Wednesday, December 26, 2018

پگڑی کس رنگ کی ہو؟ The colour of turban

پگڑی کس رنگ کی ہو؟

سوال: عمامہ کا رنگ کیسا ہو؟
جواب: نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے مختلف رنگوں کا عمامہ پہننا ثابت ہے:
(1) سیاہ عمامہ ۔ 
(2) سفیدعمامہ۔ 
(3) زرد عمامہ ۔ 
(4) سُرخ عمامہ ۔

کالا عمامہ:
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔
عَنْ جَابِرٍ قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ مَكَّةَ يَوْمَ الفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ۔(ترمذی:1735) حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو منبر پر تشریف فرما دیکھا اور آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا جس کے دونوں کناروں کو آپ نے اپنے دونوں کندھوں پر لٹکایا ہوا تھا۔ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ۔(ابوداؤد:4077)
سفید عمامہ:
حضرت عبد الرحمن بن عوف﷜نے کالے رنگ کا ایک کھردرے کپڑے کا عمامہ پہنا ہوا تھا ،آپﷺنے اُنہیں اپنے قریب بلایا اور اُن کاعمامہ کھولا اور پھر اُن کے سر پر سفید عِمامہ باندھا، اور اُس کا شَملہ پیچھے کی جانب چار انگلیوں یا اس کے قریب قریب کی مقدار کے برابر چھوڑ دیا اور فرمایا: پھر آپﷺنے فرمایا: اے ابن عوف! اِس طرح سے عمامہ باندھا کرو، اِس لئے کہ یہ بہت ہی اچھا اور خوبصورت ہے۔وَأَصْبَحَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ مَنْ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ، فَأَدْنَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَقَضَهُ وَعَمَّمَهُ بِعِمَامَةٍ بَيْضَاءَ، وَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَقَالَ: «هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ اعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ»۔(مستدرکِ حاکم:4/582) الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:رَأَيْتُ عَلَى الشَّعْبِيِّ عِمَامَةً بَيْضَاءَ قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا، وَلَمْ يُرْسِلْهُ۔(ابن ابی شیبہ :24972)إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ:«رَأَيْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عِمَامَةً بَيْضَاءَ»۔ (ابن ابی شیبہ :24973)
زرد عمامہ:
حضرت عبد اللہ بن جعفر﷜فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو دو زعفران میں رنگے ہوئے کپڑوں میں دیکھا ، ایک کپڑاچادر تھی اور دوسرا کپڑا عمامہ تھا۔عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مَصْبُوغَانِ بِالزَّعْفَرَانِ رِدَاءٌ وَعِمَامَةٌ»۔(مستدرکِ حاکم:4/209 ، رقم :7395)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی کو زرد رنگ کرتے تھے، حتی کہ ان کے کپڑے بھی زرد ہوتے تھے تو ان سے کہا گیا کہ آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ سے رنگا کرتے تھے اور حضور اکرم ﷺ کو اس سے زیادہ کوئی رنگ پسند نہیں تھا اور کبھی آپ ﷺ اس سے اپنے سارے کپڑوں کو بھی رنگا کرتے تھے ،یہاں تک کہ اپنا عمامہ بھی ۔عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَصْبُغُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ فَقِيلَ لَهُ لِمَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْهَا، وَقَدْ كَانَ يَصْبُغُ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ۔(ابوداؤد:4064)
حضرت سیدنا ابوہریرہ ﷜فرماتے ہیں :نبی کریمﷺہمارے پاس نکل کر آئے ،آپ نے زرد رنگ کی قمیص ، زرد رنگ کی چادر اور زرد رنگ کا عمامہ زیب تَن فرمایا ہوا تھا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:«خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ أَصْفَرُ وَرِدَاءٌ أَصْفَرُ وَعِمَامَةٌ صَفْرَاءُ»۔(تاریخ دمشق لابن عساکر:34/385، رقم:3814)
سُرخ عمامہ:
حضرت انس بن مالک ﷜فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺکووضو کرتے دیکھا، آپﷺ نے قِطری(سرخ دھاریوں والا کھردرا ) عِمامہ پہنا ہوا تھا، آپ نے عمامہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل فرماکر عمامہ کھولے بغیرسر کے اگلے حصہ کا مسح فرمایا۔رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ۔(ابوداؤد:147)هُوَ ضَرْب مِنَ البُرود فِيهِ حُمْرة، وَلَهَا أعْلام فِيهَا بَعْضُ الْخُشُونَةِ۔(النھایۃ لابن الأثیر:4/80)وَاسْتَدَلَّ بِهِ عَلَى التَّعَمُّمِ بِالْحُمْرَةِ وَهُوَ اسْتِدْلَالٌ صَحِيحٌ۔ (عون المعبود:1/172)
نبی کریم ﷺسے سبز عِمامہ پہننا ثابت ہے یانہیں :
سبز پگڑی کا پہننا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ۔البتہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو مختلف رنگ کی پگڑیاں پہنی ہیں، اُن میں ایک رنگ سبز بھی ذکر کیا گیا ہے ، چنانچہ مصنّف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے:
حضرت سلیمان بن ابی عبد اللہ فرماتے ہیں :میں نے اوّلین مہاجرین صحابہ کرام کو پایا ہے ، وہ لوگ کھردرے کپڑے کے سیاہ، سفید، سرخ ،سبز اور زرد عمامے پہنا کرتے تھے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:أَدْرَكْتُ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ يَعْتَمُّونَ بِعَمَائِمَ كَرَابِيسَ سُودٍ، وَبِيضٍ، وَحُمْرٍ، وَخُضْرٍ، وَصُفْرٍ۔
(ابن ابی شیبہ :24987)

سبز پگڑی کا حکم:
سبز رنگ چونکہ آپ ﷺکو محبوب تھا، جنتیوں کا لِباس بھی قرآن کریم میں سبز بیان کیا گیا ہے اِس لئے سبز رنگ کی پگڑی کو دوسرے رنگوں پر ترجیح دیے بغیر اگر کوئی استعمال کرتا ہے تو جائز ہے، ہاں! اگر کوئی اسے اپنا شعار اور امتیازی علامت بنالے اور دوسرے رنگوں پر اس کو ترجیح اور فوقیت دے ایسی صورت میں اس کو استعمال بدعت کہلائے گا ، کیونکہ کسی مباح اور مستحب چیز کا التزام بدعت اور قابلِ ترک ہوتا ہے۔
(کشف الباری، کتاب اللباس :172 ، 173)

آج کل چونکہ یہ ایک مخصوص طبقہ کا علامتی نشان بن گیا ہے، نیز ، لہٰذا ترک کرنا ہی اولیٰ ہے ۔ کیونکہ شریعت کا اصول ہے کہ جب کوئی سنّت کام اہلِ بدعت کا شعار بن جائے تو اُس کا ترک کرنا اولیٰ ہوتا ہے ،چہ جائیکہ وہ عمل سنت ہی نہ ہو اور اہلِ بدعت کا شعار بن چکا ہو تو اُس کا ترک تو بطریق اولیٰ ضروری ہوگا۔
كُلَّ سُنَّةٍ تَكُونُ شِعَارَ أَهْلِ الْبِدْعَةِ تَرْكُهَا أَوْلَى۔
(مرقاۃ ،المشی بالجنازۃ:3/1211)
إذَا تَرَدَّدَ الْحُكْمُ بَيْنَ سُنَّةٍ وَبِدْعَةٍ كَانَ تَرْكُ السُّنَّةِ أَوْلَى۔
(شامیہ :1/642)

