Friday, January 15, 2021

مدرسے ‏کی ‏کہانی

مدرسے کی کہانی
دنیا میں پہلے تعلیم وتدریس آزاد ہوا کرتے تھے، یعنی حکومتیں اپنے تعلیمی اداروں کو اپنے زیرِ اختیار میں نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُنہیں آزادانہ علمی سرگرمیوں کا موقع دیتی تھیں۔ لیکن نوآبادیاتی عہد میں استعمار نے اپنی ضرورت اور سیاست کے تحت دنیا میں رائج اِس خوب نظامِ تعلیم کا خاتمہ کردیا۔ مثلاً ہندوستان میں مدارس کا ایک آزادانہ نظام موجود تھا جو مغلوں کے عہد میں کامیابی کے ساتھ جاری تھا لیکن انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اپنی ضروریات کے تحت ڈھالنا چاہا تو اُنہیں سب سے زیادہ رکاوٹ اسی آزادانہ تعلیمی سرگرمی کی طرف سے پیش آئی، چنانچہ اُنہوں نے اس نظام کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔
چونکا دینے والی خبریہ ہے کہ ’’مدارسِ دینیہ‘‘ کو فقط دین کے مدارس قراردینے والے بھی خوداستعماری دور کے مستشرقین ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کے الفاظ میں،
’’اگر ہم سے یہ کہا جائے کہ جدید عہد کے سب سے بڑے تشدد کا نام لیں تو ہم بلاتوقف استعماری مستشرقین کے اس علمیاتی تشدد کا نام لیں گے جو اُنہوں نے مشرق کے تصور میں سے فطری علوم (سائنس) کے خارج کرنے کی صورت میں کیا‘‘۔
آج ہم جس مدرسے کو فقط دینی مدرسہ کے طور پر جانتے ہیں، ماضی میں یہ فقط دینی مدرسہ نہیں تھا۔ مثلاً ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے ہی رچرڈ پارکر، کے حوالے سے لکھا ہے کہ پارکر نے اپنے رسالے ’’مشرقی ادب کی افادیت پر ایک مضمون‘‘ میں تسلیم کیا ہے کہ ’’مغربی دنیا ارسطوسے اُس وقت واقف ہوئی جب عربی سے لاطینی میں اس کے تراجم ہوئے‘‘۔                             
دراصل مسلمانوں کے دورِعروج میں تشکیل پاجانے والا نظامِ مدارس اسلامی تہذیب کا سب سے نمایاں شاہکارتھا، جسے کچل دینے کی خارجی تمنّا تو کبھی پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی لیکن اس نظام کے زوال پاجانے کی داخلی وجوہ اتنی شدید تھیں کہ یہ نظام گزشتہ صدی میں بُری طرح سے پامال ہوکررہ گیا۔
ایک زمانہ تھا کہ انہی مدارس کے آزادانہ علمی ماحول میں، فطری علوم، فلسفہ و منطق اورشعروادب اُسی جوش و خروش کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے جس جوش و خروش کے ساتھ دینی علوم پڑھائے جاتے تھے۔ لیکن استعماریت زدہ اقوام میں پیدا ہوجانے والے معذرت خواہانہ رویّے کا انجام اصولاً یونہی ہوناچاہیےتھا کہ جس طرح کا بیانیہ استعمار اختیار کرتا، استعمارزدگان بھی اُسی طرح کا بیانیہ اختیار کرلیتے۔ استعماری دور کے مستشرقین نے مشرقی علوم کو دانستہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور بالاصرار پورے مشرق (اور مسلمانوں) کو یہ باورکروایا کہ اُن کے ہاں فطری علوم سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے کیونکہ مشرق فقط روحانیت کا نمائندہ ہے اور صرف ماورائی قوتوں اورعقائد کے بارے میں غوروفکر کو علم سمجھتاہے۔

آج کُوپرنیکس (1473-1543) کے اِس انکشاف کو کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں، بلکہ زمین تو سُورج کے گرد گھوم رہی ہے.‘‘ کوپرنیکی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے اور کہاجاتا ہے کہ کائنات کے جدید تصور کو سمجھنے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ لیکن خود کیپلر (1571-1630) نے کوپرنیکس پر نصیرالدین طوسی اور مؤیّد الدین عُرضی کے فارمولے یعنی ’’طُوسی کپل اور عُرضی لیما (Tusi couple and Urdi Lemma)‘‘ کو بغیروضاحت اور ذکر کے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ابنِ شاطر نے سب سے پہلےاس شک کا اظہارکیا تھا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے‘‘۔ وہ دمشق کے ایک مدرسے سے متعلق تھا اورفقط نمازوں کا نظام الاوقات درست کرنے کی لگن میں اس نے سیّاروں کی رفتاروں (ولاسٹیوں) کو تاریخِ علم میں پہلی بار اپنی توجہ کا مرکز بنالیا۔ یہ بات بھی مصدقہ ہے کہ کوپرنیکس نے ابن شاطر کے ماڈل اورمساواتوں کو اپنے ’’ہیلیوسینٹرک (Heliocentric) ‘‘ انقلاب کی ایجاد میں استعمال کیا۔
دمشق اوربغدادکے مدارس ہوں  یا بخارا و سمرقندکے مدراس، مشرقی مدارس نے دنیا کو اپنے وقت کے جدید علوم کے ساتھ جوڑے رکھا۔ یہ جو سمجھاجاتاہے کہ مسلمانوں کے زوال اور یورپیوں کی سائنسی ترقی کے درمیان وقفہ یا وقت زیادہ ہے یہ بالکل غلط بات ہے۔ آخری مسلمان سائنسداں سمرقند کی لیبارٹری میں دیکھےگئے۔یہ الغ بیگ کی رصدگاہ تھی۔ اوریہ پندرھویں صدی کی بات ہے۔
مسلمانوں سے پہلے کائنات کے تین ماڈل موجود تھے۔ ارسطوکاماڈل جو میکانکی تھا۔ جس کا دائرہ، کامل دائرہ (Perfect Circle) تھا اورجس کا مرکزسیّارۂ زمین تھا۔ دوسرے نمبرپر فلاطینوس کا ماڈل تھا۔ یہ روحانیت زدہ ماڈل تھا۔ کائنات کے اس ماڈل سے ہی انسانیت کے لیے سبق اورمقصد کی موجودگی کو اخذ کیا جاسکتا ہے۔تیسراماڈل بطلیموسی ماڈل کہلاتاہے۔ بطلیموسی ماڈل ریاضیاتی ہے۔
مسلمان ماہرینِ فلکیات نے اِن ماڈلوں کو یکجاکرکےدیکھنا شروع کیا۔ لیکن مسلمانوں میں مشاہدے کا رجحان غالب تھا۔ یقیناً اس کی وجہ قران کا وہ درس تھا کہ کائنات پرغوروفکرکرو! اپنے حواسِ خمسہ، خصوصاً سمع و بصرکو استعمال کرتے ہوئے رات دن کے اختلاف پر نظرڈالو! زمین میں سیرکرو! اورغورکروکہ پہاڑوں کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہیں؟ پھلوں اوردرختوں کی اتنی انواع کیوں ہیں؟ معلوم کرنے کی کوشش میں لگے رہو کہ اَلوان و اصوات کی کیا حقیقت ہے؟ مسلمانوں کا طریقہ استنتاجی (انفرینشیل) تھا۔ وہ مادی سچائی (Material Truth) کو ڈھونڈنے کے شوقین تھے۔ کیونکہ فطری علوم کی طرف اُن کا رجحان فطری(نیچرل) تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کو ایسی ریاضی کی ضرورت پیش آئی جو بہت زیادہ ٹھیک (Précised) اورفطرت، یعنی کائنات کے بہت زیادہ قریب ہو۔ اُنہیں سمتوں، خطوں اور رفتاروں کو مانپنا پڑا۔ اُنہیں ڈرائنگز بنانا پڑیں اور پہلی بار خالص تکنیکی (Technical) زبانیں استعمال کرنا پڑیں۔
اسلام سے پہلے تک کائنات میں ستاروں کی کُل تعداد 1022 تھی۔ یہ بطلیموسی ماڈل تھا۔ کل ستارے 1022 اور کل جھرمٹ (Constellation) فقط اڑتالیس (48)۔ پھر بھی کائنات کو اتنا بڑا سمجھا جاتا تھا کہ اسے جان لینا ناممکن خیال کیا جاتا تھا۔ بطلیموس نے کہا تھا کہ زمین حرکت نہیں کرتی بلکہ ساکن ہے کیونکہ اگر زمین حرکت کررہی ہوتی تو زمین پرپڑی ہوئی چیزیں لڑھکنے لگتیں اورجانورہوا میں اُڑتے ہوئے دکھائی دیتے۔ دراصل ارسطو کا ماڈل کائنات کے مشاہدے پر مشتمل تھا، بطلیموس نے اسے ریاضیاتی رنگ دے کر کافی الجھادیا تھا۔ لیکن جب مسلمانوں نے ان تینوں ماڈلوں کو یکجا کرکے دیکھا تو ان میں موجود خامیاں اُن پر عیاں ہونے لگیں اوریوں پہلی بارکائنات کو سمجھنے کے لیے ریاضیاتی مساوات کا وجود سامنے آیا۔ مسلمان ریاضی دانوں کا خیال تھا کہ اگر زمین کائنات کا مرکز ہے تو پھر ایک تنہا (سِنگل) ریاضیاتی فارمولا اس کی وضاحت کے لیے کافی ہونا چاہیے ۔
ابنِ سینا اور ابنِ رُشد کو بطلیموس کا ماڈل پسند نہیں تھا۔ ابن الہیثم نے تو باقاعدہ ’’شکوک علی البطلیموس‘‘ نامی کتاب لکھ کر بطلیموس کے ماڈ ل پر شکوک و شبہات کا اظہارکیا۔ ابن الہیثم نے کہا کہ بطلیموسی ماڈل فرضی ہے نہ کہ حقیقی۔ مشاہدے کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں۔ نُورالدین بطروجی، اُندلسی نے اعلان کیا کہ بطلیموس نے زمین کو کائنات کا مرکز ماننے کے لیے زمین سے باہر جس نقطے کو مرکزِ مشاہدہ بنایا ہے وہ مشاہدے اور ریاضی کے اُصولوں پر پورا نہیں اُترتا۔ ابن شاطرنے اعلان کیا کہ ’’زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے‘‘۔ اگرچہ ابن شاطر اپنے کام میں بطلیموس کے ماڈل کو ہی استعمال کرتارہا اور اس کےہاں کوئی ایسا الگ ماڈل نہیں ملتا جس میں زمین کائنات کا مرکز نہ ہو لیکن وہ اپنی تحریروں میں زمین کو کائنات کا مرکز تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔
بطلیموس کے ماڈل کو چیلنج کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں میں قرآن وحدیث یا عقائد کی رُو سے زمین کو کائنات کا مرکز ماننا لازم نہیں تھا۔ قران میں تو کہاگیاتھا کہ تمام اجرامِ فلکی تیر رہے ہیں اورآسمان بغیرستونوں کے بلند ہیں گویا معلّق ہیں۔ قرآن نے تو کہا تھاکہ، مِن جِبَالٍ۬ فِيہَا،  یعنی آسمان میں پہاڑہیں ۔ قران نے ستاروں کے محل ِّ وقوع کی شہادت پر کلامِ الٰہی کے وحی ہونےکی دلیلیں دی تھیں۔اس سب پر مستزاد قران نے زمین کے کناروں سے نکل جانےکی شہ دی تھی۔ الغرض قران کے طلبہ کے لیے زمین کا مرکزِ کائنات رہنا ویسا ضروری نہیں تھا جیسا مسیحیت میں ہوسکتا تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابتدائی دورکے ہیلیوسینٹرک ماڈل کو ماننے والے سائنسدان ابن سینائی تھے، ارسطوکے پیروکارنہیں تھے ۔ ہیلیوسینٹرک یعنی وہ ماڈل جس میں سُورج کائنات کا مرکز ہے۔ نصیرالدین طوسی نے بطلیموس کے ماڈل کو چیلنج کیا اورزمین کے متحرک ہونے کےحق میں دلائل دیے۔ طوسی کو ہلاکوخان نےمراغہ (آذربائی جان) میں رصدگاہ بناکر دی تو طوسی نے گویا یوروپ کی جدید فلکیات کی بنیادیں رکھ دیں۔ طوسی خودابن ِ سینائی تھا نہ کہ ارسطالیسی۔ یہیں یوروپ کے طالب علم آنا شروع ہوئے اور یہیں سے یوروپ کی جانب طبیعات (فزکس) کا علم منتقل ہوا۔یہیں طوسی اورعُرضی کا مشہور فارمولا طُوسی کپل اورعرضی لیما وجود میں آیا۔ طوسی کپل اورعرضی لیما کے استعمال سے ہی کوپرنیکس نئے تصورِ کائنات کو پیش کرنے میں کامیاب ہوسکا۔ ساری نسیبی (Sari Nusseibeh) کے الفاظ میں،

