Friday, January 15, 2021
مدرسے کی کہانی
ایک ایمان افروز واقعہ
غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘
غلطی ہائے مضامین۔ کان ’’کَن‘‘ یا کان ’’کُن‘‘
اب سے دو ہفتے پہلے کی بات ہے، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ بلوچستان کی تحصیل بولان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کُھدائی کرنے والے گیارہ مزدوروں کو دہشت گردوں نے اغوا کرکے وحشیانہ انداز میں قتل کردیا۔ اس دل خراش سانحے کی خبر دیتے ہوئے ہمارے مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ (دونوں) نے ان مظلوم مزدوروں کے لیے ’’کان کَن‘‘ کی جگہ ’’کان کُن‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ایک اخبار نے تو اپنی شہ سُرخی میں ’’کن‘‘ کے کاف پر باقاعدہ پیش بھی لگایا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اسے ’’کان کُن‘‘ پڑھنے سے محروم ہی رہ جائے۔
اردو زبان میں شائع ہونے والے اخبارات و جرائد اور اردو کو ذریعۂ اظہار بنانے والے نشریاتی اداروں میں اب املا اور تلفظ کی درستی کا خیال رکھنا بے رواج ہوچکا ہے۔حالاں کہ ان اداروں کو اپنے وقار اور وقعت میں اضافہ کرنے کے لیے مستند املا اور مستند تلفظ اختیار کرنے کا باقاعدہ اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک زمانہ تھا کہ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اخبارات کا تلفظ و املا سند سمجھا جاتا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ذمے داریوں میں سے ایک اہم ذمے داری اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین کی علمی رہنمائی بھی ہے۔
ابلاغی اداروں کے لیے فائدے کی نہیں، نقصان کی بات ہے کہ اخبارات میں خبریں تحریر کرنے والوں اور نشریاتی اداروں سے خبریں پڑھنے والوں کی لسانی تربیت کا اب کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے اکثر املا اور تلفظ محض قیاس سے اختیار کرلیے جاتے ہیں۔ غلط املا شائع ہونے اور غلط تلفظ نشر ہونے سے نیک نامی نہیں، بدنامی ہوتی ہے۔ سہل پسندی کی وجہ سے لغت دیکھنے کا کہیں بھی رواج نہیں ہے۔ چناں چہ ’’کارکُن‘‘ کے تلفظ پر قیاس کرکے ’’کان کُن‘‘ کا تلفظ بھی اختیار کرلیا گیا، جو غلط ہے۔ غلطی پر ٹوکنے والابھی اب کوئی نہیں، لہٰذا ایک کی دیکھا دیکھی یا سن کر وہی غلطی دوسرے بھی دوہراتے چلے جاتے ہیں۔
عربی، فارسی اور اردو میں اِعراب (زیر، زبر، پیش) کے فرق سے تلفظ تبدیل ہونے پر اکثر اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ اس وجہ سے معیاری زبان لکھنے اور بولنے والے املا اور تلفظ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔
’’کان کَن‘‘ فارسی ترکیب ہے۔ کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘کامطلب ہے ’’کھودنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کَندَن‘‘ ہے، یعنی ’’کھودنا‘‘۔ پتھر، لکڑی یا دھات وغیرہ کو کھود کر اس پر نقش و نگار اُبھارنے کو ’’کَندہ کرنا‘‘ کہتے ہیں۔
شیریں فرہاد کی رُومانی داستان میں دودھ کی نہر نکالنے کے لیے اپنے تیشے سے پہاڑ کھود ڈالنے والے فرہاد کو ’’کوہ کَن‘‘ بھی کہا گیا، یعنی ’’پہاڑ کھودنے والا‘‘۔ اگرچہ اب تو بہت سہولت ہوگئی ہے، مگر ہمارا ماضی پرست اور تیشہ بدست شاعر کوہ کَنی کے جدید طریقوں سے سراسر ناخوش ہے۔ کہتا ہے:۔
اب تو بارُود سے ہوتی ہے یہاں کوہ کَنی
اب میں ہم پیشۂ فرہاد نہیں رہ سکتا