فروغ ِاسلام میں خواتین کا کردار

فروغ ِاسلام میں خواتین کا کردار 
خواتین نوع انسانی کا نصف حصہ ہیں؛ وہ انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ اسلام نے خواتین کے لئے اجر وثواب اور خدمات وطاعت کے وہ مواقع رکھے ہیں؛ جو مردوں کے لئے ہیں۔ قرآن کریم کا اعلان ہے:
من عمل صالحا من ذکر او انثی وھو مومن فلنحیینہ حیوة طیبة ولنجزینھم اجرھم باحسن ماکانوا یعملون۔ (النحل ۷۹)
یعنی جس نے نیک عمل کیا۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔ اور ہم انھیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی وتبلیغی جد وجہد کا مرکز جس طرح مردوں کو بنایا اسی طرح عورتوں کو بھی بنایا۔ آپ کی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں جس طرح خدا پرستی کا مثالی جذبہ مردو ں میں پیدا ہوا اسی طرح خواتین میں بھی انقلابی روح پیدا ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پائی اس طرح صحابیا ت رضی اللہ عنہما بھی رسول اللہ کے فیض صحبت اور ان کی مثالی تربیت کے زیور سے آراستہ پیراستہ ہوکر دیگر خواتین کے لئے نجوم ہدایت بن گئیں؛ اگر ہماری عورتوں کے سامنے اسلام کی ان بر گزیدہ خواتین کا نمونہ پیش کردیا جائے؛ تو ان کی فطری لچک ان سے اور زیادہ متاثر ہوسکے گی اور موجودہ دور کے مؤثرات سے بے نیاز ہوکر خالص اسلامی اخلاق اسلامی معاشرت اور اسلامی تمدن کا نمونہ بن جائے گی ۔آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے، یوروپی تمدن اور مغربی طرز معاشرت سے ہمارے ہمارے جدید تعلیم یافتہ لوگ بھی بے زاری کا اظہار کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام کی قدیم تاریخ مسلمان عورت کا بہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے ۔ فروغ اسلام میں خواتین کا ہمیشہ معیاری اور شاندار کردار رہا ہے۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کردار کو ذیل کے سطور میں نمایا ں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
قبول اسلام میں سبقت۔ کفار میں ہمیں بہت سے اشقیاء کا نام معلوم ہے جنھوں نے ہزاروں کوششوں کے بعد بھی اللہ تعالی کے آگے سر نہیں جھکایا؛ لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سینکڑوں ایسے بزرگ ہیں؛ جو توحید کی آواز سننے کے ساتھ ہی اسلام کے حلقہ میں داخل ہوگئے ۔ صحابہ کے ساتھ صحابیات اس فضیلت میں برابر کی شریک ہیں۔اور نہ صرف شریک ہیں بلکہ بعض جہات سے ان پر ترجیح بھی رکھتی ہیں۔ چنانچہ یہ شرف تمام لوگوں میں ام المومنیں سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کو حاصل ہے کہ وہ سب سے پہلے اور بغیر کسی کد کدوکاوش اور بغیر کسی جبر واکراہ کے اسلام قبوک کرنے اور نبی کریم کے بعد امت میں سب سے پہلے خداوند قدوس کے سامنے سر جھکانے والی بن گئیں۔تاریخ ابن خمیس میں سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں دو شنبہ کے دن مبعوث ہوا اور خدیجہؓ نے اس دن کے آخر کی نماز پڑھی، اور علی ؓنے دوسرے دن منگل کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد ابوبکر ؓ صدیق اور زید بن حارثہ شریک نماز ہوئے۔ (۶۸۲) اسلام میں سب سے بڑی فضیلت تقدم فی الاسلام ہے۔اور حضرت ابوبکر کے پاس فضائل میں یہ سب سے بڑی فضیلت ہے؛ لیکن اس میں بھی تین صحابیات شریک ہیں۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت سمیہؓ حضرت ام ایمن ؓ۔
تقدم فی الاسلام کے بعد سب سے بڑا شرف تقدم فی الہجرہ ہے۔ اس میں صحابہ کرام کے ساتھ ہجرت کرنے والی تمام مہاجرات خواتین صحابیات ،مہاجر صحابہؓ کی شریک ہیں؛ اسلام میں سب سے پہلی ہجرت ہجرت حبشہ ہے اور اس ہجرت میں ایک صحابیہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو وہ شرف حاصل ہوا کہ جس پر تمام صحابہ رشک کرتے تھے۔ ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا وہ تم سے زیادہ میرے مستحق نہیں؛ کہ عمرؓ اور اس کے اصحاب کی ایک ہجرت ہے اور تم اہل کشتی کی دو ہجرتیں ہیں۔ (مسلم باب من قضاء جعفر بن ابی طالب اسماء بنت عمیس)
خلاصہ یہ کہ آفتاب رسالت سے پہلے دن جو شعاع افق عالم پر چمکی وہ ایک رقیق القلب خاتون کے سینہ پر نور سے چھن کر نکلی۔
اعلان اسلام:
ابتدائے اسلام میں اسلام قبول کرنے سے زیادہ اظہار اسلام کے لئے ہمت شجاعت اور جسارت کی ضرورت تھی ۔کفار کے روک ٹھوک کے اور ظلم وستم کے باوجود صحابہ کے ساتھ صحابیات نے بھی پوری جرأت کے ساتھ اپنے اسلام کا اظہار کیا؛ چنانچہ ابتدا میں جن سات بزرگوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا تھا؛ ان میں خود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ، حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت صہیب، حضرت عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتویں ایک غریب صحابیہ حضرت سمیہ ؓ بھی شامل ہیں۔
تحمل شدائد: 

صحابہ کرام ؓکے ساتھ صحابیاتؓ نے بھی اسلام کی راہ میں ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کیا، مختلف سختیوں اور آزمائشوں کا انھیں شکار بننا پڑا۔ لیکن ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی تزلزل واقع نہیں ہوا۔ صحابیات ؓکی یہ سب سے بڑی فضیلت ہے کہ سب سے پہلے ایک صحابیہ نے اسلام بھی قبول کیا اور سب سے پہلے ایک صحابیہ نے شرف شہادت بھی حاصل کی۔ حضرت سمیہؓ کو ملعون ابوجہل نے ران میں برچھی مارکر شہید کردیا۔
سیدنا عمر بن خطاب ؓ کی بہن نے جب اسلام قبول کیا اور عمر کو ان کا حال معلوم ہوا تو ان کو اس قدر مارا کہ لہو لہان ہوگئیں لیکن انھوں نے صاف کہہ دیا جو کچھ کرنا کرلو میں تو اسلام لاچکی (اسد الغابة تذکرة عمر)
حضرت لبینہؓ اور زنیرہ، اور نہدیہ (جو باندی تھیں) کو بھی کفار سخت تکلیفیں دیتے اور سختیاں کرتے؛ لیکن وہ سب اسلام پر جمی رہیں۔ سیدہ فکیہہ ایک صحابیہ تھیں۔ سیدنا عمر اپنے اسلام سے قبل اس کو اتنا مارتے کہ تھک جاتے۔تھک کر چھوڑ دیتے اور کہتے کہ میں رحم کھاکر تجھ کو نہیں چھوڑا بلکہ اس لئے چھوڑا ہے کہ تھک گیا ہوں۔ وہ نہایت استقلال سے جواب دیتیں۔ عمر اگر تم مسلمان نہ ہوگے تو اللہ تم سے ان بے رحمیوں کا انتقام لے گا۔ (مسلمان عورتوں کی بہادری)
ایمان لانے کے بعد سارے رشتے ناطے منقطع ہوجاتے ہیں؛ شوہر بیوی سے جدا ہوجاتی ہے۔ یہ بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ عورت کی زندگی کا دار ومدار عام طور پر شوہر اور رشتہ داروں کی اعانت پر ہوتا ہے؛ لیکن صحابیات نے اس تکلیف کو بھی اسلام کی سر بلندی اور رب کی رضا کے لیے بر داشت کرلیا۔
توحید پر استقامت: 

کفار نے صحابیات کو طرح طرح کی تکلیفین دیں ؛لیکن ان کی زبان سے توحید کے علاوہ کچھ نہیں نکلا ۔سیدہ ام شریک ؓ ایمان لائیں؛ تو ان کے اعزہ واقرباء نے ان کو دھوپ میں لے جاکر کھڑا کردیا۔ اس حالت میں جب کہ وہ دھوپ میں جل رہی تھیں تین دن گذرگئے؛ تو ظالموں نے کہا کہ جس دین پر تم ہو اب اس کو چھوڑ دو۔ وہ اس قدر بدحواس ہوچکی تھیں کہ ان جملوں کا مطلب نہ سمجھ سکیں۔ جب انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا تو وہ سمجھیں کہ یہ ظالم ہم سے توحید کا انکار کروانا چاہتے ہیں۔ تو ام شریکؓ کہنے لگیں خدا کی قسم میں اب بھی اسی پر قائم ہوں۔ (طبقات ابن سعد۔ تذکرہ ام شریک)
شرک سے علحدگی: 

مختلف اسباب کی وجہ سے عورتیں قدیم رسم ورواج اور قدیم عقائد کی پابند ہوتی ہیں، عرب میں مشرکانہ عقائد ونظریات اور باطل رسم ورواج پھیل کر قلوب میں راسخ ہوگئے تھے ؛لیکن صحابیات ؓ نے اسلام قبول کرنے کے ساتھ ہی شدت سے ان عقائد کا انکار کیا۔ اہل عرب کا خیال تھا کہ جو بتوں کی برائی بیان کرتا ہے، وہ مختلف بیماریوں اور آفتوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس لیے جب سیدہ زنیرہؓ اسلام لانے کے بعد طبعا نابینا ہوگئیں، تو کفار نے یہ کہنا شروع کیا کہ ان کو لات اور عزی نے اندھا کردیا ہے۔ لیکن انھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ لات وعزی خود مجبور ہیںانھیں اپنے پوجنے والوں کی کیا خبر۔ (اسد الغابہ، تذکرہ زنیرہ)
عرب میں شرک کا اصلی مرکز بت تھے، جو گھر گھر میں نصب تھے، لیکن صحابیات نے ہرحال میں ان سے تبرا ظاہر کی۔ سیدنا ابو طلحہؓ نے جب سیدہ ام سلیمؓ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، تو انھوں نے کہا ابو طلحہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ جن مورتیوں کو تم پوجتے ہو وہ لکڑی کی ہے، جو زمین سے اگتی ہے۔ پھر کہنے لگیں تم کافر ہو اور میں مسلمان۔ آپس میں نکاح کیوں کر ہوسکتا ہے؟ اگر تم اسلام قبول کرلو، تو وہی میرا مہر ہوگا اس کے سوا تم سے کچھ نہیں مانگوں گی۔ چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور اسلام لانا ہی ان کا مہر مقرر ہوا (اسد الغابہ، تذکرہ زید بن سہل بن اسود)
شجاعت وبہادری: 