“Copernicus used this revolutionary concept to shift the focus of the orbital system to the sun.”

نصیرالدین طوسی نے کائنات کا نیا ماڈل پیش کیا۔ اس نے اپنے ماڈل کی بنیاد زمین کے مرکزِ کائنات ہونے پر نہ رکھی ۔ اُس نے بطلیموس کے ماڈل کو تبدیل کردیا۔ایک فارمولا ’’طُوسی کپل‘‘ متعارف کروایا۔ اس نے بطلیموس کے ایکوئنٹ (Equant) کی جگہ ایک نئے دائرے کا اضافہ کردیا۔ یوں گویا طوسی کپل کا چھوٹا دائرہ جو بڑے دائرے کو اُس کے ٹینجنٹ (Tangent) سے چھُورہاتھا، اندرونی طرف کو الٹی حرکت کرنے کی وجہ سے بطلیموس کے ماڈل کی اس خرابی کو دور کررہاتھا جس کی وجہ سے سیارے کبھی آگے اور کبھی واپس پیچھے کو جاتےہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ’’فلااُقسم بالخنس الجوارالکنس‘‘ کی روشنی میں کام کرنےوالا مدرسے کا یہ طالب علم ہیلیوسینٹرک ماڈل کی طرف اتنا آگے بڑھ آیاتھا کہ اب کوئی بھی آسانی کے ساتھ اگلا مرحلہ طے کرسکتاتھا۔ جیسا کہ طوسی کے شاگرد شیرازی نے کہابھی تھا کہ اِس ماڈل میں تو سورج مرکزِ کائنات معلوم ہوتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ طوسی نے سورج کو بھی مرکزِ کائنات نہ مانا۔ یہ گویا زیادہ بڑی سوچ تھی۔ کیونکہ آج ہم جانتے ہیں کہ سورج مرکزِ کائنات نہیں ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے طُوسی کا ماڈل یورپ میں مقبول نہ ہوسکا۔ البتہ اس کی مساواتیں اورفارمولے کوپرنیکس نے استعمال کرلیے۔

طوسی کے شاگرد شیرازی نے طوسی کے ماڈل میں موجود ہیلیوسینٹرک منظرنامے کی نشاندہی کردی تھی۔ ساری نسیبی کے بقول عین ممکن ہے کہ کوپرنیکس نے فقط طوسی کا فارمولا ہی استعمال نہ کیا ہو بلکہ اس کے شاگرد شیرازی کی یہ بات بھی اُچک لی ہو، کہ کائنات کا مرکز سُورج بھی ہوسکتاہے۔ ہیلیوسینٹرک ماڈل کا مطلب ہے وہ ماڈل جس میں کائنات کا مرکز سورج ہے اور جیوسینٹرک ماڈل کا مطلب ہے وہ ماڈل جس میں کائنات کا مرکز زمین ہے۔ ابن شاطر اورقشجی نے بھی ہیلیوسینٹرک ماڈل کی طرف واضح اشارے دیے تھے۔ کوپرنیکس کے کام میں ان کی ڈرائینگز اورفارمولے بھی استعمال ہوئے ہیں۔
یوروپ نے جس وقت آنکھیں کھولیں، مسلمان اس وقت بھی میدان میں موجود تھے۔ اس لیے یوں کہنا کہ مسلمانوں کے علمی زوال اور یورپ کی علمی ترقی کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے بالکل غلط ہے۔ دیکھاجائےتو یہ فاصلہ پچاس سال سے زیادہ نہیں ہے۔ الغ بیگ کی سمرقند والی رصدگاہ پندرھویں صدی کے آخر میں اپنے عروج پر تھی جبکہ یورپ کی سائنس سولہویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔
الغرض اسلامی عہد کی تمام تر سائنسی ترقی انہی آزاد مدارس کی مرہونِ منت ہے جہاں گورنمنٹ کے دیے ہوئے نصاب نہیں پڑھائےجاتےتھے۔ یہ ادارے مدرسے تھے۔ ہمارا آج کا مدرسہ اپنی مادر زاد حالت میں ایسا ہی ادارہ ہوا کرتاتھا۔ اسلامی تاریخ کے عروج کے زمانے میں فقط ’’دینی مدرسہ‘‘ کے نام سے الگ مدارس وجود نہیں رکھتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ہزاروں مدارس میں کوئی قرآن و حدیث پڑھانے میں زیادہ مشہور ہو اور کوئی فلسفہ و منطق پڑھانے میں۔ لیکن ایسا تو آج بھی ہوتاہے۔ ایک یونیورسٹی پارٹیکل فزکس میں مشہور ہوتی ہے تو دوسری سوشیالوجی یا سائیکالوجی میں۔
مشرقی بلکہ اسلامی تاریخ کے یہ آزاد مدارس، اسلامی تہذیب کا سب سے قیمتی سرمایہ تھے، جنہیں نوآبادیاتی عہد میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مِٹانے کی کوششیں کی گئیں لیکن اسلامی تہذیب کے اس شاہکار یعنی ’’مدرسے‘‘ میں اپنی داخلی قوت اتنی زیادہ تھی کہ مدراس کو مکمل طورپر ختم نہ کیا جاسکا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ مرعوبیت کا شکار ہوکر استعمارزدہ مشرق نے مدارس کے اس نظام کو ازخود استعماری بیانیے کے عین مطابق بنادیا۔ استعماری بیانیہ یہی تو تھا کہ اِن مدارس میں فقط مسلکی تعلیم دی جاتی ہے نہ کہ سائنس، فلسفہ، منطق یا شعروادب پڑھائے جاتے ہیں اورمرعوب و مغلوب استعمارزدہ ذہن نے اس فریب کو قبول کرلیا۔ اوریوں مدارس کو مسلکی تعلیم تک محدود کرکے اسلامی تہذیب کے اتنے بڑے اورعظیم تحفے کو قریب قریب کنارےکے ساتھ لگا دیا گیا۔
مدرسہ چونکہ ماضی میں پوری انسانیت کےلیے آزادانہ تحقیق کا سب سے شاندار ادارہ رہا تھا اِس لیے ایسے عظیم اور قیمتی ادارے کا ختم ہوجانا اسلامی تہذیب کے سب سے قیمتی اثاثے کا لُٹ جانا تھا۔ چنانچہ بیسویں صدی میں مدرسے کے تہذیبی ورثے کو بچانے کے خواہشمند مسلم علمأ نے طرح طرح کے تجربات کے ذریعےاس ادارے کی اندرونی قوت بحال کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اِن تجربات میں زیادہ ترکوششیں اس لیے کامیاب نہ ہوسکیں کہ اُن کا مطمحِ نظرمدرسے کے نظامِ تعلیم کو جدیدیت کےساتھ ہم آہنگ کرنا تھا۔ مدرسےکواگرکوئی تحریک اُس کی کھوئی ہوئی قوت واپس دلاسکتی تھی تو وہ فقط مدرسے کے اپنے نظام ِ تعلیم کوباقی رکھتے ہوئے ہی ایسا کرسکتی تھی نہ کہ یوروپ کی جدیدیت بلکہ ڈاکٹرناصرعباس نیر کے بقول ’’نوآبادیاتی جدیدیت‘‘ کو اختیار کرکے۔
مدرسے کا اپنا نظام تعلیم آزادانہ فضا میں تدریس، تحقیق اور مباحثے کے اُصول پر قائم تھا اوریہی آزاد فکری ہی اس سےمفقود ہوتے ہوتے بیسویں صدی میں تقریباً ختم ہوگئی۔ اس کے برعکس مغرب کا نظام  اکیڈمیا کی شکل میں ایک پابند نظام ہے جو بنیادی طورپر سرمایہ دارانہ فکر کا پروردہ اوراسی کا مستقل خادم ہے۔ تمام سرمایہ دار ممالک اس نظام کو کنٹرول کرتےہیں اور کسی ایسی تحقیق کے لیے کوئی گنجائش اس نظام میں موجود نہیں جو کامل آزادی کے ساتھ کسی علم پر بحث کی اجازت دے۔ 🌼ادریس آزاد (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post_36.html