قبر کو فارسی میں ’’گور‘‘ کہا جاتا ہے اور قبر کھودنے والے کو ’’گورکَن‘‘۔ فارسی کا ایک محاورہ اکثر اردو میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے ’’چاہ کَن را چاہ درپیش‘‘۔ چاہ کنویں کو کہتے ہیں۔ ترجمہ اس کا یہ ہوگا کہ کنواں کھودنے والے کو خود کنویں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ جو دوسروں کے رستے میں کنواں کھودتا ہے وہ خود اس میں گر پڑتا ہے۔ اسی مفہوم کا یہ محاورہ بھی اردو میں رائج ہے کہ جو کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔ مطلب یہ کہ دوسروں کی بُرائی چاہنے والا آپ اس کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ اسی طرح ایک اورلفظ ہے ’’بیخ کَنی‘‘ یعنی جڑ کھودنا یا کسی چیز کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنا۔ اکثر اس کا تلفظ بھی کاف پر پیش کے ساتھ کردیا جاتا ہے، جو غلط ہے۔ ’’جاں کَنی‘‘ میں بھی فرشتے کسی کے جسم سے جان اُسی طرح کھینچ کر نکالتے ہیں جس طرح کوئی چیز کھود کر نکالی جاتی ہے۔ اسی کو نزع کا عالم کہتے ہیں۔ نزع کے معنی کسی شے کو کھینچ کر نکالنے کے ہیں۔ نزاع یا تنازع بھی ایسی ہی کھینچا تانی سے پیدا ہوتا ہے۔ کان کَنی میں تو جان کَنی کا خطرہ ہر وقت ہی موجود رہتا ہے۔ مگر ہمارے شعرائے کرام اس قسم کے خطرات سے بھی لطف لیتے ہیں۔ بقول مصطفیٰ زیدی:۔
یکایک ایسے جل بجھنے میں لطفِ جاں کَنی کب تھا
جلے اِک شمّع پر ہم بھی، مگر آہستہ آہستہ
(ضرورتِ شعری کے تحت یہاں شمع کا تلفظ ’’شمّع‘‘ کیا گیا ہے)
حاصلِ کلام یہ کہ کان میں کھدائی کرنے والے مزدور کوکان ’’کَن‘‘ ہی کہا جاتا ہے، کان ’’کُن‘‘ نہیں۔
’’کارکُن‘‘ بھی فارسی ترکیب ہے۔کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ کا مطلب فارسی میں ہے: ’’کرنے والا‘‘۔ اس کا مصدر ’’کردن‘‘ ہے، یعنی ’’کرنا‘‘۔ ’’کار‘‘ فارسی میں ’’کام‘‘ کو کہتے ہیں۔ ’’کارکُن‘‘ ہوا کام کرنے والا۔’’حیران کُن‘‘ حیران کرنے والا اور ’’پریشان کُن‘‘ پریشان کرنے والا۔کھیل کے کسی مقابلے کا فیصلہ کرنے والا، مثلاً ہاکی کا جوگول یا کرکٹ کا جو شاٹ فتح و شکست کا فیصلہ کردے، اُسے ’’فیصلہ کُن‘‘ کہتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں بعض مواقع بھی ’’فیصلہ کُن‘‘ آتے ہیں، جن کے متعلق تاریخ میں یہی پڑھا ہے کہ اکثرو بیشتر گنوا دیے جاتے ہیں۔
کاف پر پیش کے ساتھ ’’کُن‘‘ عربی زبان کا بھی لفظ ہے۔ یہ صیغۂ امر ہے۔ یعنی حکم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے’’ہوجا‘‘۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 117 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’… اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہو جا،(کُن) تو وہ ہو جاتا ہے(فَیکُون)‘‘۔ کُن فیکُون کے یہ قرآنی الفاظ اردو شاعری میں بھی استعمال کیے گئے ہیں۔اقبالؔ کا مشہور شعر ہے:۔
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے ’کُن فیکوں‘
کاف پر زبر کے ساتھ ’’کَن‘‘ اردو میں کان کے مخفف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جس کے کان کٹے ہوئے ہوں اُس کو ’’کَن کٹا‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ کان اور ماتھے کے بیچ کے پَٹ (حصے) کو ’’کَن پَٹی‘‘ کہتے ہیں، جس کا املا ’’کنپٹی‘‘ ہے۔کسی شخص (بالعموم اگر کسی مرد) کے کان چھدے ہوئے ہوں وہ ’’کَن چھدا‘‘ کہلاتا ہے۔ بُندے وغیرہ پہننے کے لیے بچیوں کے کان چھیدے جاتے ہیں اور اس کی باقاعدہ رسم منعقد کی جاتی ہے، جو’’کَن چھیدن‘‘ یا ’’کَن چھدائی‘‘ کہی جاتی ہے۔ دوسروں کی بات چپکے چپکے کان لگا کر سننے کو ’’کَن سُوئیاں‘‘ لینا کہتے ہیں۔ مگر یہ کوئی اچھی عادت نہیں ہے۔ جو ٹوپی یا ٹوپا کان چھپا لے، وہ ’’کنٹوپ‘‘ کہلاتا ہے۔ ایک زہریلا کیڑا جو کھجور سے مشابہت رکھتا ہے اور کان میں گھس جاتا ہے ’’کَنکھجورا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جو شخص گانے بجانے یا موسیقی کا رسیا ہو اُسے ’’کَن رَس‘‘ یا ’’کَن رسیا‘‘ کہتے ہیں۔
آدھا، کونا یا گوشہ بھی ’’کَن‘‘ کہلاتا ہے۔
اب تو اس کی بس ایک ہی مثال باقی رہ گئی ہے ’’کَن انکھیوں‘‘ سے دیکھنا۔ یعنی گوشۂ چشم سے تکنا۔
وہ گو کچھ نہ سنتی، نہ کہتی اُسے
کَن انکھیوں سے پَر دیکھ رہتی اُسے
(مولوی میرحسن ۔ مثنوی ’’سحرالبیان‘‘)
از: ابونثر بہ شکریہ: فرائیڈے اسپیشل (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/01/blog-post.html
Sunday, February 17, 2019
حجاج بن یوسف کا آخری سفر