غزوات میں صحابہ کرامؓ کی بہادری کے مانمٹ نقوش سے تاریخ کے صفحات پُر ہیں۔ لیکن اس میدان میں بھی صحابیات پیچھے نہیں ہیں۔ صحابہ نے جس طرح داد شجاعت دی صحابیاتؓ کے بہادرانہ کارنامے اس سے بھی حیرت انگیز ہیں۔ غزوہ حنین میںکفار نے اس زور شور سے حملہ کیا تھا کہ صحابہ کے قدم اکھڑ گئے اور میدان جنگ لزر اٹھا تھا؛ لیکن حضرت ام سلیم ؓکی شجاعت کا یہ حال تھا کہ ہاتھ میں خنجر لیے ہوئے منتظر تھیں کہ کوئی کافر سامنے آئے تو اس کا کام تمام کردیں ۔۔حضرت طلحہ نے ان سے پوچھا یہ کیا؟؟ کہنی لگیں میں چاہتی ہوں کہ کوئی کافر قریب آئے تو اس کا پیٹ چاک کردوں ۔(ابوداود، کتاب الجہاد)
غزوہ خندق میں رسول اللہ ﷺ نے تمام عورتوں کو ایک قلعہ میں محفوظ کردیا تھا ایک یہودی آیا اور قلعہ کے گرد چکر لگانے لگا حضرت صفیہ ؓ نے دیکھا تو حسان بن ثابت ؓ سے کہا کہ یہ دشمن کا جاسوس معلوم ہوتا ہے، اس کو ٹھکانے لگا دو بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں ۔اب حضرت صفیہ خود اتریں اور خیمہ کی ایک میخ اکھاڑ کر اس زور سے اسدشمن کو مارا کہ وہ وہیں ٹھنڈا ہوگیا۔ (اسد الغابة، تذکرة سمیہ بنت عبد المطلب) مورخ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ یہ پہلی بہادری تھی جو ایک مسلمان عورت سے ظاہر ہوئی۔ (اسد الغابہ)
سیدہ ام عمارہ ؓ ایک مشہور صحابیہ ہیں، قبل از ہجرت جب مقام عقبہ پر مدینہ کے نیک لوگوں نے کفار قریش سے چھپ کر اسلام کی اشاعت اور رسول اللہ ﷺ کی امداد کے لیے رسول اللہ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی ،تو اس مختصر سی جماعت میں سیدہ ام عمارہؓ بھی شریک تھیں؛ اسی طرح جنگ احد میں عین اس وقت جب مسلمانوں کے قدم اکھڑرہے تھے اور نبی کریم پر کفار بڑھ بڑھ کر حملے کررہے تھے؛ اور جان نثار آگے آکر آکر اپنی جانیں قربان کر رہے تھے یہ بہادر خاتون بھی تیغ بدست حملہ آووروں کو مار مار کر پیچھے ہٹا رہی تھیں ۔اس دن کئی زخم ان کے دست وبازو میں آئے تھے ۔دیگر غزوات میں بھی ان سے بے مثال بہادری کے کارنامے ظہور میں آئے ۔ صدیق اکبر کے زمانے میں جنگ یمامہ میں بھی انھوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور جب تک ان کا ہاتھ بری طرح زخمی نہ ہوگیا اس وقت تک لڑتی رہیں (فتوحات اسلام ،سید دحلان ص ۶۴)
سن ۶ ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ نے حج کے اردہ سے مکہ مکرمہ کاارادہ کیا ،اور تحقیق حال کے لیے حضرت عثمان ؓ کو مکہ بھیجا ان کے بارے میں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمانؓ کو قریش نے شہید کردیا ہے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے تقریبا تمام صحابہ سے کفار قریش سے لڑنے مرنے پر بیعت لی ،جو اسلامی تاریخ میں ”بیعت رضوان“ سے مشہور ہے موت پر بیعت کرنے والیوں میں حضرت ام عمارہؓ بھی شامل تھیں۔
ام زیاد اشجعیہ ؓ اور دوسری پانچ عورتوں نے غزوہ خیبر میں چرخہ کات کر مسلمانوں کی مدد کی وہ میدان سے تیر اٹھاکر لاتی تھیں اور سپاہیوں کو ستو پلاتی تھیں۔ (مسلم ج۲ص ۵۰۱) ام عطیہ ؓ نے سات غزوات میں صحابہ کرام کے لیے کھانا پکایا. (طبری ج۶،۶۱۳۲)
حضرت فاروق اعظم ؓکے زمانے میں جنگ قادسیہ اسلام اور باطل کے درمیان ہونے والا زبردست اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس جنگ میںعرب کی مشہور شاعرہ حضرت خنساءؓ بھی شریک تھیں ۔حضرت خنساء کے ساتھ ان کے چاروں بیٹے بھی شریک تھے شب کے ابتدائی حصہ میں جب ہر سپاہی صبح کے ہولناک منظر پر غور کررہا تھا؛ آتش بیان شاعرہ نے اپنے بیٹوں کو یوں جوش دلا نا شروع کیا
(ترجمہ اشعار) پیارے بیٹو! تم اپنی خواہش سے مسلمان ہوئے اور تم نے ہجرت بھی کی خدائے وحدہ لاشریک لہ کی قم جس طرح تم ایک ماں کے بیٹے ہو۔ ایک باپ کے بیٹے بھی ہو۔ میں نے تمہارے باپ سے خیانت نہیں کی اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا اور نہ تمہارے حسب ونسب میں داغ لگایا ۔جو ثواب عظیم اللہ تعالی نے کافروں سے لڑنے میں مسلمانوں کے لیے رکھا ہے ۔تم اس کو خود جانتے ہو خوب سمجھ لو کہ آخرت جو ہمیشہ رہنے والی ہے اس دار فانی سے بہتر ہے ۔اللہ فرماتا ہے: 

یاایھا الذین ّمنوا اصبرو وصابروا ورابطو واتقوا للہ لعلکم تفلحون (آل عمران) مسلمانوں صبر کرو اور استقلال سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوسکو۔ کل جب خیریت سے صبح کرو انشاءاللہ تو تجربہ کاری کے ساتھ اللہ سے مدد مانگتے ہوئے تم دشمن پر جھپٹ پڑنا اور جب دیکھنا کہ لڑائی زوروں پر ہے تو خا ص طور پر تم جنگ کی بھٹی کی طرف رخ کرنا اور جب دیکھنا کہ فوج غصہ سے آگ ہورہی ہے تو غنیم کے سپہ سالاروں پر ٹوٹ پڑنا۔ اللہ کرے کہ تم دنیا میں مال غنیمت اور عقبی میں عزت پاؤ۔ (اسد الغابہ)
صبح کو جنگ چھڑتے ہی سیدہ خنساء ؓکے چاروں بیٹے یک بار گی دشمنوں پر جھپٹ پڑے۔ اور آخر کار بڑی بہادری سے چاروں لڑکر شہید ہوگئے ۔سیدہ خنساءکو جب یہ خبر پہنچی تو انھوں نے کہا: اس اللہ کا شکر ہے جس نے بیٹوں کی شہادت کا مجھے شرف بخشا۔
مورخ طبری نے جنگ یر موک میں سیدہ ام حکیم بنت حارث کا نام خصوصیت سے لیا ہے۔ ابن اثیر جزری نے لکھا کہ معاذ بن جبلؓ کی پھوپھی زاد بہن اسماء بنت عمیس نے تنہا نو رومیوں کو مارڈالا ۔کہا جاسکتا ہے کہ یرموک کی جنگ میں اگر خواتین تلوار سونت کر رومیوں پر نہ پل پڑتیں تو شاید فتح نہ ہوپاتی ۔
اشاعت اسلام:  

صحابیات نے اپنی نیک طینتی سے صرف اسلام ہی قبول نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے بھی ہر ممکن قربانی پیش کی۔ بخاری کتاب التیمم میں یہ روایت ہے کہ صحابہ کرام نے ایک سفر میں ایک عورت کو پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ اس کے پاس پانی کے مشکیزے تھے۔ اور صحابہ ؓنے پانی کی ضرورت سے ہی اسے پکڑا تھا ۔ لیکن رسول ﷺ نے اس کا پانی لیا تو اس کی قیمت بھی ادا کی۔ اس عورت کو رسول اللہ کی اس اعلی دیانت کی وجہ سے اسی وقت آںحضرت ﷺ کی نبوت کا یقین ہوگیا۔ اور اس اثر سے اس کا پورا قبیلہ مسلمان بھی ہوگیا۔
حضرت ام شریک ؓ ایک صحابیہ تھیں، جو آغاز اسلام میں خفیہ طور پر قریش مکہ کی عورتوں میں دعوت وتبلیغ کا کام کرتی تھیں؛ قریش کو انکی خفیہ دعوتی سر گرمیوں کا علم ہوا تو انھیں کفار نے مکہ سے نکال دیا ۔(اسد الغابہ)
سیدہ ام حکیم بنت الحارث ؓ کی شادی عکرمہ بن ابی جہل سے ہوئی تھی ،فتح مکہ کے دن وہ تو مسلمان ہوگئیں ؛لیکن ان کے شوہر عکرمہ بھاگ کر یمن چلے گئے ۔ام حکیم ؓ نے یمن کا سفر کیا اور اپنے شوہر کو دعوت ِاسلام دی۔ وہ بیوی کی دعوت پر مسلمان ہوکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو رسول اللہ ﷺ انھیں دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑے۔ (موطا امام مالک کتاب النکاح ،باب نکاح المشرک اذا اسلمت زوجتہ قبلہ)
نومسلموں کی کفالت: 