ایک ایمان افروز واقعہ

ایک ایمان افروز واقعہ
ممتاز سعودی عالم ابوعبدالرحمن محمد العریفی کہتے ہیں:
میں یمن گیا اور شیخ عبدالمجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور قرآن کریم کے علمی اعجاز پر اور سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں,پر کافی کام کیا ہے
میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو؟ 
شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں.
میں نے کہا: مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں!
شیخ کہنے لگے:
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا، یہ بائلوجی اور اس علم میں جو نئے اکتشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا،
ایک پروفیسر امریکی یا جرمن نے یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں درد کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر کی جب انجیکشن لگتا ہے تو درد کا احساس صرف جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد درد کا احساس نہیں ہوتا۔
اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں درد کا مرکز اور درد کا احساس صرف جلد تک محدود ہے. جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو درد کا احساس نہیں ہوتا۔
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں!
پروفیسر نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے. یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا.
شیخ زندانی نے کہا کہ: ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں. اُس نے کہا وہ کیسے؟
شیخ نے کہا: میں نے قرآن کی آیت پڑھی:
(اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم)
(بسم اللہ الرحمن الرحیم)
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِیۡہِمۡ نَارًا ؕ کُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُہُمۡ بَدَّلۡنٰہُمۡ جُلُوۡدًا غَیۡرَہَا لِیَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۵۶﴾
سورہ النسآء آیت نمبر 56
ترجمہ: بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے، ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی۔ (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
یعنی کہ جب اہل جہنم کی جب جلد اور کھال جل جائے گی اللہ مالک نئی جلد اور کھال دیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں معلوم ہوا کہ درد کا مرکز جلد ہے،
جب اہل جہنم کی جلد اور کھال ہی نہیں ہوگی تو انہیں درد کا احسا س نہیں ہوگا.
شیخ کہتے ہیں جب میں نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکڑز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے؟
سب نے کہا: ترجمہ صحیح ہے
وہ حیران و پریشان ہوکر خاموش ہوگیا.
شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور برطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ.
انہوں نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا.
وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا: سب یہی ترجمہ کررہے ہیں!
اُس نے کہا: مجھے قرآن کا ترجمہ دو.
شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا.
شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا:
میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے. الحمدللہ ۔۔۔ اللہ اکبر (نقلہ: #ایس_اے_ساگر) 
https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post_15.html


غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘

غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘ 

اب سے دو ہفتے پہلے کی بات ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ بلوچستان کی تحصیل بولان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کُھدائی کرنے والے گیارہ مزدوروں کو دہشت گردوں نے اغوا کرکے وحشیانہ انداز میں قتل کردیا۔ اس دل خراش سانحے کی خبر دیتے ہوئے ہمارے مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ (دونوں) نے ان مظلوم مزدوروں کے لیے ’’کان کَن‘‘ کی جگہ ’’کان کُن‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ایک اخبار نے تو اپنی شہ سُرخی میں ’’کن‘‘ کے کاف پر باقاعدہ پیش بھی لگایا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے ’’کان کُن‘‘ پڑھنے سے محروم ہی رہ جائے۔

اردو زبان میں شائع ہونے والے اخبارات و جرائد اور اردو کو ذریعۂ اظہار بنانے والے نشریاتی اداروں میں اب املا اور تلفظ کی درستی کا خیال رکھنا بے رواج ہوچکا ہے۔حالاں کہ ان اداروں کو اپنے وقار اور وقعت میں اضافہ کرنے کے لیے مستند املا اور مستند تلفظ اختیار کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اخبارات کا تلفظ و املا سند سمجھا جاتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ذمے داریوں میں سے ایک اہم ذمے داری اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کی علمی رہنمائی بھی ہے۔

ابلاغی اداروں کے لیے فائدے کی نہیں، نقصان کی بات ہے کہ اخبارات میں خبریں تحریر کرنے والوں اور نشریاتی اداروں سے خبریں پڑھنے والوں کی لسانی تربیت کا اب کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے اکثر املا اور تلفظ محض قیاس سے اختیار کرلیے جاتے ہیں۔ غلط املا شائع ہونے اور غلط تلفظ نشر ہونے سے نیک نامی نہیں، بدنامی ہوتی ہے۔ سہل پسندی کی وجہ سے لغت دیکھنے کا کہیں بھی رواج نہیں ہے۔ چناں چہ ’’کارکُن‘‘ کے تلفظ پر قیاس کرکے ’’کان کُن‘‘ کا تلفظ بھی اختیار کرلیا گیا، جو غلط ہے۔ غلطی پر ٹوکنے والابھی اب کوئی نہیں، لہٰذا ایک کی دیکھا دیکھی یا سن کر وہی غلطی دوسرے بھی دوہراتے چلے جاتے ہیں۔

عربی، فارسی اور اردو میں اِعراب (زیر، زبر، پیش) کے فرق سے تلفظ تبدیل ہونے پر اکثر اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ اس وجہ سے معیاری زبان لکھنے اور بولنے والے املا اور تلفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔

’’کان کَن‘‘ فارسی ترکیب ہے۔ کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘کامطلب ہے ’’کھودنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کَندَن‘‘ ہے، یعنی ’’کھودنا‘‘۔ پتھر، لکڑی یا دھات وغیرہ کو کھود کر اس پر نقش و نگار اُبھارنے کو ’’کَندہ کرنا‘‘ کہتے ہیں۔

شیریں فرہاد کی رُومانی داستان میں دودھ کی نہر نکالنے کے لیے اپنے تیشے سے پہاڑ کھود ڈالنے والے فرہاد کو ’’کوہ کَن‘‘ بھی کہا گیا، یعنی ’’پہاڑ کھودنے والا‘‘۔ اگرچہ اب تو بہت سہولت ہوگئی ہے، مگر ہمارا ماضی پرست اور تیشہ بدست شاعر کوہ کَنی کے جدید طریقوں سے سراسر ناخوش ہے۔ کہتا ہے:۔

اب تو بارُود سے ہوتی ہے یہاں کوہ کَنی

اب میں ہم پیشۂ فرہاد نہیں رہ سکتا

قبر کو فارسی میں ’’گور‘‘ کہا جاتا ہے اور قبر کھودنے والے کو ’’گورکَن‘‘۔ فارسی کا ایک محاورہ اکثر اردو میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے ’’چاہ کَن را چاہ درپیش‘‘۔ چاہ کنویں کو کہتے ہیں۔ ترجمہ اس کا یہ ہوگا کہ کنواں کھودنے والے کو خود کنویں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ جو دوسروں کے رستے میں کنواں کھودتا ہے وہ خود اس میں گر پڑتا ہے۔ اسی مفہوم کا یہ محاورہ بھی اردو میں رائج ہے کہ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔ مطلب یہ کہ دوسروں کی بُرائی چاہنے والا آپ اس کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ اسی طرح ایک اورلفظ ہے ’’بیخ کَنی‘‘ یعنی جڑ کھودنا یا کسی چیز کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنا۔ اکثر اس کا تلفظ بھی کاف پر پیش کے ساتھ کردیا جاتا ہے، جو غلط ہے۔ ’’جاں کَنی‘‘ میں بھی فرشتے کسی کے جسم سے جان اُسی طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جس طرح کوئی چیز کھود کر نکالی جاتی ہے۔ اسی کو نزع کا عالم کہتے ہیں۔ نزع کے معنی کسی شے کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں۔ نزاع یا تنازع بھی ایسی ہی کھینچا تانی سے پیدا ہوتا ہے۔ کان کَنی میں تو جان کَنی کا خطرہ ہر وقت ہی موجود رہتا ہے۔ مگر ہمارے شعرائے کرام اس قسم کے خطرات سے بھی لطف لیتے ہیں۔ بقول مصطفیٰ زیدی:۔

یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جاں کَنی کب تھا

جلے اِک شمّع پر ہم بھی، مگر آہستہ آہستہ

(ضرورتِ شعری کے تحت یہاں شمع کا تلفظ ’’شمّع‘‘ کیا گیا ہے)

حاصلِ کلام یہ کہ کان میں کھدائی کرنے والے مزدور کوکان ’’کَن‘‘ ہی کہا جاتا ہے، کان ’’کُن‘‘ نہیں۔