عراق پر 20 برس حکومت کرنے کے بعد 54 برس کی عمر میں حجاج بیمار ہوا ہے اس کے معدے میں بے شمار کیڑے پیدا ہوگئے تھے اور جسم کو ایسی سخت سردی لگ گئی تھی کہ آگ کی بہت سی آنگھیٹیاں بدن سے لگا کررکھ دی جاتی تھیں پھر بھی سردی میں کمی نہیں ہوتی تھی ـ جب زندگی سے نا امیدی ہوگئی تو حجاج نے گھروالوں سے کہا کہ مجھے بٹھادو اور لوگوں کو جمع کرو ـ لوگ آئے تو اس نے حسب عادت ایک بلیغ تقریر کی، موت اور سختیوں کا ذکر کیا، قبراور اس کی تنہائی بیان کی، دنیا اور اس کی بے ثباتی یاد کی ـ آخرت اور اس کی ہولناکیوں کی تشریح کی اپنے گناہوں اور ظلموں کا اعتراف کیا ـ پھر یہ شعر اس کی زبان پر جاری ہو گئے ـ
إن ذنبي وزن السماوات والأرض
وظني بربي أن يحابي
میرے گناہ آسمان اور زمین کے برابر بھاری ہیں ـ مگر مجھے اپنے خالق سے امید ہے کہ رعایت کرے گا ـ
فلئن منّ بالرضا فهو ظني
ولأن مر بالكتاب عذابي
اگر اپنی رضامندی کا احسان مجھے دے تو یہی میری امید ہے ـ لیکن اگر وہ عدل کرکے میرے عذاب کا حکم دے ـ
لم يكن منه ذاك ظلماً وبغياً
وهل يهضم رب يرجى لحسن الثواب ـ
تو یہ اس کی طرف سے ہرگز ظلم نہیں ہوگا کیا یہ ممکن ہے کہ وہ رب ظلم کرے جس سے صرف بھلائی کی توقع کی جاتی ہے ـ
پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا ـ موقع اس قدر عبرت انگیز تھا کہ مجلس میں کوئی بھی شخص اپنے آنسو روک نہ سکا ـ
اس کے بعد اس نے اپنا کاتب طلب کیا اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کو حسب ذیل خط لکھوایا ـ
كنت أرعى غنمك، وأحوطها حياطة الناصح الشفيق برعية مولاه، فجاء الأسد -قصده بالأسد ملك الموت- فبطش بالراعي ومزق المرعى، وقد نزل بمولاك ما نزل بأيوب الصابر، وأرجو أن يكون الجبار أراد بعبده غفراناً لخطاياه، وتكفيراً لما حمل من ذنوبه.
''امابعد! میں تمہارہ بکریاں چراتا تھا ایک خیرخواہ گلہ بان کی طرح اپنے آقا کے گلے کی حفاظت کرتا تھا، اچانک شیر آیا، گلہ بان کو طمانچہ مارا اور چراگاہ خراب کر ڈالی ـ آج تیرے غلام پر وہ مصیبت نازل ہوئی ہے جو ایوب پر نازل ہوئی تھی ـ مجھے امید ہے کہ جبار و قہار اس طرح اپنے بندے کی خطائیں بخش اور گناہ دھونا چاہتے ہیں ـ" پھر خط کے آخیر میں یہ شعر لکھنے کا حکم دیا ـ
إذا ما لقيت الله عني راضياً
فإن شفاء النفس فيما هنا لك
اگر میں نے اپنے خدا کو راضی پایا توبس میری مراد پوری ہوگئی
فحسبي بقاء الله من كل ميت
وحسبي حياة الله من كل هالك
سب مرجائیں مگر خدا کا باقی رہنا میرے لیے کافی ہے ! سب ہلاک ہوجائیں مگر خداکی زندگی میرے لیے کافی ہے ـ
لقد ذاق هذا الموت من كان قبلنا
ونحن نذوق الموت من بعد ذلك
ہم سے پہلے یہ موت چکھ چکے ہیں ، ہم بھی ان کے بعد موت کا مزہ چکھیں گئے
فإن مت فاذكرني بذكر محبب
فقد كان جماً في رضاك مسالكي
اگر میں مرجاؤں تو مجھے محبت سے یاد رکھنا، کیونکہ تمہاری خوشنودی کے لیے میری راہیں بے شمار تھیں ـ
وإلا ففي دبر الصلاة بدعوة
يلقى بها المسجون في نار مالك
یہ نہیں تو کم ازکم ہر نماز کے بعد دعامیں یاد رکھنا جس سے جہنم کے قیدی کو کچھ نفع پہنچے
عليك سلام الله حياً وميتاً
ومن بعدما تحيا عتيقاً لمالك
تجھ پر ہر حال میں اللہ کی سلامتی ہو ـ جیتے جی، میرے پیچھے اور جب دوبارہ زندہ کیاجاؤں ـ
حضرت بصری عیادت کو آئے تو حجاج نے ان سے اپنی تکلیفوں کا شکوہ کیا ـ حسن نے کہا: ''میں تجھے منع نہیں کرتا تھا کہ نیکوکاروں کو نہ ستا مگر افسوس تم نے نہیں سنا ـ'' حجاج نے خفا ہوکر جواب دیا ـ ''میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے دعا کرو، میں تم سے یہ دعا چاہتا ہوں کہ خدا جلد از جلد میری روح قبض کرے اور اب زیادہ عذاب نہ دے.''
اسی اثناء میں ابومنذر یعلی بن مخلد مزاج پرسی کو پہنچےـ
''حجاج ـ ! موت کے سکرات اور سختیوں پر تیرا کیا حال ہے؟''
انہوں نے سوال کیا ـ
''ائے یعلٰی!'' حجاج نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا: ''کیا پوچھتے ہو، شدید مصیبت! سخت تکلیف! ناقابل بیان الم، ناقابل برداشت درد! سفر دراز! توشہ قلیل! آہ! میری ہلاکت! اگر اس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کھایا!''