ابتدائے اسلام میں جو لوگ اسلام لاتے تھے ؛ان کو مجبوراً اپنے گھر ،بار اہل وعیال اور مال وجائیداد سے کنارہ کش ہونا پڑتا تھا؛ اس لیے اس وقت اشاعت اسلام کے ساتھ اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ ان نو مسلموں کی کفالت کی جائے ۔ صحابیات ؓ نے ان کی کفالت میں نمایا ں حصہ لیا ۔چنانچہ حضرت ام شریکؓ کا گھر گویا نو مسلموں کے لیے مہمان خانہ بن گیا تھا ،یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ بنت قیسؓ کو صرف اس بناءپر ان کے گھر عدت گذارنے کی اجازت نہیں دی کہ ان کے گھر نو مسلم مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے پر دہ کا انتظام نہیں ہوسکتا تھا. (مسلم ،کتاب الطلاق، باب المطلقہ ثلاثا لانفقة لہا ۔کتاب الفتن باب فی خروج الدجال)
خدمت ِمجاہدین: 

جہاد ایک اعلی عبادت ہے ۔جو خاص حالات میں مردوں پر فرض ہے ۔ صحابہ کرام مرد ہونے کی وجہ سے بنفس نفیس جہاد میں شریک ہوتے تھے۔ صحابیات عورت ہونے کی وجہ سے اگر چہ بنفس نفیس معرکہ کارزار میں شریک نہیں ہوسکتی تھی لیکن جہاں تک جذبہ جہاد کی بات ہے تو صحابیات بھی اس معاملہ میں مردوں سے پیچھے نہیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ ہوتی تھیں؛ البتہ ان کے لیے سب سے موزوں کام زخمیوں کی مرہم پٹی اور مجاہدین کے آرام وآشائش کا سامان بہم پہنچانا تھا ۔اس حوالہ سے سیدہ ام عطیہؓ ،سیدہ عائشہؓ، سیدہ ام سلیمؓ ،سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہن کا نام نمایاں ہے ۔سیدہ ربیع بنت معوذؓ کہتی ہیں کہ ہم سب غزوات میں شریک ہوئے تھے۔ پانی پلاتے تھے مجاہدین کی خدمت کرتے تھے اور مدینہ تک زخمیوں اور لاشوں کو اٹھا کر لاتے تھے۔ (بخاری، کتاب الجہاد باب رد النساءالقتلہ)
سیدہ رفیدہ ؓ نے مسجد نبوی میں خیمہ کھڑا کررکھا تھا، جو لوگ زخمی ہوکر آتے تھے وہ ان کا اسی خیمہ میں علاج کرتی تھیں؛ چنانچہ سیدنا سعد بن معاذ ؓ غزوہ خندق میں زخمی ہوئے تو ان کا علاج اسی خیمہ میں کیا گیا۔ (اصابة، تذکرة سیدہ رفیدہ)
ایک موقع پر حضرت عمر نے چادر تقسیم فرمائی ایک چادر بچ گئی کسی نے کہا اپنی بیوی کو دے دیں کہنے لگے ام سلیطؓ اس کی زیادہ مستحق ہ
یں۔ کیوں کہ وہ غزوہ احد میں مشک بھر بھر کر پانی لاتی تھیں اور ہمیں پلاتی تھیں ۔: (بخاری کتاب الجہاد ،باب حمل النساءالقرب الی الناس)
بدعات کا استیصال:

بدعت دین کے لیے بمنزلہ گھن کے ہے، اس لیے بااثر صحابیاتؓ نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی نخل اسلام میں گھن نہ لگنے پائے ۔ مثلا غلافِ کعبہ کی عزت وحرمت مسلمانوں میں بہت زیادہ تھی۔ سیدہ عائشہؓ سے اس واقعہ کو بیان کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس تعظیم کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم نہیں فرمایا ہے (جب غلاف کعبہ سے اتر گیا تو اس کا کسی طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔(عین الاصابہ بحوالہ سنن بیہقی)
امر بالمعروف نہی عن المنکر: 

ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ ایک گھر میں مہمان بنیں۔ میزبان کی دد لڑکیوں کو جو جوان ہوچکی تھیں: دیکھا کہ بے چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ اس پر آپ نے تنبیہ کی اور تاکید کی کہ آئندہ کوئی لڑکی بے چادر اوڑھے نماز نہ پڑھے ۔رسول اللہ نے یہی فرمایا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ج۶ص ۹۶)
سیدہ عائشہ ؓ کے گھر میں کچھ کرایہ دار رہتے تھے، ان کی نسبت ان کو معلوم ہواکہ وہ نرد کھیلتے ہیں، تو وہ سخت بر افروختہ ہوئیں ؛اور کہلا بھیجا کہ اگر نرد کی گوٹیوں کو میرے گھر کے باہر نہ پھینک دوگے۔ تو میں اپنے گھر سے نکلوا دو ں گی۔ (الادب المفرد۔ باب الادب واخراج الذین یلعبون النرد)
ایک دن ان کی بھتیجی سیدہ حفصہؓ بنت عبد الرحمن نہایت باریک دو پٹہ اوڑھ کر سامنے آئیں۔ سیدہ عائشہ ؓ سخت ناراض ہوئیں اور اسی وقت غصہ میں اس کو پھاڑ دیا پھر فرمایا کہ تم نہیں جانتیں کہ اللہ تعالی نے سورہ نور میں کیا احکامات نازل فرمائے ہیں ۔اس کے بعد انھیں دبیزکپڑے کادو پٹا منگواکر اوڑھایا۔ (موطا امام مالک کتاب اللباس)
علوم دینیہ کی حفاظت واشاعت: 

محدثین ؒنے روایت حدیث کے لحاظ سے صحابہ کے پانچ طبقے قرار دیے ہیں اور تقریبا ہر طبقہ میں صحابہ کے ساتھ صحابیات بھی شامل ہیں۔ اول مکثرین ۔ہزار یا اس سے زیادہ روایت والے ۔حضرت سیدہ عائشہ ؓ کا شمار اسی طبقہ میں ہوتا ہے۔
دوسرا طبقہ: 

پانچ سو یا اس اسے زیادہ روایت والے۔ 
تیسرا سو یا اس سے زیادہ روایت والے۔ اس طبقہ میں حضرت ام سلمہ ؓہیں، 
چوتھا طبقہ ۔ جن کی روایت چالیس سے ایک سو ہو، ان میں بکثرت صحابیات شامل ہیں مثلا سیدہ ام حبیبہ ؓ، سیدہ میمونہؓ ،سیدہ ام عطیہ انصاریہؓ، سیدہ حفصہؓ، سیدہ اسماء بنت ابی بکرؓ، سیدہ ام ہانی ؓ وغیرہ ۔پانچواں طبقہ جن کی روایت چالیس یا اس سے کم ہو۔ اس طبقہ میں بھی بکثرت صحابیات موجود ہیں ۔مثلا سیدہ ام قیس ، سیدہ فاطمہ بنت قیس ،سیدہ ربیع بنت معوذ ،سیدہ برہ بنت صفوان، سیدہ کلثوم بنت حصین، حضرت جداء بنت وہب رضی اللہ عنہن وغیرہ
حدیث فہمی کا اعلی معیار:  

روایت کی روح تک پہنچ جانا اور اس کے صحیح مفہوم کو جاننا اسے درایت حدیث کہتے ہیں ۔کہا جاسکتا ہے کہ اس فن کی ابتداءحضرات صحابیات سے ہی ہوئی حضرت سیدہ عائشہ نے مختلف روایتوں پر تنقید کی اس کے ظاہری مفہوم کو قرآن کریم کی آیتوں سے معارض قرار دے کر اسے رد کردیا اور اس کے صحیح مفہوم کی نشاندہی فرمائی ۔ان کے استدراکات کو ایک مستقل کتاب میں جمع کردیا گیا ہے۔جس کا نام ہے ۔ 
عین الاصابہ فیما استدرکتہ السیدہ عائشہ علی الصحابہ۔
ان میں سے بعض استدراکات مندرجہ ذیل ہیں: 
(۱) حضرت عائشہؓ نے میت کے اہل وعیال کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب میں مبتلاکیے جانے کی روایت پر۔آیت کریمہ
لا تذر وازرة وازة اخری 
(کسی کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھائے گا) کی وجہ سے استدراک کیا اور فرمایا کہ صرف اہل وعیال کے رونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا جانا مذکورہ آیت کے خلاف ہے۔ البتہ اگر میت زندگی میں جاہلی نوحہ کا عادی رہا ہو یا اس کے لیے وصیت کرگیا ہو جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا تو وہ میت عذاب میں مبتلا ہوگا۔
(۲) اسی طرح آپ نے شب اسراء ومعراج میں رویت باری کی روایات پراستداراک کیا اور دلیل کے طور پر آیت کریمہ پیش کوکیا ۔:
لاتدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر (الانعام ۳۰۱)
یعنی نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو پالیتا ہے۔ اس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے اور وہ اتنا ہی با خبر ہے۔
(۳) ایک روایت ہے کہ نحوست گھر، عورت اور گھڑے میں ہے اس روایت پرذیل کی آیت کریمہ کی وجہ سے آپ نے نقد فرمایا:

ما اصاب من مصیة فی الارض ولا فی انفسہم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر (الحدید۲۲) 
یعنی کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں نازل ہوتی یا تمہاری جانوں کو لاحق ہوتی ہو مگر وہ ایک کتاب میں اس وقت سے درج ہے جب ہم نے ان جانوں کو پیدا بھی نہیں کیا تھا ۔یقین جانو یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے ۔
(۴) سماع موتی کی روایت پرذیل کی آیت کریمہ کی وجہ سےنقد فرمایا : 

ان اللہ یسمع من یشاءوماانت بمسمع من فی القبور (الفاطر ۲۲) 
(ترجمہ: اور اللہ تو جس کو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں)
(۵) نکاح متعہ کی روایت پر ذیل کی آیت کریمہ کی وجہ سے حضرت ام المومنین نے نقد فرمائی اور انھیں جوں کا تو قبول کرنے سے انکار کردیا:
والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین (المومنون ۵،۶)
یعنی ایمان والوں کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں اور باندیوں پر۔
اسی طرح فقاہت اور معاملہ فہمی کی ایک مثال ام المومنیںحضرت ام سلمہ ؓ کا مشورہ ہے ۔ جب صلح حدیبیہ کے موقعہ پر صحابہ کرام شدت حزن میں رسول اللہ کے حکم کے باوجود قربانی کرنے سے وقتی طور پر رکے ہوئے تھے توام المومنین کے مشورے پر رسول اللہ ﷺ نے پہلے قربانی فرمائی۔ پھر آپ کی اتباع میںتمام صحابہ نے قربانی کی۔
چار مثالی خواتین: ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورتوں میں بہترین عورتیں چار ہیں۔
(۱) مریم بنت عمران ،
(۲) حضرت خدیجة الکبری ،
(۳) سیدہ فاطمہ زہراء
اور 
(۴) سیدہ آسیہ فرعون کی بیوی ۔
اس میں درحقیقت چار بہترین کردار پر روشنی ڈالی گئی، جس سے اللہ اور اس کے رسول راضی ہوئے ۔ایک ماں کا کردار ،مریم بنت عمران ۔ایک عظیم بیوی کا کردار سیدہ خدیجہ ۔ایک عظیم بیٹی کا کردار ،سیدہ فاؓطمہ اور ایک عظیم عورت کا کردار سیدہ آسیہؓ ہیں۔
جلیل القدر محدث ابن عساکرؒ فرماتے ہیں کہ میرے اساتذہ میں اسی سے زیادہ خواتین ہیں ۔
علی مردان خان والی زابلستان کی اکلوتی بیٹی گیتی آراءبیگم پہلی مسلمان خاتون تھیں جس نے آٹھویں صدی عیسوی میں عورتوں کو فن سپاہ گری سیکھانے کے لیے باضبطہ مدرسہ قائم کیا تھا۔
ٍ طرابلس کی جنگ میں فاطمہ بنت عبد اللہ نے جس پامردی اور ہمت کا مظاہرہ کیا اسی بنا پر علامہ اقبالؒ کو انھیں آبروئے ملت کا خطاب دینا پڑا۔ اسی طرح تحریک خلافت کے زمانے میں مولانا محمد جوہر اور مولانا شوکت علی کی امی جن کا نام آبادی بانو بیگم جو بی اماں کے نام سے مشہورتھیں؛ انھوں نے انگریز کے خلاف جنگ آزادی کی تحریک کو فروغ دینے میں نمایاں رول ادا کیا۔ ان کے تعلق سے مشہورِ زمانہ نظم ایک خاتون کی عزم وہمت کی داستان رقم کررہی ہے:
بولیں اماں محمد علی کی جان بیٹے خلافت پر دے دو۔ ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی جان بیٹا خلافت پر دے دو ۔
بوڑھی اماں کا کچھ غم نہ کرنا کلمہ پڑھ پڑھ کر خلافت پر مرنا ۔ہوتے میرے اگر سات بیٹے، کرتی سب کو خلافت پہ صدقے۔
حشر میں حشر بر پا کروں گی، پیش حق تم کو لے کے چلوں گی ۔ ہیں یہی دین احمد کے رستے جان بیٹا خلافت پر دے دو
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے: 

ایک زمانے میں جب ایسا لگ رہا تھا کہ پورے عالم اسلام پر تاتاریوں کا غلبہ ہوجائے گا ایسے حالات میں وہ خواتین ہی تھیں؛ جنھیں زبردستی منگولوں نے اپنی بیوی بناکر اپنے حرم میں داخل کرلیا تھا؛ لیکن یہ مسلم خواتین وہاں بھی اپنے داعیانہ کردار کو فراموش نہ کرسکیں اور اپنے شوہر کو اور منگول شاہزادوں کو اسلام کی خوبیاں بتا تی رہیں ۔خدا کی شان ان کی تبلیغی کوششوں سے تاتاری سرداروں اور شہزادوں کے دل میں نرمی پیداہوئی اور تاتاری قبائل بتدریج حلقہ بگوش اسلام ہوتے چلے گئے ۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا کہ ہے عیاں شورش تاتار کے فسانہ سے۔پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانہ سے۔
اس کے بعد کے زمانے کے بھی سیکڑوں واقعات ہیں جس میں خواتین اسلام کے مثالی کارناموں سے اسلامی تعلیمات، اسلامی دعوت اور اسلامی تہذیب وثقافت کو فروغ حاصل ہوا۔ ضرورت ہے کہ ان اولات العزم خواتین کے کارناموں کو اپنایا جائے اور انھیں کے نقش قدم پر فروغ اسلام کے لیے موجودہ عہد کی خواتین کو تیار کیا جائے؛ تو انشآءاللہ موجودہ منظر نامہ کافی حد تک بدل سکتا ہے۔ ۔
وماذلک علی اللہ بعزیز
از: (مفتی) محمد خالد حسین نیموی قاسمی
https://mastooraat.blogspot.com/2018/12/blog-post_26.html

Monday, December 24, 2018

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن نہ کرنا

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن نہ کرنا

سوال :: ایسی حدیث جو صحابۂ کرام پر طعن کا باعث بنتی ہو وہ اہلِ سنت کے یہاں مردود ہوتی ہے.
اس کا حوالہ مطلوب ہے

جواب: بلا تفریق جملہ اصحاب رسول کی تکریم و تعظیم اہل سنت و الجماعت کے نزدیک ضروری ہے
اصحاب رسول پہ زبان طعن دراز کرنا یا ان کی تنقیص شان کرنا درج ذیل نصوص شرعیہ کی تکذیب کے درجے میں ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ {آل عمران: 110}.
  وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ {البقرة: 143}.
لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ {التوبة: 88ـ89}. وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ {التوبة:100}.
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَؤُوفٌ رَحِيمٌ {التوبة:117}.
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ {الكهف: 28}.
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحاً قَرِيباً * وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا {الفتح: 18ـ19}.
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً {الفتح:29}.
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ *
وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالْأِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ {الحشر:8ـ9}.

في الصحيحين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: خير أمتي قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم. وقال أيضاً: النجوم أمنةٌ للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما تُوعدُ، وأنا أمنةٌ لأصحابي، فإذا ذهبت أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنةٌ لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون. رواه مسلم.
لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مد أحدهم ولا نصفيه. رواه البخاري ومسلم

إن الله نظر في قلوب العباد، فوجد قلب محمد صلى الله عليه وسلم خير قلوب العباد، فاصطفاه لنفسه، فابتعثه برسالته، ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد، فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد، فجعلهم وزراء نبيه يقاتلون على دينه.
رواہ احمد بن حنبل

قران پڑھوایا جائے اور پڑھنے والوں کو چائے وغیرہ کھلائے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

قران پڑھوایا جائے اور پڑھنے والوں کو چائے وغیرہ کھلائے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

