حیات نبوی ﷺ کا ایک اہم واقعہ؛ حلف الفضول اور موجودہ حالات
رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کو پوری انسانیت کے لئے عموماً اور امت محمدیہ کے لئے خصوصاً اسوہ ونمونہ بنایا گیا ہے:
{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} (الاحزاب: ۲۱)
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان پر جس طرح کے بھی حالات پیش آئیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کو نقش راہ اور نمونۂ عمر مل جائے گا، وہ غالب ہو یا مغلوب، فتح یاب ہو یا شکست سے دو چار، مالدار ہو یا غریب، دوستوں کے درمیان ہو یا دشمنوں کے درمیان، اپنوں سے سابقہ ہو یا بیگانوں سے، ہر جگہ اور ہر حال میں سیرت طیبہ اس کے لئے چراغِ راہ اور خضر طریق ہے، شاید اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محبوب ومقبول بندے کو ہر طرح کی آزمائشوں سے گزارا ہے، اور وہ تمام مصیبتیں جو اس امت پر آسکتی ہیں، ان سب سے آپ کو بھی دوچار کیا گیا ہے؛ تاکہ جب ایسے حالات پیش آئیں تو مسلمان نورِ نبوت کی رہنمائی سے محروم نہ رہ جائیں اور انہیں کسی اور چراغ سے روشنی مستعار نہ لینی پڑے۔
اس وقت ہندوستان کے مسلمان جس صورت حال سے دو چار ہیں، اس میں سیرت کے ایک خاص واقعہ کو پڑھنے اوراس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ ہے ’’حلف الفضول‘‘ کا واقعہ، واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو نبی بنائے جانے سے پہلے ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ قبیلۂ بنو زبید کے ایک صاحب مکہ آئے اور انہوں نے عاص بن وائل سہمی سے اپنا تجارتی مال فروخت کیا، عاص نے قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول شروع کردیا اور ظلم وانکار پر اتر آیا؛ چنانچہ اس مسافر نے ٹھیک اس وقت جب قریش صحن کعبہ میں بیٹھا کرتے تھے، بوقیس کی پہاڑی پر چڑھ کر لوگوں کو آواز دی کہ ایک مظلوم شخص کی پونجی لے لی گئی ہے، ایک ایسے شخص کی جو اپنے وطن اور بال بچوں سے دور ہے اور حرم محترم کی وادی میں مقیم ہے، اس طرح کے ظلم وزیادتی کے واقعات مکہ میں پیش آتے رہتے تھے؛ لیکن اس اجنبئ شہر نے کچھ ایسے درد کے ساتھ اپنی فریاد پیش کی کہ قریش کے رحم دل لوگ اس سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہے اور قریشِ مکہ کے چند اہم خاندان --- بنو ہاشم، بنو مطلب، اسد بن عبد العزیٰ، زہرہ بن کلاب اور تمیم ابن مرہ --- کی اہم شخصیتیں عبد اللہ بن جدعان کے مکان میں جمع ہوئیں، اور آپس میں معاہدہ کیا کہ مکہ میں کوئی بھی مظلوم ہو، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا مکہ کے باہر سے آیا ہو، ہم سب مل کر اس کی مدد کریں گے اور ظالم کو حق دینے پر مجبور کریں گے، اس معاہدہ کا نام ’’حلف الفضول‘‘ رکھا گیا، یہ نام کیوں رکھا گیا، اس سلسلہ میں بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ’’فضل‘‘ کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں اور اس معاہدہ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اگر کسی شخص پر دوسرے کے ذمہ زائد حق باقی ہو تو وہ اس کو دلایا جائے گا۔ (المعتصر من المختصر لابن یوسف موسیٰ حنفی: ۲؍۳۷۵) اور بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ اتفاق سے اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں میں ’’فضل، فضالہ اور مفضل‘‘ تھے، یعنی ان تینوں کے نام کا جز ’’فضل‘‘ تھا؛ اس لئے اس کو ’’حلف الفضول‘‘ یعنی ’’فضل والوں کے معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ (فتح الباری: ۴؍۴۷۳)
اس معاہدہ کی اس لئے غیر معمولی اہمیت تھی کہ جزیرۃ العرب میں کوئی حکومت قائم نہیں تھی، لا اینڈ آرڈر کے لئے کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا، عرب کے مختلف قبائل کے درمیان بڑا تعصب اور تعصب کی وجہ سے اپنے خاندان کا تحفظ پایا جاتا تھا؛ لیکن اگر کوئی کمزور خاندان ہو یا اجنبی لوگ ہوں تو ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تھا، ان حالات میں یہ معاہدہ لا اینڈ آرڈر کو قائم رکھنے اور کمزوروں کو طاقتوروں کے ظلم سے بچانے کی ایک منظم کوشش تھی، اس کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ اس معاہدہ میں قریش کے تمام قبائل شامل تھے، اگر چند اشخاص یا کوئی کم تعداد اور کمزور قبیلہ اس کام کو لے کر اٹھتا تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا؛ لیکن اتنے سارے کثیر التعداد اور مکہ کے طاقتور خاندانوں کو نظر انداز کردینا کوئی آسان بات نہ تھی؛ اس لئے اس معاہدہ کی بڑی اہمیت تھی اور اسی لئے یہ معاہدہ لا قانونیت کے ماحول میں امن و امان اور عدل و انصاف قائم رکھنے کی ایک مثبت اور مؤثر کوشش ثابت ہوا، رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس اس معاہدہ میں شریک تھے اور اسلام کے غلبہ کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اب بھی مجھے اس کی طرف دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا:
’’لو دُعیتُ بہ الیوم في الإسلام لأجبتہ‘‘ (فتح الباری: ۴؍ ۴۷۳)
اور بعض روایتوں میں ہے کہ مجھے اس معاہدہ سے غائب رہنا پسند نہیں، اگرچہ اس کے بدلے مجھے سرخ اونٹنیاں مل جائیں۔ (المعتصر من المختصر: ۲؍۳۷۵)
ہندوستان میں اس وقت مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں اور سیاسی اعتبار سے جس تنہائی کا شکار ہیں، ان کے لئے سیرت کا یہ واقعہ بہترین پیغام اور ان کی دشواریوں کا حل ہے، حلف الفضول کس ماحول میں قائم کی گئی تھی؟ ایسے ماحول میں جب ظالموں کو ظلم سے روکنے والی قوت موجود نہیں تھی، جب مظلوموں کے لئے انصاف حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، جب برائیاں تھیں؛ لیکن برائیوں کو چیلنج کرنے والی کوئی طاقت نہیں تھی --- حلف الفضول کا مقصد کیا تھا؟ معاشرہ میں انصاف کا قائم کرنا، کمزوروں کو انصاف دلانا اور ظلم سے بچانا --- حلف الفضول کا طریقۂ کار کیا تھا؟ جمہور کی مدد سے ظالم کا پنجہ تھامنا، اجتماعی شیرازہ بندی کے ذریعہ قیام عدل کی کوشش کرنا، چھوٹی چھوٹی طاقتوں کو جمع کرکے ایک بڑی طاقت اس لئے تیار کرنا کہ ظلم کو روکا جائے اور انصاف قائم کیا جائے۔
