Monday, May 24, 2021

حقوق ‏الاستاذ

حقوق الاستاذ

بقلم: محترم قاری ممتاز احمد، چمن

جس طرح دینی علوم کا پڑھنا پڑھانا ضروری ہے اس طرح جس سے دینی علوم پڑھے جائیں اس کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے، جس طرح بے علمی کی وجہ سے انسان، انسانیت سے محروم ہوتا ہے اس طرح استاذ کا حق نہ ادا کرنے والا علم کی برکت اور خدمت سے محروم رہ جاتا ہے، استاذ کے ساتھ شاگردوں کا روحانی تعلق ہوتا ہے، جس طرح والدین کے ساتھ جسمانی تعلق اور نسبت کی وجہ سے اولاد کے لئے ان کا حق ادا کرنا واجب ہے، جو اولاد یہ حق ادا نہیں کرتی وہ قرآن و حدیث کی رو سے بدبخت شمار ہوتی ہے، بلکہ والدین کی ناراضی کی وجہ سے اللہ بھی ناراض ہوجاتا ہے، اس طرح استاذ و شاگرد کا معاملہ ہے جو شاگرد استاذ کا فرماں بردار ہوتا ہے وہ کام یاب ہوتا ہے، اس سے اللہ دین کی خدمت لیتا ہے اور جو شاگرد نافرمان ہوتا ہے اس سے اللہ ناراض ہوتا ہے، اس کے علم میں برکت نہیں ہوتی اور نہ وہ دین کی خدمت کرسکتا ہے.
جسم کی نسبت سے روح کی نسبت اصل ہے، کیوں کہ روح جسم کے مقابلے میں اصل ہے، روح ہے تو جسم بھی قائم ہے، روح نہیں تو جسم کی کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ایک دفعہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا: تمہیں معلوم ہے آدمی کے کتنے باپ ہوتے ہیں؟ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے تین باپ ہوتے ہیں۔ 

1: ایک والد جس کے نطفہ سے یہ پیدا ہوا، 

2: دوسرا سُسر جس نے اس کو اپنی بیٹی نکاح میں دی اور 

3: تیسرا استاذ جس نے اس کو دین سکھایا، 

پھر پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لاعلمی ظاہر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تینوں میں سے استاذ کا حق زیادہ ہے، کیوں کہ اس نے اس کو دینی تعلیم دی اور دین کا تعلق روح سے ہے اور روح جسم کے مقابلے میں اصل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ استاذ کا حق والدین سے زیادہ ہے، جب والدین کی ناراضگی اولاد کے لئے تباہی و بربادی کا سبب بن سکتی ہے تو پھر استاذ کی ناراضگی شاگرد کے لئے کیسے دونوں جہانوں کی بربادی کا سبب نہیں بن سکتی؟
حدیث نبوی ہے: ”بوڑھے مسلمان، حافظ قرآن، عالم دین، عادل بادشاہ اور استاذ کی عزت کرنا تعظیم خداوندی میں داخل ہے۔“ اکابرین امت، دائمہ دین اور علمائے صالحین نے جو کچھ حاصل کیا وہ اساتذہ کے ادب اور خدمت ہی سے حاصل کیا ۔ابن وھب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ ملا وہ علم کی وجہ سے نہیں، اپنے استاذ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ادب کی وجہ سے ملا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاذ کے سامنے کتاب کا ورق بھی آہستہ سے الٹتے، تاکہ اس کی آوازکی وجہ سے استاذ کو تکلیف نہ ہو اور استاذ کے سامنے پانی پینے کی بھی جرأت نہ ہوتی۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ادب کی وجہ سے اپنے استاذ کا نام نہ لیتے تھے، بلکہ ان کا ذکر ان کی کنیت کے ساتھ کیا کرتے تھے. امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ کسی مرض کی وجہ سے ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے، اثنائے گفتگو میں ان کے استاذ ابراہیم بن طہمان رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر آیا تو ان کا نام سنتے ہی امام صاحب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہ نازیبا بات ہوگی کہ بڑوں کا نام لیا جائے اور ہم ٹیک لگاکر بیٹھے رہیں۔
شاگرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ استاذ کے سامنے ادب سے دوزانو ہوکر بیٹھے، استاذ کے برابر نا بیٹھے، وہ کہے تب بھی نہ بیٹھے، موٴدبانہ گفتگو کرے، زور سے نہ بو لے، استاذ سے فراغت کے بعد بھی ملا قات کرتا رہے، فراغت کے بعد استاذ کو بھول جانا حق تلفی ہے۔
امام حلوانی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت بخارا سے دوسری جگہ تشریف لے گئے تو امام زر نوجی رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ اس علا قہ کے تمام شاگرد سفر کر کے ان کی زیارت کو گئے، مدت کے بعد امام زر نوجی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے غیرحاضری پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ ماں کی خدمت کی وجہ سے نہیں آسکا، اس وقت امام حلوانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تم کو عمر تو ضرور نصیب ہوگی، مگر درس نصیب نہ ہوگا، چنا ں چہ ایسا ہی ہوا۔
مولانا عبدالرحمن شاہ رحمۃ اللہ علیہ محدث مظاہرالعلوم سہارن پور نے اپنا ایک واقعہ لکھا کہ میں اپنے وطن سے جب سہارن پور پڑھنے کے لئے آیا تو ہر استاذ سے مل کر آیا تھا، ایک استاذ جن سے میں نے ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں ان سے ملاقات نا ہوسکی، جب سہارن پور آکر پڑھنا شروع کیا تو کتاب بالکل سمجھ میں نہ آئے، حالاں کہ میں اپنی جماعت میں بہت سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، اس کے اسباب پر غور کیا، اللہ پاک نے راہ نمائی کی اور ان استاذ کی خدمت میں خط لکھ کر معافی مانگی اور ملاقات نہ ہوسکنے کی وجہ لکھی، انہوں نے جواب میں فرمایا: میرے دل میں خیال ہوا تھا کہ مجھے چھوٹا سمجھ کر شاید تم نہیں ملے لیکن تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ یہ بات نہیں تھی، اس کے بعد دعائیہ الفاظ لکھے، میرا ذہن کھل گیا اور سبق سمجھ میں آنے لگا۔
شاگرد کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ استاد کی اولاد اور اس کے متعلقین کی بھی تعظیم کرے.
'تعلیم المتعلم' میں لکھا ہے کہ صاحبِ ھدایہ نے ائمہ بخارا میں ایک بڑے عالم کا یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک دن یہ عالم درس میں بیٹھے ہوئے تھے، یکایک کھڑے ہوگئے، دریافت کرنے پر فرمایا کہ میرے استاذ کا لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، جب کھیلتے ہوئے مسجد کی طرف آیا تو میں اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوگیا۔
علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو طالب علم بے ادب ہو، استاذ کے سامنے زور سے بولتا ہو، نگاہ نیچی نہ رکھتا ہو، تعظیم نہ کرتا ہو، اس کی غیرموجودگی میں حرمت وعظمت کا لحاظ نہ رکھتا ہو، استاذ کے انتقال کے بعد اس کے وظیفہ یا قیام گاہ کے لئے کوشش نہ کرتا ہو کہ اس کو مل جائے اور اس کی اولاد سے ان امور میں مقابلہ کرتا ہو اور اپنے کو ان سے زیادہ مستحق سمجھتا ہو، استاذ کے کلام کو اپنی فہم نا قص کی وجہ سے یا کسی دوسرے کے کلام سے رد کرتا ہو، استاذ سے علوم حاصل کرکے اس سے بحث مباحثہ کرتا ہو تو یہ اس شاگرد کی کوتاہی عمل اور بدبختی کی علامت ہے اور ایسا شاگرد کبھی بھی کام یاب نہیں ہوسکتا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے اور اگر چاہے تو آزاد کردے یاغلام رکھے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
        رَأیْتُ اَحَقَّ الْحَقِّ الْمُعَلِّم
        وَاَوْجَبُہ حِفْظًا علٰی کُلِّ مُسْلِم
        لَقَدْ حَقَّ اَنْ یّھدٰی اِلَیْہِ کَرَامَةً
        لِتَعْلِیْمِ حَرْفٍ وَّاحِدٍ اَلْفُ دِرْھِم