یہ سن کر ابومنذر نے کہا: ''ائے حجاج! خدا اپنے انہی بندوں پر رحم کھاتا ہے جو رحم دل اور نیک نفس ہوتے ہیں ـ اس کی مخلوق سے بھلائی کرتے ہیں ـ محبت کرتے ہیں ـ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو فرعون اور ہامان کا ساتھی تھا کیونکہ تیری سیرت بگڑی ہوئی تھی ، تو نے اپنی ملت ترک کر دی تھی ـ راہ حق سے کٹ گیا تھا ـ صالحین کے طور طریقوں سے دور ہو گیا تھا تو نے نیک انسان قتل کر کے ان کی جماعت فناکر ڈالی، تابعین کی جڑیں کاٹ کر ان کا پاک درخت اکھاڑ پھینکا، افسوس تو نے خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کی ـ تو نے خون کی ندیاں بہادیں، جانیں لیں، آبروئیں برباد کیں، قہر و جبر کی روش اختیار کی ـ تو نے نہ اپنا دین ہی بچایا، نہ دنیا ہی پائی ـ تونے خاندان مروان کو عزت دی ـ مگر اپنا نفس ذلیل کیا اور ان کا گھر برباد کیا، مگر اپنا گھر ویران کرلیا، آج تیرے لیے نہ نجات ہے نہ فریاد، کیونکہ تو آج کے دن اس کے بعد غافل تھا، تو اس امت کے لئے مصیبت اور قہر تھا ، اللہ کا ہزار ہزار شکرہے کہ اس نے تیری موت سے امت کو راحت بخشی اور تجھے مغلوب کر کے اس کی آرزو پوری کر دی ـ ''
راوی کہتا ہے کہ حجاج یہ سن کر مبہوت ہوگیا، دیر تک سناٹے میں رہا، پھر اس نے ٹھنڈی سانس لی ـ آنسو ڈبڈبا آئے اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہا کہ '' ائے الہٰی ! مجھ بخش دے، کیونکہ لوگ کہتے ہیں تو مجھے نہیں بخشے گا ـ پھر یہ شعر پڑھا:
رب إن العباد قد أيأسوني
ورجائي لك الغداة عظيم
الٰہی! بندوں نے مجھے ناامید کر ڈالا ـ حالانکہ میں تجھ سے بڑی امید رکھتا ہوں -
یہ کہ کر اس نے آنکھیں بند کرلیں ـ''
اس میں شک نہیں، رحمت الہٰی کے بے کنار وسعت دیکھتے ہوئے اس کا یہ اندازا طلب ایک عجیب تاثیر رکھتا ہے اور اس باب میں بے نظیر مقولہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب حضرت حسن بصری سے حجاج کا یہ قول ذکر کیا گیا تو وہ پہلے متعجب ہوئےـ ''کیا واقعی اس نے یہ کہاـ''
البدایة والنہایة ج 9 ص 138
تحریر ۔/ مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ
کمپوزنگ ۔ ابوعکاشہ
https://mastooraat.blogspot.com/2019/02/blog-post_89.html
عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا
کیا ایسی کوئی روایت احادیث کی کتابوں میں ملتی ہے؟
جواب: سوال میں جو بات لکھی ہے وہ روایت سے ماخوذ اس کا مفہوم ہے، اور وہ در اصل حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ ہے، جس سے استدلال کیا گیا ہے۔
میرے نزدیک اس واقعہ سے یہ مسئلہ مستنبط کرنا درست نہیں ہے، لہذا سب سے پہلےاس واقعہ کی روایات، اسانید، اور مرتبہ ذکر کروں گا، پھر ان کا صحیح مفہوم دیگر روایات کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ ۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ
یہ واقعہ تین اسانید سے منقول ہے، ایک حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے متصلا ومرسلا، دوسری حضرت فاطمہ بنت حسین سےمرسلا، اور تیسری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت
متصل سند:
164 – قال أبو نعيم : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: ثنا النَّضْرُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْفِهْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ . [دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 216]
6435 – وقال الطبراني : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِرْسٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَة ...
قال الطبراني : لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، وَلَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ إِلَّا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِهْرِيُّ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ . [المعجم الأوسط 6/287 برقم 6435]
متن روایت:
عن أُمُّ سَلَمَةَ، عَنْ خَدِيجَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَا ابْنَ عَمِّي، هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا جَاءَكَ الَّذِي يَأْتِيكَ أَنْ تُخْبِرَنِي بِهِ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ يَا خَدِيجَةُ» . قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا خَدِيجَةُ هَذَا صَاحِبِي الَّذِي يَأْتِينِي قَدْ جَاءَ» ، فَقُلْتُ لَهُ: قُمْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْمَنِ، فَقَامَ ، فَجَلَسَ عَلَى فَخِدِي الْأَيْمَنِ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقُلْتُ لَهُ: تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِدِي الْأَيْسَرِ، فَجَلَسَ، فَقُلْتُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَقُلْتُ لَهُ: فَتَحَوَّلَ فَاجْلِسْ فِي حِجْرِي، فَجَلَسَ، فَقَالَتْ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: فَتَحَسَّرْتُ وَطَرَحْتُ خِمَارِي، وَقُلْتُ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قَالَ: «لَا» ، فَقُلْتُ لَهُ: هَذَا وَاللَّهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ، لَا وَاللَّهِ مَا هَذَا شَيْطَانٌ. [دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 216، المعجم الأوسط 6/287 برقم 6435]
متصل سند کا مرتبہ:
ابو نعیم کی سند میں نضر بن سلمہ شاذان پر سخت جرح کی گئی ہے ،وضع حدیث کی تہمت تک لگائی گئی ہے [لسان الميزان (8/ 273)] لیکن طبرانی کی سند میں ان کے شیخ محمد بن عبد اللہ بن عرس مصری ان کی متابعت کر رہے ہیں ،مگر ابن عرس کے حالات دستیاب نہیں ہوئے، اور یحیی بن سلیمان بن نضلہ میں ضعف ہے، لیکن اصل واقعہ کی مرسل روایات شواہد بن سکتی ہیں ، جس سے متن کو تقویت ملتی ہے، اور ضعف منجبر ہوجاتا ہے۔
مرسل سند:
ابن اسحاق نے سیرت میں اس کو بواسطہ اسماعیل بن ابی حکیم کےحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے مرسلا یا معضلا نقل کیا ہے:
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي إسماعيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ حُدِّث عَنْ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ ...["سيرة ابن هشام" (1/ 223)]
ابو نعیم اور طبرانی کی سند کے اعتبار سے اسماعیل بن ابی حکیم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مابین تین واسطے ساقط ہیں۔ اور متن کے الفاظ قریب قریب ہیں، موضع شاہد کے الفاظ یہ ہیں: (قَالَ: فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها وَرَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- جَالِسٌ فِي حِجْرِهَا، ثُمَّ قَالَتْ لَهُ: هَلْ تَرَاهُ؟ قال: "لا"، قالت: يابن عَمِّ، اُثْبُتْ وأبشرْ، فَوَاَللَّهِ إنَّهُ لَمَلَكٌ وَمَا هَذَا بِشَيْطَانٍ).