سوال: اگر کوئی میت کے ایصال ثواب کے لئے قران پڑھوائے اور پڑھنے والوں کو چائے وغیرہ کھلائے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے اگر نھیں تو اس کے علاوہ کیا صورت ھوگی؟ جزاکم اللہ احسن الجزاء
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
کسی مرحوم کو ایصال ثواب کے لئے جو قرآن خوانی ہوتی ہے، وہ عبادت محضہ ہے، اس پر باقاعدہ اجرت کا معاملہ درست نہیں، ناجائز وحرام ہے، نیز اجرت پر جو قرآن خوانی کی یا کروائی جاتی ہے، اس میں خود قرآن پڑھنے والوں کو کوئی ثواب نہیں ملتا، پس وہ کسی مرحوم کو کیا ایصال ثواب کریں گے،
”قال في رد المحتار (کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة: ۹/۷۷ ط مکتبہ زکریا دیوبند) عن العیني فی شرح الہدایة: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراء ة الأجزاء بالأجرة لا یجوز؛ لأن فیہ الأمر بالقراء ة وإعطاء الثوب للآمر والقراء ة لأجل المال فإذا لم یکن للقارئ ثواب لعدم النیة الصحیحة فأین یصل الثواب إلی المستأجر، ولو لا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في ہذا الزمان بل جعلوا القرآن العظیم مکسبا ووسیلة إلی جمع الدنیا، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون اھ۔
اور اس موقع پر حسب عرف وعادت خاص طور پر قرآن پڑھنے والوں کے لیے جو دعوت یا چائے ناشتہ وغیرہ کا نظم ہوتا ہے ،یہ بھی بحکم اجرت ہے یا کم از کم اس میں اجرت کا شائبہ ضرور ہے؛ لہٰذا اس سے بھی احتراز کیا جائے،
والحاصلُ أن اتخاذ الطعام عند قراء ة القرآن لأجل الأکل یکرہ (شامی ۳: ۴۸ ۱)، نیز تذکرة الرشید (ص ۱: ۲۰۳، مطبوعہ: دار الکتاب دیوبند) دیکھیں۔
نوٹ:۔ کسی مرحوم کو ایصال ثواب کرنا محمود ومستحسن عمل ہے، اس سے مرحوم کی روح خوش ہوتی ہے اور اسے راحت ملتی ہے، لیکن شریعت میں ایصال ثواب کے لیے کوئی خاص عمل یا دن وغیرہ کی تخصیص ثابت نہیں ہے ، نیز درست بھی نہیں؛ اس لیے کسی مرحوم کو ایصال ثواب کے لیے اجتماعی طور پر قرآن خوانی کرنا یا کرانا امر منکر ہے ، ایصال ثواب میں یہ چاہئے کہ جو لوگ کسی مرحوم کو ایصال ثواب کرنا چاہے وہ اپنے طور پر کوئی بھی نیک عمل انجام دے کر مرحوم کو اس کا ایصال ثواب کردیں، اس میں کسی عمل ، دن کی تخصیص نہ کی جائے، نیز اجتماعیت بھی اختیار نہ کی جائے (مستفاد: تالیفات رشیدیہ ص ۸۷ ،۸۸) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
________
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی (ب): 1127=957-8/1432
سادات کے لئے زکاة اور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں ہے، حدیث میں ہے:
”یا بني ہاشم إن اللہ قد حرّم علیکم غسالة الناس وأوساخہم“ (ہدایہ: ۱/۱۸۶)
محلے میں سے اگر کوئی صدقات اجبہ اور زکاة دیتا ہے تو اسے غریبوں اور ناداروں کو دینا ضروری ہے، سادات کو دینا جائز نہیں۔ البتہ سادات کے لیے صدقات نافلہ کی گنجائش ہے۔ غیرسید کو جب زکاة وغیرہ ملے تو وہ سادات پر رشتہ دار ہوں یا غیررشتہ دار خرچ کرسکتا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم

اگر زوجین کے درمیان طلاق ہوجائے تو کیا طلاق کے بعد میکہ والوں سے اس سامان کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اگر زوجین کے درمیان طلاق ہوجائے تو کیا طلاق کے بعد میکہ والوں سے اس سامان کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سوال: شادی بیاہ کے موقع پر جو زیورات اور سامان دلہن کو دیا جاتا ہے اگر زوجین کے درمیان طلاق ہوجائے تو کیا طلاق کے بعد میکہ والوں سے اس سامان کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اس کا دار و مدار عرف پر ہے، اگر عرف یہ ہے کہ باپ لڑکی کو یہ زیورات وغیرہ دیتے وقت اس کو مالک بنانے کی نیت سے دیتا ہے، تو پھر واپس لینا جائز نہیں ہے، اور اگر عرف یہ ہے کہ باپ وہ زیورات وغیرہ صرف استعمال کے لئے دیتا ہے اور اپنی ملکیت میں باقی رکھتا ہے، تو واپس لینے کی اجازت ہے
ہمارے یہاں عموماً پہلا عرف ہے، اس لئے واپس لینا جائز نہیں ہے
فقط
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
______
سوال (۷۰۸۲): کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: زید کی بیوی کو کسی عارض کی بنا پر طلاق ہوئی مطلقہ کی کچھ چیزیں زید کے پاس ہیں، زید دینا چاہتا ہے، سسرال کے لوگ واپس کردیتے ہیں، ایسی مجبوری کی حالت میں کیا کریں، معافی تلافی بھی باقی رہے، اصل مسئلہ آخرت کا ہے یہ پریشانی در پیش ہے۔
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
طلاق ہوجانے کے بعد بیوی کا سامان واپس کردینا زید پر لازم اور ضروری ہے اور سامان جس حالت میں ہے اسی حالت میں واپس کرنا ضروری ہے، یعنی نیا ہو تو نیا ، پرانا ہو تو پرانا اور جو استعمال کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں اس کو اسی حالت میں واپس کردینا چاہیے، اور بیوی کے میکہ والوں کوحق نہیں ہے کہ لینے سے انکار کردیں ہاں البتہ بیوی کو حق ہے کہ یا تو لے لے یا معاف کردے۔
خطب بنت رجل و بعث إلیہا أشیاء ولم یزوجہا أبوہا فما بعث للمہر یسترد عینہ قائما فقط وإن تغیر بالاستعمال، وفی الشامیۃ: لأنہ مسلط علیہ من قبل المالک فلا یلزم فی مقابلۃ ما انتقص باستعمالہ شیئ۔ (الدر المختار مع الشامی، کتاب النکاح، باب المہر کراچی ۳/۱۵۳، زکریا ۴/۳۰۴،البحر الرائق کوئٹہ ۳/۱۸۶، زکریا ۳/۳۲۴) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۱۳؍ جمادی الثانیہ ۱۴۲۶ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۸/۸۸۵۹)
الجواب صحیح
احقر محمد سلمان منصور پوری غفر لہ
۱۲؍۶؍ ۱۴۲۶ھ
______
سوال: لڑکی شادی کے بعد تقریباً دو سال چھ ماہ سے خورد و نوش، رہائش و تمام تر ضروریات زندگی خود کرلیتے ہوئے، ساس، سسر اور شوہر کیلئے معاون و مددگار رہتی ہے۔ لڑکا ہر قسم کی ذمہ داری سے برے ہے۔ معلوم ہوا کہ صرف پیسوں کیلئے اس کے ماں باپ شادی کروائے ہیں۔ لڑکا لڑکی کو پسند نہیں کرتا۔ ایک سال سے بات چیت بالکل بند ہے، حتی کہ فون پر بھی نہیں۔
ایسی صورت میں کیا نکاح بالکل قرار پاتا ہے یا نہیں؟ لڑکا اور لڑکے کے ماں باپ جوڑے کی رقم، جہیز، زیورات واپس دینا پڑتاہے اس لئے طلاق دینے سے گریز کررہے ہیں۔ قانونی چارہ جوئی کے علاوہ کوئی راستہ نطر نہیں آتا۔ تفصیلی جواب سے راہ دکھلائیں تو بہت بہت مہربانی ہوگی۔
نام مخفی
جواب: بوقت عقد دلہن کو ماں باپ کی طرف سے دیا گیا سامان جہیز زیورات و ملبوسات اور دلہے والوں کی طرف سے دیئے گئے چڑھاوا زیورات و ملبوسات نیز تحفہ جات لڑکی کے حق میں ہبہ ہونے کی بناء لڑکی کی ملکیت ہیں۔ اسی طرح لڑکی والوں کی جانب سے لڑکے کو دیئے گئے تحفہ جات و جوڑے کی رقم لڑکے کے حق میں ہبہ ہونے کی بناء لڑکے کی ملکیت ہیں۔ پس رشتہ نکاح برقرار رہے یا ٹوٹ جائے ہر دو صورت میں ہر ایک اپنی مملوکہ اشیاء کا مالک رہے گا ۔ کسی کو واپس طلب کرنے کا حق نہیں۔ واضح رہے کہ جوڑے کی رقم طلب کرنا شرعاً معیوب و مذموم ہے ۔ غیرت اور مروء ت انسانی کے خلاف ہے۔ لڑکی کے ماں باپ کا اپنی خوشی و استطاعت سے لڑکے کو تحفہ دینا شرعاً درست ہے لیکن لڑکی والوں سے جوڑے کی رقم طلب کرنا ان کو زیر بار کرنا خسیس عمل ہے اور خلاف شرف ہے تاہم کسی نے جوڑ ے کی رقم دیدیا بعد ازاں کسی وجہ سے رشتہ نکاح باقی نہ رہے تو لڑکی والوں کو جوڑے کی رقم کی واپسی، مطالبہ کا حق نہیں رہتا۔ ردالمحتار جلد 4 کیاب البیوع میں ہے:
وھذا یوجد کثیرا بین الزوجین ببعث الیھا متاعا و تبعث لہ ایضا وھو فی الحقیقۃ ھبۃ۔
رشتہ نکاح شوہر کی موت یا طلاق یا خلع یا فسخ نکاح سے منقطع ہوتا ہے۔ میاں بیوی عرصہ دراز تک علحدہ رہیں حتی کہ دونوں کے درمیان بات چیت بھی منقطع رہے تب بھی رشتہ نکاح منقطع نہیں ہوتا۔ شوہر پر لازم ہے کہ یا تو وہ اپنی زوجہ کو اس کے حقوق واجبات کو ادا کرتے ہوئے اپنے ساتھ رکھے یا اس کو حسن سلوک کے ساتھ طلاق دیدے یا خلع قبول کرکے ر کردے ۔ طلاق کی صورت میں مہر کی ادائیگی شوہر پر لازم رہے گی اور خلع میں معاوضہ