سب سے بڑا حق تو استاذ کا ہے، جس کی رعایت تمام مسلمانوں پر فرض ہے، واقعی وہ شخص جس نے تم کو ایک لفظ سکھایا اس کا مستحق ہے کہ ہزار درہم اس کے لئے ہدیہ کئے جائیں۔ بلکہ اس کے احسان کے مقابلہ میں تو ہزار درہم کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ جو شخص اپنے استاذ کی تکلیف کا باعث ہو وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا اور برابر کوششوں کے باوجود علم کی دولت سے منتفع نہیں ہوسکتا۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے #
        اِنَّ الْمُعَلِّمَ وَالطَّبِیْبَ کِلَا ھُمَا لَا
        یَنْصَحَانِ اِذاَ ھُمَا لَا یُکْرَمَا
        فَاصْبِرْ لدَائِکَ اِنْ جَفَوْتَ طَبِیْباً
        وَاقْنَعْ بِجَھْلِکَ اِنْ جَفَوْتَ مُعَلِّمًا

(ترجمہ: استاذ اور معالج اس وقت تک نفع نہيں ديتے جب تک ان کى عزت نہ كی جائے، اگر تم نے كسى طبیب كو تكليف پہنچادى تو اپنى بيمارى پر صبر كرو اور اگر كسى استاذ كو تكليف پہنچادى تو اپنى جہالت پر صبر كرو، یعنی تم كو كچھ نہیں آئے گا اور اگر آگيا تو ختم ہوجائے گا)
استاذ اور طبیب کی جب تک توقیر اور تعظیم نہ کی جائے وہ خیرخواہی نہیں کرتے، بیمار نے اگر طبیب کے ساتھ بدعنوانی کی ہے تو اس کو ہمیشہ بیماری پر قائم رہنا پڑے گا اور شاگرد نے اگر اپنے استاذ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو ہمیشہ جاہل رہے گا۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ استاذ کا ادب اور خدمت اپنے لئے ضروری سمجھے، بلکہ دونوں جہانوں کی سعادت سمجھے، جو شاگرد اپنے استاذ کی خدمت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دینی ودنیوی ترقی عطا فرماتا ہے، ایسے لوگ دین کی اشاعت کرتے ہیں، جس سے ہزاروں بندگان خدا کو ہدایت نصیب ہوتی ہے، وہ زمین پر مانند ستاروں کے ہوتے ہیں، ان کی صحبت میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ برسہا برس کا پاپی گناہوں سے توبہ کرکے خداوند تعالیٰ کی معرفت کا نور قلب کے اندر پیدا کرتا ہے، ان کی فراست وذکاوت سے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہیں، وہ اساطین امت ہیں جن پر زمین و آسمان فخر کرتے ہیں، وہ جس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں گم راہی دور ہوجاتی ہے اور ہدایت کی راہیں کھل جاتی ہیں۔
ہر ایک کو اس کا اچھی طرح تجربہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملا استاذ کے ادب اور خدمت اوراس کی عنایت ومہربانی سے ملا، دین ودنیا کی عزت انہیں کی دعاوٴں کا ثمرہ ہے۔
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تین بچے پیش پیش رہتے، اتفاق کی بات یہ ہے کہ تینوں کا نام عبداللہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں کی محبت اور خدمت کو دیکھتے تو انہیں دعائیں دیتے، دعاوٴں کا نتیجہ یہ نکلا کہ تینوں بڑے ہو کر اپنے اپنے فن کے امام بنے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہاء بنے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ امام المفسرین بنے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ امام المحدثین بنے۔
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ عاتکہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ امام ابوحنیفہ ہمارے گھر کی روئی دھنتے تھے اور ہمارا دودھ،تر کا ری خریدکر لاتے تھے اور اس طرح کے بہت سے کام کیا کرتے تھے۔
حضرت حماد رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ ہیں، اس وقت کیا کوئی سمجھ سکتا تھا کہ حماد کے گھر کا یہ خادم تمام عالم کا مخدوم ہوگا!

امام فخرالدین رحمة اللہ علیہ کی بادشاہ وقت بہت تعظیم کرتا تھاوہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ سلطنت اور عزت محض استاذ کی خدمت کے سلسلہ میں پائی کیو نکہ میں اپنے استاذ قاضی امام ابوزیدد بوسی کی بہت خدمت کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے بیس سال تک متواتران کا کھانا پکایا اور اس میں سے کچھ کھا تانہ تھا۔

حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی تھی. مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ تحصیل علم سے فراغت کے بعد حاجی صاحب نے اپنی کُلاہ جوپندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی، مجھے عنایت فرمائی، میں نے رات کو گرم پانی میں وہ ٹوپی بھگودی، صبح کے وقت وہ پانی اِملتاش کے شربت سے زیادہ سیاہ ہوگیا تھا، میں اس کو پی گیا، اس پانی کی برکت سے میرا دل ودماغ ایسا تیز ہوگیا کہ کوئی مشکل کتاب مشکل نہ رہی۔
مولانا غلام رسول صاحب پونٹوی رحمۃ اللہ علیہ شجاع آباد ملتان کے ایک گاوٴں پونٹہ کے رہنے والے تھے، انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے دورہ حدیث کیا، ان کی اپنے استاذ شیخ الہند سے بہت زیادہ محبت تھی، جس راستے سے استاذ دارالحدیث میں آیا کرتے تھے یہ رات کو چھپ کر اس راستے کو اپنے عمامہ کے ساتھ جھاڑو کیا کرتے تھے، وہ اس لئے چھپتے تھے کہ دوسرے طلبہ ان کو نہ دیکھ لیں. ایک مرتبہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو عمامے سے جھاڑو دیتے ہوے دیکھ لیا، انہوں نے پوچھا: غلام رسول! کیا کررہے ہو؟ بالآخر بتانا پڑا، شیخ نے خوش ہوکر ان کو دعا دے دی. بس استاذ کی دعاء شاگرد کے کام آگئی، جب یہ فارغ ہوئے تو ان کا علمی فیض خوب چلا. شجاع آباد سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ان کا گاوٴں پونٹہ تھا انہوں نے ہی شرح مأتہ عامل پونٹوی لکھی، ان کو پورے ملک کے علما کی طرف سے شمس النحاة کا لقب ملا، طلبہ کا ہجوم ہوتا،طلبہ شجاع آباد شہر میں بس سے اترتے اور تیس کلو میٹر پیدل چل کر اپنا بور یا بستر اور سامان اپنے سروں پر رکھ کر پونٹہ جایا کرتے تھے، ان کے پاس ساڑھے تین سو شاگرد ہوتے تھے، مولانا عبداللہ در خواستی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبداللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ انہی کے شاگرد تھے، جن کا علمی وروحانی فیض سارے جہاں میں پھیلا۔
اساتذہ کی ٹوپیاں اور پگڑیاں اچھالنے والے اور مدرسہ کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی اسکیمیں بنانے والے اس پر غور کریں کہ استاذ کی عظمت کرنے والوں نے کیا دولت حاصل کی اور پھر انہوں نے دنیا کو کیسا فیض پہنچایا۔
طالب علم کو چاہئے کہ بغیر اجازت استاذ سے بات نہ کرے، اس کے سامنے بلند آواز سے نہ بولے، اس کے آگے نہ چلے، اس کے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھے، اس کی منشا معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہے اور اس کے مطابق عمل کرے، اگر کسی وقت استاذ کی طبیعت مکدر ہو تو اس وقت اس سے کوئی بات نہ پوچھے، کسی اور وقت دریافت کرلے، استاذ کو آواز دے کر نہ بلائے، بلکہ اس کے نکلنے کا انتظار کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں انصار کے پاس سے مجھے زیادہ علم ملا،میں ان کے دروازے پر دوپہر کے وقت گرمی میں پڑرہتاتھا حالاں کہ اگر میں چاہتا تو وہ مطلع ہو نے پر فوراًنکل آتے، مگر مجھے ان کے آرام کاخیال رہتا تھا، جب وہ باہر آتے اس وقت میں ان سے دریافت کرتا۔
حضرت شیخ الا دب مولانا اعزاز علی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں متعدد حضرات نے بیان کیا کہ کوئی بات دریافت کرنی ہوتی یا کتاب کا مضمون سمجھنا ہوتا تو اپنے استاذ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکان کے دروازے پر جاکر بیٹھ جاتے، جب حضرت گھر سے باہر نکلتے اس وقت دریافت کرتے اور یہ ان کا معمول تھا۔
طالب علم کو چاہئے کہ دوران درس اور فراغت کے بعد استاذ کے مشورے پر عمل کرے، استاذ کی مرضی کے مطابق عمل کرے، سبق اور کتاب کا انتخاب خود اپنی رائے سے نہ کرے۔
پہلے زمانے میں طلبہ اپنے پڑھنے پڑھانے کا معاملہ استاذ پر معلق رکھتے تھے، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اپنے مقاصد میں کام یاب ہوتے تھے اور جب خود انتخاب شروع کردیا تو علم سے محروم رہنے لگے۔
امام بخاری رحمةاللہ علیہ نے محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ سے کتاب الصلوٰة پڑھنی شروع کی تو ان سے محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تمہارے لئے علم حدیث کا پڑھنا مناسب ہے، کیوں کہ تمہارے اندر اس علم سے مناسبت پاتا ہوں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاذ کا مشورہ قبول کیا، دنیا نے دیکھا کہ وہ امیرالموٴمنین فی الحدیث ہوئے، اس سے معلوم ہوا کہ طالب علم کو جس فن سے مناسبت ہو اس میں زیادہ محنت کرکے مہارت پیدا کرے اور پھر اس کی اشاعت میں لگ جائے، اس میں خود رائی نہ کرے، بلکہ استاذ سے اس میں مشورہ کرلے۔
قرآن مجید میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمایا گیا ہے، حالاں کہ آپ سے زیادہ سمجھ دار کوئی نہیں ہوسکتا، چناں چہ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، حتیٰ کہ گھریلو زندگی کے معاملات میں بھی مشورہ کرتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص مشورہ کرنے کے بعد ہلاک نہیں ہوا۔ یہ مقولہ مشہور ہے کہ انسان تین قسم کے ہوتے ہیں،
ایک کامل انسان،
دوسرا نصف اور
تیسرا لاشے کے درجہ میں۔
مرد کامل وہ ہے جو صاحب رائے ہونے کے باوجود مشورہ کرتا ہو۔
اور تیسرا مرد جو بالکل لا شے کے درجہ میں ہے وہ ہے جو نہ درست رائے رکھتا ہوا ورنہ مشورہ کرتا ہو۔
حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت کی تھی کہ اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لیتے رہا کرو جن کے قلوب اللہ کے خوف سے لبریز ہوں۔
جب تمام معاملات میں مشورہ کی ضرورت ہے تو علم جو ایک بلند ترین مقصد ہے اس میں مشورہ کرنا تو زیادہ ضروری ہے اور استاذ سے بڑھ کر اس معاملہ میں کوئی صحیح رائے نہیں دے سکتا، جب تک استاذ کی مرضی اور اجازت نہ ہو. استاذ کو چھوڑکر نہ جائے، جوطلبہ استاذوں کو بدلتے رہتے ہیں، کبھی کسی کے پاس گئے، کبھی کسی کے پاس چلے گئے، اس سے علم کی برکت ختم ہوجاتی ہے، حضرت حکیم الامت مولا نا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی رائے ہوئی کہ دوسرے استاذ کے پاس پڑھنے کے لیے بھیجا جائے،جب مجھے معلوم ہو اتورات بھر نیند نہیں آئی، کھانا نہیں کھایا گیا، گھر کی مستورات نے یہ حال دیکھا تو والد صاحب نے اپنی رائے بدل دی اور میں بدستور اپنے سابق استاذ کے پاس پڑھتا رہا۔پھر دنیانے دیکھا کہ استاذ کی عظمت ومحبت نے کیا رنگ پیدا کیا، اور حضرت سے اصلاح امت کا کتنا بڑا کام ہوا۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)

http://mastooraat.blogspot.com/2021/05/blog-post.html?m=1




Wednesday, May 12, 2021

کامیاب استاداستاذ کے 100 اعمال و اوصاف

کامیاب استاذ کے 100 اعمال و اوصاف
اساتذہ کرام اور والدین ایک مرتبہ ضرور ملاحظہ فرمائیں:
https://www.facebook.com/MolanaMuhammadNoman/
(نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
http://mastooraat.blogspot.com/2021/05/100.html?m=1

Tuesday, April 27, 2021

خزیم کیا واقعی صحابی کا نام ہے؟

السلام علیکم 
خزیم کیا واقعی صحابی کا نام ہے؟ اگر حوالہ مل جائے تو نوازش ہوگی.
الجواب وباللہ التوفیق:
وعلیکم السلام 
خزیم کا صحیح تلفظ خُزَیْمَہ ہے۔ دیکھئے فتوی: 4-4/M=2/1434 .حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں. 
نام ونسب:
خزیمہ نام، ابوعمارہ کنیت، ذوالشہادتین لقب، سلسلۂ نسب یہ ہے خزیمہ بن ثابت بن فاکہ بن ثعلبہ بن ساعدہ بن عامر بن عیان بن عامر بن خطمہ (عبداللہ) بن جشم بن مالک بن اوس، والدہ کا نام کبشہ بنت اوس تھا اور قبیلہ خزرج کے خاندان ساعدہ سے تھیں۔
قبول اسلام:
ہجرت سے پیشتر مشرف باسلام ہوئے اور عمیر بن عدی بن خوشہ کو لے کر اپنے قبیلہ (خطمہ) کے بت توڑے.
غزوات اور شہادت:
حضرت خزیمہ بن ثابت نے تمام غزوات میں شرکت کی۔ فتح مکہ میں بنوخطمہ کا علم ان کے پاس تھا، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی دونوں لڑائیوں میں ان کے ساتھ تھے، جنگِ جمل میں محض رفاقت کی لیکن حکمت کی بدولت لڑائی میں حصہ نہیں لیا، صفین میں اولاً خاموش رہے، لیکن جب عمار بن یاسر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شامی فوج کے ہاتھ سے شہید ہوئے تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے تلوار نیام سے نکالی اور فرماتے جاتے تھے کہ اب گمراہی آشکارا ہوگئی. میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا، چنانچہ اس معرکہ میں لڑکر شہادت حاصل کی، یہ 37ھ کا واقعہ ہے۔
ذوالشہادتین:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدو سے گھوڑا خریدا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی دام ادا نہیں کئے تھے کہ بدو نے کسی اور سے قیمت طے کرلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ پر جواب دیاکہ میں نے گھوڑا آپ کے ہاتھ نہیں بیچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما کہ میں تم سے خرید چکا ہوں۔ جس پر اس بدو نے کہا کہ گواہ لایئے۔ اس پر اور سب مسلمان تو خاموش رہے لیکن خزیمہ نے بڑھ کر کہا: میں گواہ ہوں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ گھوڑا فروخت کیا ہے۔ چونکہ سودا کرتے وقت خزیمہ وہاں موجود نہ تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ آپ نے کہا کہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر ان کو ذوالشہادتین کا لقب دیا۔ یعنی ان کی شہادت دو آدمیوں کی شہادت کے برابر کردی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی 38 احادیث بیان کی ہیں۔ جو کتب احادیث میں موجود ہیں۔
فضائل:
ان کے فخر وفضیلت کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین مبارک کا بوسہ لے رہا ہوں، اس کو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو فرمایا کہ آپ اپنے خواب کی تصدیق کرسکتے ہو، چنانچہ حضرت خزیمہؓ نے اٹھ کر پیشانی اطہر کا بوسہ لیا۔
حوالہ جات: مسند احمد: جلد نہم: حدیث نمبر 1942 سنن نسائی: جلد سوم: حدیث نمبر 956
 مسند:5/214 (ویکی) (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
http://mastooraat.blogspot.com/2021/04/blog-post.html

