Tuesday, June 22, 2021
خطاطی کے اس نمونہ میں یہ کون سی آیت لکھی ہوئی ہے؟
Tuesday, June 8, 2021
مادری زبان کا پس منظر و پیش منظر کیا ہے؟؟؟
مادری
زبان کا پس منظر
و پیش منظر کیا ہے؟؟؟
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
زبان وہ ذریعہ ہے جس سے ایک انسان اپنے احساسات، خیالات اور اپنے جذبات دوسرے انسان تک منتقل کرتا ہے۔ زبان انسان کے اندر کی نمائندگی کرتی ہے، یہ مافی الضمیر کے اظہار کا ایک وقیع ذریعہ ہے۔ زبان کے ذریعے انسان اپنی حاجات اور اپنی ضروریات کا بھی اظہار کرتا ہے۔ انسانی معاشروں میں بولی جانی زبانیں انسانی باہمی ربط و تعلق کی ایک اہم بنیاد ہوتی ہیں۔ زبان کے ذریعے جہاں ایک انسان اپنی کیفیات کا اظہار کرتا ہے وہاں دوسرا انسان بھی زبان کے ذریعے سے ہی پہلے کے ما فی الضمیر کا دراک کرتا ہے۔ کسی انسان کے پاس یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسرے انسان کے اندر جھانک کر اس کا انداہ لگاسکے پس یہ زبان ہی ہے جس کے الفاظ انسانوں کو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔
انسان کی پہلی زبان ’’رونا‘‘ ہے۔ ماں کے پیٹ سے جنم لے کر وہ سب سے پہلے روتا ہے اور اپنی ضروریات کا رو رو کر اظہار کرتا ہے۔ اسی رونے میں اس کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے، اسی رونے میں اس کی پیاس ہویدا ہوتی ہے، اسی رونے سے وہ اپنی تکلیف اور درد کا احساس دلاتا ہے اور اسی رونے سے ہی وہ سوکر جاگنے کا اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالی کی شان ہے کہ اس بچے کی سب سے ابتدائی زبان اس کی ماں ہی سمجھ پاتی ہے حالانکہ رونے کے کوئی الفاظ نہیں ہوتے، رونے کی کوئی تراکیب نہیں ہوتیں اور رونے کے کوئی اصول و قواعد بھی نہیں ہوتے لیکن پھر بھی یہ ایسی زبان ہے جسے بچے کی ماں آسانی سے سمجھ جاتی ہے۔ بہت تجربہ کار ڈاکٹر اور طبیب بھی بچے کی جس کیفیت کو نہ سمجھ سکے ماں اس کا بخوبی ادراک کرلیتی ہے، حالانکہ ’’ماں‘‘ نے ’’ماں‘‘ بننے کا کوئی کورس نہیں کیا ہوتا بس ماں کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے جو بچے کے رونے کی زبان کو ماں کے جذبات میں ترجمہ کرکے اس تکلیف کی وضاحت کردیتا ہے۔ بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ اس کا سب سے پہلا تعلیمی ادارہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ ماں کی گود میں سیکھا ہوا سبق وہ بڑھاپے کی دہلیز پر بھی بھلانا چاہے تو ممکن نہیں ہے۔ ماں کی گود کے اثرات بچے کے ذہن پر ایسے نقش ہوکر پختہ ہوجاتے ہیں جیسے پتھر پر کوئی تحریر کندان کرکے توہمیشہ کے لئے امر کردی جائے۔ یہ اولین تعلیمی ادارہ بچے کو جس طرف بھی موڑنا چاہے بچہ اسی طرف ہی مڑتا چلا جاتا ہے۔ اسی لئے ہمیشہ یاد رکھے جانے والے سبق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انہیں ماں نے گھٹی میں پلایا ہے۔ جیسے امریکی بچوں کو اسامہ کا خوف مائیں اپنے دودھ میں پلاتی ہیں اور اسرائیلی ماؤں نے حماس کا خوف یہودی بچوں کو دودھ میں پلایا ہے وغیرہ۔ مادری زبان بھی اسی طرح کا پڑھایا ہوا سبق ہوتا ہے۔
ماں کی گود میں بچہ جو زبان سیکھتا ہے وہ ماں کی نسبت سے مادری زبان کہلاتی ہے کیونکہ ’’مادر‘‘ فارسی زبان میں ’’ماں‘‘ کو کہتے ہیں۔ زبان سیکھنا ایک طویل مرحلے کا مرہون منت ہوتا ہے۔ کوئی زبان، اس کے قوائد، اس کی لغت اور اس کے دیگر اسرارورموز ایک تھکادینے والا کام ہے لیکن اللہ تعالی کی شان ہے کہ بچہ ماں کی گود میں زبان کے ان سب امور پر یوں دسترس حاصل کرلیتا ہے کہ ساری عمر کے لئے وہ نہ صرف اس زبان کا ماہر بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو اس زبان کے مصدر تک کی اہمیت حاصل کرلیتا ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقے جہاں کی زبان خالص ہوتی ہے اور دیگر زبانوں کے ساتھ خلط ملط ہوکر وہ زبان اپنا آپ گم نہیں کر بیٹھتی تو ایسے علاقوں میں تو مادری زبان کا واحد وقیع و مستند ذریعہ ماں کی گود اور روٹیاں پکانے والے چولھے کے گرد بچوں کا جھمگٹا ہوتا ہے جہاں وہ زبان اپنا تاریخی ارتقائی سفر بڑی عمدگی سے طے کر رہی ہوتی ہے۔ مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں اس علاقے کا، اس تہذیب کا، اس ثقافت کا اور انکی روایات کا عظیم اور صدیوں پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتا ہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے۔ مادری زبان میں ہی بچے کو ایک نسل اپنا ماضی منتقل کررہی ہوتی ہے اور مادری زبان میں ہی ایک نسل اپنے ثقافتی مستقبل کی تعمیر کررہی ہوتی ہے۔ مادری زبان کے محاورے بچے کے مزاج کا پتہ دیتے ہیں، مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندزاہ لگانے میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں اور مادری زبان کی شاعری جو ماں بچوں کو سلاتے ہوئے لوری میں سناتی ہے یا روتے ہوئے بچے کو چپ کرانے کے لیے گنگناتی ہے اور بہت ہی چھوٹی عمر میں کھیل تماشوں میں پڑھے جانے والے ٹوٹے پھوٹے اشعار کسی بھی زبان کی وہ بنیادیں ہیں جن پر اس کا شاندار محل تعمیر ہوتا ہے۔
مادری زبان کے معاملے میں کتنی احتیاط پرتی جاتی ہے اس کا اندازہ ہمیں سیرت النبی ﷺ کے واقعات سے بخوبی میسر آتاہے۔ یہ ایک معاشرتی انسانی حقیقت ہے کہ دیہاتوں کی زبان، دیہاتوں کا لہجہ اور دیہاتوں میں استعمال ہونے والے کسی زبان کے محاورے اور تراکیب شہروں کی نسبت بہت عمدہ اور خالص ہواکرتے ہیں۔عرب قبائل اپنے بچوں کی زبان کی حفاظت کے لیے انہیں بہت ابتدائی عمر میں ہی دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ اس طرح بچوں کی مادری زبان میں ہونے والی پرورش ان کی زبان کے پس منظر میں ان کی روایتی و ثقافتی اقدار کی حفاظت کی ضامن ہوجاتی تھی کیونکہ مادری زبان صرف بولنے تک تو محدود نہیں ہوتی اسکے اثرات انسانی رویوں میں واضع طور پر اثر پزیر رہتے ہیں۔شاید انہیں مقاصد کی خاطر آپ ﷺ کی پرورش بھی بنواسد کے دیہاتی ماحول میں ہوئی۔ اسی طرح دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اسکے اورنظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم اور زوداثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں ۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلدی نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں انہیں ہضم کر لیتے ہیں اور پوچھنے پر بہت روانی سے انہیں دھراکر سنا دیتے ہیں۔ مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خوشی خوشی تعلیمی ادارے میں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور چھٹی کے بعد اگلے دن کا بے چینی سے انتظارکرتے ہیں۔ معلم کے لیے بھی بہت آسان ہوتا ہے کہ مادری زبان میں بچوں کو تعلیم دے. اس کے لیے اسے اضافی محنت نہیں کرنی پڑتی اور مہینوں کا کام دنوں یا ہفتوں میں مکمل ہوجاتا ہے۔
مادری زبان کی تعلیم سے خود زبان کی ترویج واشاعت میں مدد ملتی ہے، زبان کی آبیاری ہوتی ہے ،نیاخون داخل ہوتا ہے اورپرانا خون جلتارہتاہے جس سے صحت بخش اثرات اس زبان پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پزیر رہا ہے. چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہو تو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے، نئے نئے محاورے اور روزمرے متعارف ہوتے ہیں، نیا ادب تخلیق ہوتا ہے، استعمال میں آنے والی چیزوں کے نئے نئے نام اس زبان کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ جس طرح قوموں کے درمیان اور تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان جنگ رہتی ہے اسی طرح زبانوں کے درمیان بھی ہمیشہ سے غیراعلانیہ جنگ جاری رہی ہے ،جوجوزبانیں تعلیم کا ذریعہ بن کر انسانی رویوں میں شامل ہوجائیں وہ اس جنگ میں اپنا وجود باقی رکھتی ہیں بصورت دیگر تاریخ کی کتب اورآثارقدیمہ کے کھنڈرات بے شمار زبانوں کی آخری آرامگاہ کے طور پر اس کرہ ارض پر موجود ہیں۔وطن عزیز،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سی مادری زبانیں ہیں جنہیں علاقائی زبانیں بھی کہا جاسکتا ہے ،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم علاقوں میں ان زبانوں کی سرپرستی کی جاتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام،عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کا سب ،دورغلامی کی باقیات،انگریزی زبان میں ہے۔ بعض اوقات تو اس غیرضروری حد تک انگریزی زبان کو استعمال کیا جاتا ہے کہ اگرانگریز بھی ہوتے تو شرماجاتے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم ابھی آزاد نہیں ہوئے؟ دنیا بھر میں جہاں بھی کوئی تعلیم حاصل کرنے جائے تو پہلے اسی وہاں کی قومی زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر اسی زبان میں اسے تعلیم دی جاتی ہے۔ جبکہ پاکستان کا معاملہ بالکل الٹ ہے۔