ہمارے ملک میں بھی اس وقت یہی صورت حال ہے، ظلم کا خونی پنجہ اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ علی الاعلان خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے، لوگوں کی املاک لوٹی جاتی ہیں، عزت و آبرو پامال کی جاتی ہے، بستیاں اجاڑی جاتی ہیں اور لاشوں پر چڑھ کر اقتدار کے قلعہ پر قبضہ کرنے کی جد وجہد کی جاتی ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ لوگ اس صورت حال کو دیکھ کر بے قرار ہوجائیں، ہر زبان ایسے ظالم کو ٹوکے، ہر ہاتھ ایسے ظالم کو روکے اور ہر آنکھ ان پر غیظ و غضب کی آگ پھینکے، مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ ظالموں کی حمایت میں نعرے لگائے جارہے ہیں، ذرائع ابلاغ درندوں کو فرشتہ بناکر پیش کررہے ہیں اور انصاف کے قاتلوں کو ہیرو بنایا جارہا ہے، ان حالات میں مسلمانوں کے لئے کرنے کا کام یہی ہے کہ وہ یہاں ایک نئی شیرازہ بندی کریں، خود آپس کے اختلاف کو نظر انداز کرکے کم سے کم ایک نکاتی سیاسی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں کہ وہ فرقہ پرست سیاسی طاقتوں سے ملک کو بچائیں گے اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں گے کہ آنے والے الیکشن میں سیکولر امیدوار کامیاب ہوسکے، ملی اتحاد کی اس کوشش کے ساتھ ساتھ کم سے کم تین اور طبقات کو ہمیں جمع کرنا چاہئے:
اولاً: دوسری اقلیتوں کو، خاص کر سکھ اور عیسائی اقلیت کو،جو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سیاسی اعتبار سے فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہیں،
دوسرے: دلتوں کو، جو ہزاروں سال سے مظلومانہ زندگی گزار رہے ہیں اور جن کو اپنے بارے میں یہ اعتراف ہے کہ وہ ہندو نہیں ہیں، انہیں زبردستی ہندو بنادیا گیا ہے،
تیسرے: سیکولر برادرانِ وطن کو؛ کیوںکہ آج بھی ہندو بھائیوں کی اکثریت اس ملک کے فرقہ وارانہ رخ اختیار کرنے پر فکر مند بھی ہے اور متأسف بھی،
اگر مسلمان ان تینوں گروہوں کو ساتھ لے کر ایک ’حلف الفضول‘ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں، ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں جو ہر ظلم کے مقابلہ میں کمر بستہ ہو اور ہر مظلوم کو انصاف دلانے کے لئے اٹھ کھڑا ہو، کسی دلت کے ساتھ زیادتی ہو تو پُر امن طریقے پر مسلمان احتجاج کریں اور کسی مسلمان کے ساتھ زیادتی ہوتو اس کے تحفظ کے لئے دلت آگے بڑھیں، اگر اس طرح کا کوئی پلیٹ فارم قائم کرنے میں مسلمان کامیاب ہوجائیں تو موجودہ حالات میں یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی اور بہت سے امراض کا مداوا اور مشکلات کا حل ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے قیام عدل، تحفظ اور امن و امان کی بر قراری کے لئے غیر مسلم ابنائے وطن کے ساتھ مختلف معاہدات کئے ہیں، خود مکہ میں بھی آپ نے اہلِ مکہ سے پیش کش کی تھی کہ بقائے باہم کے اصول پر مسلمان اور غیر مسلم دونوں سوسائٹی میں مل جل کر رہیں، قرآن مجید کی سورۂ کافرون میں یہی فارمولہ پیش کیا گیا ہے، پھر مدینہ پہنچتے ہی آپ ﷺ نے مسلمان، یہودی اور مشرک قبائل کے درمیان ایک اہم معاہدہ کرایا، اس معاہدہ کو قید تحریر میں بھی لایا گیا اور تمام قبائل کے اس پر دستخط لئے گئے، جس کو ’’میثاق المدینۃ‘‘ کہا جاتا ہے اور حلف الفضول کا واقعہ تو آپ ﷺ کی نبوت سے پہلے کا ہے؛ لیکن اس کی جو اہمیت آپ کی نگاہ میں تھی، اس کا اندازہ اس جملہ سے کیا جاسکتا ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:
’’اگر مجھے آج بھی اس کی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا.‘‘
گویا یہ ایک وقتی تدبیر اور عارضی حکمتِ عملی نہیں تھی؛ بلکہ ایک اصولی فیصلہ تھا، جو اسلامی تعلیمات کی روح پر مبنی اور اس کے اصول انصاف کا آئینہ دار تھا۔
اس ملک کو بچانے، ملک کے دستور اور اس کی جمہوری قدروں کو بچانے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہونے کے لحاظ سے بلکہ خیر امت ہونے کی حیثیت سے بھی مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حقیر اور وقتی سیاسی مفادات کو نظر میں رکھنے کی بجائے ملک و ملت کے وسیع تر مفادات کو سامنے رکھ کر اس سلسلہ میں پیش قدمی کریں، اس کوشش میں منصوبہ بندی تو ضرور ہونی چاہئے لیکن اس کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے؛ کیوںکہ ایسے معاملات کی تشہیر سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے، اگر موجودہ حالات میں مسلمان بے سمتی کا شکار رہے، انہوں نے سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق اپنے لئے راہ عمل متعین نہیں کی، تو اتنے بڑے نقصان کا خطرہ ہے جس کی تلافی دشوار ہوجائے گی؛ کیوںکہ اس وقت ہمارا ملک ایک دو راہے پر کھڑا ہے: ایک راستہ یہ ہے کہ سیکولر طاقتیں اپنی کمزوری کی وجہ سے فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور گویا اپنی شکست کا اعتراف کرلیں، یہاں تک کہ یہ ملک مستقل طور پر فرقہ پرستی کے راستہ پر چلاجائے، دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلمان سیکولر عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں، انہیں طاقت پہنچائیں، ان کے اندر فرقہ پرستی سے لڑنے کا حوصلہ پیدا کریں اور اس ملک کو ان لوگوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑدیں، جو اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے انسانی خون کا دریا پار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے!!