Tuesday, March 30, 2021

بزرگوں کے مجربات کا حکم

عنوان: 
بزرگوں کے 
مجربات کا حکم
(102691-No)
سوال: علمائے دیوبند کے اکابر میں سے ایک بزرگ تھے، جو حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے استاد بھی تھے، یعنی مفتی تقی عثُمانی مدظلہ کے دادا استاد، وہ فرمایا کرتے تھے کہ حفاظت کا ایک عمل ایسا ہے کہ کچھ خاص لوگوں کو ہی بتایا کرتا ہوں، لیکن اب چونکہ عمر کا آخری حصہ ہے، اس لیے دل چاہتا ہے کہ ہر مسلمان تک یہ پہنچ جائے۔ اس کی تائید حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ نے بھی کی تھی اور یہ عمل کیا کرتے تھے؟ وہ عمل ذیل میں ارسال کیا جارہا ہے۔ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم (تین مرتبہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم (تین مرتبہ) اعوذ بِکَلِماتِ اللہِ التَّامَّات مِن شرِّ مَا خَلَق (تین مرتبہ) بسم اللہ پڑھ کر تین مرتبہ سورۃ اخلاص بسم اللہ پڑھ کر تین مرتبہ سورۃ فلق بسم اللہ پڑھ کر تین مرتبہ سورۃ الناس فَاللہُ خَیرٌ حَافِظًا وَّ ھُوَ اَرحَمُ الرَّاحِمِین (تین مرتبہ) وَ اَنَّ اللہَ قَد اَحَاطَ بِکُلِّ شَیئٍ عِلمًا (تین مرتبہ) آخر میں کوئی بھی درود شریف تین مرتبہ اس کے بعد پورے جسم پر دم کرلیں، اپنے اہل و عیال اور بچوں کا بھی حصار کرلیں۔ فجر کی نماز اور مغرب کی نماز کے بعد ان شآءاللہ بے شمار فوائدوبرکات کھلی آنکھوں سے نظر آئیں گے، اور شیطانی قوتوں اور ہمہ قسم کے بداثرات سے حفاظت ہوگی، یاد رکھیں! ان اذکار کا خود اہتمام کرتے ہوۓ، جتنا زیادہ ایسی خوبصورت پیاری باتیں آگے پھیلائیں گے، اتنا زیادہ فائدہ دنیا وآخرت میں پائیں گے۔ مفتی صاحب! کیا یہ عمل درست ہے؟
جواب: واضح رہے کہ جائز مقاصد کے حصول کے لیے وہ وظائف جو بزرگوں کے مجربات ہوتے ہیں، اگر وہ مجربات شریعت کی تعلیمات کے خلاف نہ ہوں، تو انہیں بطور علاج پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، البتہ ان وظائف کو فرض واجب سمجھنا درست نہیں ہے۔
سوال میں ذکر کردہ "وظیفہ حفاظت" بھی ایک مجرب عمل ہے، قرآنی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے، لہذا اسے پڑھنا مفید ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
کما فی حجۃ اللّٰه البالغۃ:
وأما الرقي فحقيقتها التمسك بكلمات لها تحقق في المثل وأثر، والقواعد الملية لا تدفعها ما لم يكن فيها شرك لا سيما إذا كان من القرآن أو السنة أو مما يشبههما من التضرعات إلى الله.
(ج: 2، ص: 300، ط: دار الجیل)
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:
التداوي بالرقى والتمائم:
أجمع الفقهاء على جواز التداوي بالرقى عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته، وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بإذن الله تعالى. فعن عوف بن مالك رضي الله عنه قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك وما لا يعقل معناه لا يؤمن أن يؤدي إلى الشرك فيمنع احتياطا.
(ج: 11، ص: 123، ط: دار السلاسل)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب دارالافتاء الاخلاص، کراچی (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
http://mastooraat.blogspot.com/2021/03/blog-post.html?m=1

Friday, January 15, 2021

مدرسے ‏کی ‏کہانی

مدرسے کی کہانی
دنیا میں پہلے تعلیم وتدریس آزاد ہوا کرتے تھے، یعنی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں کو اپنے زیرِ اختیار میں نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُنہیں آزادانہ علمی سرگرمیوں کا موقع دیتی تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی عہد میں استعمار نے اپنی ضرورت اور سیاست کے تحت دنیا میں رائج اِس خوب نظامِ تعلیم کا خاتمہ کردیا۔ مثلاً ہندوستان میں مدارس کا ایک آزادانہ نظام موجود تھا جو مغلوں کے عہد میں کامیابی کے ساتھ جاری تھا لیکن انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اپنی ضروریات کے تحت ڈھالنا چاہا تو اُنہیں سب سے زیادہ رکاوٹ اسی آزادانہ تعلیمی سرگرمی کی طرف سے پیش آئی، چنانچہ اُنہوں نے اس نظام کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔
چونکا دینے والی خبریہ ہے کہ ’’مدارسِ دینیہ‘‘ کو فقط دین کے مدارس قراردینے والے بھی خوداستعماری دور کے مستشرقین ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کے الفاظ میں،
’’اگر ہم سے یہ کہا جائے کہ جدید عہد کے سب سے بڑے تشدد کا نام لیں تو ہم بلاتوقف استعماری مستشرقین کے اس علمیاتی تشدد کا نام لیں گے جو اُنہوں نے مشرق کے تصور میں سے فطری علوم (سائنس) کے خارج کرنے کی صورت میں کیا‘‘۔
آج ہم جس مدرسے کو فقط دینی مدرسہ کے طور پر جانتے ہیں، ماضی میں یہ فقط دینی مدرسہ نہیں تھا۔ مثلاً ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے ہی رچرڈ پارکر، کے حوالے سے لکھا ہے کہ پارکر نے اپنے رسالے ’’مشرقی ادب کی افادیت پر ایک مضمون‘‘ میں تسلیم کیا ہے کہ ’’مغربی دنیا ارسطوسے اُس وقت واقف ہوئی جب عربی سے لاطینی میں اس کے تراجم ہوئے‘‘۔                             
دراصل مسلمانوں کے دورِعروج میں تشکیل پاجانے والا نظامِ مدارس اسلامی تہذیب کا سب سے نمایاں شاہکارتھا، جسے کچل دینے کی خارجی تمنّا تو کبھی پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی لیکن اس نظام کے زوال پاجانے کی داخلی وجوہ اتنی شدید تھیں کہ یہ نظام گزشتہ صدی میں بُری طرح سے پامال ہوکررہ گیا۔
ایک زمانہ تھا کہ انہی مدارس کے آزادانہ علمی ماحول میں، فطری علوم، فلسفہ و منطق اورشعروادب اُسی جوش و خروش کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے جس جوش و خروش کے ساتھ دینی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ لیکن استعماریت زدہ اقوام میں پیدا ہوجانے والے معذرت خواہانہ رویّے کا انجام اصولاً یونہی ہوناچاہیےتھا کہ جس طرح کا بیانیہ استعمار اختیار کرتا، استعمارزدگان بھی اُسی طرح کا بیانیہ اختیار کرلیتے۔ استعماری دور کے مستشرقین نے مشرقی علوم کو دانستہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور بالاصرار پورے مشرق (اور مسلمانوں) کو یہ باورکروایا کہ اُن کے ہاں فطری علوم سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے کیونکہ مشرق فقط روحانیت کا نمائندہ ہے اور صرف ماورائی قوتوں اورعقائد کے بارے میں غوروفکر کو علم سمجھتاہے۔