’’کارکُن‘‘ بھی فارسی ترکیب ہے۔کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ کا مطلب فارسی میں ہے: ’’کرنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کردن‘‘ ہے، یعنی ’’کرنا‘‘۔ ’’کار‘‘ فارسی میں ’’کام‘‘ کو کہتے ہیں۔ ’’کارکُن‘‘ ہوا کام کرنے والا۔’’حیران کُن‘‘ حیران کرنے والا اور ’’پریشان کُن‘‘ پریشان کرنے والا۔کھیل کے کسی مقابلے کا فیصلہ کرنے والا، مثلاً ہاکی کا جوگول یا کرکٹ کا جو شاٹ فتح و شکست کا فیصلہ کردے، اُسے ’’فیصلہ کُن‘‘ کہتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں بعض مواقع بھی ’’فیصلہ کُن‘‘ آتے ہیں، جن کے متعلق تاریخ میں یہی پڑھا ہے کہ اکثرو بیشتر گنوا دیے جاتے ہیں۔

کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ عربی زبان کا بھی لفظ ہے۔ یہ صیغۂ امر ہے۔ یعنی حکم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے’’ہوجا‘‘۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 117 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’… اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہو جا،(کُن) تو وہ ہو جاتا ہے(فَیکُون)‘‘۔ کُن فیکُون کے یہ قرآنی الفاظ اردو شاعری میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔اقبالؔ کا مشہور شعر ہے:۔

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے ’کُن فیکوں‘

کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘ اردو میں کان کے مخفف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جس کے کان کٹے ہوئے ہوں اُس کو ’’کَن کٹا‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ کان اور ماتھے کے بیچ کے پَٹ (حصے) کو ’’کَن پَٹی‘‘ کہتے ہیں، جس کا املا ’’کنپٹی‘‘ ہے۔کسی شخص (بالعموم اگر کسی مرد) کے کان چھدے ہوئے ہوں وہ ’’کَن چھدا‘‘ کہلاتا ہے۔ بُندے وغیرہ پہننے کے لیے بچیوں کے کان چھیدے جاتے ہیں اور اس کی باقاعدہ رسم منعقد کی جاتی ہے، جو’’کَن چھیدن‘‘ یا ’’کَن چھدائی‘‘ کہی جاتی ہے۔ دوسروں کی بات چپکے چپکے کان لگا کر سننے کو ’’کَن سُوئیاں‘‘ لینا کہتے ہیں۔ مگر یہ کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ جو ٹوپی یا ٹوپا کان چھپا لے، وہ ’’کنٹوپ‘‘ کہلاتا ہے۔ ایک زہریلا کیڑا جو کھجور سے مشابہت رکھتا ہے اور کان میں گھس جاتا ہے ’’کَنکھجورا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جو شخص گانے بجانے یا موسیقی کا رسیا ہو اُسے ’’کَن رَس‘‘ یا ’’کَن رسیا‘‘ کہتے ہیں۔

آدھا، کونا یا گوشہ بھی ’’کَن‘‘ کہلاتا ہے۔

اب تو اس کی بس ایک ہی مثال باقی رہ گئی ہے ’’کَن انکھیوں‘‘ سے دیکھنا۔ یعنی گوشۂ چشم سے تکنا۔

وہ گو کچھ نہ سنتی، نہ کہتی اُسے

کَن انکھیوں سے پَر دیکھ رہتی اُسے

(مولوی میرحسن ۔ مثنوی ’’سحرالبیان‘‘)

از: ابونثر بہ شکریہ: فرائیڈے اسپیشل (نقلہ: #ایس_اے_ساگر) 

https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post.html




Sunday, February 17, 2019

حجاج بن یوسف کا آخری سفر

حجاج بن یوسف کا آخری سفر
عراق پر 20 برس حکومت کرنے کے بعد 54 برس کی عمر میں حجاج بیمار ہوا ہے اس کے معدے میں بے شمار کیڑے پیدا ہوگئے تھے اور جسم کو ایسی سخت سردی لگ گئی تھی کہ آگ کی بہت سی آنگھیٹیاں بدن سے لگا کررکھ دی جاتی تھیں پھر بھی سردی میں کمی نہیں ہوتی تھی ـ جب زندگی سے نا امیدی ہوگئی تو حجاج نے گھروالوں سے کہا کہ مجھے بٹھادو اور لوگوں کو جمع کرو ـ لوگ آئے تو اس نے حسب عادت ایک بلیغ تقریر کی، موت اور سختیوں کا ذکر کیا، قبراور اس کی تنہائی بیان کی، دنیا اور اس کی بے ثباتی یاد کی ـ آخرت اور اس کی ہولناکیوں کی تشریح کی اپنے گناہوں اور ظلموں کا اعتراف کیا ـ پھر یہ شعر اس کی زبان پر جاری ہو گئے ـ
إن ذنبي وزن السماوات والأرض
وظني بربي أن يحابي​

میرے گناہ آسمان اور زمین کے برابر بھاری ہیں ـ مگر مجھے اپنے خالق سے امید ہے کہ رعایت کرے گا ـ
فلئن منّ بالرضا فهو ظني
ولأن مر بالكتاب عذابي​

اگر اپنی رضامندی کا احسان مجھے دے تو یہی میری امید ہے ـ لیکن اگر وہ عدل کرکے میرے عذاب کا حکم دے ـ
لم يكن منه ذاك ظلماً وبغياً
وهل يهضم رب يرجى لحسن الثواب ـ​

تو یہ اس کی طرف سے ہرگز ظلم نہیں ہوگا کیا یہ ممکن ہے کہ وہ رب ظلم کرے جس سے صرف بھلائی کی توقع کی جاتی ہے ـ
پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا ـ موقع اس قدر عبرت انگیز تھا کہ مجلس میں کوئی بھی شخص اپنے آنسو روک نہ سکا ـ
اس کے بعد اس نے اپنا کاتب طلب کیا اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کو حسب ذیل خط لکھوایا ـ
كنت أرعى غنمك، وأحوطها حياطة الناصح الشفيق برعية مولاه، فجاء الأسد -قصده بالأسد ملك الموت- فبطش بالراعي ومزق المرعى، وقد نزل بمولاك ما نزل بأيوب الصابر، وأرجو أن يكون الجبار أراد بعبده غفراناً لخطاياه، وتكفيراً لما حمل من ذنوبه.
''امابعد! میں تمہارہ بکریاں چراتا تھا ایک خیرخواہ گلہ بان کی طرح اپنے آقا کے گلے کی حفاظت کرتا تھا، اچانک شیر آیا، گلہ بان کو طمانچہ مارا اور چراگاہ خراب کر ڈالی ـ آج تیرے غلام پر وہ مصیبت نازل ہوئی ہے جو ایوب پر نازل ہوئی تھی ـ مجھے امید ہے کہ جبار و قہار اس طرح اپنے بندے کی خطائیں بخش اور گناہ دھونا چاہتے ہیں ـ" پھر خط کے آخیر میں یہ شعر لکھنے کا حکم دیا ـ
إذا ما لقيت الله عني راضياً
فإن شفاء النفس فيما هنا لك​

اگر میں نے اپنے خدا کو راضی پایا توبس میری مراد پوری ہوگئی
فحسبي بقاء الله من كل ميت
وحسبي حياة الله من كل هالك​

سب مرجائیں مگر خدا کا باقی رہنا میرے لیے کافی ہے ! سب ہلاک ہوجائیں مگر خداکی زندگی میرے لیے کافی ہے ـ
لقد ذاق هذا الموت من كان قبلنا
ونحن نذوق الموت من بعد ذلك​

ہم سے پہلے یہ موت چکھ چکے ہیں ، ہم بھی ان کے بعد موت کا مزہ چکھیں گئے
فإن مت فاذكرني بذكر محبب
فقد كان جماً في رضاك مسالكي​

اگر میں مرجاؤں تو مجھے محبت سے یاد رکھنا، کیونکہ تمہاری خوشنودی کے لیے میری راہیں بے شمار تھیں ـ
وإلا ففي دبر الصلاة بدعوة
يلقى بها المسجون في نار مالك ​

یہ نہیں تو کم ازکم ہر نماز کے بعد دعامیں یاد رکھنا جس سے جہنم کے قیدی کو کچھ نفع پہنچے
عليك سلام الله حياً وميتاً
ومن بعدما تحيا عتيقاً لمالك​

تجھ پر ہر حال میں اللہ کی سلامتی ہو ـ جیتے جی، میرے پیچھے اور جب دوبارہ زندہ کیاجاؤں ـ
حضرت بصری عیادت کو آئے تو حجاج نے ان سے اپنی تکلیفوں کا شکوہ کیا ـ حسن نے کہا: ''میں تجھے منع نہیں کرتا تھا کہ نیکوکاروں کو نہ ستا مگر افسوس تم نے نہیں سنا ـ'' حجاج نے خفا ہوکر جواب دیا ـ ''میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے دعا کرو، میں تم سے یہ دعا چاہتا ہوں کہ خدا جلد از جلد میری روح قبض کرے اور اب زیادہ عذاب نہ دے.''
اسی اث
ناء میں ابومنذر یعلی بن مخلد مزاج پرسی کو پہنچےـ
''حجاج ـ ! موت کے سکرات اور سختیوں پر تیرا کیا حال ہے؟''
انہوں نے سوال کیا ـ
''ائے یعلٰی!'' حجاج نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا: ''کیا پوچھتے ہو، شدید مصیبت! سخت تکلیف! ناقابل بیان الم، ناقابل برداشت درد! سفر دراز! توشہ قلیل! آہ! میری ہلاکت! اگر اس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کھایا!''
یہ سن کر ابومنذر نے کہا: ''ائے حجاج! خدا اپنے انہی بندوں پر رحم کھاتا ہے جو رحم دل اور نیک نفس ہوتے ہیں ـ اس کی مخلوق سے بھلائی کرتے ہیں ـ محبت کرتے ہیں ـ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو فرعون اور ہامان کا ساتھی تھا کیونکہ تیری سیرت بگڑی ہوئی تھی ، تو نے اپنی ملت ترک کر دی تھی ـ راہ حق سے کٹ گیا تھا ـ صالحین کے طور طریقوں سے دور ہو گیا تھا تو نے نیک انسان قتل کر کے ان کی جماع
ت فناکر ڈالی، تابعین کی جڑیں کاٹ کر ان کا پاک درخت اکھاڑ پھینکا، افسوس تو نے خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کی ـ تو نے خون کی ندیاں بہادیں، جانیں لیں، آبروئیں برباد کیں، قہر و جبر کی روش اختیار کی ـ تو نے نہ اپنا دین ہی بچایا، نہ دنیا ہی پائی ـ تونے خاندان مروان کو عزت دی ـ مگر اپنا نفس ذلیل کیا اور ان کا گھر برباد کیا، مگر اپنا گھر ویران کرلیا، آج تیرے لیے نہ نجات ہے نہ فریاد، کیونکہ تو آج کے دن اس کے بعد غافل تھا، تو اس امت کے لئے مصیبت اور قہر تھا ، اللہ کا ہزار ہزار شکرہے کہ اس نے تیری موت سے امت کو راحت بخشی اور تجھے مغلوب کر کے اس کی آرزو پوری کر دی ـ ''
راوی کہتا ہے کہ حجاج یہ سن کر مبہوت ہوگیا، دیر تک سناٹے میں رہا، پھر اس نے ٹھنڈی سانس لی ـ آنسو ڈبڈبا آئے اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہا کہ '' ائے الہٰی ! مجھ بخش دے، کیونکہ لوگ کہتے ہیں تو مجھے نہیں بخشے گا ـ پھر یہ شعر پڑھا:
رب إن العباد قد أيأسوني
ورجائي لك الغداة عظيم

