ گئے تو آپس میں کہنے لگے خاموش ہو جاؤ ‘پھر جب وہ پڑھا جاچکاتو اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیے واپس پلٹ گئے ( 29 ) کہنے لگے اے ہماری قوم ! بے شک ہم نے وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہبری کرتی ہے (30) اے ہماری قوم! داعی الی اللہ کی بات مانو‘ اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے معاف فرما دے گا اور تمہیں عذاب الیم سے پناہ دے گا (31) اور جو شخص اللہ کے داعی کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں عاجز نہیں کر سکتا‘اور نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مددگارہوں گے‘ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں (32)
یہ آیات جو اس واقعے کے بیان کے سلسلے میں نازل ہوئیں ۔ ان کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائً جنوں کی اس جماعت کی آمد کا علم نہیں ہوسکا تھا بلکہ جب ان آیات کے ذریعے اللہ عزوجل نے آپ کو اطلاع دی تب آپ واقف ہوئے ۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی یہ آمد پہلی بار ہوئی تھی اور احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعدان کی آمدو رفت ہوتی رہی ۔
جنوں کی آمد اور قبول اسلام کا واقعہ درحقیقت اللہ کی جانب سے دوسری مدد تھی ۔ جو اس نے اپنے غیب مکنون کے خزانے سے اپنے اس لشکر کے ذریعے فرمائی تھی جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ۔ پھر اس واقعے کے تعلق سے جو آیات نازل ہوئیں ان کے بین السطور سے نبی پاک کی دعوت کی کامیابی کی بشارتیں بھی ہیں ۔ اور اس بات کی وضاحت بھی کہ کائنات کی کوئی بھی طاقت اس دعوت کی کامیابی کی راہ میںحائل نہیں ہوسکتی ۔
چنانچہ ارشاد ہے ۔
ومن لا يجب داعي اللہ فليس بمعجز في الارض وليس لہ من دونہ اوليآء اولئک في ضلال مبين (46 : 32)
اور جو شخص اللہ کے داعی کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں عاجز نہیں کر سکتا‘اور نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مددگارہوں گے‘ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں (32)
مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ سورہ الاحقاف سنہ10 نبوت کے آخر یاسنہ11 کے شروع میں نازل ہوئی ۔ اس میں جنوں کے نبی سے قرآن سن کر ایمان لانے کا ذکر ہے‘ جب آپ طائف تشریف لے گئے تھے تو واپسی پر وادی نخلہ میں چندروز ٹھہرے ۔ انہی ایام میں ایک روز آپ رات کو نماز میں قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا ‘ انہوں نے قرآن سنا ایمان لائے اور واپس جا کر اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ شروع کردی ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ انسان چاہے تمھاری دعوت سے بھاگ رہے ہوں مگر بہت سے جن اس کے گرویدہ ہوگئے ہیں اور وہ اپنی جنس میں اسے پھیلا رہے ہیں ۔ طائف کا یہ سفر ہجرت سے تین سال پہلے پیش آیا !
اس نصرت اور ان بشارتوں کے سامنے غم و الم اور حزن و مایوسی کے وہ سارے بادل چھٹ گئے جو طائف سے نکلتے وقت گالیاں اور تالیاں سننے اور پتھر کھانے کی وجہ سے آپ پر چھائے ہوئے تھے ۔ آپ نے عزم مصمم کرلیاکہ اب مکے پلٹناہے اور نئے سرے سے دعوت اسلام اور تبلیغ رسالت کے کام میں چستی اور گرمجوشی کے ساتھ لگ جانا ہے ۔ یہی موقعہ تھا جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی تھی کہ آپ مکے کیسے جائیں گے جبکہ وہاں کے باشندوں نے آپ کو نکال دیا ہے ۔ اور جواب میں آپ نے فرمایا اے زید تم حالت دیکھ رہے ہو ۔ اللہ تعالیٰ اس سے کشادگی اور نجات کی کوئی راہ ضرور بنائے گا ۔ اپنے دین کی مدد کرے گااور اپنے نبی کو یقینا غالب فرمائے گا ۔
رسول برحق کی بات پوری ہوئی
حق تعالیٰ نے اپنے حبیب لبیب کی یہ بات کیسے پوری فرمائی : ملاحظہ فرمائیے!