آج کُوپرنیکس (1473-1543) کے اِس انکشاف کو کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں، بلکہ زمین تو سُورج کے گرد گھوم رہی ہے.‘‘ کوپرنیکی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے اور کہاجاتا ہے کہ کائنات کے جدید تصور کو سمجھنے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ لیکن خود کیپلر (1571-1630) نے کوپرنیکس پر نصیرالدین طوسی اور مؤیّد الدین عُرضی کے فارمولے یعنی ’’طُوسی کپل اور عُرضی لیما (Tusi couple and Urdi Lemma)‘‘ کو بغیروضاحت اور ذکر کے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ابنِ شاطر نے سب سے پہلےاس شک کا اظہارکیا تھا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے‘‘۔ وہ دمشق کے ایک مدرسے سے متعلق تھا اورفقط نمازوں کا نظام الاوقات درست کرنے کی لگن میں اس نے سیّاروں کی رفتاروں (ولاسٹیوں) کو تاریخِ علم میں پہلی بار اپنی توجہ کا مرکز بنالیا۔ یہ بات بھی مصدقہ ہے کہ کوپرنیکس نے ابن شاطر کے ماڈل اورمساواتوں کو اپنے ’’ہیلیوسینٹرک (Heliocentric) ‘‘ انقلاب کی ایجاد میں استعمال کیا۔
دمشق اوربغدادکے مدارس ہوں  یا بخارا و سمرقندکے مدراس، مشرقی مدارس نے دنیا کو اپنے وقت کے جدید علوم کے ساتھ جوڑے رکھا۔ یہ جو سمجھاجاتاہے کہ مسلمانوں کے زوال اور یورپیوں کی سائنسی ترقی کے درمیان وقفہ یا وقت زیادہ ہے یہ بالکل غلط بات ہے۔ آخری مسلمان سائنسداں سمرقند کی لیبارٹری میں دیکھےگئے۔یہ الغ بیگ کی رصدگاہ تھی۔ اوریہ پندرھویں صدی کی بات ہے۔
مسلمانوں سے پہلے کائنات کے تین ماڈل موجود تھے۔ ارسطوکاماڈل جو میکانکی تھا۔ جس کا دائرہ، کامل دائرہ (Perfect Circle) تھا اورجس کا مرکزسیّارۂ زمین تھا۔ دوسرے نمبرپر فلاطینوس کا ماڈل تھا۔ یہ روحانیت زدہ ماڈل تھا۔ کائنات کے اس ماڈل سے ہی انسانیت کے لیے سبق اورمقصد کی موجودگی کو اخذ کیا جاسکتا ہے۔تیسراماڈل بطلیموسی ماڈل کہلاتاہے۔ بطلیموسی ماڈل ریاضیاتی ہے۔
مسلمان ماہرینِ فلکیات نے اِن ماڈلوں کو یکجاکرکےدیکھنا شروع کیا۔ لیکن مسلمانوں میں مشاہدے کا رجحان غالب تھا۔ یقیناً اس کی وجہ قران کا وہ درس تھا کہ کائنات پرغوروفکرکرو! اپنے حواسِ خمسہ، خصوصاً سمع و بصرکو استعمال کرتے ہوئے رات دن کے اختلاف پر نظرڈالو! زمین میں سیرکرو! اورغورکروکہ پہاڑوں کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہیں؟ پھلوں اوردرختوں کی اتنی انواع کیوں ہیں؟ معلوم کرنے کی کوشش میں لگے رہو کہ اَلوان و اصوات کی کیا حقیقت ہے؟ مسلمانوں کا طریقہ استنتاجی (انفرینشیل) تھا۔ وہ مادی سچائی (Material Truth) کو ڈھونڈنے کے شوقین تھے۔ کیونکہ فطری علوم کی طرف اُن کا رجحان فطری(نیچرل) تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کو ایسی ریاضی کی ضرورت پیش آئی جو بہت زیادہ ٹھیک (Précised) اورفطرت، یعنی کائنات کے بہت زیادہ قریب ہو۔ اُنہیں سمتوں، خطوں اور رفتاروں کو مانپنا پڑا۔ اُنہیں ڈرائنگز بنانا پڑیں اور پہلی بار خالص تکنیکی (Technical) زبانیں استعمال کرنا پڑیں۔
اسلام سے پہلے تک کائنات میں ستاروں کی کُل تعداد 1022 تھی۔ یہ بطلیموسی ماڈل تھا۔ کل ستارے 1022 اور کل جھرمٹ (Constellation) فقط اڑتالیس (48)۔ پھر بھی کائنات کو اتنا بڑا سمجھا جاتا تھا کہ اسے جان لینا ناممکن خیال کیا جاتا تھا۔ بطلیموس نے کہا تھا کہ زمین حرکت نہیں کرتی بلکہ ساکن ہے کیونکہ اگر زمین حرکت کررہی ہوتی تو زمین پرپڑی ہوئی چیزیں لڑھکنے لگتیں اورجانورہوا میں اُڑتے ہوئے دکھائی دیتے۔ دراصل ارسطو کا ماڈل کائنات کے مشاہدے پر مشتمل تھا، بطلیموس نے اسے ریاضیاتی رنگ دے کر کافی الجھادیا تھا۔ لیکن جب مسلمانوں نے ان تینوں ماڈلوں کو یکجا کرکے دیکھا تو ان میں موجود خامیاں اُن پر عیاں ہونے لگیں اوریوں پہلی بارکائنات کو سمجھنے کے لیے ریاضیاتی مساوات کا وجود سامنے آیا۔ مسلمان ریاضی دانوں کا خیال تھا کہ اگر زمین کائنات کا مرکز ہے تو پھر ایک تنہا (سِنگل) ریاضیاتی فارمولا اس کی وضاحت کے لیے کافی ہونا چاہیے ۔
ابنِ سینا اور ابنِ رُشد کو بطلیموس کا ماڈل پسند نہیں تھا۔ ابن الہیثم نے تو باقاعدہ ’’شکوک علی البطلیموس‘‘ نامی کتاب لکھ کر بطلیموس کے ماڈ ل پر شکوک و شبہات کا اظہارکیا۔ ابن الہیثم نے کہا کہ بطلیموسی ماڈل فرضی ہے نہ کہ حقیقی۔ مشاہدے کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں۔ نُورالدین بطروجی، اُندلسی نے اعلان کیا کہ بطلیموس نے زمین کو کائنات کا مرکز ماننے کے لیے زمین سے باہر جس نقطے کو مرکزِ مشاہدہ بنایا ہے وہ مشاہدے اور ریاضی کے اُصولوں پر پورا نہیں اُترتا۔ ابن شاطرنے اعلان کیا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے‘‘۔ اگرچہ ابن شاطر اپنے کام میں بطلیموس کے ماڈل کو ہی استعمال کرتارہا اور اس کےہاں کوئی ایسا الگ ماڈل نہیں ملتا جس میں زمین کائنات کا مرکز نہ ہو لیکن وہ اپنی تحریروں میں زمین کو کائنات کا مرکز تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
بطلیموس کے ماڈل کو چیلنج کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں قرآن وحدیث یا عقائد کی رُو سے زمین کو کائنات کا مرکز ماننا لازم نہیں تھا۔ قران میں تو کہاگیاتھا کہ تمام اجرامِ فلکی تیر رہے ہیں اورآسمان بغیرستونوں کے بلند ہیں گویا معلّق ہیں۔ قرآن نے تو کہا تھاکہ، مِن جِبَالٍ۬ فِيہَا،  یعنی آسمان میں پہاڑہیں ۔ قران نے ستاروں کے محل ِّ وقوع کی شہادت پر کلامِ الٰہی کے وحی ہونےکی دلیلیں دی تھیں۔اس سب پر مستزاد قران نے زمین کے کناروں سے نکل جانےکی شہ دی تھی۔ الغرض قران کے طلبہ کے لیے زمین کا مرکزِ کائنات رہنا ویسا ضروری نہیں تھا جیسا مسیحیت میں ہوسکتا تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابتدائی دورکے ہیلیوسینٹرک ماڈل کو ماننے والے سائنسدان ابن سینائی تھے، ارسطوکے پیروکارنہیں تھے ۔ ہیلیوسینٹرک یعنی وہ ماڈل جس میں سُورج کائنات کا مرکز ہے۔ نصیرالدین طوسی نے بطلیموس کے ماڈل کو چیلنج کیا اورزمین کے متحرک ہونے کےحق میں دلائل دیے۔ طوسی کو ہلاکوخان نےمراغہ (آذربائی جان) میں رصدگاہ بناکر دی تو طوسی نے گویا یوروپ کی جدید فلکیات کی بنیادیں رکھ دیں۔ طوسی خودابن ِ سینائی تھا نہ کہ ارسطالیسی۔ یہیں یوروپ کے طالب علم آنا شروع ہوئے اور یہیں سے یوروپ کی جانب طبیعات (فزکس) کا علم منتقل ہوا۔یہیں طوسی اورعُرضی کا مشہور فارمولا طُوسی کپل اورعرضی لیما وجود میں آیا۔ طوسی کپل اورعرضی لیما کے استعمال سے ہی کوپرنیکس نئے تصورِ کائنات کو پیش کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ ساری نسیبی (Sari Nusseibeh) کے الفاظ میں،