الٰہی! بندوں نے مجھے ناامید کر ڈالا ـ حالانکہ میں تجھ سے بڑی امید رکھتا ہوں -
یہ کہ کر اس نے آنکھیں بند کرلیں ـ''
اس میں شک نہیں، رحمت الہٰی کے بے کنار وسعت دیکھتے ہوئے اس کا یہ اندازا طلب ایک عجیب تاثیر رکھتا ہے اور اس باب میں بے نظیر مقولہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب حضرت حسن بصری سے حجاج کا یہ قول ذکر کیا گیا تو وہ پہلے متعجب ہوئےـ ''کیا واقعی اس نے یہ کہاـ'' 
"ہاں! اس نے ایسا ہی کہا ہے.'' 
فرمایا: '' تو شاید! یعنی اب شاید اللہ اسے بخش دے ـ
البدایة والنہایة ج 9 ص 138
تحریر ۔/ مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ
کمپوزنگ ۔ ابوعکاشہ ​

https://mastooraat.blogspot.com/2019/02/blog-post_89.html
    

عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا

عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا

سوال: ایک بات بیان کی جاتی ہے کہ: جس گھر میں عورت اپنےسر کو کھولے ہوئے ہو(ننگے سر ہو) اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے؟
کیا ایسی کوئی روایت احادیث کی کتابوں میں ملتی  ہے؟

جواب: سوال میں جو بات لکھی ہے وہ روایت سے ماخوذ اس کا مفہوم ہے، اور وہ در اصل حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ ہے، جس سے استدلال کیا گیا ہے۔
میرے نزدیک اس واقعہ سے یہ مسئلہ مستنبط کرنا درست نہیں ہے، لہذا  سب سے پہلےاس واقعہ کی روایات، اسانید، اور مرتبہ ذکر کروں گا، پھر ان کا صحیح مفہوم دیگر روایات کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ ۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
یہ واقعہ تین اسانید سے منقول ہے، ایک حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے متصلا ومرسلا، دوسری حضرت فاطمہ بنت حسین سےمرسلا، اور تیسری حضرت  عائشہ رضی اللہ عنہا سے:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت
متصل سند:
164 – قال أبو نعيم : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: ثنا النَّضْرُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْفِهْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ  الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ .  [دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 216]
6435 – وقال الطبراني : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَة ...
قال الطبراني : لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، وَلَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ . [المعجم الأوسط 6/287 برقم 6435]

متن روایت:
عن أُمُّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَا ابْنَ عَمِّي، هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا جَاءَكَ الَّذِي يَأْتِيكَ أَنْ تُخْبِرَنِي بِهِ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ يَا خَدِيجَةُ» . قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا خَدِيجَةُ هَذَا صَاحِبِي الَّذِي يَأْتِينِي قَدْ جَاءَ» ، فَقُلْتُ لَهُ: قُمْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْمَنِ، فَقَامَ ، فَجَلَسَ عَلَى فَخِدِي الْأَيْمَنِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقُلْتُ لَهُ: تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِدِي الْأَيْسَرِ، فَجَلَسَ، فَقُلْتُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقُلْتُ لَهُ: فَتَحَوَّلَ فَاجْلِسْ فِي حِجْرِي، فَجَلَسَ، فَقَالَتْ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَتَحَسَّرْتُ وَطَرَحْتُ خِمَارِي، وَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «لَا» ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا وَاللَّهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ، لَا وَاللَّهِ مَا هَذَا شَيْطَانٌ. [دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 216، المعجم الأوسط 6/287 برقم 6435]
متصل سند کا مرتبہ: 
ابو نعیم کی سند میں نضر بن سلمہ شاذان پر سخت جرح کی گئی ہے ،وضع حدیث کی تہمت تک لگائی گئی ہے [لسان الميزان (8/ 273)] لیکن طبرانی کی سند میں ان کے شیخ محمد بن عبد اللہ بن عرس مصری ان کی متابعت کر رہے  ہیں ،مگر ابن عرس کے حالات دستیاب نہیں ہوئے، اور یحیی بن سلیمان بن نضلہ میں ضعف ہے، لیکن اصل واقعہ کی مرسل روایات شواہد بن سکتی ہیں ، جس سے متن کو تقویت ملتی ہے، اور ضعف منجبر ہوجاتا ہے۔
مرسل سند:
ابن اسحاق نے سیرت میں اس کو بواسطہ اسماعیل بن ابی حکیم کےحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے مرسلا یا معضلا نقل کیا ہے:
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي إسماعيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ حُدِّث عَنْ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ ...["سيرة ابن هشام" (1/ 223)]
 ابو نعیم اور طبرانی کی سند کے اعتبار سے اسماعیل بن ابی حکیم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مابین تین واسطے ساقط ہیں۔ اور متن کے الفاظ قریب قریب ہیں، موضع شاہد کے الفاظ یہ ہیں: (قَالَ: فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها وَرَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- جَالِسٌ فِي حِجْرِهَا، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قال: "لا"، قالت: يابن عَمِّ، اُثْبُتْ وأبشرْ، فَوَاَللَّهِ إنَّهُ لَمَلَكٌ وَمَا هَذَا بِشَيْطَانٍ).
مرسل سند کا درجہ: سند ضعیف ہے، انقطاع کی وجہ سے، لیکن اصل واقعہ دوسری اسانید سے منقول ہے۔
نیز روایت کے جن الفاظ سے استدلال کیا گیا (فَتَحسَّرْتُ فَطَرَحْتُ خِمَارِي) یا (فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها) اس میں اضطراب ہے، جیساکہ تفصیل آگے آرہی ہے۔
حضرت فاطمہ بنت حسین کی روایت
روایت کی سند:
حضرت فاطمہ بنت حسین کی سند ابن اسحاق نے سیرت میں معضلا ذکر کی ہے:
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَقَدْ حَدثتُ عبدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: قَدْ سمعتُ أُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتَ حُسين تُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ خَدِيجَة ... ["سيرة ابن هشام "(1/ 223)، "دلائل النبوة " للبيهقي (2/ 151 - 152) ، "التاريخ" للطبري (2/ 302 - 303)]
اس روایت میں  حضرت فاطمہ بنت حسین بن علی  رضی اللہ عنہا اپنی پردادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس واقعہ کو نقل کرتی ہیں، مگران کا اپنی دادی فاطمہ بنت رسول اللہ سے سماع ثابت نہیں تو پردادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیسے ثابت ہوگا؟ ضرور درمیان میں دو سے زائد واسطے ساقط ہیں، لیکن اصل واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں معروف ہے۔
متن روایت:
سَمِعْتُهَا تَقُولُ: أدخلتْ رسولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَيْنَهَا وَبَيْنَ دِرْعِهَا، فَذَهَبَ عندَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ، فَقَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إنَّ هَذَا لَمَلَكٌ، وَمَا هُوَ بِشَيْطَانٍ.
معضل سند کا درجہ:
یہ سند معضل (دو واسطوں کے ساقط) ہونے کی وجہ سے ضعیف ٹھیرے گی ، یہ ضعف متصل سندوں  سےدور ہوسکتا ہے، اسی طرح اسماعیل بن ابی حکیم کی مرسل روایت بھی شاہد بن سکتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
روایت کی سند:
165 – قال أبو نعيم: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: ثنا النَّضْرُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا فُلَيْحُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْإِمَامِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...[دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني (ص: 218)]
متن روایت:
قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَدْخِلْ رَأْسَكَ تَحْتَ دِرْعِي، فَفَعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لَهُ : أَتَرَاهُ؟ فَقَالَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَدْ أَعْرَضَ عَنِّي، قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَبْشِرْ فَإِنَّهُ مَلَكٌ كَرِيم ، لَوْ كَانَ شَيْطَانًا مَا اسْتَحْيَى .[دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني (ص: 218)]
سند کا درجہ:
ضعیف جدا، سند میں نضر بن سلمہ شاذان متہم ہے، اور یہاں سیاق سند میں بھی منفرد ہے ۔
واقعہ کا خلاصہ:
اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابتداء  وحی کے زمانے میں اس بات کا اطمینان حاصل کرنا چاہا کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو وحی لےکر آتا ہے وہ فرشتہ ہی ہے، شیطان نہیں ہے۔ تو انہوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا  کہ: جب حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر تشریف لائیں توکیا آپ مجھے آگاہ کرسکتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
چنانچہ ایک بارجب حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کرآئے ، تو حضور نے ان کو آگاہ کردیا، توحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ: آپ میری دائیں ران پر بیٹھ جائیں اور بتائیں کہ: حضرت جبریل نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: ہاں، پھر اسی طرح بائیں ران پر بیٹھنے کے لئے کہا اور دریافت کیا کہ: اب نظر آرہے ہیں ؟ آپ نےجواب دیا: ہاں ، تیسری بار کہا کہ: آپ میری گود میں بیٹھ جائیں، پھردریافت کیا کہ: اب حضرت جبریل نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: ہاں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ فرماتی ہیں کہ: میں نے سر سے دوپٹہ اتاردیا جبکہ حضور میری گود میں تھے اور پوچھا کہ: اب نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: نہیں، اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا: آپ کے لئے خوش خبری ہے، آپ ثابت قدم رہیں، بخدا یہ شیطان نہیں ہے، یہ تو فرشتہ ہے۔ ابو نعیم کی روایت میں یہ جملہ بھی ہے کہ: اگر شیطان ہوتا تو وہ شرم کے مارے غائب نہیں ہوتا۔
مذکورہ روایت میں تحقیق کرنے کی ترکیب جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے استعمال کی، اس کے سلسلہ میں دو طرح کی باتیں ہیں:
۔ ایک روایت کے اعتبار سے انہوں نے اپنے سر سے دوپٹہ اتار دیا تو وہ آنے والا حضور کی نظروں سے غائب ہو گیا۔۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے بدن کے کپڑے اور اپنے جسم کے درمیان کردیا ،(بدن سے لگا لیا) تو وہ آنےوالا نظروں سے غائب ہوگیا۔
اسی واقعہ سے مذکورہ بالا مفہوم لیا گیا  کہ: جس گھر میں عورت اپنےسر کو کھولے ہوئے ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
مگریہ استنباط چند وجوہات کی بناء پر صحیح نہیں ہے، جیساکہ تفصیلا کلام آرہا ہے، یہاں پر ایک بات کی وضاحت بھی کرتے چلیں، کیونکہ اس کے سمجھنے سے زیر بحث روایت کا مفہوم واضح ہوگا۔
وہ بات یہ ہے کہ: احادیث میں کنکن حالتوں میں فرشتوں کے گھروں میں آنے نہ آنے کا تذکرہ ہے، اوران سے  کس قسم کے فرشتے مراد ہیں، تو ذخیرۂ احادیث میں مندرجہ ذیل تین قسم کی احادیث وارد ہیں:
پہلی قسم کی احادیث:
۱۔ گھر میں تصویر یا کتے کا ہونا: «إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ» البخاري (3227 ) مسلم (2105 ) من حديث ابن عمر.
۲۔ گھر میں جنبی کا ہونا: في رواية من حديث علي بن أبي طالب: "وَلَا جُنُبٌ" أبوداود (227) النسائي (261) .
۳۔ گھر میں گھنٹی کا ہونا: ومن حديث عائشة: "لا تدخل الملائكة بيتا فيه جرس" أبوداود (4231) مسند أحمد (26052) .
۴۔ گھر میں چیتے کی کھال ہونا: و من حديث أبي هريرة: «لا تصحب الملائكة رُفقة فيها جلد نمر» أبوداود (4130)  مسند للطبراني (2721) .
فرشتوں سے مراد:
مذکورہ احادیث میں فرشتے عام نہیں ہیں، بلکہ مراد رحمت کے فرشتے ہیں جن میں حضرت جبریل علیہ السلام کا بھی شمار ہوتا ہے جیساکہ ابن عمر کی روایت میں ہے، جبکہ محافظ فرشتے اور کراما کاتبین تو موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ شراح حدیث نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
قال القاضي عیاض : قد يكون تجنُّبُ الملائكة من الجُنُب تنزيهاً لها من أجل الحَدَث الذى عليه، كما نُزِّهَتْ عنه عبادات كثيرةٌ من تلاوةِ القرآن ومسِّ المصحف، ونُزِّه المسجدُ عن دخولِه حتى يتطهرَ، ولما كانوا مطَهَّرِين ووصفهم اللهُ بذلك خصَّهُم بالبُعدِ عمن ليس بهذه الصفة - والله أعلم. وقد قال الخطابي: إن الملائكة التي تجتنبُ الجُنبَ وجاء أنها لا تدخُلُ بيتاً فيه جُنبٌ: هم الملائكة المُنزَلة بالرحمة والبركة، غير الحَفَظة الذين لا يفارقونه . [إكمال المعلم بفوائد مسلم (2/ 144)]
قوله: "لَا تدْخُلُ المَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ" قال ابن التين: وأراد بالملائكة غير الحفظة، وكذا قال النووي: إن هؤلاء الملائكة هم الذين يطوفون بالرحمة والتبرك والاستغفار، بخلاف الحفظة. [التوضيح لشرح الجامع الصحيح (19/ 98)]