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
Friday, November 23, 2018
حیات نبوی ﷺ کا ایک اہم واقعہ؛ حلف الفضول اور موجودہ حالات
Thursday, November 22, 2018
خوبصورت خواتین کے شوہر جلد کیوں مرجاتے ہیں؟
خوبصورت خواتین کے شوہر جلد کیوں مرجاتے ہیں؟
ایس اے ساگر
اسلام میں شادی ایک عبادت ہے اور اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں پانچ چیزیں مقصد کا درجہ رکھتی ہیں:
1۔ سکون قلب: ’’اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے میں سے تمہارے لیے جوڑے بنائے، تاکہ تم کو اس سے سکون حاصل ہو اور تمہارے درمیان محبت اور شفقت رکھ دی۔‘‘ (الروم:21)
2۔ زوجین کی عفت وپاک دامنی۔
3۔ نیک وصالح اولاد کا حصول۔
4۔ امت محمدیہ کا قوی ہونا۔
5۔ قیامت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کی کثرت پر خوش ہونا اور فخرکرنا۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے نیک وصالح بیوی کا ہونا بنیادی عنصر ہے۔ اگر بیوی خود نیک نہیں ہوگی تو اولاد کی کیا تربیت کرے گی؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ چار چیزوں کو سامنے رکھ کر شادی کی جاتی ہے:
1۔ مال،
2۔ حسب ونسب،
3۔جمال،
4۔ دین داری
تم دینداری کو پیش نظر رکھ کر شادی کرو۔ اللہ تمہارا بھلا کرے۔ (بخاری)
کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جمال کو ترجیح دینا کتنا مضر ثابت ہوسکتا پے! ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو حضرات خوبصورت خواتین سے شادی کرتے ہیں ان کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور وہ جلدی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔
ایسے حضرات جو اپنے لئے خوبصورت جیون ساتھی کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اب وہ اپنی اس سوچ کو بدل دیں کیوں کہ ایک تحقیق کے مطابق جن افراد کی بیویاں زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں ان کی زندگی بھی کم ہوتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اسپین کی ویلینسیا یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب بھی آدمی کسی خوبصورت خاتون سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے جسم میں موجود ایک ہارمون ’کورٹیسول‘ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے باعث بلڈ پریشر اور شوگر میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بیوی کی خوبصورتی شوہروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مرد کئی قسم کے نفسیاتی اور جسمانی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اس تحقیق میں تقریباً 3500 شادی شدہ افراد کی زندگیوں کا مطالعہ کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسی خواتین جو زیادہ خوبصورت تھیں، ان کے شوہر جلد ہی اس دنیا سے کوچ کرگئے تاہم ایسی خواتین جو کم خوبصورت تھیں، ان کے شوہر زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔
عجیب بات یہ بھی سامنے آئی کہ خاتون کی خوبصورتی زیادہ ہونے کی صورت میں شوہر کی موت بھی اسی قدر جلد واقع ہوگئی یعنی متعلقہ عورت ادھیڑ عمری سے پہلے ہی بیوہ ہوگئی۔ تحقیق برطرف، اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ حس وجمال کی بجائے دین داری کو ترجیح دینے کی برکت سے عافیت نصیب ہوجائے!
Sunday, November 18, 2018
مرکز کے موجودہ انتشار پر استفتاء اور اس کا تفصیلی جواب
مرکز کے موجودہ انتشار پر استفتاء اور اس کا تفصیلی جواب
مفتی صاحب! السلام علیکم.
مجھے دعوت و تبلیغ کے بارئے میں سوال کرنا تھا
سوال (١) سب سے پہلا سوال یہ تھا کے کیا دعوت کے کام میں امارت ہونی چاہئے یا شورہ؟
سوال (٢) کیا دور صحابہ کی مثال دینا درست ہوگا کے صحابہ میں امارت تھی چار خلیفہ وغیرہ؟
سوال (٣) کیا مولانا سعد صاحب کو دیوبند کے فتوے کے بعد بھی حق پر سمجھنا درست ہے؟
سوال (٤) مجھے کسی نے کہا علماء کا اختلاف رحمت ہیں کیا اسے رحمت کہاجائگا یا یہ سنگین فتنہ ہیں
سوال (٥) آخری سوال میں مولانا سعد صاحب کا ساتھ دو یا مولانا ابراہیم صاحب دیولہ اور احمد لاٹ صاحب کا؟
الجواب:حامداومصلیاومسلما:-
(١) حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ خود امیر تھے. شوری کے مشوروں کو آپ اپنی خوش دلی سے قبول کرتے تھے اور مسترد کرنے کا مکمل اختیار بھی رکھتے تھے.
اسلامی نظام میں شوری صرف مشورہ دیتی ہے جو قبول بھی ہو سکتا ہے، مسترد بھی. فیصلہ صرف امیر کرتا ہے.
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لشکرِ اسامہ کو بھیجنے، زکات نہ دینے والوں سے لڑنے، قرآن جمع کرنے وغیرہ میں شوری کے فیصلہ کو مسترد کیا. آخر میں شوری نے امیر کو مانا.
کفری پارلیمانی نظام میں اس کے برعکس امیر شوری کا بے اختیا نوکر ہوتا ہے. انتظام و انصرام ایک فرد، ایک رخ، ایک سوچ سے نکل کر متعدد خداؤں یعنی ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھ میں آجاتا ہے.
مرکز نظام الدین میں امارت و شوری کا اختلاف نہیں ہے. شوری سے تو خود مولانا سعد کاندھلوی ہر معاملے میں مشورہ لیتے ہیں. اختلاف ہے اسلامی امارت اور کفری پارلیمانی نظام کا. پارلیمانی نظام والے محض عوام کو دھوکہ دینے کے لیے "شوری" کے اسلامی لفظ سے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں.
(٢) خلافت صرف خلافتِ راشدہ نہیں ہے۔ خلافتِ راشدہ خلافت کی اعلی ترین قسم ہے۔
ہم ان کو خلیفہ نہیں مانتے۔ خلیفہ سے «مشابہ» مانتے ہیں۔ اور اس پر قیاس کرکے حکم مستنبط کرتے ہیں۔
ظاہر ہے۔ بغیر دلیلِ کافی وشافی کے امام ومقتدی کو چھوڑنا نا جائز ہے۔
«الا أن تروا کفرا بواحا»
تب تک خلیفہ کی اطاعت کی جائے گی، جب تک اس سے بالکل واضح اور قطعی کفر کا صدور نہ ہوجائے۔
اطاعت کے معاملے میں جماعت کے امیر کو بھی خلیفۃ المسلمین ہی پر قیاس کیا جائے گا۔
خلافت وامارت میں انتخاب امیر کے شرعی طریقے صرف چار ہیں.
١) علماء، قضاۃ وغیرہ ارباب حل و عقد کا کسی لائق شخص پر اتفاق کرلینا، جیسا کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تقرری اسی طریقے سے باتفاق صحابہ عمل میں آئی.
٢) شرعی طورپر منتخب شدہ امیر یا خلیفہ اصحاب الرائے کے صلاح و مشورہ یا اپنی صواب دید سے کسی لائق شخص کو نامزد کردے، جیسا کہ خلافت فاروقی کا قیام اسی طریقے سے باتفاق صحابہ عمل میں آیا.
٣) جامعین شرائط شوری اہل الرائے کے مشورہ سے غوروفکر کرکے کسی کو مقرر کردے، جیساکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مقرر کردہ شوری نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو منتخب کیا، اور صحابہ نے اسے قبول کر لیا.