“Copernicus used this revolutionary concept to shift the focus of the orbital system to the sun.”

نصیرالدین طوسی نے کائنات کا نیا ماڈل پیش کیا۔ اس نے اپنے ماڈل کی بنیاد زمین کے مرکزِ کائنات ہونے پر نہ رکھی ۔ اُس نے بطلیموس کے ماڈل کو تبدیل کردیا۔ایک فارمولا ’’طُوسی کپل‘‘ متعارف کروایا۔ اس نے بطلیموس کے ایکوئنٹ (Equant) کی جگہ ایک نئے دائرے کا اضافہ کردیا۔ یوں گویا طوسی کپل کا چھوٹا دائرہ جو بڑے دائرے کو اُس کے ٹینجنٹ (Tangent) سے چھُورہاتھا، اندرونی طرف کو الٹی حرکت کرنے کی وجہ سے بطلیموس کے ماڈل کی اس خرابی کو دور کررہاتھا جس کی وجہ سے سیارے کبھی آگے اور کبھی واپس پیچھے کو جاتےہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ’’فلااُقسم بالخنس الجوارالکنس‘‘ کی روشنی میں کام کرنےوالا مدرسے کا یہ طالب علم ہیلیوسینٹرک ماڈل کی طرف اتنا آگے بڑھ آیاتھا کہ اب کوئی بھی آسانی کے ساتھ اگلا مرحلہ طے کرسکتاتھا۔ جیسا کہ طوسی کے شاگرد شیرازی نے کہابھی تھا کہ اِس ماڈل میں تو سورج مرکزِ کائنات معلوم ہوتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ طوسی نے سورج کو بھی مرکزِ کائنات نہ مانا۔ یہ گویا زیادہ بڑی سوچ تھی۔ کیونکہ آج ہم جانتے ہیں کہ سورج مرکزِ کائنات نہیں ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے طُوسی کا ماڈل یورپ میں مقبول نہ ہوسکا۔ البتہ اس کی مساواتیں اورفارمولے کوپرنیکس نے استعمال کرلیے۔