دوسری قسم کی احادیث:
اس کے بالمقابل وہ احادیث جن میں تمام فرشتوں کے دور ہوجانے کا تذکرہ ہے ، وہ احادیث کشف ستر کی حالتوں کے ساتھ مخصوص ہیں، اور ستر سے عورۃ مغلظۃ مراد ہے، جیسے: قضاء حاجت، غسل، جماع وہم بستری  کی حالات میں، یا عموما برہنہ ہونا ۔نیز اس طرح کی حالتوں کی روایات میں کشف ستر کا معنی واضح بھی ہے، اور روایات یہ ہیں:
(1) عن ابن عمر أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط، وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم". رواه الترمذي (2800) وهو ضعيف .
(2) عن ابن عباس - رضي الله عنهما - مرفوعًا بلفظ: "إن الله ينهاكم عن التعري، فاستحيوا من ملائكة الله الذين لا يفارقونكم إلا عند ثلاث حالات: الغائط والجنابة والغسل، فإذا اغتسل أحدكم بالعراء فليستتر بثوبه أو بحذمة حائطٍ أو ببعيره". رواه البزار كما في "كشف الأستار" (317) وهو ضعيف.

(3) عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن التعري فإن الكرام الكاتبين لا يفارقان العبد إلا عند الخلاء، وعند خلوة الرجل بأهله. ورواه الدارقطني في "العلل" 8/ 232 ، وهو ضعيف .
(4) عن زيد بن ثابت مرفوعًا: "ألم أنهكم عن التعري، إن معكم من لا يفارقكم في نوم ولا يقظة، إلا حين يأتي أحدكم أهله، أو حين يأتي خلاءه، ألا فاستحيوها ألا فأكرموها".

