Monday, November 22, 2021
تعویذ دینے کو ’’روحانی علاج‘‘ کا نام دینا دھوکادہی ہے
جمعہ کے دن کے فضائل اور اعمال
سکھر میں صحابہ کرام کی قبریں
اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے
اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُوهُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ هُنَيَّةً ـ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ: "أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ".
=====================
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں:
«اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ»
اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال! (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
---------------------------
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) used to keep silent between the Takbir and the recitation of Qur'an and that interval of silence used to be a short one. I said to the Prophet (ﷺ) "May my parents be sacrificed for you! What do you say in the pause between Takbir and recitation?" The Prophet (ﷺ) said, "I say, 'Allahumma, baa`id baini wa baina khatayaya kama baa`adta baina l-mashriqi wa l-maghrib. Allahumma, naqqini min khatayaya kama yunaqqa th-thawbu l-abyadu mina d-danas. Allahumma, ighsil khatayaya bi l-maa'i wa th-thalji wa l-barad (O Allah! Set me apart from my sins (faults) as the East and West are set apart from each other and clean me from sins as a white garment is cleaned of dirt (after thorough washing). O Allah! Wash off my sins with water, snow and hail.)" Reference : Sahih al-Bukhari 744. (صححہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/11/blog-post_22.html
Monday, November 1, 2021
کسی کو وعظ و نصیحت کرنے کے آداب کیا ہیں
Monday, October 18, 2021
يَا رَبِّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلالِ وَجْهِكَ وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ دعاء کی تحقیق اور اس دعا کو کب پڑھا جائے؟
صلوة التوبہ پڑھنے کا طریقہ
عنوان:
صلوة التوبہ
پڑھنے کا طریقہ
سوال: مفتی صاحب! صلاۃ التوبہ کا طریقہ بتا دیجئے۔ جزاك الله خيراً
جواب: توبہ کا افضل طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل "صلاۃ التوبہ" کی نیت سے پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت اور شرمندگی کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں، حقوق العباد ذمہ میں ہوں تو ان کی جلد سے جلد ادائیگی یا اصحابِ حقوق سے معافی کی کوشش کریں، گزشتہ فرائض جو باقی ہیں، جیسے: نمازیں، روزے، زکوۃ وغیرہ ان کی ادائیگی کی ترتیب بنائیں، آئندہ کے لیے متبعِ سنت نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، بری صحبت سے اجتناب کریں۔ اگر کسی کا حق ذمے میں باقی ہے اور اس کا انتقال ہوچکا ہو تو اگر مالی حق ہو تو اس کے ورثاء تک وہ رقم پہنچائیں، اگر کوشش کے باوجود ورثاء ملنے کا امکان نہ ہو تو اتنی رقم صاحبِ حق کی طرف سے صدقے کی نیت سے کسی غریب مستحق کو دے دیں اور اگر مالی حق کے علاوہ کوئی حق ہے، مثلاً: کسی کی غیبت کی یا کسی کا دل دکھایا ہو تو صاحبِ حق کے لیے استغفار اور دعا کرتے رہیں، حسبِ توفیق کچھ صدقہ کرکے اس کا ثواب اصحابِ حقوق تک پہنچادیں، اس سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں آپ کی معافی پیدا کردیں گے اور وہ روزِ قیامت آپ کو معاف کردیں گے۔
باجماعت صلوة التوبہ پڑھنے کا حکم:
سورج گرہن کے وقت صلاۃ الکسوف، صلاۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کسی بھی نفل نماز کی جماعت کے ساتھ ادائیگی ثابت نہیں ہے، اس لئے فقہاء نے تداعی (یعنی لوگوں کو دعوت دے کر اہتمام) کے ساتھ نفل نماز کی جماعت کرنے کو منع کیا ہے اور اگر پابندی کے ساتھ نفل نماز کی جماعت کی جائے، تب تو سخت کراہت ہے۔
لہذا صلوة التسبیح، صلوة التوبه وغیرہ کو انفرادی طورر پر ادا کرنا چاہئے، جماعت سے ادا کرنا درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
وفی الحلبی:
"واعلم أن النفل بالجماعة علی سبيل التداعي مكروه".
(تتمات من النوافل، ص٤٣٢، ط: سهيل اكيدمي)
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار
"(ولایصلی الوتر و) لا (التطوع بجماعة خارج رمضان) أي يكره ذلك على سبيل التداعي؛ بأن يقتدي أربعة بواحد".
(قبيل باب إدراك الفريضة، ج٢، ص٤٨- ٤٩، ط: سعيد)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب. دارالافتاء الاخلاص، کراچی (103897-No) (نقلہ: #ایس_اے_ساگر)
https://mastooraat.blogspot.com/2021/10/blog-post_4.html