مرسل سند کا درجہ: سند ضعیف ہے، انقطاع کی وجہ سے، لیکن اصل واقعہ دوسری اسانید سے منقول ہے۔
نیز روایت کے جن الفاظ سے استدلال کیا گیا (فَتَحسَّرْتُ فَطَرَحْتُ خِمَارِي) یا (فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها) اس میں اضطراب ہے، جیساکہ تفصیل آگے آرہی ہے۔
حضرت فاطمہ بنت حسین کی روایت
روایت کی سند:
حضرت فاطمہ بنت حسین کی سند ابن اسحاق نے سیرت میں معضلا ذکر کی ہے:
قَالَ ابْنُ إسْحَاقَ: وَقَدْ حَدثتُ عبدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: قَدْ سمعتُ أُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتَ حُسين تُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ خَدِيجَة ... ["سيرة ابن هشام "(1/ 223)، "دلائل النبوة " للبيهقي (2/ 151 - 152) ، "التاريخ" للطبري (2/ 302 - 303)]
اس روایت میں حضرت فاطمہ بنت حسین بن علی رضی اللہ عنہا اپنی پردادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس واقعہ کو نقل کرتی ہیں، مگران کا اپنی دادی فاطمہ بنت رسول اللہ سے سماع ثابت نہیں تو پردادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کیسے ثابت ہوگا؟ ضرور درمیان میں دو سے زائد واسطے ساقط ہیں، لیکن اصل واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں معروف ہے۔
متن روایت:
سَمِعْتُهَا تَقُولُ: أدخلتْ رسولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَيْنَهَا وَبَيْنَ دِرْعِهَا، فَذَهَبَ عندَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ، فَقَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إنَّ هَذَا لَمَلَكٌ، وَمَا هُوَ بِشَيْطَانٍ.
معضل سند کا درجہ:
یہ سند معضل (دو واسطوں کے ساقط) ہونے کی وجہ سے ضعیف ٹھیرے گی ، یہ ضعف متصل سندوں سےدور ہوسکتا ہے، اسی طرح اسماعیل بن ابی حکیم کی مرسل روایت بھی شاہد بن سکتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
روایت کی سند:
165 – قال أبو نعيم: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: ثنا النَّضْرُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا فُلَيْحُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْإِمَامِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...[دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني (ص: 218)]
متن روایت:
قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَدْخِلْ رَأْسَكَ تَحْتَ دِرْعِي، فَفَعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لَهُ : أَتَرَاهُ؟ فَقَالَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَدْ أَعْرَضَ عَنِّي، قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَبْشِرْ فَإِنَّهُ مَلَكٌ كَرِيم ، لَوْ كَانَ شَيْطَانًا مَا اسْتَحْيَى .[دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني (ص: 218)]
سند کا درجہ:
ضعیف جدا، سند میں نضر بن سلمہ شاذان متہم ہے، اور یہاں سیاق سند میں بھی منفرد ہے ۔
واقعہ کا خلاصہ:
اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابتداء وحی کے زمانے میں اس بات کا اطمینان حاصل کرنا چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو وحی لےکر آتا ہے وہ فرشتہ ہی ہے، شیطان نہیں ہے۔ تو انہوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ: جب حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر تشریف لائیں توکیا آپ مجھے آگاہ کرسکتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
چنانچہ ایک بارجب حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کرآئے ، تو حضور نے ان کو آگاہ کردیا، توحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ: آپ میری دائیں ران پر بیٹھ جائیں اور بتائیں کہ: حضرت جبریل نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: ہاں، پھر اسی طرح بائیں ران پر بیٹھنے کے لئے کہا اور دریافت کیا کہ: اب نظر آرہے ہیں ؟ آپ نےجواب دیا: ہاں ، تیسری بار کہا کہ: آپ میری گود میں بیٹھ جائیں، پھردریافت کیا کہ: اب حضرت جبریل نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: ہاں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ فرماتی ہیں کہ: میں نے سر سے دوپٹہ اتاردیا جبکہ حضور میری گود میں تھے اور پوچھا کہ: اب نظر آرہے ہیں؟ حضور نے جواب دیا کہ: نہیں، اس پر حضرت خدیجہ نے فرمایا: آپ کے لئے خوش خبری ہے، آپ ثابت قدم رہیں، بخدا یہ شیطان نہیں ہے، یہ تو فرشتہ ہے۔ ابو نعیم کی روایت میں یہ جملہ بھی ہے کہ: اگر شیطان ہوتا تو وہ شرم کے مارے غائب نہیں ہوتا۔