طوسی کے شاگرد شیرازی نے طوسی کے ماڈل میں موجود ہیلیوسینٹرک منظرنامے کی نشاندہی کردی تھی۔ ساری نسیبی کے بقول عین ممکن ہے کہ کوپرنیکس نے فقط طوسی کا فارمولا ہی استعمال نہ کیا ہو بلکہ اس کے شاگرد شیرازی کی یہ بات بھی اُچک لی ہو، کہ کائنات کا مرکز سُورج بھی ہوسکتاہے۔ ہیلیوسینٹرک ماڈل کا مطلب ہے وہ ماڈل جس میں کائنات کا مرکز سورج ہے اور جیوسینٹرک ماڈل کا مطلب ہے وہ ماڈل جس میں کائنات کا مرکز زمین ہے۔ ابن شاطر اورقشجی نے بھی ہیلیوسینٹرک ماڈل کی طرف واضح اشارے دیے تھے۔ کوپرنیکس کے کام میں ان کی ڈرائینگز اورفارمولے بھی استعمال ہوئے ہیں۔
یوروپ نے جس وقت آنکھیں کھولیں، مسلمان اس وقت بھی میدان میں موجود تھے۔ اس لیے یوں کہنا کہ مسلمانوں کے علمی زوال اور یورپ کی علمی ترقی کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے بالکل غلط ہے۔ دیکھاجائےتو یہ فاصلہ پچاس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ الغ بیگ کی سمرقند والی رصدگاہ پندرھویں صدی کے آخر میں اپنے عروج پر تھی جبکہ یورپ کی سائنس سولہویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔
الغرض اسلامی عہد کی تمام تر سائنسی ترقی انہی آزاد مدارس کی مرہونِ منت ہے جہاں گورنمنٹ کے دیے ہوئے نصاب نہیں پڑھائےجاتےتھے۔ یہ ادارے مدرسے تھے۔ ہمارا آج کا مدرسہ اپنی مادر زاد حالت میں ایسا ہی ادارہ ہوا کرتاتھا۔ اسلامی تاریخ کے عروج کے زمانے میں فقط ’’دینی مدرسہ‘‘ کے نام سے الگ مدارس وجود نہیں رکھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ہزاروں مدارس میں کوئی قرآن و حدیث پڑھانے میں زیادہ مشہور ہو اور کوئی فلسفہ و منطق پڑھانے میں۔ لیکن ایسا تو آج بھی ہوتاہے۔ ایک یونیورسٹی پارٹیکل فزکس میں مشہور ہوتی ہے تو دوسری سوشیالوجی یا سائیکالوجی میں۔
مشرقی بلکہ اسلامی تاریخ کے یہ آزاد مدارس، اسلامی تہذیب کا سب سے قیمتی سرمایہ تھے، جنہیں نوآبادیاتی عہد میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مِٹانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اسلامی تہذیب کے اس شاہکار یعنی ’’مدرسے‘‘ میں اپنی داخلی قوت اتنی زیادہ تھی کہ مدراس کو مکمل طورپر ختم نہ کیا جاسکا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ مرعوبیت کا شکار ہوکر استعمارزدہ مشرق نے مدارس کے اس نظام کو ازخود استعماری بیانیے کے عین مطابق بنادیا۔ استعماری بیانیہ یہی تو تھا کہ اِن مدارس میں فقط مسلکی تعلیم دی جاتی ہے نہ کہ سائنس، فلسفہ، منطق یا شعروادب پڑھائے جاتے ہیں اورمرعوب و مغلوب استعمارزدہ ذہن نے اس فریب کو قبول کرلیا۔ اوریوں مدارس کو مسلکی تعلیم تک محدود کرکے اسلامی تہذیب کے اتنے بڑے اورعظیم تحفے کو قریب قریب کنارےکے ساتھ لگا دیا گیا۔
مدرسہ چونکہ ماضی میں پوری انسانیت کےلیے آزادانہ تحقیق کا سب سے شاندار ادارہ رہا تھا اِس لیے ایسے عظیم اور قیمتی ادارے کا ختم ہوجانا اسلامی تہذیب کے سب سے قیمتی اثاثے کا لُٹ جانا تھا۔ چنانچہ بیسویں صدی میں مدرسے کے تہذیبی ورثے کو بچانے کے خواہشمند مسلم علمأ نے طرح طرح کے تجربات کے ذریعےاس ادارے کی اندرونی قوت بحال کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اِن تجربات میں زیادہ ترکوششیں اس لیے کامیاب نہ ہوسکیں کہ اُن کا مطمحِ نظرمدرسے کے نظامِ تعلیم کو جدیدیت کےساتھ ہم آہنگ کرنا تھا۔ مدرسےکواگرکوئی تحریک اُس کی کھوئی ہوئی قوت واپس دلاسکتی تھی تو وہ فقط مدرسے کے اپنے نظام ِ تعلیم کوباقی رکھتے ہوئے ہی ایسا کرسکتی تھی نہ کہ یوروپ کی جدیدیت بلکہ ڈاکٹرناصرعباس نیر کے بقول ’’نوآبادیاتی جدیدیت‘‘ کو اختیار کرکے۔
مدرسے کا اپنا نظام تعلیم آزادانہ فضا میں تدریس، تحقیق اور مباحثے کے اُصول پر قائم تھا اوریہی آزاد فکری ہی اس سےمفقود ہوتے ہوتے بیسویں صدی میں تقریباً ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس مغرب کا نظام  اکیڈمیا کی شکل میں ایک پابند نظام ہے جو بنیادی طورپر سرمایہ دارانہ فکر کا پروردہ اوراسی کا مستقل خادم ہے۔ تمام سرمایہ دار ممالک اس نظام کو کنٹرول کرتےہیں اور کسی ایسی تحقیق کے لیے کوئی گنجائش اس نظام میں موجود نہیں جو کامل آزادی کے ساتھ کسی علم پر بحث کی اجازت دے۔ 🌼ادریس آزاد (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post_36.html


ایک ایمان افروز واقعہ

ایک ایمان افروز واقعہ
ممتاز سعودی عالم ابوعبدالرحمن محمد العریفی کہتے ہیں:
میں یمن گیا اور شیخ عبدالمجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور قرآن کریم کے علمی اعجاز پر اور سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں,پر کافی کام کیا ہے
میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو؟ 
شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں.
میں نے کہا: مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں!
شیخ کہنے لگے:
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا، یہ بائلوجی اور اس علم میں جو نئے اکتشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا،
ایک پروفیسر امریکی یا جرمن نے یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر کی جب انجیکشن لگتا ہے تو درد کا احساس صرف جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد درد کا احساس نہیں ہوتا۔
اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں درد کا مرکز اور درد کا احساس صرف جلد تک محدود ہے. جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو درد کا احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں!
پروفیسر نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے. یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا.
شیخ زندانی نے کہا کہ: ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں. اُس نے کہا وہ کیسے؟
شیخ نے کہا: میں نے قرآن کی آیت پڑھی:
(اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)
(بسم اللہ الرحمن الرحیم)
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾
سورہ النسآء آیت نمبر 56
ترجمہ: بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔ (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
یعنی کہ جب اہل جہنم کی جب جلد اور کھال جل جائے گی اللہ مالک نئی جلد اور کھال دیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں معلوم ہوا کہ درد کا مرکز جلد ہے،
جب اہل جہنم کی جلد اور کھال ہی نہیں ہوگی تو انہیں درد کا احسا س نہیں ہوگا.
شیخ کہتے ہیں جب میں نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکڑز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے؟
سب نے کہا: ترجمہ صحیح ہے
وہ حیران و پریشان ہوکر خاموش ہوگیا.
شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور برطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ.
انہوں نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا.
وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا: سب یہی ترجمہ کررہے ہیں!
اُس نے کہا: مجھے قرآن کا ترجمہ دو.
شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا.
شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا:
میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے. الحمدللہ ۔۔۔ اللہ اکبر (نقلہ: #ایس_اے_ساگر) 
https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post_15.html


غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘

غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘ 

اب سے دو ہفتے پہلے کی بات ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ بلوچستان کی تحصیل بولان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کُھدائی کرنے والے گیارہ مزدوروں کو دہشت گردوں نے اغوا کرکے وحشیانہ انداز میں قتل کردیا۔ اس دل خراش سانحے کی خبر دیتے ہوئے ہمارے مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ (دونوں) نے ان مظلوم مزدوروں کے لیے ’’کان کَن‘‘ کی جگہ ’’کان کُن‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ایک اخبار نے تو اپنی شہ سُرخی میں ’’کن‘‘ کے کاف پر باقاعدہ پیش بھی لگایا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے ’’کان کُن‘‘ پڑھنے سے محروم ہی رہ جائے۔

اردو زبان میں شائع ہونے والے اخبارات و جرائد اور اردو کو ذریعۂ اظہار بنانے والے نشریاتی اداروں میں اب املا اور تلفظ کی درستی کا خیال رکھنا بے رواج ہوچکا ہے۔حالاں کہ ان اداروں کو اپنے وقار اور وقعت میں اضافہ کرنے کے لیے مستند املا اور مستند تلفظ اختیار کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اخبارات کا تلفظ و املا سند سمجھا جاتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ذمے داریوں میں سے ایک اہم ذمے داری اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کی علمی رہنمائی بھی ہے۔

ابلاغی اداروں کے لیے فائدے کی نہیں، نقصان کی بات ہے کہ اخبارات میں خبریں تحریر کرنے والوں اور نشریاتی اداروں سے خبریں پڑھنے والوں کی لسانی تربیت کا اب کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے اکثر املا اور تلفظ محض قیاس سے اختیار کرلیے جاتے ہیں۔ غلط املا شائع ہونے اور غلط تلفظ نشر ہونے سے نیک نامی نہیں، بدنامی ہوتی ہے۔ سہل پسندی کی وجہ سے لغت دیکھنے کا کہیں بھی رواج نہیں ہے۔ چناں چہ ’’کارکُن‘‘ کے تلفظ پر قیاس کرکے ’’کان کُن‘‘ کا تلفظ بھی اختیار کرلیا گیا، جو غلط ہے۔ غلطی پر ٹوکنے والابھی اب کوئی نہیں، لہٰذا ایک کی دیکھا دیکھی یا سن کر وہی غلطی دوسرے بھی دوہراتے چلے جاتے ہیں۔