Tuesday, December 18, 2018

دوسری شادی کے متعلق ملفوظات

دوسری شادی کے متعلق ملفوظات
ارشاد فرمایا کہ چار شادی کی اجازت ہے، حکم نہیں ہے، اور یہ اجازت مطلق نہیں اس شرط سے مقید ہے کہ شوہر انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲتعالیٰ علیہم اجمعین کے کمالِ ایمان اور تقویٰ کے ساتھ یہ شرط نازل ہوئی اور آج کل تو ایمان کا کیا حال ہے۔ اس لئے اس زمانے میں ایک ہی پر صبر ضروری ہے ورنہ دو شادی کرکے اگر دونوں میں برابری نہ کی تو سخت گناہ گار ہوگا۔ پھر اس زمانے میں صحت اور قوّت بھی کمزور ہے۔ اُس زمانے میں خون نکلوانا پڑتا تھا اور اب خون چڑھوانا پڑتا ہے۔ اور موجودہ زمانے میں جس نے بھی دو شادی کی دل کا چین و سکون غائب ہوا۔ لیلیٰ کی تعداد بڑھا کر مولیٰ کی یاد کے قابل نہ رہے۔ نظر کی حفاظت نہ کرنے کا یہ وبال ہے کہ ایک لیلیٰ پر صبر نہیں۔
٭ایک صاحب نے دوسری شادی کی اجازت مانگی کہ میں فتنۂ نساء سے محفوظ رہنے لئے دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔
ارشاد فرمایا کہ جب بیوی موجود ہے تو کیا یہ فتنۂ نساء سے اسباب ِحفاظت میں سے نہیں ہے؟ اس زمانے میں دو بیویوں میں عدل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا کہ زندگی تلخ ہوگئی، اور آخرت کے مواخذہ کا اندیشہ الگ۔ اس زمانے میں ایک ہی بیوی کا حق ادا ہوجائے تو غنیمت ہے۔
٭ایک صاحب نے مستورات میں خانقاہی کام اور مدرسے کی ترتیب کے لئے دوسری شادی کی اجازت مانگی۔
ارشاد فرمایا کہ مستورات میں خانقاہی کام اور مدرسے کی ترتیب بھی نفس کا بہانہ معلوم ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ دوسری شادی کا پیغام بھیجنے کے لئے مشورہ بھی نہیں کیا شاید اس لئے کہ مشورہ میں احتمال تھا کہ آپ کی رائے کے خلاف ہوتا۔ مشایخ کا کام دین کا کام کرنا ہے، لوگوں کو اللہ والا بنانے میں اپنے اوقات کو صَرف کرنا ہے نہ کہ شادیاں کرنا۔ مشورہ تو پہلے کیا جاتا ہے، موجودہ صورت میں یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا، خود کو فتنے میں نہ ڈالیں یعنی دوسری شادی ہرگز نہ کریں۔
٭ ایک صاحب نے خط لکھا کہ مجھے شدت کے ساتھ الہام ہورہا ہے کہ دوسری شادی کرلوں۔
ارشاد فرمایا کہ دوسری شادی کے متعلق جو آپ نے لکھا ہے کہ لگتا ہے یہ اللہ کا الہام ہے تو آپ کا خیال غلط ہے یہ الہام شیطانی ہے۔ غالباً آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سنّت پر عمل کرنا عام سنّتوں کی طرح مستحب ہے، لیکن اس سنّت پر عمل مقید ہے ایک بہت سخت شرط کے ساتھ
"فَاِنْ خِفْتُمْ اَ لَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً"؎
پس اگر تم کو غالب احتمال ہوکہ کئی بیویاں کرکے عدل نہ رکھ سکوگے بلکہ کسی بیوی کے حقوق واجبہ ضایع ہوں گے تو پھر ایک ہی بیوی پر بس کرو۔ (بیانُ القرآن)
اس زمانے میں ایک ہی بیوی کے حقوق ادا نہیں ہوپاتے چہ جائیکہ دوسری بیوی کے بھی ادا ہوں۔ یہ صحابہ (کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) ہی کا ایمان تھا جو چار چار بیویوں میں عدل اور برابری کرسکتے تھے. ہم لوگوں میں اب نفس ہی نفس ہے، جس میں حُسن زیادہ ہوگا اس کے ساتھ کم حسین کے حقوق میں عدل کرنا آسان نہیں۔ اندیشہ ہے کہ آخرت میں گردن نپ جائے۔
ارشاد فرمایا کہ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے دوشادیاں کی تھیں۔ کسی نے حضرت سے عرض کیا کہ آپ نے دو شادیاں کرکے مریدوں کے لئے دو شادیوں کا دروازہ کھول دیا۔ فرمایا کہ نہیں! میں نے دروازہ بند کردیا۔ دیکھو یہاں دروازے پر ترازو لٹکی ہوئی ہے کوئی پھل آتا ہے تو یہ نہیں کہ ترازو میں صرف ہم وزن کرکے دونوں بیویوں کو دوں بلکہ مثلاً اگر دو تربوز ایک ہی وزن کے آئے تو ہر تربوز کو کاٹ کر آدھا آدھا کرکے دیتا ہوں کیوں کہ اگر آدھا نہ کروں تو ڈر ہے کہ ایک کے پاس میٹھا چلا جائے اور دوسری کے پاس کم میٹھا جو خلافِ عدل ہے۔ اسی طرح اگر کپڑا دینا ہو تو دونوں کو بالکل ایک طرح کا دیتا ہوں اور کسی بیوی کے پاس اگر چھ گھنٹے رہا ہوں تو دوسری کی باری پر چھ گھنٹہ گھڑی دیکھ کر اس کے پاس رہتا ہوں وغیرہ۔ اتنا عدل کوئی کرسکتا ہے؟ اس عدل کے باوجود فرمایا کہ دوشادیاں کرنا آسان نہیں۔ دو شادیاں اتنی مشکل محسوس ہوئیں کہ بعض وقت خود کشی کا وسوسہ آگیا۔
ارشاد فرمایا کہ دوسری شادی سے بیوی بچوں کے جدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور صرف اندیشہ ہی نہیں اس زمانے میں یہ جدائی یقینی ہے، زندگی تلخ ہوجائے گی۔ ہمارے سامنے بہت سے واقعات ہیں کہ جن بیویوں نے خوشی سے اجازت بھی دی شادی کے بعد اپنی اولاد کے ساتھ شوہر کے خلاف محاذ قائم کردیا۔ اگر دل میں کوئی عورت سمائی ہوئی نہیں ہے، ہونا نہ ہونا برابر ہے تو دوسری بیوی کی چاہت کا اتنا سخت تقاضا کیوں؟ جبکہ قضائے شہوت کا محل (بیوی) موجود ہے، نفس سے ہوشیار رہیں، اس کے کید بہت باریک ہوتے ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ دو بیویاں رکھنا اور ان میں برابری کرنا خصوصاً اس دورِ نفس پرستی اور ہوس انگیزی میں سخت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بشرطِ مساوات اجازت دی ہے، حکم نہیں دیا کہ کئی کئی شادیاں کرو۔ پس اگر مساوات نہ کرسکے جس کا قوی امکان ہے تو اللہ تعالیٰ کا غضب مول لینا ہے۔ اس لیے دُعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس اقدام سے باز رکھے کہ ان کے لئے بڑی آزمائش اور بڑا امتحان ہوگا جس میں مواخذہ کا اندیشہ زیادہ ہے۔
ارشاد فرمایا کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ بہت حسین تھے، مگر ان کی شادی ایسی عورت سے ہوئی جس پر حُسن کا اطلاق ممکن نہ تھا۔ پہلے زمانے میں بچے اتنے شریف ہوتے تھے کہ ماں باپ جہاں رشتہ لگادیں وہ ماں باپ سے لڑتے نہیں تھے کہ میں کیسا ہوں اور آپ نے انتخاب کیسا کیا؟ خون کے رشتوں کی وجہ سے ترجیح دے دی کہ خون کا رشتہ ہے، اس کا حق ادا ہوجائے گا، صلہ رحمی ہوجائے گی، ایک لڑکی کا گھر بس جائے گا۔ ایک دن ایک شاگرد سے کھانا منگوایا، تیز ہوا سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی بیوی کا نقاب ذرا سی دیر کو ہٹ گیا تو دیکھا کہ بیوی امام صاحب کے بالکل برعکس ہے۔ کھانا تو لے آیا، مگر الگ بیٹھ کے رونے لگا۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ کیوں روتا ہے؟ اس نے کہا کہ آپ کی قسمت پر رو رہا ہوں۔ آپ جس قدر حسین ہیں آپ کی بیوی اتنی ہی غیرحسین ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے بیٹے! میں اس وقت فقہ پر چھ کتابیں لکھ رہا ہوں زیادات، مبسوط، جامع صغیر، جامع کبیر، سیرصغیر، سیر کبیر اور تم لوگوں کو پڑھا بھی رہا ہوں۔ اگر بیوی حسین ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوتا اس کے حُسن کا مشاہدہ، معائنہ اور ملاحظہ کرتا۔ تم کہتے کہ استاد کنزالدقائق کا گھنٹہ ہوگیا، میں کہتا کہ میں حُسن الدقائق میں مشغول ہوں۔ پھر جوش میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنے دردِ دل کے لئے منتخب فرماتے ہیں اس کو فانی کھلونوں میں ضائع نہیں کرتے۔
بیوی کے لئے ناک بھوں مت چڑھاؤ کہ ایسی ناک چپٹی ہے، اس کا منہ کالا ہے، مجھے حسین بیوی ملنی چاہئے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کے پیٹ سے کوئی عالم، حافظ، ولی اللہ پیدا کردے جو قیامت کے دن تمہارے کام آئے، اس لئے ان کو حقیر مت سمجھو۔ صورت کو مت دیکھو۔ بعض وقت زمین کالی ہوتی ہے، مگر غلہ بہت بَڑھیا نکلتا ہے۔ بعض وقت کالی کلوٹی عورت سے ولی اللہ پیدا ہوتے ہیں اور گوری چٹیوں سے شیطان پیدا ہوتے ہیں، اس لئے بیویوں کو حقیر مت سمجھو، ان کے رنگ و روغن کو مت دیکھو۔
کئی مرتبہ لوگوں نے حضرتِ والا سے عرض کیا کہ اگر کسی کو دوزخ کا عذاب چکھنا ہو تو دوسری شادی کرلے۔
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بندیوں کے لئے سفارش نازل کی
"عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْف"
؎ کہ ان کے ساتھ اچھے سلوک سے رہنا۔ یہ بتاؤ کہ اگر شیخ کہہ دے کہ میری بیٹی کا خیال رکھنا، تم میرے داماد بھی ہو اور میرے خلیفہ بھی ہو، اگر تم نے میری بیٹی کو ستایا تو خلافت چھین لوں گا۔ تو بتائیے وہ خلیفہ شیخ کی بیٹی کو ستائے گا؟ وہ تو روزانہ ہاتھ جوڑتا رہے گا کہ اپنے ابّا سے کچھ مت بتانا، اگر کبھی خطا ہو بھی جائے تو ا س کو منالے گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اگر تم نے دوسری شادی کی تو میری بیٹی فاطمہ کو غم ہوگا اور اگر فاطمہ کو غم ہوگا تو مجھ کو غم ہوگا لہٰذا میں حقِ ضابطہ سے نہیں کہتا حقِ رابطہ سے کہتا ہوں کہ تم دوسری شادی مت کرنا۔ معلوم ہوا کہ ہر جگہ قانون بازی نہیں چلتی، خشک ملائیت ٹھیک نہیں ہے، حقِ رابطہ سیکھو اور حقِ رابطہ سے اللہ سے رابطہ ملتا ہے، اللہ کا دین محبت کا راستہ ہے خشک قانون کا راستہ نہیں ہے مگر اہلِ رابطہ اور اہلِ محبت کی صحبت میں رہنے سے یہ خشکی دور ہوجاتی ہے جیسے کسی کو نیند نہیں آتی، دماغ میں خشکی بڑھ جاتی ہے تو اطباء لکھتے ہیں کہ اس کی کشتی دریا میں ڈال دو اور رات بھر وہاں سلاؤ تاکہ پانی کی رطوبت اس کی ناک سے داخل ہوکر اس کے دماغ کی خشکی دور کردے تو اہل اللہ کے دریاؤں کے پاس رہو ان شآء اللہ تعالیٰ ان کے قلب میں جو اللہ کی محبت ہے وہ آپ کے قلب میں منتقل ہوجائے گی۔
ارشاد فرمایا کہ اسلام میں بیوی کا دل خوش کرنا اور خوش رکھنا بہت بڑی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے متعلق قرآن پاک میں سفارش کی
"عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ"
یعنی اپنی بیویوں سے نیک برتاؤ کرو۔ ایک شخص نے کھانے میں نمک تیز کردینے پر بیوی کو معاف کردیا، مرنے کے بعد ایک بزرگ نے خواب دیکھا کہ اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے اِسی عمل کی برکت سے بخش دیا کہ میں نے اپنی بیوی کے نمک تیز کرنے کو معاف کردیا تھا۔
ارشاد فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جو چالیس سال کی تھیں شادی کی اور آپ کی ۵۲ سال کی عمر مبارک تک زندہ رہیں مگر اُن کی تکلیف کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری شادی نہیں کی کہ بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تکلیف ہوگی۔
از: حضرت مولانا شاہ حکیم اختر صاحب رحمہ اللہ
(ماخوذ از تربیت عاشقان خدا)