مذکورہ روایت میں تحقیق کرنے کی ترکیب جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے استعمال کی، اس کے سلسلہ میں دو طرح کی باتیں ہیں:
۔ ایک روایت کے اعتبار سے انہوں نے اپنے سر سے دوپٹہ اتار دیا تو وہ آنے والا حضور کی نظروں سے غائب ہو گیا۔۔ اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے بدن کے کپڑے اور اپنے جسم کے درمیان کردیا ،(بدن سے لگا لیا) تو وہ آنےوالا نظروں سے غائب ہوگیا۔
اسی واقعہ سے مذکورہ بالا مفہوم لیا گیا کہ: جس گھر میں عورت اپنےسر کو کھولے ہوئے ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
مگریہ استنباط چند وجوہات کی بناء پر صحیح نہیں ہے، جیساکہ تفصیلا کلام آرہا ہے، یہاں پر ایک بات کی وضاحت بھی کرتے چلیں، کیونکہ اس کے سمجھنے سے زیر بحث روایت کا مفہوم واضح ہوگا۔
وہ بات یہ ہے کہ: احادیث میں کنکن حالتوں میں فرشتوں کے گھروں میں آنے نہ آنے کا تذکرہ ہے، اوران سے کس قسم کے فرشتے مراد ہیں، تو ذخیرۂ احادیث میں مندرجہ ذیل تین قسم کی احادیث وارد ہیں:
پہلی قسم کی احادیث:
۱۔ گھر میں تصویر یا کتے کا ہونا: «إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلاَ كَلْبٌ» البخاري (3227 ) مسلم (2105 ) من حديث ابن عمر.
۲۔ گھر میں جنبی کا ہونا: في رواية من حديث علي بن أبي طالب: "وَلَا جُنُبٌ" أبوداود (227) النسائي (261) .
۳۔ گھر میں گھنٹی کا ہونا: ومن حديث عائشة: "لا تدخل الملائكة بيتا فيه جرس" أبوداود (4231) مسند أحمد (26052) .
۴۔ گھر میں چیتے کی کھال ہونا: و من حديث أبي هريرة: «لا تصحب الملائكة رُفقة فيها جلد نمر» أبوداود (4130) مسند للطبراني (2721) .
فرشتوں سے مراد:
مذکورہ احادیث میں فرشتے عام نہیں ہیں، بلکہ مراد رحمت کے فرشتے ہیں جن میں حضرت جبریل علیہ السلام کا بھی شمار ہوتا ہے جیساکہ ابن عمر کی روایت میں ہے، جبکہ محافظ فرشتے اور کراما کاتبین تو موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ شراح حدیث نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
قال القاضي عیاض : قد يكون تجنُّبُ الملائكة من الجُنُب تنزيهاً لها من أجل الحَدَث الذى عليه، كما نُزِّهَتْ عنه عبادات كثيرةٌ من تلاوةِ القرآن ومسِّ المصحف، ونُزِّه المسجدُ عن دخولِه حتى يتطهرَ، ولما كانوا مطَهَّرِين ووصفهم اللهُ بذلك خصَّهُم بالبُعدِ عمن ليس بهذه الصفة - والله أعلم. وقد قال الخطابي: إن الملائكة التي تجتنبُ الجُنبَ وجاء أنها لا تدخُلُ بيتاً فيه جُنبٌ: هم الملائكة المُنزَلة بالرحمة والبركة، غير الحَفَظة الذين لا يفارقونه . [إكمال المعلم بفوائد مسلم (2/ 144)]
قوله: "لَا تدْخُلُ المَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ" قال ابن التين: وأراد بالملائكة غير الحفظة، وكذا قال النووي: إن هؤلاء الملائكة هم الذين يطوفون بالرحمة والتبرك والاستغفار، بخلاف الحفظة. [التوضيح لشرح الجامع الصحيح (19/ 98)]
دوسری قسم کی احادیث:
اس کے بالمقابل وہ احادیث جن میں تمام فرشتوں کے دور ہوجانے کا تذکرہ ہے ، وہ احادیث کشف ستر کی حالتوں کے ساتھ مخصوص ہیں، اور ستر سے عورۃ مغلظۃ مراد ہے، جیسے: قضاء حاجت، غسل، جماع وہم بستری کی حالات میں، یا عموما برہنہ ہونا ۔نیز اس طرح کی حالتوں کی روایات میں کشف ستر کا معنی واضح بھی ہے، اور روایات یہ ہیں:
(1) عن ابن عمر أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "إياكم والتعري فإن معكم من لا يفارقكم إلا عند الغائط، وحين يفضي الرجل إلى أهله فاستحيوهم وأكرموهم". رواه الترمذي (2800) وهو ضعيف .
(2) عن ابن عباس - رضي الله عنهما - مرفوعًا بلفظ: "إن الله ينهاكم عن التعري، فاستحيوا من ملائكة الله الذين لا يفارقونكم إلا عند ثلاث حالات: الغائط والجنابة والغسل، فإذا اغتسل أحدكم بالعراء فليستتر بثوبه أو بحذمة حائطٍ أو ببعيره". رواه البزار كما في "كشف الأستار" (317) وهو ضعيف.
(3) عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه نهى عن التعري فإن الكرام الكاتبين لا يفارقان العبد إلا عند الخلاء، وعند خلوة الرجل بأهله. ورواه الدارقطني في "العلل" 8/ 232 ، وهو ضعيف .