فرشتوں سے مراد:
ان احادیث میں لفظ (تعری) سے برہنہ ہونے کا معنی صریح ہے، اور ان حالات میں ہر قسم کے فرشتے بشمول حفظۃ اور کتبۃ دور رہتے ہیں حیاء۔
تیسری قسم کی احادیث:
مگر بعض احادیث کے الفاظ کشفِ ستر میں صریح  نہیں ہیں ،نیز ان میں  صرف حضرت جبریل علیہ السلام کے دوررہنے کا ذکر ہے، وہ احادیث دو ہیں:
۔ایک تو خود زیر بحث حضرت خدیجہ کے واقعہ کی روایت ہے ۔
۔دوسری یہ ہے: فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ، فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ. صحيح مسلم (2/ 670) یعنی اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام آئے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے آہستہ سے آواز دی ، اور انہوں نے تجھ سے مخفی رکھنا پسند کیا، اور میں نے بھی ان کو جواب تجھ سے چھپاکر دیا، کیونکہ مجھے گمان ہوا کہ تو سوگئی، اور فرمایا کہ: حضرت جبریل علیہ السلام تمھارے پاس اس لئے نہیں آئے کہ تم نے بدن سے کپڑے اتار رکھے تھے۔
حدیث کا مطلب اور فرشتے سے مراد:
اس روایت میں خصوصا حضرت جبریل علیہ السلام کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل نہ ہونا مذکور ہے، اور "وضع ثیاب" کا مطلب بقیہ روایت سے واضح ہے، جس میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں: (فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي ، وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إزَارِي) یعنی سر ڈھانپا، اوڑھنی اوڑھی، اور تہبند پہنی۔ قال في "ذخيرة العقبى في شرح المجتبى" (20/ 47) (وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي) أي جعلت إزاري قِنَاعًا، والظاهر أنها تلفَّفَت به فوق خِمارها. یعنی  بظاہر حضرت عائشہ نے اوڑھنی کے اوپر چادر ڈال لی اور بدن ڈھانپ لیا نکلتے وقت۔
الغرض: زیر بحث حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی روایت اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی، دونوں روایتوں میں چند باتیں مشترک ہیں:
۔۱۔ خصوصی طور پر حضرت جبریل علیہ السلام کا دور رہنا یا غائب ہونا،اس میں  فرشتوں کی تعمیم نہیں ہے۔
۔۲۔ اور ان کے دور رہنے کا سبب زیر بحث روایت میں یا تو سر سے دوپٹہ اتارنا ، یا پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے قریب کرنا ہے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں (وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ) ہے، جس کی وضاحت گذرچکی، نیز حضرت عائشہ کی ایک دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کا شوہر کے قریب ہونا مانع دخول نہیں، جبکہ کسی طرح سےکشف ستر نہ ہو، وہ یہ روایت یہ ہے:
«يَا أُمَّ سَلَمَةَ لاَ تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا» (خ) 3775 (اے ام سلمہ! عائشہ کے معاملہ میں مجھے نہ ستاؤ، اس لئے کہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی درآنحالیکہ میں عائشہ کے علاوہ تم میں سے کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں ، یعنی صدیقہ کے ساتھ ہم خوابی کے وقت بھی وحی نازل ہوتی تھی) [ تحفۃ الالمعی]
تو خلاصہ یہ ہوا کہ: دونوں واقعوں میں حضرت جبریل کے دور ہونے کا سبب قریب قریب ہے، مگر اس سے یہ بات جو اخذ کی گئی کہ: جس گھر میں عورت اپنےسر کو کھولے ہوئے ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
اس استنباط میں دو طرح کی غلطی ہے:
ایک غلطی تو :عورت کے ننگے سر ہونے  کوگناہ اور رحمت کے فرشتوں کے نہ آنے کا سبب قرار دینا۔
اور دوسری غلطی: فرشتوں کی تعمیم کرنا کہ تمام فرشتے دور ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں، مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر:
پہلی بات کا رد: عورت کا گھر میں ہوتے ہوئے سر کھلا رکھنا گناہ نہیں، اور مانع دخول ملائکہ نہیں، اس لئے کہ:
۱۔ موانع دخول کی روایات میں کہیں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔
۲۔ اگر گناہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خودحضرت جبریل علیہ السلا م کے دور ہونے پر زوجہ مطہرہ کو تنبیہ فرماتے۔
۳۔ حضرت خدیجہ کے واقعہ میں اصل علت مذکور ہے، اور وہ ہے استحیاء وشرم۔
۴۔
بیوی کا شوہر کی موجودگی میں بدن کے کپڑوں میں تخفف کرنا، شوہر کے لئے تزین کے معنی میں داخل ہے، جو مستحسن ومطلوب ہے۔
۵۔ جو موانع دخول منصوص علیہ ہیں، ان میں بھی علماء نے تقیید کی ہے ، مثلا:
کتے کا ہونا مانع دخول ملائکہ ہے، لیکن اگر کتا شکار کے لئے یا کھیتی بکریوں کی حفاظت کے لئے رکھا ہو، تو وہ مانع نہیں۔ [تحفۃ الالمعی]
جاندار کی تصویر بھی مانع ہے، لیکن وہ اگر سر کٹی ہو یا ایسی جگہ ہو جہاں روندی جاتی ہو، تو مانع نہیں بنے گی۔ [مظاہر حق]
اور جنبی سے وہ مراد جو غسل جنابت کو اتنا مؤخر کرے کہ نماز کا وقت نکل جائے، یا بلا وضوءسوتا پڑا رہے [مظاہر حق]
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ: عورت کے ننگے سر رہنے کا  توروایات میں ذکر بھی نہیں، پھر اس کو مطلق رکھنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ بلکہ یہ تو سراسر زیادتی اور تشدد فی الدین  ہے۔
دوسری بات کا رد: "رحمت کے فرشتے نہیں آتے" کہنا درست نہیں ہے، کیونکہ:
۱۔ محافظین اور اعمال لکھنے والے فرشتےمخصوص حالات کے علاوہ دور نہیں ہوتے ہیں، اور یہ بھی رحمت ہی کے فرشتے شمار کئے جاتے ہیں۔
۲۔ رہ گیا حضرت جبریل علیہ السلام کا دور ہونا : تو وہ یا تو امہات المؤمنین کے احترام میں ہوا، یا پھر وحی کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہوا، جیساکہ حضرت عائشہ کی دونوں روایتوں (وَضَعْتِ ثِيَابَكِ)، (لِحَافِ امْرَأَةٍ) سے مترشح ہوتا ہے۔ تو بہر حال اس میں تخصیص ہے ۔
خلاصۃ البحث: عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے میں مانع نہیں ہے، مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر:
پہلی وجہ: مستدل بہ روایت میں موضع الشاھد میں اضطراب ہے جیسا کہ اصل عبارت پر سرخی لگا کر واضح کیا ہے، (فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها) اور(أدخلت رسولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَيْنَهَا وَبَيْنَ دِرْعِهَا) دونوں الگ الگ وجوہات ہیں۔
دوسری وجہ: اس میں صرف حضرت جبریل علیہ السلام کے دور ہونے کی بات ہے، تمام فرشتوں کا ذکر نہیں ہے، اور بہت ممکن ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی غرض سے غائب ہوگئے تاکہ فرق ظاہر ہوجائے۔ یا امہات المؤمنین کے مقام ومرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا کیا ہو، یا وحی کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہو، تو گویا کہ اس میں بہر حال تخصیص ہے، اس لئے اس سے تعمیم ثابت نہیں ہوسکتی کہ ہر عورت اور ہر فرشتہ کا یہ معاملہ ہے۔
تیسری وجہ: حدیث کی ایک روایت میں علت صراحتا مذکور ہے کہ: فرشتہ استحیاءً داخل نہیں ہوتا، اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ عورت سر کھلا رکھنے کی وجہ سے گناہ کی مرتکب ہوئی، جیساکہ استنباط کرنے والا ثابت کرنا چاہتا ہے۔
چوتھی وجہ: یہ روایت حجاب کے حکم کے نازل ہونے سے  پہلے کی ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کے واقعہ میں کوئی نکیر نہیں فرمائی، بلکہ حضرت عائشہ کے واقعہ میں سبب کی تصریح کرتے ہوئے بھی آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
پانچویں وجہ: احادیث کے ذخیرہ میں جہاں اس طرح کی بات یعنی رحمت کے فرشتوں کا گھروں میں داخل نہ ہونا مذکور ہے، وہاں تصویرکا ہونا، یا کتے کا گھر میں ہونا تو وارد ہے، لیکن عورت کے ننگے سر ہونے کی بات نہیں ہے، جبکہ اس میں ابتلاء عام ہے، اور اس کے حکم کی ضرورت زیادہ اشد ہے۔
چھٹی وجہ: رحمت کے فرشتوں کی تعمیم صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ محافظین اور اعمال لکھنے والے فرشتےمخصوص حالات کے علاوہ دور نہیں ہوتے ہیں، اور یہ بھی رحمت ہی کے فرشتے شمار کئے جاتے ہیں۔
ضروری تنبیہ: عورتوں کے لئے محارم کے سامنے زینت کے اعضاء (سر، بال، گردن، سینہ، کان، بازو، کلائی، پنڈلی، چہرہ) وغیرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ مگر اجانب کے ہوتے ہوئے اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو: چہرہ ، ہتھیلی اور قدمین کے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ باقی اعضاء ممنوع ہیں۔
مگر آج کا دور پرفتن اور فیشن کا دور ہے، عورتوں میں حجاب وحشمت کے باب میں کافی کوتاہی اور لا پروا
ئی ہوتی ہے، تو اگر ان کی اصلاح اور تربیت کی غرض سے یہ بات کہی جائے، تاکہ ان کے اندر بال وسر وغیرہ کھلا رکھنے کی عادت نہ پڑجائے، اور پھرمحرم غیر محرم کا امتیاز باقی نہ رہے، تو یہ کہنا درست ہوگا، لیکن اس کو زبردستی احادیث سے منسوب کرنا، یا اس کی تائید کے لئے  کسی روایت سے غلط مفہوم مستنبط کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہذا ما اراہ، واللہ اعلم، وعلمہ اتم واحکم۔
جمعہ ورتبہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار بمعاونۃ المولوی خبیب بن محمد ایوب منیار
 

کیا اسلام میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے محبت کرنا واجب ہو؟