٤) غلبہ اور استیلاء کےذریعہ کوئی لائق شخص منصب امارت کو اپنے ہاتھ میں لے کر تالیف قلوب اور قوت کے ذریعہ سب کو اپنا مطیع بنالے. (استیلاء کی بعض صورتیں غیر شرعی اور ناجائز ہیں، جس کی تفصیل اپنے مقام پر کتب فقہ میں مذکور ہے) (مستفاد: ازالۃ الخفاء، مقصد اول، فصل اول صفحہ نمبر ٢٤ ،٢٥).
خلیفۃ المسلمین کے تقرر کے چار طریقے اوپر مذکور ہوئے، ان میں سارے طریقے پر موجودہ صورت میں حضرت جی مولانا سعد صاحب کو امیر بنایا گیا،
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خلافت اس لیے چھوڑی کیوں کہ دوسری جانب حضرت «««امیر»»» معاویہ تھے۔ اگر ان کے چھوڑنے پر غیر اسلامی پارلیمانی نظام قائم ہونے کا اندیشہ ہوتا، تو قطعا نہ چھوڑتے۔
ان کو صرف اپنا حق قربان کرنے کا اختیار تھا۔ امت مسلمہ کا معاملہ کفری نظام کے حوالے کرنے کا ان کو بھی اختیار نھیں تھا.
***امیر ہونے کے لیے ہر ساتھی سے افضل ہونا شرط نہیں***
امیر کے لیے ہر ساتھی سے بہتر، افضل، عمر اور علم میں بڑا ہونا بھی ضروری نہیں۔
وفات سے دو دن قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوان صحابی اسامۃ بن زید (عمر ٢٠ سال) کو امیر بنایا، حضرت ابو بکر (٦٠ سال) عمر بن خطاب (٥٠ سال)، سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدۃ بن جراح اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ کو ان کے ما تحت رکھا۔
بعض (مثلا: اونچے درجے کے صحابی عیّاش بن ابی ربیعۃ) نے اعتراض کیا: یہ معمولی نوجوان ہم سب کا امیر کیسے ہوسکتا ہے؟
حضور نے مسجد میں سب کو جمع کرکے ارشاد فرمایا:
اگر آج تم کو (٢٠ سالہ) اسامہ کی امارت پر اعتراض ہے، تو کل تم کو زید بن حارثہ کی امارت پر بھی اعتراض تھا۔ خدا کی قسم! زید بن حارثہ امارت کے حق دار تھے، اور (اپنے کمالات کی وجہ سے) مجھے سب سے محبوب تھے۔ (زید کی شہادت کے بعد اب) یہ اسامہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔
(حضرت زید بن حارثۃ غزوۂ موتۃ میں امیر تھے۔ اسی غزوے میں شہید ہوئے۔ عمر ٤٨ سال تھی۔)
چند ماہ قبل حضرت اسامۃ بن زید سے ایک بڑی غلطی بھی ہوئی تھی۔ ایک کافر کو کلمہ پڑھنے کے باوجود آپ نے جنگ میں قتل کر دیا۔ حضور کو اطلاع ملی تو اتنا ناراض ہوئے کہ اسامہ کے لیے غم سے زندگی دشوار ہوگئی۔ کہتے تھے: کاشّ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا، تو اتنے بڑے گناہ سے بچ جاتا۔
حضرت اسامہ کے توبہ (رجوع) کو حضور نے قبول فرمایا۔ اور اس مرتبہ سپاہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ امیر کی حیثیت سے غزوے میں بھیجا۔
حضرت اسامہ اس سے پہلے بھی امیر بنے تھے، مگر چھوٹی جنگوں کے، جن میں اتنے بڑے صحابہ نہیں ہوا کرتے تھے۔ سلمہ بن اکوَع کہتے ہیں:
میں ٧ جنگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، اور ٩ ایسی جنگوں میں بھی شریک ہوا جن میں رسول اللہ نہیں تھے۔ امیر کبھی ابوبکر صدیق ہوتے تھے اور کبھی اسامۃ بن زید۔
—------------—
وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ
صحیح بخاری ٣٧٣٠، مستخرج أبی عوانۃ ١٠٦٨٥
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: «أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟» فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ
صحیح مسلم ٩٦، بخاری ٦٨٧٢
سیر أعلام النبلاء ٢/٤٩٦
سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ البُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ» (بخاری ٤٢٧٠)
(٣)
یہ کون سے دارالعلوم دیوبند کی بات ہے؟ مقبوضہ کی یا آزاد (وقف) کی؟
ابھی حال ہی میں شعبان میں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم مولانا سفیان صاحب نے ان کی جو ضیافت فرمائی، زبانی جمع خرچ سے ایک قدم آگے بڑھ کر معزز مہمان کے طور پر ان کا اکرام و احترام کیا، اسی طرح مظاہرالعلوم کے بزرگ مرشد اور مقبوضہ دارالعلوم دیوبند کے سابق امامِ جنازہ حضرت مولانا طلحہ صاحب کا ان کو شرفِ امامت سے سرفراز کرنا مولانا سعد کے متعلق بنارسی سینا کی الزام تراشی کو کالعدم کرنے کے لیے کافی ہے.
==============
سنبھل کا تبلیغی اجتماع – ٢٤ تا ٢٦ دسمبر ٢٠١٦
عوام کی کثیر تعداد اور خصوصا مشائخ دارالعلوم دیوبند نائب مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمود صاحب بلند شہری مفتی فخرالاسلام صاحب مفتی عثمان غنی صاحب مفتی وقار صاحب مولانا عبدالہادی صاحب مفتی فرقان صاحب مشائخ شاھی مرادآباد خصوصا شیخین دارالافتاء حضرت مولانا مفتی شبیر صاحب مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری حضرت مولانا اشہد رشیدی صاحب (اجتماع سے قبل تشریف لائے اور بیان فرمایا) ناظم اعلی شاھی مرادآباد حضرت مولانا اسعد صاحب حضرت مولانا سید حبیب احمد صاحب جانشین حضرت باندوی رحمہ اللہ ناظم جامعہ عربیہ ھتورا حضرت مولانا محمدتوفیق صاحب ناظم اعلی جامعہ حسینیہ جونپور حضرت مولانا عبد العظیم صاحب صاحب زادہ حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب جونپوری نوراللہ مرقدہ مفتی اعظم جامع مسجد امروہہ مفتی محمد عفان صاحب منصور پوری مولانا محمد حارث صاحب ناظم مدرسہ باب العلوم وام المومنین سیدہ حفصہ للبنات فیض آباد نیز فضلاء دارالعلوم دیوبند ودارالعلوم ندوہ مفتی ظہیر الاسلام صاحب مفتی محمد اشرف صاحب مفتی افتخار صاحب مفتی محمد مسلم صاحب مفتی نوال الرحمان صاحب مفتی محمد ریحان صاحب مفتی محمد ساجد صاحب مفتی محمد خالد صاحب مفتی عبد الرحیم صاحب مولانا کفایت اللہ صاحب مفتی عبدالقیوم صاحب مفتی صفوان صاحب مفتی افتخار صاحب اوراطراف وجوانب کے علماء ونظماء مدارس (اللھم اطول اعمارھم وظلالھم واحفظہم من جمیع البلیات والشرور والفتن ویرزقھم توفیقا وکرامہ) کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائ اور حضرت مولانا محمد سعد صاحب کاندھلوی (لازالت شموس فیوضہم بازغہ لکی نطیب ببحرھم الذخار) کے بیانات کی ہر مجلس کو بغور سماعت فرمایا.