(4) عن زيد بن ثابت مرفوعًا: "ألم أنهكم عن التعري، إن معكم من لا يفارقكم في نوم ولا يقظة، إلا حين يأتي أحدكم أهله، أو حين يأتي خلاءه، ألا فاستحيوها ألا فأكرموها".
فرشتوں سے مراد:
ان احادیث میں لفظ (تعری) سے برہنہ ہونے کا معنی صریح ہے، اور ان حالات میں ہر قسم کے فرشتے بشمول حفظۃ اور کتبۃ دور رہتے ہیں حیاء۔
تیسری قسم کی احادیث:
مگر بعض احادیث کے الفاظ کشفِ ستر میں صریح نہیں ہیں ،نیز ان میں صرف حضرت جبریل علیہ السلام کے دوررہنے کا ذکر ہے، وہ احادیث دو ہیں:
۔ایک تو خود زیر بحث حضرت خدیجہ کے واقعہ کی روایت ہے ۔
۔دوسری یہ ہے: فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ، فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ. صحيح مسلم (2/ 670) یعنی اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام آئے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے آہستہ سے آواز دی ، اور انہوں نے تجھ سے مخفی رکھنا پسند کیا، اور میں نے بھی ان کو جواب تجھ سے چھپاکر دیا، کیونکہ مجھے گمان ہوا کہ تو سوگئی، اور فرمایا کہ: حضرت جبریل علیہ السلام تمھارے پاس اس لئے نہیں آئے کہ تم نے بدن سے کپڑے اتار رکھے تھے۔
حدیث کا مطلب اور فرشتے سے مراد:
اس روایت میں خصوصا حضرت جبریل علیہ السلام کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل نہ ہونا مذکور ہے، اور "وضع ثیاب" کا مطلب بقیہ روایت سے واضح ہے، جس میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں: (فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي ، وَاخْتَمَرْتُ ، وَتَقَنَّعْتُ إزَارِي) یعنی سر ڈھانپا، اوڑھنی اوڑھی، اور تہبند پہنی۔ قال في "ذخيرة العقبى في شرح المجتبى" (20/ 47) (وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي) أي جعلت إزاري قِنَاعًا، والظاهر أنها تلفَّفَت به فوق خِمارها. یعنی بظاہر حضرت عائشہ نے اوڑھنی کے اوپر چادر ڈال لی اور بدن ڈھانپ لیا نکلتے وقت۔
الغرض: زیر بحث حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی روایت اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی، دونوں روایتوں میں چند باتیں مشترک ہیں:
۔۱۔ خصوصی طور پر حضرت جبریل علیہ السلام کا دور رہنا یا غائب ہونا،اس میں فرشتوں کی تعمیم نہیں ہے۔
۔۲۔ اور ان کے دور رہنے کا سبب زیر بحث روایت میں یا تو سر سے دوپٹہ اتارنا ، یا پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے قریب کرنا ہے، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ میں (وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ) ہے، جس کی وضاحت گذرچکی، نیز حضرت عائشہ کی ایک دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کا شوہر کے قریب ہونا مانع دخول نہیں، جبکہ کسی طرح سےکشف ستر نہ ہو، وہ یہ روایت یہ ہے:
«يَا أُمَّ سَلَمَةَ لاَ تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا» (خ) 3775 (اے ام سلمہ! عائشہ کے معاملہ میں مجھے نہ ستاؤ، اس لئے کہ مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی درآنحالیکہ میں عائشہ کے علاوہ تم میں سے کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں ، یعنی صدیقہ کے ساتھ ہم خوابی کے وقت بھی وحی نازل ہوتی تھی) [ تحفۃ الالمعی]
تو خلاصہ یہ ہوا کہ: دونوں واقعوں میں حضرت جبریل کے دور ہونے کا سبب قریب قریب ہے، مگر اس سے یہ بات جو اخذ کی گئی کہ: جس گھر میں عورت اپنےسر کو کھولے ہوئے ہو اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
اس استنباط میں دو طرح کی غلطی ہے:
ایک غلطی تو :عورت کے ننگے سر ہونے کوگناہ اور رحمت کے فرشتوں کے نہ آنے کا سبب قرار دینا۔
اور دوسری غلطی: فرشتوں کی تعمیم کرنا کہ تمام فرشتے دور ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں، مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر:
پہلی بات کا رد: عورت کا گھر میں ہوتے ہوئے سر کھلا رکھنا گناہ نہیں، اور مانع دخول ملائکہ نہیں، اس لئے کہ:
۱۔ موانع دخول کی روایات میں کہیں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔
۲۔ اگر گناہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خودحضرت جبریل علیہ السلا م کے دور ہونے پر زوجہ مطہرہ کو تنبیہ فرماتے۔
۳۔ حضرت خدیجہ کے واقعہ میں اصل علت مذکور ہے، اور وہ ہے استحیاء وشرم۔
۴۔ بیوی کا شوہر کی موجودگی میں بدن کے کپڑوں میں تخفف کرنا، شوہر کے لئے تزین کے معنی میں داخل ہے، جو مستحسن ومطلوب ہے۔
۵۔ جو موانع دخول منصوص علیہ ہیں، ان میں بھی علماء نے تقیید کی ہے ، مثلا:
کتے کا ہونا مانع دخول ملائکہ ہے، لیکن اگر کتا شکار کے لئے یا کھیتی بکریوں کی حفاظت کے لئے رکھا ہو، تو وہ مانع نہیں۔ [تحفۃ الالمعی]
جاندار کی تصویر بھی مانع ہے، لیکن وہ اگر سر کٹی ہو یا ایسی جگہ ہو جہاں روندی جاتی ہو، تو مانع نہیں بنے گی۔ [مظاہر حق]
اور جنبی سے وہ مراد جو غسل جنابت کو اتنا مؤخر کرے کہ نماز کا وقت نکل جائے، یا بلا وضوءسوتا پڑا رہے [مظاہر حق]
تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ: عورت کے ننگے سر رہنے کا توروایات میں ذکر بھی نہیں، پھر اس کو مطلق رکھنا کیسے درست ہوسکتا ہے؟ بلکہ یہ تو سراسر زیادتی اور تشدد فی الدین ہے۔
دوسری بات کا رد: "رحمت کے فرشتے نہیں آتے" کہنا درست نہیں ہے، کیونکہ:
۱۔ محافظین اور اعمال لکھنے والے فرشتےمخصوص حالات کے علاوہ دور نہیں ہوتے ہیں، اور یہ بھی رحمت ہی کے فرشتے شمار کئے جاتے ہیں۔
۲۔ رہ گیا حضرت جبریل علیہ السلام کا دور ہونا : تو وہ یا تو امہات المؤمنین کے احترام میں ہوا، یا پھر وحی کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہوا، جیساکہ حضرت عائشہ کی دونوں روایتوں (وَضَعْتِ ثِيَابَكِ)، (لِحَافِ امْرَأَةٍ) سے مترشح ہوتا ہے۔ تو بہر حال اس میں تخصیص ہے ۔
خلاصۃ البحث: عورت کا گھر میں ننگے سر ہونا رحمت کے فرشتوں کے داخل ہونے میں مانع نہیں ہے، مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر:
پہلی وجہ: مستدل بہ روایت میں موضع الشاھد میں اضطراب ہے جیسا کہ اصل عبارت پر سرخی لگا کر واضح کیا ہے، (فتحسَّرتْ وَأَلْقَتْ خمارَها) اور(أدخلت رسولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَيْنَهَا وَبَيْنَ دِرْعِهَا) دونوں الگ الگ وجوہات ہیں۔
دوسری وجہ: اس میں صرف حضرت جبریل علیہ السلام کے دور ہونے کی بات ہے، تمام فرشتوں کا ذکر نہیں ہے، اور بہت ممکن ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی غرض سے غائب ہوگئے تاکہ فرق ظاہر ہوجائے۔ یا امہات المؤمنین کے مقام ومرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا کیا ہو، یا وحی کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا ہو، تو گویا کہ اس میں بہر حال تخصیص ہے، اس لئے اس سے تعمیم ثابت نہیں ہوسکتی کہ ہر عورت اور ہر فرشتہ کا یہ معاملہ ہے۔
تیسری وجہ: حدیث کی ایک روایت میں علت صراحتا مذکور ہے کہ: فرشتہ استحیاءً داخل نہیں ہوتا، اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ عورت سر کھلا رکھنے کی وجہ سے گناہ کی مرتکب ہوئی، جیساکہ استنباط کرنے والا ثابت کرنا چاہتا ہے۔
چوتھی وجہ: یہ روایت حجاب کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کے واقعہ میں کوئی نکیر نہیں فرمائی، بلکہ حضرت عائشہ کے واقعہ میں سبب کی تصریح کرتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
پانچویں وجہ: احادیث کے ذخیرہ میں جہاں اس طرح کی بات یعنی رحمت کے فرشتوں کا گھروں میں داخل نہ ہونا مذکور ہے، وہاں تصویرکا ہونا، یا کتے کا گھر میں ہونا تو وارد ہے، لیکن عورت کے ننگے سر ہونے کی بات نہیں ہے، جبکہ اس میں ابتلاء عام ہے، اور اس کے حکم کی ضرورت زیادہ اشد ہے۔
چھٹی وجہ: رحمت کے فرشتوں کی تعمیم صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ محافظین اور اعمال لکھنے والے فرشتےمخصوص حالات کے علاوہ دور نہیں ہوتے ہیں، اور یہ بھی رحمت ہی کے فرشتے شمار کئے جاتے ہیں۔
ضروری تنبیہ: عورتوں کے لئے محارم کے سامنے زینت کے اعضاء (سر، بال، گردن، سینہ، کان، بازو، کلائی، پنڈلی، چہرہ) وغیرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہے۔ مگر اجانب کے ہوتے ہوئے اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو: چہرہ ، ہتھیلی اور قدمین کے کھلا رکھنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ باقی اعضاء ممنوع ہیں۔
مگر آج کا دور پرفتن اور فیشن کا دور ہے، عورتوں میں حجاب وحشمت کے باب میں کافی کوتاہی اور لا پروائی ہوتی ہے، تو اگر ان کی اصلاح اور تربیت کی غرض سے یہ بات کہی جائے، تاکہ ان کے اندر بال وسر وغیرہ کھلا رکھنے کی عادت نہ پڑجائے، اور پھرمحرم غیر محرم کا امتیاز باقی نہ رہے، تو یہ کہنا درست ہوگا، لیکن اس کو زبردستی احادیث سے منسوب کرنا، یا اس کی تائید کے لئے کسی روایت سے غلط مفہوم مستنبط کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہذا ما اراہ، واللہ اعلم، وعلمہ اتم واحکم۔
جمعہ ورتبہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار بمعاونۃ المولوی خبیب بن محمد ایوب منیار
کیا اسلام میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے محبت کرنا واجب ہو؟
https://mastooraat.blogspot.com/2019/02/blog-post_70.html