کیا اسلام میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے محبت کرنا واجب ہو؟
سوال
کیا اسلام میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے محبت کرنا واجب ہو؟ اگر اس کا جواب ہاں ہے تو پھر آدمی کیلیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے؟
الحمد للہ:
اول:
خاوند اور بیوی کے ما بین محبت ایک فطری اور طبعی معاملہ ہے، تو ایسے معاملات میں یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ شریعت میں واجب ہے، یا شریعت نے اس چیز کا حکم دیا ہے بلکہ اس کی فطری اور طبعی کیفیت پر ہی اکتفا کرلیا جاتا ہے، شرعی حکم کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔
اگر کوئی شخص ازدواجی زندگی کو یہ سمجھتا ہے کہ یہ رومانوی اور پھولوں بھرے خوابوں سے معمور ہوتی ہے اور بس! تو وہ نا قابل وجود چیز کو اس دنیاوی زندگی میں تلاش کررہا ہے، جبکہ اس دنیاوی زندگی کی طبیعت اور مزاج میں مشکلات، مشقتیں اور تکلیفیں ودیعت کی جا چکی ہیں، اللہ تعالی نے اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
(لَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ فِي كَبَدٍ)
ترجمہ: بیشک ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں گھرا ہوا پیدا کیا ہے۔ [البلد:4]
طُبِعَت عَلى كدرٍ وَأَنتَ تُريدُها صَفواً مِنَ الأَقذاءِ وَالأَكدارِ
وَمُكَلِّف الأَيامِ ضِدَّ طِباعِها مُتَطَّلِب في الماءِ جَذوة نارِ
ترجمہ: گدلا پن اس کی طبیعت میں شامل ہے اور تم چاہتے ہو کہ وہ میل کچیل سے پاک صاف ہو!
اگر کوئی شخص گردش زمانہ سے الٹ چلنے کا مطالبہ کرے تو وہ پانی میں انگارے تلاش کرنے والے کی طرح ہے۔
چنانچہ جب یہ بات واضح ہوگئی اور ہم نے حقیقی نگاہ زندگی کے معاملات پر ڈالی تو اس دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نظر نہیں آئے گی جو ہر اعتبار سے کامل ہو اور اس میں کسی قسم کا عیب نہ پایا جاتا ہو، نیز سمجھنے کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ عیوب دیکھنے کے باوجود بھی آپ آگے بڑھنے سے نہیں رکتے بلکہ معاملات کو آگے کی جانب لیکر جاتے ہیں۔
اسی لیے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو فرمایا جو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا:
تم اسے کیوں طلاق دینا چاہتے ہو؟
اس نے کہا: مجھے اس سے محبت نہیں ہے!
عمر: تو کیا ہر گھر کی بنیاد محبت پر ہی ہوتی ہے؟ باہمی شفقت اور حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے!!؟"
عیون الاخبار: (3/18)
یعنی مطلب یہ ہے کہ: اپنے دوست اور اہل خانہ کی جانب سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرو؛ کیونکہ لوگوں کا بھی اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ تقریباً وہی حال ہوتا ہے جو اس وقت تمہارا ہے، اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ دوسرے سے محبت اور لگن بھی نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود ایک جگہ اٹھتے بیٹھتے ہیں، کہ ان کی ضروریات اور مجبوریاں انہیں ایک جگہ جمع کر دیتی ہیں!!
اسی خیال اور باہمی شفقت کی وجہ سے ہی ایک گھرانے کے افراد یکجا جمع ہوتے ہیں اور سب دوسروں کے حقوق سے بہرہ ور نظر آتے ہیں۔
اور حیا کی وجہ سے انسان کسی بھی ایسے اقدام سے بچتا ہے کہ جس کی وجہ سے کوئی خرابی رونما ہو، یا وہ کسی منفی سرگرمی کا باعث بن جائے۔
آپ اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور فرمائیں:
(وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)
ترجمہ: اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جانوں سے جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے مابین مودت اور شفقت پیدا کی، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کیلیے نشانیاں ہیں۔ [الروم:21]
تو اس آیت کی روشنی میں میاں بیوی کے درمیان محبت محض شرعی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے یہ اللہ تعالی کی خاوند اور بیوی کے درمیان پیدا کردہ چیز اور اللہ تعالی کی نشانی ہے، یہاں محبت کو شرعی واجب کے طور پر پیش نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالی میاں بیوی کو آپس میں محبت کرنے کا حکم دے؛ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قلبی محبت ایک ایسا امر ہے جو انسان کی ملکیت ہی نہیں ہے، البتہ حسن معاشرت اور حسن سلوک انسان کے بس کی باتیں ہیں۔
ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اللہ تعالی کے فرمان: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا) کا مطلب ہے کہ: اللہ تعالی نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے عورت پیدا کی جو تمہاری بیوی بن سکے تا کہ (لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا) تم اس کی جانب سے سکون حاصل کرو۔ اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا وہی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کیا تا کہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔[الاعراف: 189] یہاں بیوی سے مراد حوا ہیں، اللہ تعالی نے انہیں بائیں چھوٹی پسلی سے پیدا کیا۔ لیکن اگر اللہ تعالی آدم کی اولاد میں سب کو مرد بنا دیتا اور ان کی بیویاں جنوں یا حیوانوں میں سے کسی اور جنس سے بنا دیتا تو میاں بیوی کے درمیان باہمی محبت اور ہم آہنگی پیدا نہ ہوتی، بلکہ اگر رفیق حیات کسی دوسری جنس سے ہو تو نفرت پیدا ہو جاتی۔
لہذا یہ اللہ تعالی کی اولاد آدم پر بھر پور رحمت کا مظہر ہے کہ ان کی بیویاں انہی کی جنس سے پیدا کی ہیں، پھر ان میں مودت بھی پیدا فرمائی جو کہ محبت کی صورت میں ہے، پھر شفقت بھی پیدا کی ، تو خاوند بسا اوقات بیوی سے محبت کی بنا پر بندھن قائم رکھتا ہے یا پھر شفقت کی بنا پر کہ انسان کی اس سے اولاد ہوتی ہے، یا بیوی کو خاوند کی ضرورت ہوتی ہے یا دونوں میں الفت یا کوئی اور سبب اتنا قوی ہوتا ہے کہ ان میں جدائی ممکن نہیں ہوتی" ختم شد
"تفسیر ابن کثیر" (6/309)
اللہ تعالی نے سورت نساء میں ایک جگہ پر فرمایا:
(وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا)
ترجمہ: اور ان کے ساتھ دستور کے مطابق زندگی گزارو، پس اگر تم انہیں ناپسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند سمجھو لیکن اللہ تعالی اس میں بہت سی خیر پیدا فرما دے۔ [النساء: 19]
اس آیت کی تفسیر میں شیخ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"خاوند کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارے، حسن سلوک کرے، اسے تکلیف مت دے، اس کے ساتھ حسن کارکردگی دکھائے، اچھے انداز سے تعامل کرے، اس میں نان و نفقہ اور لباس وغیرہ کی تمام تر ذمہ داریاں شامل ہیں۔
اور پھر اللہ تعالی کا فرمان کہ: (فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا) اس کا مطلب یہ ہے کہ: خاوندو! بہتر یہی ہے کہ تم اپنی بیویوں کو نا پسند کرتے ہوئے بھی اپنے عقد میں رکھو ؛ کیونکہ اس میں بہت ہی خیر ہے۔ جس میں سب سے پہلے یہ کہ: یہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور اللہ تعالی کے مشورے کو قبول کرنا ہے جو کہ دنیا و آخرت میں سعادت مندی کا باعث ہے۔
اسی طرح اگر انسان اپنی بیوی کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے عقد میں رکھے تو اس کا یہ بھی فائدہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرتا ہے جو کہ مجاہدۂ نفس میں آتا ہے، اسی طرح یہ اعلی اخلاقی مظہر بھی ہے، پھر یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے باہمی محبت نہ ہو لیکن بعد میں محبت پیدا ہو جائے اور اکثر ایسے ہی ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تعالی اسے اولاد سے نواز دے اور وہ اولاد اپنے والدین کیلیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا باعث بن جائے، تو یہ سب کچھ اس وقت ہے جب بیوی کے ساتھ سمجھوتہ ممکن ہو اور کوئی خرابی رونما ہونے کا امکان نہ ہو۔
لیکن اگر جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر نکاح کا بندھن قائم رکھنا ضروری نہیں ہے" ختم شد
تفسیر سعدی" (ص 172)
صحیح مسلم (1469) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کوئی مومن کسی مومنہ [بیوی] سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی کوئی بات اچھی نہ لگے تو دیگر امور سے خوش ہوجائے)
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:
"مطلب یہ ہے کہ: اپنی بیوی سے نفرت مت کرے؛ کیونکہ اگر بیوی میں کوئی نا گوار بات موجود ہے تو اس میں اچھی صفات بھی موجود ہوتی ہیں، مثلاً: بیوی تیز مزاج کی مالک ہے؛ لیکن ساتھ میں دیندار ہے، یا خوب صورت ہے، یا پاکدامن یا اپنی رفاقت کا حق ادا کرتی ہے یا اسی طرح کی کوئی اور خوبی اس میں پائی جاتی ہے" ختم شد
دوم:
اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ میاں بیوی کے درمیان محبت ہونا ضروری امر ہے، بلکہ دو طرفہ محبت ہونا واجبات میں سے ہے، اور خاوند کا بیوی سے محبت کرنا لازمی ہے، کہ خاوند ہر وقت بیوی کے ساتھ چمٹا رہے؛ تو پھر اس بات میں کیا مسئلہ ہے کہ مرد دو، تین یا چار شادیاں کرے اور ان سب سے محبت بھی کرے؟!
اس میں کیا مانع اور رکاوٹ ہے؟ صرف یہی کہ میاں بیوی کے بارے میں تخیلاتی رومانوی تصورات؟ یا میاں بیوی کے علاوہ کسی بھی دو افراد کے مابین پائی جانے والی محبت کے تصورات کہ محبت میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا!؟ یہ محبت تو ایسی ہے کہ گویا اس تصور میں محبوب کو معبود بنا دیا گیا ہے کہ جس میں کسی تیسرے فرد کی شراکت اس کی عبادت اور پرستش میں شرک تصور ہو گا؟!!
کیا انسان اپنے والد، ماں اور اس کے علاوہ افراد سے محبت نہیں کرتا؟ حالانکہ اس محبت کو بھی محبت ہی کہتے ہیں! اس کے باوجود اتنے رشتوں سے بیک وقت محبت شراکت داری کا شکار نہیں ہوتی؛ تو اسی طرح ایک آدمی ایک وقت میں کئی بیویوں سے محبت کرے اس میں کیا مانع ہے؟
کیا انسان ایک وقت میں متعدد قسم کے کھانے پسند نہیں کرتا؟ حالانکہ سب کے سب کھانے ہی ہیں، ہر ایک کا ذائقہ اور خوشبو دوسرے سے مختلف ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود انسان تمام کھانوں کو پسند کرتا ہے اور سب کھانا چاہتا ہے؛ تو ایسے میں کون سی ایسی عقلی یا شرعی ممانعت ہے جو ایک سے زیادہ بیویوں سے محبت کرنے میں حائل اور رکاوٹ بن سکتی ہے؟
ایسی کون سی چیز ہے جو مرد کی بیوی سے محبت کو اتنا خاص بناتی ہے کہ اس میں کسی اور فرد کو شامل نہیں کیا جاسکتا؟!
کیا محبت میں عدم شراکت کا مطالبہ رب العالمین سے محبت کا تقاضا اور خاصہ نہیں ہے؟!
اگر یہ کہا جائے کہ: دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ انسان ایک وقت میں ایک ہی عورت سے دل لگاتا ہے اور اسی طرح ایک عورت ایک وقت میں ایک ہی مرد کو دل دیتی ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ: یہ بات ٹھیک ہے کہ بہت سے لوگ صرف ایک ہی شادی پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ لوگ ایک سے زائد شادی نہ کریں، اسی طرح وہ پھر بھی ایک سے زیادہ افراد سے محبت کرتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے جس پر زمینی حقائق بھی موجود ہیں۔
 ------------------
بیوی کے ساتھ محبت ہونا محمود ومطلوب ہے
https://mastooraat.blogspot.com/2019/02/blog-post_70.html