(٤) ١٩٨٠ کے دہے میں جمعیۃ الطلبہ نے کیمپ دارالعلوم دیوبند قائم کیا تھا، پھر ٢٣ مارچ ١٩٨٢ کی شبِ تاریک میں کیمپ والوں نے اصل دارالعلوم دیوبند پر قبضہ کرلیا۔ اور آج تک قبضہ جاری ہے۔
حجۃ الاسلام حضرت قاسم نانوتی کے پوتے اور تقریبا ساٹھ سال سے مہتمم حضرت قاری طیب رحمہما اللہ کے خلاف اسی طرح کا لمبا پروپیگنڈہ کرکے لوگوں کو ان سے بد ظن کیا، پھر مدرسے سے نکال دیا۔
پروپیگنڈہ اتنا قوی تھا کہ مولانا منظور نعمانی، اور علی میاں ندوی رحمہما اللہ جیسے مخلص بزرگ بھی قاری طیب صاحب سے بدظن ہوگئے تھے۔
اس کیمپ دارالعلوم دیوبند کے بادشاہ کانگریسی قائد اسعد مدنی تھے۔ اور سپہ سالار مولانا وحید الزماں کیرانوی تھے۔ اہم حامیوں میں مولانا معراج الحق، مفتی سعید احمد پالن پوری وغیرہ تھے۔ جمعیۃ الطلبہ کے فوجیوں میں اہم نام مولوی عثمان سہارن پوری اور مولوی ثناء الہدی وغیرہ تھے۔
—------—
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اس کی مثال ملتی ہے۔ اگر مکمل آیت پڑھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیمپ تبلیغی جماعت اور اصل تبلیغی جماعت (مرکز نظام الدین) پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ آدمی کو حتی الامکان کیمپ تبلیغی جماعت سے بچنا چاہیے۔ جماعتِ تقوی (مرکز نظام الدین) سے خود کو وابستہ رکھنا چاہیے۔ یہی اس آیت کا پیغام ہے۔
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (107) لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ۔ (التوبۃ ١٠٧-١٠٨)
بعضے ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ (اسلام کو) نقصان پہنچاویں اور (اس میں بیٹھ بیٹھ کر) کفر (یعنی عداوتِ رسول) کی باتیں کریں اور (اس کی وجہ سے) ایمان داروں (کے مجمع میں) تفریق ڈالیں (کیوں کہ جب دوسری مسجد بنائی جائے اور ظاہر کیا جائے کہ خوش نیتی سے بنی ہے تو ضرور ہے کہ پہلی مسجد کا مجمع کچھ نہ کچھ منتشر ہو ہی جاتا ہے) اور (یہ بھی غرض ہے کہ) اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس (مسجد بنانے) کے قبل سے خدا و رسول کا مخالف ہے (مراد ابوعامر راہب ہے)۔
(پوچھو تو) قسمیں کھائیں گے (جیسا ایک دفعہ پہلے بھی پوچھنے پر کھا چکے ہیں) کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں۔ اور اللہ گواہ ہے کہ وہ (اس دعوے میں) بالکل جھوٹے ہیں۔
(جب اس مسجد کی یہ حالت ہے کہ وہ واقع میں مسجد ہی نہیں بلکہ مضرِ اسلام ہے تو) آپ اس میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے نہ ہوں۔
البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے (یعنی روزِ تجویز سے) تقوی (اور اخلاص) پر رکھی گئی ہے (مراد مسجد قبا ہے) وہ (واقعی) اس لائق ہے کہ آپ اس میں (نماز کے لیے) کھڑے ہوں۔
(قرآن کریم، ترجمۂ تھانوی مع تغییرِ یسیر، معارف القرآن ٤/٤٥٩-٤٦٠)
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "اختلاف امتی رحمۃ" سے علماء کا ہر اختلاف مراد نہیں ہے بل کہ مجتہدین کا فروعی اختلاف مراد ہے کہ جس سے عوام کے لئے وسعت ہو.
(ﻗﻮﻟﻪ: ﺑﺄﻥ اﻻﺧﺘﻼﻑ) ﺃﻱ ﺑﻴﻦ اﻟﻤﺠﺘﻬﺪﻳﻦ ﻓﻲ اﻟﻔﺮﻭﻉ ﻻ ﻣﻄﻠﻖ اﻻﺧﺘﻼﻑ. ﻣﻄﻠﺐ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ «اﺧﺘﻼﻑ ﺃﻣﺘﻲ ﺭﺣﻤﺔ» .
(ﻗﻮﻟﻪ: ﻣﻦ ﺁﺛﺎﺭ اﻟﺮﺣﻤﺔ) ﻓﺈﻥ اﺧﺘﻼﻑ ﺃﺋﻤﺔ اﻟﻬﺪﻯ ﺗﻮﺳﻌﺔ ﻟﻠﻨﺎﺱ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ ﺃﻭﻝ اﻟﺘﺘﺎﺭﺧﺎﻧﻴﺔ، (مقدمہ رد المحتار).
(٥) اوپر کی تحریروں سے بالکل واضح ہے کہ عالمی مرکز نظام الدین کی بتلائی ہوئی ترتیب پر دعوت و تبلیغ کا کام کرنا ہی امت کے لئے نافع ہوگا، اسی میں کام کی حفاظت اور افادیت مضمر ہے.
فقط والله تعالى أعلم وعلمہ اتم واحکم.
مؤرخہ ٢٨ ربیع الاول ١٤٣٨ ہجر
آہ، حاجی عبدالوہاب صاحب رحمت اللہ علیہ
آہ، حاجی عبدالوہاب صاحب رحمت اللہ علیہ
کتنا عجیب سا لگتا ہے کہ آج فجر کی نماز کے بعد سے ہم حضرت حاجی صاحب کو رحمت اللہ علیہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں.
یہ اللہ تعالی کی قضا و قدر کے وہ فیصلے ہیں جن کی حکمتیں وہی بہتر جانتا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہرگز نہیں ہوتا.
حضرت حاجی صاحب کا شمار ان معدودے چند خوش نصیبوں میں ہوتا ھے جنہوں نے بانی تحریک دعوت و تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے دست اقدس پر بیعت کی اور آپ کے شانہ بشانہ دعوت وتبلیغ کا علم اٹھائے ہندوستان بھر میں بستی بستی قریہ قریہ ایسے وقت گھومے جب دعوت و تبلیغ کا یہ سلسلہ اس پوری دھرتی پر بالکل اجنبی تھا اور اس کا ساتھ دینے کے لئے بہت کم لوگ تیار ہوتے تھے .