چین کے انقلابی راہنما ماؤزے تنگ بہت اچھی انگریزی جانتے تھے لیکن عالمی انگریزراہنماؤں سے بھی جب ملتے تو درمیان میں اپنی زبان کا مترجم بٹھاتے، وہ سب سمجھتے تھے کہ انگریزکیا کہہ رہا ہے لیکن مترجم کے ترجمے کے بعد جواب دیتے۔ انگریزکوئی لطیفہ سناتا تو سمجھ چکنے کے باوجود مترجم کے ترجمہ کرنے پر ہی ہنستے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکیوں نے جب جاپان فتح کیا تو شاہ جاپان نے ان سے ایک ہی بات کہی کہ میری قوم سے میری زبان مت چھیننا۔ نشے کی ماری ہوئی چینی قوم اور جنگ میں تباہ حال جاپانی قوم اپنی زبان کی مضبوط بنیادوں کے باعث آج دنیا میں صف اول میں شمار ہوتی ہیں جبکہ انگریز کی تیارکردہ غلامانہ مصنوعی سیکولرقیادت کے مقروض لہجوں نے آج پاکستان کو ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل رکھا ہے۔ قوم پوری شدت سے چاہتی ہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقد کیے جائیں، ابتدائی تعلیم مادری و علاقائی زبان میں اور ثانوی و اعلی تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔ مادری وعلاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعرا ومحققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیاجائے اور انکے لیے بھی سرکاری خزانے کے دروازے کھولے جائیں، دیگرعالمی زبانوں کی کتب کو تیزی سے قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منواسکے۔ لیکن وطن عزیزکا مقتدر سیکولر طبقہ جو ذہنی غلامی کی بدترین مثال ہے قومی ترقی کی راہ میں بدیسی و غلامانہ زبان کی بیساکھیوں کے باعث سدراہ ہے۔ یہ طبقہ اپنے سیکولر خیالات کو انگریزی تہذیب کے مکروہ لبادے میں ’’جدیدیت‘‘کی ملمع کاری کو قوم میں نفوذ کرنا چاہتا ہے لیکن اب اس طبقے کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، انشاء اﷲ تعالی۔
کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ اقوام عالم کوان کی مادری یاقومی زبان سے محروم کردیاجائے۔وطن عزیزمیں ایک وقت کے اندر کئی کئی زبانیں اپنا وجود رکھتی ہیں جو صریحاََنسل نوپرناروابوجھ ہیں۔ایک بچہ مادری زبان سیکھتا ہے، اسی میں سوچتا ہے، اسی میں خواب بھی دیکھتا ہے، اسی مادری زبان میں دل اور جذبات کو بھی دخیل کرتا ہے۔ جب تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے تو اسے مسجد بھیج دیا جاتا ہے، یہاں اسے مذہبی زبان، عربی، سے واسطہ پڑتا ہے۔ اسے عربی کے حروف تہجی سکھائے جائے ہیں، ان کا تلفظ ازبر کرایا جاتا ہے، عربی قواعد لسانیات سے جزوی واقفیت کروائی جاتی ہے جس کے باعث وہ قرآن مجید کی قرات و تلاوت اور اپنی مذہبی رسوم و عبادات کی بجاآوری کے قابل ہوجاتا ہے۔ اسی دوران اسے گلی محلے کی دکانوں پر ’’چیز‘‘ لیتے ہوئے یا راستہ پوچھتے بتاتے ہوئے یا کسی انکل سے یا مسجد کے مولانا صاحب سے یا کسی باجی یا آنٹی سے بات کرنی ہو یا گھرمیں آئے مہمانوں سے کوئی سوال جواب یا تعارف کا مرحلہ درپیش ہوتو اسے اردو کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ یہ اردو زبان پورے جنوبی ایشیاء میں کم وبیش سو فیصد لوگ کسی نہ کسی درجے میں سمجھتے، بولتے اور لکھتے ہیں اور رابطہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پھرجب اسے کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جاتا ہے تو یہ لسانی ستم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جہاں سات سمندرپارکی زبان آکاس بیل کی مانند ایک ناسور بن کر اس سے تاحیات چمٹ جاتی ہے۔ اسے انگریزی زبان کا بے مقصد بوجھ اپنی تعلیمی کمر پر لادنا ہوتا ہے، بدیسی قوم کی طرح اسی کے لہجے میں اپنامنہ ٹیڑھا کر کرکے اس کی زبان بولنی پڑتی ہے۔ جو بچہ اس غلامانہ زبان کو اپنااوڑھنا بچھونا بنالے، اسی میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا مصنوعی رنگ ڈھنگ اختیارکرلے، اسی زبان کے نشیب و فراز میں اپنے لہجے کو ڈھال لے تو وہ طالب علم اپنے اساتذہ کا چہیتا اور اس تعلیمی ادارے کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے، وہ اپنے تعلیمی درجے تعلیم کے اعلی مقامات اور انعامات کا مستحق بھی گردانا جاتا ہے اور اگلے تعلیمی مرحلوں میں بھی اسے ترجیحی تفوق حاصل رہتا ہے۔