عربی، فارسی اور اردو میں اِعراب (زیر، زبر، پیش) کے فرق سے تلفظ تبدیل ہونے پر اکثر اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ اس وجہ سے معیاری زبان لکھنے اور بولنے والے املا اور تلفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

’’کان کَن‘‘ فارسی ترکیب ہے۔ کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘کامطلب ہے ’’کھودنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کَندَن‘‘ ہے، یعنی ’’کھودنا‘‘۔ پتھر، لکڑی یا دھات وغیرہ کو کھود کر اس پر نقش و نگار اُبھارنے کو ’’کَندہ کرنا‘‘ کہتے ہیں۔

شیریں فرہاد کی رُومانی داستان میں دودھ کی نہر نکالنے کے لیے اپنے تیشے سے پہاڑ کھود ڈالنے والے فرہاد کو ’’کوہ کَن‘‘ بھی کہا گیا، یعنی ’’پہاڑ کھودنے والا‘‘۔ اگرچہ اب تو بہت سہولت ہوگئی ہے، مگر ہمارا ماضی پرست اور تیشہ بدست شاعر کوہ کَنی کے جدید طریقوں سے سراسر ناخوش ہے۔ کہتا ہے:۔

اب تو بارُود سے ہوتی ہے یہاں کوہ کَنی

اب میں ہم پیشۂ فرہاد نہیں رہ سکتا

قبر کو فارسی میں ’’گور‘‘ کہا جاتا ہے اور قبر کھودنے والے کو ’’گورکَن‘‘۔ فارسی کا ایک محاورہ اکثر اردو میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے ’’چاہ کَن را چاہ درپیش‘‘۔ چاہ کنویں کو کہتے ہیں۔ ترجمہ اس کا یہ ہوگا کہ کنواں کھودنے والے کو خود کنویں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ جو دوسروں کے رستے میں کنواں کھودتا ہے وہ خود اس میں گر پڑتا ہے۔ اسی مفہوم کا یہ محاورہ بھی اردو میں رائج ہے کہ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔ مطلب یہ کہ دوسروں کی بُرائی چاہنے والا آپ اس کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ اسی طرح ایک اورلفظ ہے ’’بیخ کَنی‘‘ یعنی جڑ کھودنا یا کسی چیز کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنا۔ اکثر اس کا تلفظ بھی کاف پر پیش کے ساتھ کردیا جاتا ہے، جو غلط ہے۔ ’’جاں کَنی‘‘ میں بھی فرشتے کسی کے جسم سے جان اُسی طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جس طرح کوئی چیز کھود کر نکالی جاتی ہے۔ اسی کو نزع کا عالم کہتے ہیں۔ نزع کے معنی کسی شے کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں۔ نزاع یا تنازع بھی ایسی ہی کھینچا تانی سے پیدا ہوتا ہے۔ کان کَنی میں تو جان کَنی کا خطرہ ہر وقت ہی موجود رہتا ہے۔ مگر ہمارے شعرائے کرام اس قسم کے خطرات سے بھی لطف لیتے ہیں۔ بقول مصطفیٰ زیدی:۔

یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جاں کَنی کب تھا

جلے اِک شمّع پر ہم بھی، مگر آہستہ آہستہ

(ضرورتِ شعری کے تحت یہاں شمع کا تلفظ ’’شمّع‘‘ کیا گیا ہے)

حاصلِ کلام یہ کہ کان میں کھدائی کرنے والے مزدور کوکان ’’کَن‘‘ ہی کہا جاتا ہے، کان ’’کُن‘‘ نہیں۔

’’کارکُن‘‘ بھی فارسی ترکیب ہے۔کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ کا مطلب فارسی میں ہے: ’’کرنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کردن‘‘ ہے، یعنی ’’کرنا‘‘۔ ’’کار‘‘ فارسی میں ’’کام‘‘ کو کہتے ہیں۔ ’’کارکُن‘‘ ہوا کام کرنے والا۔’’حیران کُن‘‘ حیران کرنے والا اور ’’پریشان کُن‘‘ پریشان کرنے والا۔کھیل کے کسی مقابلے کا فیصلہ کرنے والا، مثلاً ہاکی کا جوگول یا کرکٹ کا جو شاٹ فتح و شکست کا فیصلہ کردے، اُسے ’’فیصلہ کُن‘‘ کہتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں بعض مواقع بھی ’’فیصلہ کُن‘‘ آتے ہیں، جن کے متعلق تاریخ میں یہی پڑھا ہے کہ اکثرو بیشتر گنوا دیے جاتے ہیں۔

کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ عربی زبان کا بھی لفظ ہے۔ یہ صیغۂ امر ہے۔ یعنی حکم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے’’ہوجا‘‘۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 117 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’… اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہو جا،(کُن) تو وہ ہو جاتا ہے(فَیکُون)‘‘۔ کُن فیکُون کے یہ قرآنی الفاظ اردو شاعری میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔اقبالؔ کا مشہور شعر ہے:۔

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے ’کُن فیکوں‘

کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘ اردو میں کان کے مخفف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جس کے کان کٹے ہوئے ہوں اُس کو ’’کَن کٹا‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ کان اور ماتھے کے بیچ کے پَٹ (حصے) کو ’’کَن پَٹی‘‘ کہتے ہیں، جس کا املا ’’کنپٹی‘‘ ہے۔کسی شخص (بالعموم اگر کسی مرد) کے کان چھدے ہوئے ہوں وہ ’’کَن چھدا‘‘ کہلاتا ہے۔ بُندے وغیرہ پہننے کے لیے بچیوں کے کان چھیدے جاتے ہیں اور اس کی باقاعدہ رسم منعقد کی جاتی ہے، جو’’کَن چھیدن‘‘ یا ’’کَن چھدائی‘‘ کہی جاتی ہے۔ دوسروں کی بات چپکے چپکے کان لگا کر سننے کو ’’کَن سُوئیاں‘‘ لینا کہتے ہیں۔ مگر یہ کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ جو ٹوپی یا ٹوپا کان چھپا لے، وہ ’’کنٹوپ‘‘ کہلاتا ہے۔ ایک زہریلا کیڑا جو کھجور سے مشابہت رکھتا ہے اور کان میں گھس جاتا ہے ’’کَنکھجورا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جو شخص گانے بجانے یا موسیقی کا رسیا ہو اُسے ’’کَن رَس‘‘ یا ’’کَن رسیا‘‘ کہتے ہیں۔

آدھا، کونا یا گوشہ بھی ’’کَن‘‘ کہلاتا ہے۔

اب تو اس کی بس ایک ہی مثال باقی رہ گئی ہے ’’کَن انکھیوں‘‘ سے دیکھنا۔ یعنی گوشۂ چشم سے تکنا۔

وہ گو کچھ نہ سنتی، نہ کہتی اُسے

کَن انکھیوں سے پَر دیکھ رہتی اُسے

(مولوی میرحسن ۔ مثنوی ’’سحرالبیان‘‘)

از: ابونثر بہ شکریہ: فرائیڈے اسپیشل (نقلہ: #ایس_اے_ساگر) 

https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post.html