حضرت حاجی صاحب نے مولانا محمد الیاس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ان کے مشن کو نہ صرف کئے کے آگے بڑھایا بلکہ اسے بام عروج تک پہنچا دیا.
حضرت حاجی صاحب نے تقریبا 70 سال سے زیادہ تبلیغی جماعت کے نظم و نسق کو سنبھالنے کی ذمہ داریاں جس خوش اسلوبی کے ساتھ ادا فرمائی ہیں وہ ساری دنیا کے سامنے ہے .
قیام پاکستان کے بعد لاہور کے نواح میں رائیونڈ نامی ایک چھوٹی سی بستی میں تبلیغ کے مرکز کا جب قیام عمل میں آیا تو اس وقت کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ چھوٹی سی مسجد میں قائم ہونے والا یہ مرکز دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کا اسلامی تبلیغ کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا اور اس مرکز کے سالانہ اجتماعات حج بیت اللہ کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماعات بن جائیں گے .شروع شروع میں جب حضرت حاجی عبدالوھاب صاحب نے رائیونڈ میں مرکز قائم فرمایا تھا تو ہر آنے والی ریل گاڑی پر ان کی اور دیگر ایسے احباب کی جو اس وقت مرکز میں ہوتے ہر آنے والی ریل گاڑی پر ان کی نظریں گڑھی ہوتیں اور اس سے اترنے والی سواریوں کو دیکھتے کہ شاید ان میں کوئی اللہ کے دین کا درد لیے, اللہ کی عظمت کے بول سیکھنے اور اللہ اور اس کے رسول کا رستہ لوگوں تک پہنچانے کا عزم لیے کوئی مسلمان ساتھی اترا ہو, اور کئی کئی دن تک تبلیغی مرکز میں آنے والا کوئی مسافر نہ ہوتا.
یہ حضرات اذکار اور دعاؤں کا سہارا لیتے اور اللہ سے مانگتے کہ اللہ دین کی ہوائیں عام فرما دے. ان کی دعائیں ان کا صبر، ان کی استقامت، ان کا عزم، ان کی جہد مسلسل اور ان کی شبانہ روز محنت رنگ لائی اور آہستہ آہستہ پاکستان کے قریہ قریہ بستی بستی میں دین کا درد رکھنے کا جذبہ تبلیغ کے نام سے عام ہونا شروع ہوا اور لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا. حضرت حاجی صاحب نے شروع دن سے آخر تک فجر کے بعد کادرس اور روانگی کی ہدایات اپنے ذمے رکھیں.
جماعت میں آنے جانے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ کوشش کے باوجود کوئی آدمی حضرت حاجی صاحب کے "سونے کا وقت" معلوم نہ کرسکا. کیونکہ فجر کے بعد حضرت مسلسل درس پر موجود، اس کے بعد روزانہ کے طویل مشورے میں حضرت بھی موجود، روزانہ کئی کئی جماعتوں کو روانہ کرنے کے لئے ہدایات اور مصافحہ کے لئے بھی حضرت موجود، پھر ظہر عصر مغرب کے بعد تمام مشاغل میں حضرت حاجی صاحب پیش پیش نظر آتے ہیں. پھر عشاء کے بعد بھی حضرت صاحب سب کی آنکھوں کے سامنے نظر آتے ہیں اور رات کو بارہ بجے ایک بجے، دو بجے بھی آپ دیکھیں آپ کو حاجی صاحب مرکز میں ایک طرف سے دوسری طرف آتے جاتے اور ضروری مسائل نمٹاتے، ہدایات دیتے نظر آتے ہیں.
حضرت حاجی صاحب نے اس تبلیغی مشن کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر ڈالا اور زندگی کا ایک ہی محور شعبہ تبلیغ کو بنا لیا. آپ نے اللہ کے دین کے پھیلانے کے لئے اپنی تمام گھریلو، خانگی، خاندانی اور ذاتی مصروفیات کو قربان کردیا اور دن رات مرکز رائیونڈ میں ہیں قیام فرما رہے.
زندگی کی آخری سانس تک مرکز رائیونڈ کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا اور آج جب کہ تبلیغ کا یہ سلسلہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، دنیا کا کوئی ملک اور کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں مسلسل جماعتوں کا آنا جانا شروع نہ ہوچکا ہو اور لوگوں کو فوج در فوج دینی حلقے اور اتباع سنت کے حلقے میں داخل نہ کیا جارہا ہوں، آج جبکہ پوری دنیا میں تبلیغی جماعت کی اہمیت کو تسلیم کیا جانے لگا، تبلیغ کی برکات و فوائد پوری دنیا میں سامنے آنے لگے، مغرب میں سینکڑوں گرجوں کو خرید کر مساجد میں تبدیل کیا جانے لگا، تبلیغی گشت میں مصروف عمل احباب کی فٹ پاتھوں پر نماز دیکھ کر سینکڑوں لوگ اپنے اپنے مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے لگے، عوام تو عوام، پبلک تو پبلک، حکومت بھی تسلیم کرنے لگی کہ تبلیغی جماعت کے نام سے اٹھنے والی یہ خالص دینی تحریک کسی قسم کے ذاتی، گروہی، مسلکی، سیاسی اور مالی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اسلام اور اس کی تعلیمات کی دعوت وتبلیغ تک اپنی تگ و تاز محدود کئے ہوئے ہے.
آج جبکہ تبلیغی اجتماعات کا مجمع اتنا بڑا ہوگیا کہ اس کے لئے زمین کا انتظام کرنا ناممکن ہوگیا اور اجتماع کو دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کرنا پڑا , آج جبکہ ملک کے چپے چپے میں دعوت و تبلیغ کی آواز گونج رہی ہے , حضرت حاجی صاحب عمل مکمل کرنے کے بعد آج اس دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف مخلوق سے خالق کی طرف حیات دنیاوی سے حیات برزخی کی طرف سفر پر روانہ ہوگئے ہیں.