دیگرزبانوں میں اچھے مقامات کا حامل کسی زبان کا ماہر تو شاید ہوجائے لیکن اس زبان میں پڑھائے جانے والا مواد کس حد تک اس کے ذہن نشین ہوا ہے ؟؟؟اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اس کی وجہ ایک سادہ سا نفسیاتی جائزہ ہے کہ بچے کی بچگانہ اور محدود ذہنی صلاحیت کو اگر صرف مواد کے سمجھنے پر لگایا جائے تب اس میں کامیابی کے کتنے فیصد امکانات ہوں گے اور جب اس کی ذہنی صلاحیت پر پہلے غیرزبان سمجھنے کا اضافی وغیرفطری بوجھ اور پھر مواد کے سمجھنے کا کام اس کے ذمہ لگایا جائے تب اس کی کارکردگی کتنے فیصد ہوپائے گی۔ اس تجزیے کے نتائج اظہرمن الشمس ہیں جنہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ کوئی غیرزبان سیکھنے میں آدھی صدی بھی صرف کردے تب بھی اس زبان کو بطورمادری زبان کے بولنے والوں کے برابرتو دورکی بات ہے اس کے عشرعشیر جتنا بھی کچھ مقام حاصل نہیں کرپائے گا۔ انسان کی اصل زبان وہی ہے جو اس کی مادری زبان ہے۔ تاہم کوئی بھی قوم اپنی نسل کو غیرزبان سے نجات دلاکر اپنی مادری زبان میں تعلیم کے ذریعے علوم و معارف میں بہت اعلی مقام یقیناََ حاصل کرسکتی ہے۔ کیونکہ تخلیقیت کا تعلق ہمیشہ سے مادری زبان سے رہتا ہے۔
مسلمانوں نے اس کرہ ارض پر کم و بیش ایک ہزارسال حکومت کی لیکن کسی قوم کو اس کی مادری زبان یا مقامی تہذیب سے محروم نہیں کیا۔سیکولر گورا سامراج تین سوسال تک انسانوں کی گردنوں پرمسلط رہا اور ہر جگہ اس نے مقامی تہذیب کو تاراج کیا. اپنا تمدن زبردستی مسلط کیا اور علاقائی و مادری زبان چھین کر قوموں کو گونگا بہرا بنانے کا عالمی انسانی مجرم بن گیا۔ اسلام نے فرد کو کسی حد تک غلام رکھنے کی مشروط و محدود اجازت دی تھی لیکن اس سیکولراور لبرل استبداد نے پوری کی پوری قوموں کو اپنا غلام بنایا اور تعلیمی غلامی، تہذیبی غلامی، لسانی غلامی، دفاعی غلامی اور ذہنی غلامی سمیت نہ معلوم کتنی غلامیوں کے طوق ان کی گردنوں میں ڈالے اور اپنی زبان کی ہتھکڑیاں انہیں پہناکر مغربی جمہوری نظام کی بیڑیوں کے ذریعے ان اقوام کی رفتارکار کو انتہائی سست بنادیا تاکہ وہ کبھی بھی ہمارے سے آگے قدم نہ بڑھاکر ہمیشہ ہمارے دست نگر رہیں۔ مادری زبان کا یہ عالمی دن ہر قوم کو یہ احساس دلاتا ہے کہ عالمی گاؤں ’’گلوبل ویلج‘‘ کے نام پر لسانی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کو انسانی حقوق کی ایسی سنگین خلاف ورزیوں سے کلیتاََ بچایا جائے۔ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ عالمی طاغوت کا آلہ کاربننے کی بجائے کل عصری علوم کو دنیا بھر کی مادری زبانوں میں منتقل کرنے کا عالمی انسانی فریضہ سرانجام دے تاکہ کل انسانیت کسی ایک زبان کی اجارہ داری سے نکل کر اس کرہ ارض کو آفاقی و آسمانی تعلیمات کے مطابق امن و آشتی اور پیارومحبت کی آماج گاہ بناسکے۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/06/blog-post_71.html
چند مشہور جاہلانہ جملے اور ان کے جواب
Monday, June 7, 2021
کتے کی دس صفات جو اگر انسان میں ہوں تو وہ ’ولی‘ بن جائےکے باوجود (۱) کتے رکھنے کی اجازت کیوں نہیں ہے اور (۲) وہ کیوں ناپاک ہیں؟
Sunday, June 6, 2021
فالتو بالوں سے نجات پانے کا حکم اور طریقہ کیا ہے؟
Monday, May 24, 2021
حقوق الاستاذ
حقوق الاستاذ
بقلم: محترم قاری ممتاز احمد، چمن
جس طرح دینی علوم کا پڑھنا پڑھانا ضروری ہے اس طرح جس سے دینی علوم پڑھے جائیں اس کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہے، جس طرح بے علمی کی وجہ سے انسان، انسانیت سے محروم ہوتا ہے اس طرح استاذ کا حق نہ ادا کرنے والا علم کی برکت اور خدمت سے محروم رہ جاتا ہے، استاذ کے ساتھ شاگردوں کا روحانی تعلق ہوتا ہے، جس طرح والدین کے ساتھ جسمانی تعلق اور نسبت کی وجہ سے اولاد کے لئے ان کا حق ادا کرنا واجب ہے، جو اولاد یہ حق ادا نہیں کرتی وہ قرآن و حدیث کی رو سے بدبخت شمار ہوتی ہے، بلکہ والدین کی ناراضی کی وجہ سے اللہ بھی ناراض ہوجاتا ہے، اس طرح استاذ و شاگرد کا معاملہ ہے جو شاگرد استاذ کا فرماں بردار ہوتا ہے وہ کام یاب ہوتا ہے، اس سے اللہ دین کی خدمت لیتا ہے اور جو شاگرد نافرمان ہوتا ہے اس سے اللہ ناراض ہوتا ہے، اس کے علم میں برکت نہیں ہوتی اور نہ وہ دین کی خدمت کرسکتا ہے.
جسم کی نسبت سے روح کی نسبت اصل ہے، کیوں کہ روح جسم کے مقابلے میں اصل ہے، روح ہے تو جسم بھی قائم ہے، روح نہیں تو جسم کی کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ایک دفعہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے پوچھا: تمہیں معلوم ہے آدمی کے کتنے باپ ہوتے ہیں؟ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے تین باپ ہوتے ہیں۔
1: ایک والد جس کے نطفہ سے یہ پیدا ہوا،
2: دوسرا سُسر جس نے اس کو اپنی بیٹی نکاح میں دی اور
3: تیسرا استاذ جس نے اس کو دین سکھایا،
پھر پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لاعلمی ظاہر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تینوں میں سے استاذ کا حق زیادہ ہے، کیوں کہ اس نے اس کو دینی تعلیم دی اور دین کا تعلق روح سے ہے اور روح جسم کے مقابلے میں اصل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ استاذ کا حق والدین سے زیادہ ہے، جب والدین کی ناراضگی اولاد کے لئے تباہی و بربادی کا سبب بن سکتی ہے تو پھر استاذ کی ناراضگی شاگرد کے لئے کیسے دونوں جہانوں کی بربادی کا سبب نہیں بن سکتی؟
حدیث نبوی ہے: ”بوڑھے مسلمان، حافظ قرآن، عالم دین، عادل بادشاہ اور استاذ کی عزت کرنا تعظیم خداوندی میں داخل ہے۔“ اکابرین امت، دائمہ دین اور علمائے صالحین نے جو کچھ حاصل کیا وہ اساتذہ کے ادب اور خدمت ہی سے حاصل کیا ۔ابن وھب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ ملا وہ علم کی وجہ سے نہیں، اپنے استاذ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے ادب کی وجہ سے ملا۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاذ کے سامنے کتاب کا ورق بھی آہستہ سے الٹتے، تاکہ اس کی آوازکی وجہ سے استاذ کو تکلیف نہ ہو اور استاذ کے سامنے پانی پینے کی بھی جرأت نہ ہوتی۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ادب کی وجہ سے اپنے استاذ کا نام نہ لیتے تھے، بلکہ ان کا ذکر ان کی کنیت کے ساتھ کیا کرتے تھے. امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ کسی مرض کی وجہ سے ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے، اثنائے گفتگو میں ان کے استاذ ابراہیم بن طہمان رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر آیا تو ان کا نام سنتے ہی امام صاحب سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہ نازیبا بات ہوگی کہ بڑوں کا نام لیا جائے اور ہم ٹیک لگاکر بیٹھے رہیں۔
شاگرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ استاذ کے سامنے ادب سے دوزانو ہوکر بیٹھے، استاذ کے برابر نا بیٹھے، وہ کہے تب بھی نہ بیٹھے، موٴدبانہ گفتگو کرے، زور سے نہ بو لے، استاذ سے فراغت کے بعد بھی ملا قات کرتا رہے، فراغت کے بعد استاذ کو بھول جانا حق تلفی ہے۔
امام حلوانی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت بخارا سے دوسری جگہ تشریف لے گئے تو امام زر نوجی رحمتہ اللہ علیہ کے علاوہ اس علا قہ کے تمام شاگرد سفر کر کے ان کی زیارت کو گئے، مدت کے بعد امام زر نوجی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے غیرحاضری پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ ماں کی خدمت کی وجہ سے نہیں آسکا، اس وقت امام حلوانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تم کو عمر تو ضرور نصیب ہوگی، مگر درس نصیب نہ ہوگا، چنا ں چہ ایسا ہی ہوا۔
مولانا عبدالرحمن شاہ رحمۃ اللہ علیہ محدث مظاہرالعلوم سہارن پور نے اپنا ایک واقعہ لکھا کہ میں اپنے وطن سے جب سہارن پور پڑھنے کے لئے آیا تو ہر استاذ سے مل کر آیا تھا، ایک استاذ جن سے میں نے ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں ان سے ملاقات نا ہوسکی، جب سہارن پور آکر پڑھنا شروع کیا تو کتاب بالکل سمجھ میں نہ آئے، حالاں کہ میں اپنی جماعت میں بہت سمجھ دار سمجھا جاتا تھا، اس کے اسباب پر غور کیا، اللہ پاک نے راہ نمائی کی اور ان استاذ کی خدمت میں خط لکھ کر معافی مانگی اور ملاقات نہ ہوسکنے کی وجہ لکھی، انہوں نے جواب میں فرمایا: میرے دل میں خیال ہوا تھا کہ مجھے چھوٹا سمجھ کر شاید تم نہیں ملے لیکن تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ یہ بات نہیں تھی، اس کے بعد دعائیہ الفاظ لکھے، میرا ذہن کھل گیا اور سبق سمجھ میں آنے لگا۔
شاگرد کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ استاد کی اولاد اور اس کے متعلقین کی بھی تعظیم کرے.
'تعلیم المتعلم' میں لکھا ہے کہ صاحبِ ھدایہ نے ائمہ بخارا میں ایک بڑے عالم کا یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک دن یہ عالم درس میں بیٹھے ہوئے تھے، یکایک کھڑے ہوگئے، دریافت کرنے پر فرمایا کہ میرے استاذ کا لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، جب کھیلتے ہوئے مسجد کی طرف آیا تو میں اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہوگیا۔
علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو طالب علم بے ادب ہو، استاذ کے سامنے زور سے بولتا ہو، نگاہ نیچی نہ رکھتا ہو، تعظیم نہ کرتا ہو، اس کی غیرموجودگی میں حرمت وعظمت کا لحاظ نہ رکھتا ہو، استاذ کے انتقال کے بعد اس کے وظیفہ یا قیام گاہ کے لئے کوشش نہ کرتا ہو کہ اس کو مل جائے اور اس کی اولاد سے ان امور میں مقابلہ کرتا ہو اور اپنے کو ان سے زیادہ مستحق سمجھتا ہو، استاذ کے کلام کو اپنی فہم نا قص کی وجہ سے یا کسی دوسرے کے کلام سے رد کرتا ہو، استاذ سے علوم حاصل کرکے اس سے بحث مباحثہ کرتا ہو تو یہ اس شاگرد کی کوتاہی عمل اور بدبختی کی علامت ہے اور ایسا شاگرد کبھی بھی کام یاب نہیں ہوسکتا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے اور اگر چاہے تو آزاد کردے یاغلام رکھے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
رَأیْتُ اَحَقَّ الْحَقِّ الْمُعَلِّم
وَاَوْجَبُہ حِفْظًا علٰی کُلِّ مُسْلِم
لَقَدْ حَقَّ اَنْ یّھدٰی اِلَیْہِ کَرَامَةً
لِتَعْلِیْمِ حَرْفٍ وَّاحِدٍ اَلْفُ دِرْھِم
سب سے بڑا حق تو استاذ کا ہے، جس کی رعایت تمام مسلمانوں پر فرض ہے، واقعی وہ شخص جس نے تم کو ایک لفظ سکھایا اس کا مستحق ہے کہ ہزار درہم اس کے لئے ہدیہ کئے جائیں۔ بلکہ اس کے احسان کے مقابلہ میں تو ہزار درہم کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ جو شخص اپنے استاذ کی تکلیف کا باعث ہو وہ علم کی برکت سے محروم رہے گا اور برابر کوششوں کے باوجود علم کی دولت سے منتفع نہیں ہوسکتا۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے #
اِنَّ الْمُعَلِّمَ وَالطَّبِیْبَ کِلَا ھُمَا لَا
یَنْصَحَانِ اِذاَ ھُمَا لَا یُکْرَمَا
فَاصْبِرْ لدَائِکَ اِنْ جَفَوْتَ طَبِیْباً
وَاقْنَعْ بِجَھْلِکَ اِنْ جَفَوْتَ مُعَلِّمًا
(ترجمہ: استاذ اور معالج اس وقت تک نفع نہيں ديتے جب تک ان کى عزت نہ كی جائے، اگر تم نے كسى طبیب كو تكليف پہنچادى تو اپنى بيمارى پر صبر كرو اور اگر كسى استاذ كو تكليف پہنچادى تو اپنى جہالت پر صبر كرو، یعنی تم كو كچھ نہیں آئے گا اور اگر آگيا تو ختم ہوجائے گا)
استاذ اور طبیب کی جب تک توقیر اور تعظیم نہ کی جائے وہ خیرخواہی نہیں کرتے، بیمار نے اگر طبیب کے ساتھ بدعنوانی کی ہے تو اس کو ہمیشہ بیماری پر قائم رہنا پڑے گا اور شاگرد نے اگر اپنے استاذ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو ہمیشہ جاہل رہے گا۔
طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ استاذ کا ادب اور خدمت اپنے لئے ضروری سمجھے، بلکہ دونوں جہانوں کی سعادت سمجھے، جو شاگرد اپنے استاذ کی خدمت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دینی ودنیوی ترقی عطا فرماتا ہے، ایسے لوگ دین کی اشاعت کرتے ہیں، جس سے ہزاروں بندگان خدا کو ہدایت نصیب ہوتی ہے، وہ زمین پر مانند ستاروں کے ہوتے ہیں، ان کی صحبت میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ برسہا برس کا پاپی گناہوں سے توبہ کرکے خداوند تعالیٰ کی معرفت کا نور قلب کے اندر پیدا کرتا ہے، ان کی فراست وذکاوت سے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہیں، وہ اساطین امت ہیں جن پر زمین و آسمان فخر کرتے ہیں، وہ جس سرزمین پر قدم رکھتے ہیں گم راہی دور ہوجاتی ہے اور ہدایت کی راہیں کھل جاتی ہیں۔
ہر ایک کو اس کا اچھی طرح تجربہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملا استاذ کے ادب اور خدمت اوراس کی عنایت ومہربانی سے ملا، دین ودنیا کی عزت انہیں کی دعاوٴں کا ثمرہ ہے۔
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تین بچے پیش پیش رہتے، اتفاق کی بات یہ ہے کہ تینوں کا نام عبداللہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں کی محبت اور خدمت کو دیکھتے تو انہیں دعائیں دیتے، دعاوٴں کا نتیجہ یہ نکلا کہ تینوں بڑے ہو کر اپنے اپنے فن کے امام بنے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام الفقہاء بنے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ امام المفسرین بنے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ امام المحدثین بنے۔
حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ عاتکہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ امام ابوحنیفہ ہمارے گھر کی روئی دھنتے تھے اور ہمارا دودھ،تر کا ری خریدکر لاتے تھے اور اس طرح کے بہت سے کام کیا کرتے تھے۔
حضرت حماد رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ ہیں، اس وقت کیا کوئی سمجھ سکتا تھا کہ حماد کے گھر کا یہ خادم تمام عالم کا مخدوم ہوگا!
امام فخرالدین رحمة اللہ علیہ کی بادشاہ وقت بہت تعظیم کرتا تھاوہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ سلطنت اور عزت محض استاذ کی خدمت کے سلسلہ میں پائی کیو نکہ میں اپنے استاذ قاضی امام ابوزیدد بوسی کی بہت خدمت کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے بیس سال تک متواتران کا کھانا پکایا اور اس میں سے کچھ کھا تانہ تھا۔
حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمۃ اللہ علیہ نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی تھی. مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ تحصیل علم سے فراغت کے بعد حاجی صاحب نے اپنی کُلاہ جوپندرہ برس تک آپ کے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی، مجھے عنایت فرمائی، میں نے رات کو گرم پانی میں وہ ٹوپی بھگودی، صبح کے وقت وہ پانی اِملتاش کے شربت سے زیادہ سیاہ ہوگیا تھا، میں اس کو پی گیا، اس پانی کی برکت سے میرا دل ودماغ ایسا تیز ہوگیا کہ کوئی مشکل کتاب مشکل نہ رہی۔
مولانا غلام رسول صاحب پونٹوی رحمۃ اللہ علیہ شجاع آباد ملتان کے ایک گاوٴں پونٹہ کے رہنے والے تھے، انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے دورہ حدیث کیا، ان کی اپنے استاذ شیخ الہند سے بہت زیادہ محبت تھی، جس راستے سے استاذ دارالحدیث میں آیا کرتے تھے یہ رات کو چھپ کر اس راستے کو اپنے عمامہ کے ساتھ جھاڑو کیا کرتے تھے، وہ اس لئے چھپتے تھے کہ دوسرے طلبہ ان کو نہ دیکھ لیں. ایک مرتبہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو عمامے سے جھاڑو دیتے ہوے دیکھ لیا، انہوں نے پوچھا: غلام رسول! کیا کررہے ہو؟ بالآخر بتانا پڑا، شیخ نے خوش ہوکر ان کو دعا دے دی. بس استاذ کی دعاء شاگرد کے کام آگئی، جب یہ فارغ ہوئے تو ان کا علمی فیض خوب چلا. شجاع آباد سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ان کا گاوٴں پونٹہ تھا انہوں نے ہی شرح مأتہ عامل پونٹوی لکھی، ان کو پورے ملک کے علما کی طرف سے شمس النحاة کا لقب ملا، طلبہ کا ہجوم ہوتا،طلبہ شجاع آباد شہر میں بس سے اترتے اور تیس کلو میٹر پیدل چل کر اپنا بور یا بستر اور سامان اپنے سروں پر رکھ کر پونٹہ جایا کرتے تھے، ان کے پاس ساڑھے تین سو شاگرد ہوتے تھے، مولانا عبداللہ در خواستی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبداللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ انہی کے شاگرد تھے، جن کا علمی وروحانی فیض سارے جہاں میں پھیلا۔
اساتذہ کی ٹوپیاں اور پگڑیاں اچھالنے والے اور مدرسہ کی اینٹ سے اینٹ بجادینے کی اسکیمیں بنانے والے اس پر غور کریں کہ استاذ کی عظمت کرنے والوں نے کیا دولت حاصل کی اور پھر انہوں نے دنیا کو کیسا فیض پہنچایا۔
طالب علم کو چاہئے کہ بغیر اجازت استاذ سے بات نہ کرے، اس کے سامنے بلند آواز سے نہ بولے، اس کے آگے نہ چلے، اس کے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھے، اس کی منشا معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہے اور اس کے مطابق عمل کرے، اگر کسی وقت استاذ کی طبیعت مکدر ہو تو اس وقت اس سے کوئی بات نہ پوچھے، کسی اور وقت دریافت کرلے، استاذ کو آواز دے کر نہ بلائے، بلکہ اس کے نکلنے کا انتظار کرے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں انصار کے پاس سے مجھے زیادہ علم ملا،میں ان کے دروازے پر دوپہر کے وقت گرمی میں پڑرہتاتھا حالاں کہ اگر میں چاہتا تو وہ مطلع ہو نے پر فوراًنکل آتے، مگر مجھے ان کے آرام کاخیال رہتا تھا، جب وہ باہر آتے اس وقت میں ان سے دریافت کرتا۔
حضرت شیخ الا دب مولانا اعزاز علی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں متعدد حضرات نے بیان کیا کہ کوئی بات دریافت کرنی ہوتی یا کتاب کا مضمون سمجھنا ہوتا تو اپنے استاذ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکان کے دروازے پر جاکر بیٹھ جاتے، جب حضرت گھر سے باہر نکلتے اس وقت دریافت کرتے اور یہ ان کا معمول تھا۔
طالب علم کو چاہئے کہ دوران درس اور فراغت کے بعد استاذ کے مشورے پر عمل کرے، استاذ کی مرضی کے مطابق عمل کرے، سبق اور کتاب کا انتخاب خود اپنی رائے سے نہ کرے۔
پہلے زمانے میں طلبہ اپنے پڑھنے پڑھانے کا معاملہ استاذ پر معلق رکھتے تھے، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اپنے مقاصد میں کام یاب ہوتے تھے اور جب خود انتخاب شروع کردیا تو علم سے محروم رہنے لگے۔
امام بخاری رحمةاللہ علیہ نے محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ سے کتاب الصلوٰة پڑھنی شروع کی تو ان سے محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تمہارے لئے علم حدیث کا پڑھنا مناسب ہے، کیوں کہ تمہارے اندر اس علم سے مناسبت پاتا ہوں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاذ کا مشورہ قبول کیا، دنیا نے دیکھا کہ وہ امیرالموٴمنین فی الحدیث ہوئے، اس سے معلوم ہوا کہ طالب علم کو جس فن سے مناسبت ہو اس میں زیادہ محنت کرکے مہارت پیدا کرے اور پھر اس کی اشاعت میں لگ جائے، اس میں خود رائی نہ کرے، بلکہ استاذ سے اس میں مشورہ کرلے۔
قرآن مجید میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمایا گیا ہے، حالاں کہ آپ سے زیادہ سمجھ دار کوئی نہیں ہوسکتا، چناں چہ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، حتیٰ کہ گھریلو زندگی کے معاملات میں بھی مشورہ کرتے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی شخص مشورہ کرنے کے بعد ہلاک نہیں ہوا۔ یہ مقولہ مشہور ہے کہ انسان تین قسم کے ہوتے ہیں،
ایک کامل انسان،
دوسرا نصف اور
تیسرا لاشے کے درجہ میں۔
مرد کامل وہ ہے جو صاحب رائے ہونے کے باوجود مشورہ کرتا ہو۔
اور تیسرا مرد جو بالکل لا شے کے درجہ میں ہے وہ ہے جو نہ درست رائے رکھتا ہوا ورنہ مشورہ کرتا ہو۔
حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت کی تھی کہ اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ لیتے رہا کرو جن کے قلوب اللہ کے خوف سے لبریز ہوں۔
جب تمام معاملات میں مشورہ کی ضرورت ہے تو علم جو ایک بلند ترین مقصد ہے اس میں مشورہ کرنا تو زیادہ ضروری ہے اور استاذ سے بڑھ کر اس معاملہ میں کوئی صحیح رائے نہیں دے سکتا، جب تک استاذ کی مرضی اور اجازت نہ ہو. استاذ کو چھوڑکر نہ جائے، جوطلبہ استاذوں کو بدلتے رہتے ہیں، کبھی کسی کے پاس گئے، کبھی کسی کے پاس چلے گئے، اس سے علم کی برکت ختم ہوجاتی ہے، حضرت حکیم الامت مولا نا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی رائے ہوئی کہ دوسرے استاذ کے پاس پڑھنے کے لیے بھیجا جائے،جب مجھے معلوم ہو اتورات بھر نیند نہیں آئی، کھانا نہیں کھایا گیا، گھر کی مستورات نے یہ حال دیکھا تو والد صاحب نے اپنی رائے بدل دی اور میں بدستور اپنے سابق استاذ کے پاس پڑھتا رہا۔پھر دنیانے دیکھا کہ استاذ کی عظمت ومحبت نے کیا رنگ پیدا کیا، اور حضرت سے اصلاح امت کا کتنا بڑا کام ہوا۔ (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
http://mastooraat.blogspot.com/2021/05/blog-post.html?m=1