आरोग्ये निधि

आरोग्ये निधि
आंवला 
किसी भी रूप में थोड़ा सा
आंवला हर रोज़ खाते रहे,
जीवन भर उच्च रक्तचाप
और हार्ट फेल नहीं होगा।
मेथी           
मेथीदाना पीसकर रख ले।
एक चम्मच एक गिलास
पानी में उबाल कर नित्य पिए।
मीठा, नमक कुछ भी नहीं डाले।
इस से आंव नहीं बनेगी,
शुगर कंट्रोल रहेगी और
जोड़ो के दर्द नहीं होंगे
और पेट ठीक रहेगा।
नेत्र स्नान
मुंह में पानी का कुल्ला भर कर
नेत्र धोये।
ऐसा दिन में तीन बार करे।
जब भी पानी के पास जाए
मुंह में पानी का कुल्ला भर ले
और नेत्रों पर पानी के छींटे मारे, धोये।
मुंह का पानी एक मिनट बाद
निकाल कर पुन: कुल्ला भर ले।
मुंह का पानी गर्म ना हो इसलिए
बार बार कुल्ला नया भरते रहे।
भोजन करने के बाद गीले हाथ
तौलिये से नहीं पोंछे।     
आपस में दोनों हाथो को रगड़ कर
चेहरा व कानो तक मले।
इससे आरोग्य शक्ति बढ़ती हैं।
नेत्र ज्योति ठीक रहती हैं।
शौच
ऐसी आदत डाले के नित्य
शौच जाते समय दाँतो को
आपस में भींच कर रखे।
इस से दांत मज़बूत रहेंगे,
तथा लकवा नहीं होगा।
छाछ
तेज और ओज बढ़ने के लिए
छाछ का निरंतर सेवन
बहुत हितकर हैं।
सुबह और दोपहर के भोजन में
नित्य छाछ का सेवन करे।
भोजन में पानी के स्थान पर
छाछ का उपयोग बहुत हितकार हैं।
सरसों तेल
सर्दियों में हल्का गर्म सरसों तेल
और गर्मियों में ठंडा सरसों तेल
तीन बूँद दोनों कान में
कभी कभी डालते रहे।
इस से कान स्वस्थ रहेंगे।
सौंठ
सामान्य बुखार, फ्लू,जुकाम
और कफ से बचने के लिए
पीसी हुयी आधा चम्मच सौंठ
और ज़रा सा गुड एक गिलास पानी में
इतना उबाले के आधा पानी रह जाए।
रात को सोने से पहले यह पिए।
बदलते मौसम, सर्दी व वर्षा के
आरम्भ में यह पीना रोगो से बचाता हैं।
सौंठ नहीं हो तो अदरक का
इस्तेमाल कीजिये।
टाइफाइड
चुटकी भर दालचीनी की फंकी
चाहे अकेले ही चाहे शहद के साथ
दिन में दो बार लेने से
टाइफाईड नहीं होता।
ध्यान
हर रोज़ कम से कम 15 से 20
मिनट मैडिटेशन ज़रूर करे।
नाक
रात को सोते समय नित्य
सरसों का तेल नाक में लगाये।
हर तीसरे दिन दो कली लहसुन
रात को भोजन के साथ ले।
प्रात: दस तुलसी के पत्ते और
पांच काली मिर्च नित्य चबाये।
सर्दी, बुखार, श्वांस रोग नहीं होगा।
नाक स्वस्थ रहेगी।
मालिश
स्नान करने से आधा घंटा पहले
सर के ऊपरी हिस्से में
सरसों के तेल से मालिश करे।
इस से सर हल्का रहेगा,
मस्तिष्क ताज़ा रहेगा।
रात को सोने से पहले
पैर के तलवो, नाभि,
कान के पीछे और
गर्दन पर सरसों के तेल की
मालिश कर के सोएं।
निद्रा अच्छी आएगी,
मानसिक तनाव दूर होगा।
त्वचा मुलायम रहेगी।
सप्ताह में एक दिन पूरे शरीर में
मालिश ज़रूर करे।
हरड़
हर रोज़ एक छोटी हरड़
भोजन के बाद दाँतो तले रखे
और इसका रस धीरे धीरे
पेट में जाने दे।
जब काफी देर बाद ये हरड़
बिलकुल नरम पड़ जाए
तो चबा चबा कर निगल ले।
इस से आपके बाल कभी
सफ़ेद नहीं होंगे,
दांत 100 वर्ष तक निरोगी रहेंगे
और पेट के रोग नहीं होंगे।
सुबह की सैर
सुबह सूर्य निकलने से पहले
पार्क या हरियाली वाली जगह पर
सैर करना सम्पूर्ण स्वस्थ्य के लिए
बहुत लाभदायक हैं।
इस समय हवा में प्राणवायु का
बहुत  संचार रहता हैं।
जिसके सेवन से हमारा पूरा शरीर
रोग मुक्त रहता हैं और हमारी
रोग प्रतिरोधक शक्ति बढ़ती हैं।
घी खाये मांस बढ़े,          
अलसी खाये खोपड़ी,
दूध पिये शक्ति बढ़े,
भुला दे सबकी हेकड़ी।
तेल तड़का छोड़ कर
नित घूमन को जाय,
मधुमेह का नाश हो
जो जन अलसी खाय।