اللہ تعالی ان کی محنت کو قبول فرمائے اور جو کام جس نہج اور جس معیار پر چھوڑ کرگئے ہیں اللہ کرے کہ آنے والے دنوں میں وہ کام دعوت و تبلیغ کا کام مزید پھیلتا پھلتا پھولتا رہے اور اس کی برکات سے پوری دنیا میں اسلام کی ہوائیں عام ہوتی رہیں. آمین
Monday, November 12, 2018
بیوی کی بہن؛ میٹھا زہر
بیوی کی بہن؛ میٹھا زہر
یہ تو ہم سب جانتے ہیں
کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔
لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہیں لگتا
لیکن اسی نام سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔
عموماً بیوی کی بڑی بہنیں شادی شدہ ہوتی ہیں اور اگر غیر شادی شدہ بھی ہوں تو وقت کے ساتھ طبیعت میں سنجیدگی اور بردباری آچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
جبکہ بیوی کی چھوٹی بہنیں عمر کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب زندگی کا ہر رُخ خوبصورت اور ہر موڑ دلکش معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں بہن کا شادی ہونا اور ایک نئے فرد یعنی بہنوئی کا گھر سے تعلق ہونا بھی ایک منفرد رنگ لئے ہوتا ہے۔۔۔
معاشرے کے عام چلن کی وجہ سے عموماًیہ چھوٹی سالیا ں اپنے بہنوئی سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں اور اپنے بہنوئی کا خیال بھی بہت رکھتی ہیں۔۔۔
جب کبھی بہن کا اپنے میکے جا نا ہو
تو اکثر یہی سالیاں بہن اور بہنوئی کو بوریت سے بچانے کے لئے ان کو مکمل وقت دیتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مرد کے رُخ سے کچھ بات ہوجائے۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک محاورہ مشہور ہے۔۔۔
سالی۔۔۔
آدھے گھر والی۔۔۔
اکثر مرد جب اپنے عزیز دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو چھوٹی سالیوں کے نام پر ایک عجیب مسکراہٹ ان کے چہرے پر آجاتی ہے۔۔۔
دوست احباب بھی ذومعنی جملوں سے اس مسکراہٹ کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
یہ حقیقت عجیب صحیح لیکن بہر حال معاشرے میں موجود ہے۔۔۔
اپنے بہنوئی کے اس رُخ سے ان کی سالیاں بھی اکثربے خبر ہوتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسلام کے رُخ سے اس پہلو کو دیکھتے ہیں۔۔۔
اسلام کی رُو سے بہنوئی سالی کا آپس میں شرعی پردہ ہے۔۔۔
بہنوئی، سالی کا نامحرم ہے اور گھر کے اندر گاہے بگاہے اس کی موجودگی کی وجہ سے اس پردے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے لڑکی کے ماں باپ بھی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔۔۔
اکثر بہنوئی بھی اس پردے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔۔۔
اور سالیا ں "ہمارے بہنوئی تو ہمارے بھائی جیسے ہیں" کی سوچ کے ساتھ اس سے صرفِ نظر کرتی ہیں۔۔۔
اور یہ میلان کی خطرناک حد بہنوئی کے علاوہ کسی کے علم میں بھی نہ ہوگی۔۔۔
اور وہ بہنوئی کبھی اپنی بیوی کو بھی اس میلان کا نہیں بتائے گا۔۔۔
یہ ایسا خاموش زہر ہے جس سے یا تو وہ مرد واقف ہے یا الله تعالیٰ کی ذات اس کے دل کا حال جانتی ہے۔۔۔
نہ مردوں میں اتنی ایمانی قوت ہے کہ وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کرسکیں۔۔۔
خدارا! اس امتحان میں نہ پڑیں۔۔۔
بیوی کے ماں باپ سے گزارش ہے کہ اپنی دیگر بیٹیوں کو داماد سے شرعی پردہ کروائیں۔۔۔
بیوی کی بہنوں سے گزارش ہے کہ خود ہی پیچھے پیچھے رہا کریں تاکہ بہنوئی کو یہ باور ہو کہ میری سالیاں جھجھک اور شرم والی ہیں۔۔۔
اور مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اس نسبی تعلق کے ساتھ مالِ مفت دل ِبے رحم والا معاملہ نہ کریں اور دل کے اندر گھٹیا اور فضول خواہشات پالنے سے گریز کریں۔۔۔
الله تعالیٰ ہمیں اس باریک مسئلے کی حقیقت کا ادراک کرنے والا بنا دے آمین
____________
کیا سالی کے ساتھ بوس و کنار سے نکاح ٹوٹ جائے گا؟
Saturday, November 10, 2018
حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ پینا کیسا ہے؟
حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ پینا کیسا ہے؟
(سوال ۲۷۰ ) مجالس الا برارکی تیسویں مجلس میں لکھا ہے کہ حقہ پینا ناجائز اور حرام ہے اور اس کے لئے عقلی ونقلی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔ لیکن دور حاضر کا اہل علم طبقہ حقہ نوشی میں مبتلا ہے۔ کیا اب کوئی صورت جواز کی نکل آئی ہے؟ بالتفصیل جواب فرمایئے کہ عام بیماری ہے۔ بینوا توجروا۔
(الجواب) جس حقہ میں ناپاک یا نشہ آور چیزیں نوش کی جاتی ہیں وہ بالا تفاق حرام ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں، لیکن جس حقہ، بیڑی سگریٹ وغیرہ تمباکو نوشی کا رواج ہے اس کی حرمت متفق علیہ نہیں ہے۔ اکثر علماء فقہاء کی رائے جواز کی ہے ۔’’شامی‘‘ میں ہے ۔ فیفھم حکم التنباک وھو اباحۃ علی المختار والتوقف وفیہ اشارۃ الی عدم تسلیم اسکارہ وتفتیرہ واضرارہ (ج۵ ص ۴۰۷ کتاب الا شربۃ)
یعنی اصل اشیاء میں اباحت یا توقف ہے اس قانون کے مطابق تمباکو کا حکم سمجھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مختار قول کے مطابق اباحت ہے یا تو قف اور اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ نشہ آور اور فتور پیدا کر نے والا اور ضرر رساں نہیں ہے۔(شامی)
مگر تمباکو نوشی سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے لہذا صحیح ضرورت کے بغیر حقہ نوشی وغیرہ کراہیت سے خالی نہیں ۔ تمباکو بنفسہ مباح ہے ۔ اس میں کراہیت بدبو کی بنا پر عارضی ہے کراہت تحریمی ہو یا تنزیہی ۔ بہر حال قابل ترک ہے ۔ اس کی عادت نہ ہونی چاہئے ۔ اس کی کثرت اسراف اور موجب گناہ ہے۔ جو لوگ ہر وقت کے عادی ہیں ان کا منہ ہمیشہ بدبو دار رہتا ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ نفرت تھی حدیث میں ہے:۔ عن ابی سعید الخدری ان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مر علی زراعۃ بصل ھو واصحابہ فنزل ناس منھم فاکلوا منہ ولم یا کل اخرون فرحنا الیہ فدعا الذین لم یاکلوا البصل واخر الا خرون حتی یذھب ریحھا ۔ یعنی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پیار کے کھیت کے قریب سے گذرے ۔ بعض صحابہ وہاں ٹھہر گئے۔ ان میں سے بعض نے اس میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا پھر سب بارگاہ نبوی میں پہنچے تو آنحضرتﷺ نے پیاز نہ کھانے والوں کو قریب بلایا اور پیاز کھانے والوں کو بد بوزائل ہونے تک پیچھے بٹھایا ۔(صحیح مسلم ج۱ ص ۲۰۹باب نہی عن اکل سوم اوبصل الخ )شریعت میں منہ کی صفائی کے متعلق نہایت تاکید اور فضیلت وارد ہے ۔ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے۔ السواک مطھرہ للفم ومرضاۃ للرب یعنی ۔ مسواک۔ منہ کی پاکی کا ذریعہ ہے اور رب ذوالجلال کی خوشنودی کا سبب۔(مشکوٰۃ شریف ص ۴۴ باب السواک)
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ جب باہر سے تشریف لاتے تو اولا مسواک کرتے تھے (مسلم شریف ج۱ ص ۱۲۸)
اکثر تمباکو نوش حضرات منہ کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے ۔ جب دیکھے منہ میں بیڑی، سگریٹ ہوتی ہے ۔ مسجد کے دروازہ تک پیتے چلے جاتے ہیں بقیہ حصہ کو پھینک کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں ، شاید کوئی مسواک کرتا ہوگا یا منجن استعمال کرتا ہوگا ۔ محض کلی پر اکتفا کر کے نماز شروع کر دیتے ہیں ۔ کہیں ایسوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی نوبت آجاتی ہے نماز پڑھنی دشوار ہوجاتی ہے آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی اس بدبودار درخت (پیاز یا اس کی آل) کو کھائے وہ (منہ صاف کئے) بغیر (توکا نبائی جائے) ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ جس چیز سے آدمی کو تکلیف ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے تکلیف ہوتی ہے (مسلم شریف ج۱ ص ۲۰۹ ایضاً)
فقہاء کرام تحریر فرماتے ہیں کہ بدبو دار چیز کھانے، پینے کے بعد منہ صاف کئے بغیر مسجدو مدرسۂ عید گاہ، نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ اور مجلس تعلیم اور وعظ و تبلیغی اجتماعات میں شریک ہونا مکروہ ہے (نووی شرح مسلم ج۱ ص ۲۰۹ ایضاً) مسلمانوں کا کون سا وقت ذکر اﷲ اور ذکر رسول اﷲﷺسے خالی رہتا ہے ۔ قدم قدم پر بسم اﷲ الخ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ درود ودعا،سبحان اﷲ ،الحمد ﷲ، اﷲ اکبر، ماشاء اﷲ، لا حول ولا قوۃ الا باﷲ ، استغفر اﷲ انا اﷲ الخ مصافحہ کے وقت یغفر اﷲ، چھینک پر الحمد ﷲ یر حمکم اﷲ یہدیکم اﷲ وغیرہ وغیرہ ورد زبان رہتا ہے ، لہذا حتی الوسع منہ کی صفائی ضروری ہے ۔ خدائے پاک کے ہزارہا احسانات اور فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے رسول اﷲﷺ کے مقدس و مبارک نام لینے کی ہمیں اجازت دی ہے ۔ ورنہ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔
ہزار بار بشویم دہن زمشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
مولا نا روم فرماتے ہیں :۔
این قبول ذکر تو ز رحمت است
چونماز مستحاضہ رخصت است
خلاصہ یہ کہ حقہ، بیڑی، سگریٹ وغیرہ چیزیں حرام نہیں مگر بلا ضرورت وبلا مجبوری ان کی عادت ڈالنا مکروہ ہے ، ہاں ضرورۃً جائز ہے لیکن صفائی کا خیال بھی ضروری ہے بعض محققین کی فتاویٰ درج ہیں ۔
قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کا فتویٰ۔
(الجواب)حقہ کے باب میں بہت فتاویٰ اور رسائل طبع ہوئے اور بحث مباحثہ ہوا مگر بندہ کے نزدیک راجح اور حق یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے اور اس وقت میں علاج بلغم ہے اور اگر ازالہ بد بو کا ہو جائے تو مباح بلا کراہت ہے باقی تکلفات ہیں ۔(تذکرہ الرشید ج۱ ص ۱۶۸۔۱۶۹)
فتاویٰ رحیمیہ
.....
(۲) ابو الحسنات حضرت مولانا عبدالحیٔ لکھنوی رحمہ‘ اﷲ کا فتویٰ ملاحظہ کیجئے :۔
وانچہ کہ بعد تنقیح دلائل طرفین واضح شدا ین ست کہ قول حرمت لایعبأ بہ ست چہ حرمت موقوف بر دلیل قطعی تحریم ست وحاکمین بحرمت دلیلے قطعی برآں قائم نساختہ امذ بلکہ جملہ دلائل ظنیہ شاں ہم مخدوش اند چنانچہ بر مطالعۂ ترویح الجنان مخفی نخواہد ماندوقول اباحت بلا کراہت ہم خالی از خد شات نیست البتہ قول کراہت قابل اعتبار است این ہمہ گفتگو درحقہ کشی ست فاما خوردن تمباکو واستعمال آں دربینی پس دلیلے معتبرع بر کر اہتش ہم قائم نیست۔(مجموعہ فتاویٰ ج۱ ص۲۲۹ طبع قدیم)
(۳) حکیم لاا مت حضرت مولانا تھانوی کا فتویٰ:۔
بلاضرورت کراہت تو سمجھتا ہوں اور بضرورت کھانا پینا دونوں جائز اور ضرورت میں نفس عین مکروہ نہیں ۔ دوسرے عوارض خارجیہ سے گو کراہت ہوجائے اور عوارض کی خفت وشدت سے کراہت کی خفت وشدت میں تفاوت ہوگا اور سکر تمباکو میں نہیں ہے صرف حدت ہے ۔ اسی سے پریشانی ہوتی ہے لیکن عقل ماؤف نہیں ہوتی اور عوارض خارجیہ کے اعتبار سے کھانا اخف ہے بہ نسبت پینے کی ۔ کما ہو مشاہد (امداد الفتاویٰ ج۴ ص ۱۱۴)
شیخ الا سلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی فرماتے ہیں :۔ یہ جملہ بزرگان دین (دیو بندی حضرات) تمباکو کے استعما ل پر سوائے کراہت تنزیہی و خلاف اولیٰ اور کوئی حکم نہیں فرماتے ۔(الشہاب الثاقب ص ۸۲)
(۵) مفتی اعظم حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دارالعلوم دیو بند کا فتویٰ:۔
درحقیقت تمباکو بھی ایک قسم نباتات کی ہے ۔ اور شامی میں صحیح قول یہ نقل کیا ہے کہ تمباکو کا استعمال مباح ہے۔ البتہ بلا ضرورت غیر اولیٰ ہے اور قول کراہت (تحریمی) بلا دلیل ہے ۔ (فتاویٰ دارالعلوم عزیز الفتاویٰ (ج۷۔۸ص۲۱۴)
(۶) مفتی عزیز الرحمن صاحب کا دوسر افتویٰ:۔
(الجواب)تمباکو کھانا ، پینا ،سونگھنا مباح ہے مگر غیر اولیٰ جس کا حاصل یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے اور تجارت تمبا کو کی درست ہے ۔(فتاویٰ دارالعوم دیو بند ج۷۔۸ص۲۳۶)
(۷) حضرت مفتی شفیع صاحب کا فتویٰ
البتہ اگر بلا ضرورت پیئے تو مکروہ تنزیہی ہے اور ضرورت میں کسی قسم کی کراہت نہیں ۔منہ صاف کرنا بدبو سے ہر حال میں ضروری ہے ۔(فتاویٰ درالعلوم دیو بند (ج۷۔۸ ص۲۹۲)