فتح مکہ کے بعد جب قبول اسلام کی لہر چلی تو طائف کے ان لوگوں میں بھی اسلام نے اپنا گھر کرلیا چنانچہ عروہ بن مسعود اورعبدیالیل کی بارگاہ نبوت میں حاضری کا تذکرہ یوں ملتا ہے ۔
عروہ بن مسعود ثقفی کی حاضری
غزوہ حنین کے بعدثقیف میں سے سب سے پہلے جو شخص اسلام کی غرض سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا وہ عروہ بن مسعود ثقفی تھا ۔ یہ اپنی قوم کا سردار تھا اور صلح حدیبیہ میں کفار کا وکیل بن کر آیا تھا ۔ جنگ ہوازن و ثقیف کے بعد مدینہ منورہ حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا ۔ عروہ کی اس وقت دس بیویاں تھیں ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار رکھنے اور باقی کو فارغ کردینے کا حکم دیا ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ۔ واپس ہوتے وقت اس نے اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کی اجازت چاہی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خدشات ظاہر فرمائے تو اس نے کہا قوم میرا بڑا احترام کرتی ہے اس لیے کوئی خدشہ نہیں چنانچہ انہوں نے واپس آکر تبلیغ شروع کردی ۔ ایک دن اپنے بالاخانے میں نماز ادا کررہے تھے کہ کسی شقی القلب نے تیر مارا جس سے وہ زخمی ہوگئے اور اسی وجہ سے شہید ہوگئے ۔ لیکن جو آواز انہوں نے قوم کے کانوں تک پہنچائی تھی وہ دلوں پر اثر کیے بغیر نہ رہی ۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ قوم نے اپنے چند سرداروں کو منتخب کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ اسلام کی نسبت پوری واقفیت حاصل کریں ۔
ثقفی قبیلے کا وفد
سردار عبدیالیل کا قبول اسلام
چنانچہ اسی وفد ثقیف کاسردار عبدیا لیل تھا جس کو سمجھانے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ10 نبوت میں طائف کا سفر کیا تھا ۔ اور اس نے آپ کی بات سننے سے نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ اوباشوں کو آپ کے پیچھے لگادیا تھا جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ کو طائف سے نکال دیا تھا ۔ اس وقت نبی پاک نے ان کیلئے بددعا نہیں فرمائی تھی بلکہ اس امید کااظہار کیا تھا کہ اگر یہ لوگ نہیں تو ان کی نسلیں اسلام قبول کریں گی ۔ اب وہی دشمن اسلام خود بخود اسلام کیلئے اپنے دل میں جگہ پاتے اور بخوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یہ اہل ثقیف میری قوم کے لوگ ہیں ۔ کیامیں انہیں اپنے ہاں ٹھہرا لوں ۔ آپ نے فرمایا ہاں انہیں ایسی جگہ اتارو جہاں قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑے ۔ تب ان کے خیمے مسجد میں لگائے گئے ۔ جہاں سے یہ لوگ قرآن بھی سنتے تھے اور لوگوں کو نماز پڑھتے بھی دیکھتے تھے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اسلام کی صداقت گھر کرگئی ۔ اگلی صبح وہ لوگ خدمت اقدس میں آئے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے ترک نماز کی رخصت چاہی ۔ آپ نے فرمایا اس دین میں کوئی بھلائی نہیںجس میں نماز نہیں ۔ پھر انہوں نے کہا ہمیں جہاد کیلئے نہ بلایا جائے اور نہ ہی ہم سے زکوٰۃ وصول کی جائے ۔ آپ نے خاموشی اختیار کیے رکھی کہ اسلام کے اثر سے یہ کام وہ خود بخود کرلیں گے ۔ اس طرح صرف دس سال کے اندراندراسلام کی وہ وعوت جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کیلئے10 نبوت میں طائف تشریف لے گئے تھے آج طائف میں بہار پیدا کرنے لگ گئی ۔ وللہ الحمد
مکہ میں داخلہ اور پناہ کا حصول
ہم ایک بار پھر وہاں چلتے ہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ وسلم طائف والوں کے ظلم و ستم سے چور باغ ربیعہ میں پڑے ہوئے تھے ۔ اب آپ مکے کی طرف روانہ ہوئے اور مکے کے قریب پہنچ کرکوہ حرا کے دامن میں ٹھہر گئے ۔ پھر خزاعہ کے ایک آدمی کے ذریعے بنو زہرہ کے سردار اخنس بن شریق کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو پناہ دے دے ۔ مگر اخنس نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں حلیف ہوں اور حلیف پناہ دینے کااختیار نہیں رکھتا ۔ اس کے بعد آپ نے سہیل بن عمرو کے پاس یہی پیغام بھیجا مگر اس نے بھی معذرت کرلی کہ بنی عامر کی دی ہوئی پناہ بنو کعب پر لاگو نہیں ہوتی ۔ اس کے بعد آپ نے مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا ۔ مطعم نے کہا ہا ں اور پھر ہتھیار پہن کر اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں کو بلایا اور کہا تم لوگ ہتھیار باندھ کر خانہ کعبہ کے گوشوں پر جمع ہوجاو کیونکہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے ۔ اس کے بعد مطعم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ مکے کے اندر تشریف لے آئیں ۔ پیغام پانے کے بعد آپ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہمراہ لے کر مکہ تشریف لائے اور مسجد حرام میں داخل ہوگئے ۔ اس کے بعد مطعم نے اپنی سواری پر کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ قریش کے لوگو ! میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دے دی ہے۔ اب انہیں کوئی تنگ نہیں کرسکتا ۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حجر اسود کے پاس پہنچے اسے بوسہ دیا ۔ پھر دو رکعت نماز پڑھی اور اپنے گھر پلٹ آئے ۔ اس دوران مطعم بن عدی اور ان کے لڑکوں نے ہتھیار بند ہوکر آپ کے گرد حلقہ باندھے رکھا تاآنکہ آپ اپنے مکان کے اندر تشریف لے گئے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کے اس حسن سلوک کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔ چنانچہ بدر میں جب کفار کی ایک بڑی تعداد قید ہوکر آئی ۔ اور بعض قیدیوں کی رہائی کیلئے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
لوکان المطعم ابن عدی حیا ثم کلمنی فی ھٰولاءالنتنی لترکتھم لہ (بخاری) 
اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا ۔ پھر وہ مجھ سے ان بدبو دار لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا۔
طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو ناروا سلوک ہوا اس کے بدلے میں حق تعالی نے آپ کو بہت کچھ عطا فرمایا معراج کاسفر انہی دکھوں کے مداوے کیلئے بھی تھا پھر ہجرت کے واقعات پیش آئے گویا ہر آنے والا دن پہلے سے بہتر ثابت ہوا۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ ہر آنے والا دن گزرنے والے دن سے بہترنتائج والا ہوگا ۔
” قسم ہے چڑھتے دن کی
اور قسم ہے رات کی جب وہ پرسکون جائے
نہ تو تمھارے رب نے تمھیں چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا
یقیناً تمھارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے
اور قریب ہے کہ تمھارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوگے